1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ کا یہ عمل صحیح سند سے ثات ہے یا نہیں؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جون 29، 2017۔

  1. ‏جون 29، 2017 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ہمیں خبر دی ابن ناصر نے،انہوں نے کہا:ہمیں خبر دی ابومحمد بن سراج نے،انہوں نے کہا:ہمیں خبر دی ابو طاہر محمد بن علی العلاف نے، انہوں نے کہا:ہمیں خبردی ابوالحسین ابن اخی میمی نے،انہوں نے کہاں ہمیں بیان کیا ابوعلی بن اصفوان نے انہوں نے کہا: ہمیں بیان کیا ابوبکر بن ابی الدنیا نے نہوں نے کہا ہم سے بیان کیا محمد بن صالح القریشی نے انہوں نے کہا ہم سے بیان کیا علی بن محمد القریشی نے انہون نے روایت کیا یونس بن ابواسحاق سے،انہوں نے کہا جب اہل کوفہ کو خبر ملی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لے آئے ہیں۔اور انہوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت نہیں کی تو ان کی طرف سے آپ کے پاس وفود آئے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ اور مسیب بن نجبہ نے آپ کو خط لکھے۔
    (الکامل 19:4) یا پھر شاہد طبری
    (الکامل 20:4)
     
  2. ‏جون 29، 2017 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,771
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے کہا:
    أخبرنا ابن ناصر، قال: أنبأ أبو محمد بن السراج، قال: أنبأ أبو طاهر محمد بن علي العلاف، قال: أنبأ أبو الحسين ابن أخي ميمي، قال: ثنا أبو علي بن صفوان، قال: ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا، قال: ثنا محمد بن صالح القرشي، قال: ثنا علي بن محمد القرشي، عن يونس بن أبي إسحاق، قال: لما بلغ أهل الكوفة نزول الحسين بمكة وأنه لم يبايع ليزيد بن معاوية خرج منهم وفد إليه، وكتب إليه سليمان بن صرد ، والمسيب بن نجبة ، ووجوه أهل المدينة يدعونه إلى بيعته وخلع يزيد، وقالوا: إنا تركنا الناس متطلعة أنفسهم إليك وقد رجونا أن يجمعنا الله بك على الحق، وأن ينفي عنهم (بك) ما هم فيه (من الجور) ، فأنتم (أولى بالأمر من) يزيد الذي غصب الأمة فيها وقتل خيارها) فدعا مسلم بن عقيل، وقال: (اشخص إلى الكوفة، قال: (فإن) رأيتَ منهم اجتماعاً فاكتب إليَّ) [الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم يزيد لابن الجوزي ص: 49]

    یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
    دیکھئے میری کتاب :
    یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ : ص 410 تا 411 مع حاشیہ

    نوٹ:
    اس سند سے متعلق دیگر اہل علم کے پاس بھی جو معلومات ہوں ، یہاں پوسٹ کردیں ۔
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں