1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (رفع اليدين)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مارچ 09، 2016۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جولائی 28، 2016 #171
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اردو میں بھی حرکت کی ضد سکون استعمال ہوتا (دیکھئے فزکس کی اردو کتب ”ساکن اور متحرک اشیاء“ جیسے عنون)۔

    نماز میں ہر حرکت کے لئے شریعت نے مسنون ذکر دیا۔ بغیر مسنون ذکر کوئی حرکت نماز میں مشروع نہ رہی۔

    نماز میں کی جانے والی رفع الیدین میں نسخ واقع ہؤا ہے۔
    ثبوت
    عبد اللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں رفع الیدین نہ کرتے تھے (صحیح بخاری)۔
    تفہیم
    صحیح احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں بھی رفع الیدین کیا کرتے تھے (دیکھئے ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ کتب حدیث)۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل
    ثبوت
    عبد اللہ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کی ابتدا میں رفع الیدین کرتے تھے (ترمذی، نسائی)۔
    تفہیم
    پہلے نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حرکت پر رفع الیدین کرتے تھے (طبرانی)۔ پھر قعدہ والی چھوڑ دیں اور قیام کی حالت والی باقی رہیں (صحیح بخاری وغیرہ)۔ آخر میں صرف استفتاح کی رفع الیدین باقی رہی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ممناعت
    ثبوت
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مسجد نبوی میں نماز میں رفع الیدین کرتے دیکھا تو انہیں اس سے منع کیا اور غصہ کرتے ہوے اسے سرکش گھوڑوں سے تشبیہ دی (صحیح مسلم)۔
    تفہیم
    جس عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا اس کو کرنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والاہےاور یہ شدید ہے اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بھی شدید تھے۔
     
  2. ‏جولائی 28، 2016 #172
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    زیادت ثقہ میں منافاة کی کیا بحث کی گئی ہے؟ کہ وہ زیادت ثقہ اوثق کے منافی ہو اس کا شاذ سے کوئی تعلق نہیں؟
    عجیب بات ہے! جبکہ اگلے ہی پیرا میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے!

    QUOTE="اشماریہ, post: 261615, member: 3713"]2۔ زیادت ثقہ اگر دیگر روات کے منافی ہو تو اسے شاذ کہا جاتا ہے۔[/QUOTE]
    آپ نے خود یہاں ثقہ کی اوثق سے منافی ہونے کا شاذ کی شرط قرار دیا ہے۔
    شاذ کے لئے منافاة کی شرط کا اثبات کیا جا چکا ہے، اور آپ نے بھی اسے لکھا ہے، مگر آپ کو اپنے ہی کلام کی سمجھ نہیں!
    ایک ثبوت پیش خدمت ہے:

    وَأما الْمُخَالفَة: وينشأ عَنْهَا الشذوذ والنكارة فَإِذا روى الضَّابِط والصدوق شَيْئا فَرَوَاهُ من هُوَ أحفظ مِنْهُ أَو أَكثر عددا بِخِلَاف مَا روى بِحَيْثُ يتَعَذَّر الْجمع على قَوَاعِد الْمُحدثين فَهَذَا شَاذ وَقد تشتد الْمُخَالفَة أَو يضعف الْحِفْظ فَيحكم على مَا يُخَالف فِيهِ بِكَوْنِهِ مُنْكرا
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 1003 جلد 01 هدي الساري مقدمة فتح الباري - أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) - دار الطيبة للنشر والتوزيع، الرياض
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 403 – 404 هدي الساري مقدمة فتح الباري - أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) - مكتبة الملك فهد الوطنية
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 384 - 385 هدي الساري مقدمة فتح الباري - أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) - المكتبة السلفية

    ٹھیک، ہمیں تسلیم ہے کہ اسے زیادت ثقہ کہتے ہیں۔ اور آپ کو بھی تسلیم ہے کہ زیادت ثقہ ہر صورت مقبول نہیں، اور آپ نے بھی فرمایا کہ :

    کہ اگر ثقہ کی زیادت اوثق کے منافی ہو تو شاذ ہے، یہاں آپ نے خود زیادت ثقہ اور شاذ کا تعلق بیان کیا ہے، اور شاذ کے لئے اوثق کی نفی کو شرط لکھا ہے۔
    اب آپ اپنا ہی تحریر کو نہ سمجھ سکیں، تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔


    بھائی کو کلام سمجھنے میں سخت دشواری ہے، زیادت ثقہ دیگر راوی سے موافقت ہو یا اس کے منافی ہو، یعنی تغیر وتبدیلی پیدا کرتی ہو، تمام صورت میں وہ زیادت ثقہ ہی ہے، مگر ہر زیادت ثقپ مقبول نہیں ہوتی، اگر وہ منافی ہو اور ان کا جمع کیا جانا ممکن نہ ہو تو اس پر شاذ کا حکم لگتا ہے!
    بھائی! صرف مقبول زیادت ثقہ کو زیادت ثقہ کی بحث سمجھ رہے ہیں! حالانکہ خود رقم طراز ہیں:


    بھائی کے اپنے کلام کا تضاد ابھی مزید نکھر کر سامنے آئے گا!
    ایسا کیجئے کہ ہماری بحث کا ترجمہ کرکے ملتقی اهل الحديث کے اسی تھریڈ میں پوسٹ کر دیں!

    اس کا ثبوت کہ شاذ کے لئے منافات کی شرط ہے، دہرانے کی حاجت نہیں، لیکن حیرت کا مقام یہ ہے کہ آپ نے خود اگلے ہی جملہ میں فرمایا ہے کہ زیادت ثقہ اگر دیگر روات کے منافی ہو تو اسے شاذ کہتے ہیں؛ آپ کے الفاظ درج ذیل ہیں!

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!



    یوں کہنا مناسب ہوگا کہ ایک حدیث میں ثقہ راوی دیگر ثقات یا اوثق سے زیادت بیان کرتا ہے، اگر اس زیادت ثقہ کا جمع کیا جانا ممکن ہو تو وہ مقبول ہے اور منافاة کی صورت میں یعنی جمع کے ممکن نہ ہونے کی صورت میں شاذ کا حکم لگایا جاتا ہے؛ جیسا کہ آپ نے خود فرمایا:

    جبکہ آپ پرذور انداز میں شاذ کے لئے نفی کی شرط کی ہی نفی بھی فرما رہے ہیں؛ ملاحظہ فرمائیں:


    آپ تو شاذ کے لئے منافاة کی شرط کو باطل قرار دے رہے ہو، اور شاذ کے لئے متضاد نہیں فقط خلاف ہونے کے قائل ہو! اب شاذ کے لئے ''صرف مخالفت کی شرط ہونے کا دعوی کہاں گیا؟
    ویسے بہت خوب نتیجہ اخذ کیا گیا ہے؛ مختصراً یہ کہ:
    میرے بھائی نے پہلے ایک ٹیڑھی بنیاد رکھی، اور پھر اس بنیاد پر ہمارے مراسلہ کے جواب کو تعمیر کیا!
    ایک ممکنہ غلط فہمی کا پیشگی ازالہ:
    ممنکن ہے کہ یہ غلط فہمی بھی ہو کہ شاذ کی متعدد صورتیں ہیں! ایک زیادت ثقات کی قبیل سے اور دوسری کہ زیادت ثقات کی قبیل سے نہ ہو!
    جیسا کہ بھائی کہ اگلے مراسلہ سے اس غلط فہمی کا اندیشہ ہوتا ہے:


    ہمارے بھائی یہاں مطلق شاذ اور زیادت ثقہ کے حوالہ سے شاذ میں فرق سمجھ رہے ہیں! اور ممکن ہے کہ وہ اسے زبردستی کشید کرنے کی بھی سعی کریں۔
    اس لئے مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک بنیادی نکتہ بیان کردوں؛
    معاملہ شاذ کا ہو یا زیادت ثقات کا، یہ دونوں اسی صورت میں پیش آتے ہیں، جب ایک حدیث کی مختلف روایات کے الفاظ میں فرق پایا جائے! اگر حدیث مختلف ہو تو اس صورت میں زیادت ثقات کا معاملہ پیش آتا ہے اور نہ شاذ کا! ایسی صورت میں ایک الگ حدیث یعنی کہ منفرد، فرد حدیث کے تحت اس حدیث کی تحقیق کی جاتی ہے!
    ہمارے بھائی فرماتے ہیں:


    حالانکہ معاملہ شاذ کا ہو یا زیادت ثقات کا، دونوں میں ایک ہی حدیث ہونے کا تعین اس حدیث میں کی روایات میں مروی ان الفاظ سے کیا جاتا ہے کہ جو روایت میں موجود ہوں! یعنی کہ روایت کے مروی الفاظ یا تو بالفظ موافق ہوں گے اور اگر بالفظ یکساں نہ بھی ہوں تو بالمعنی ایک ہی حدیث ہونے پر دلالت کرتے ہوں۔ اور یہ امر زیادت ثقات اور شاذ دونوں کے لئے ضروری ہے۔
    لہٰذا ہمارے بھائی کے مؤقف کے مطابق جب بھی کسی حدیث کی راویت میں کسی ثقہ کے روایت اوثق کی روایات کے خلاف ہو، خواہ منافی ہو یا نہ ہو وہ شاذ ہوجائے گی اور مرجوح و ناقابل احتجاج!
    ایسی صورت میں زیادت ثقات کا باب بند ہو جاتا ہے، یعنی کہ اگر یہ متضاد ومنافی نہ ہو اور جمع ممکن ہو، تب بھی زیادت ثقات مقبول وقابل احتجاج نہیں رہتی، کیونکہ ہمارے بھائی نے اسے شاذ قرار دے کر مرجوح وناقابل احتجاج قرار دیا گیا ہے!
    دراصل ہمارے بھائی کو شاذ ومحفوظ کے معاملہ کو سمجھنے میں انتہائی غلط فہمی ہے، کہ وہ ایک طرف تو ایسے اختلاف کے سبب وہ متضاد ہو منافی بھی نہیں، روایت کو شاذ ومرجوح قرار دیتے ہیں، اور دوسری طرف متضاد ومنافی نہ ہونے کی صورت میں زیادت ثقات کو مقبول قرار دیتے ہیں!
    بھائی کو بنیادی غلط فہمی یہ ہے کہ صحیح حدیث کی شروط میں عدم شذوذ کے بیان میں شاذ کی تعریف بیان کی جاتی ہے، اور جب زیادت ثقات کی کی بحث میں غیر مقبول زیادت کو شاذ قرار دیا جاتا ہے، ان دونوں مواقع میں شاذ کو علیحدہ علیحدہ گمان کر رہے ہیں، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے!
    ہمارے بھائی نے فرمایا:


    ہمارے بھائی بضد ہیں کہ شاذ کی ایک جگہ کوئی اور تعریف اور شروط اور دوسری جگہ شاذ کی تعریف اور شروط الگ باور کروائی جائیں!
    اب کوئی انہیں سمجھائے کہ میاں! جب شاذ کی تعریف اور شروط صحیح حدیث کی شروط کے تحت بیان کی گئی ہے تو دوسری جگہ بیان کرتے ہوئے اس کی تعریف اور شروط سے انحراف نہیں کیا جاسکتا، شاذ کی تعریف اور شروط جب بھی جہاں بھی بیان ہو، اس کا اطلاق ہر مقام پر کیا جائے گا، وگرنہ بے اصولی ٹھہرے گی، کہ ایک جگہ ایک قاعدہ بیان کیا اور دوسری جگہ اس قاعدے سے مکر گئے!
    اس طرح کی بے اصولی اہل الرائے کے ہاں اکثر پائی جاتی ہے، لیکن یہ اہل الحدیث کے ہاں نہیں!
    خیر ہم زیادت ثقات اور شاذ کا باہم ربط واضح کر آئیں ہیں!
    ابن حجر العسقلانی نے زیادت ثقات کی بحث میں منافاة و تضاد کی شرط بیان کی ہے:

    وَزِيَادَةُ رَاوِيهِمَا مَقْبُولَةٌ مَا لَمْ تَقَعْ مُنَافِيَةً لِـمَنْ هُوَ أَوْثَقُ. فَإِنْ خُولِفَ بِأَرْجَحَ فَالرَّاجِحُ الْمَحْفُوظُ، وَمُقَابِلُهُ الشَّاذُّ، وَمَعَ الضَّعْفِ فَالرَّاجِحُ الْمَعْرُوفُ، وَمُقَابِلُهُ الْمُنْكَرُ.
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 82 نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر - أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) - دار ابن حزم
    امام سخاوی نے ''مطلقاً'' شاذ کی بحث میں منافاة وتضاد کی شرط بیان کی ہے:
    [مَعْنَى الشَّاذِّ لُغَةً وَاصْطِلَاحًا وَالْخِلَافُ فِيهِ] وَالشَّاذُّ لُغَةً: الْمُنْفَرِدُ عَنِ الْجُمْهُورِ، يُقَالُ: شَذَّ يَشُذُّ بِضَمِّ الشِّينِ الْمُعْجَمَةِ وَكَسْرِهَا شُذُوذًا إِذَا انْفَرَدَ، (وَذُو الشُّذُوذِ) يَعْنِي الشَّاذَّ.
    اصْطِلَاحًا: (مَا يُخَالِفُ) الرَّاوِي (الثِّقَةُ فِيهِ) بِالزِّيَادَةِ أَوِ النَّقْصِ فِي السَّنَدِ أَوْ فِي الْمَتْنِ (الْمَلَا) بِالْهَمْزِ وَسُهِّلَ تَخْفِيفًا، أَيِ الْجَمَاعَةَ الثِّقَاتِ مِنَ النَّاسِ؛
    بِحَيْثُ لَا يُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا.
    (فَالشَّافِعِيُّ) بِهَذَا التَّعْرِيفِ (حَقَّقَهُ) ، وَكَذَا حَكَاهُ أَبُو يَعْلَى الْخَلِيلِيُّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَغَيْرِهِ عَنِ الْمُحَقِّقِينَ؛ لِأَنَّ الْعَدَدَ الْكَثِيرَ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مُشْعِرٌ بِأَنَّ مُخَالَفَتَهُ لِلْوَاحِدِ الْأَحْفَظِ كَافِيَةٌ فِي الشُّذُوذِ، وَفِي كَلَامِ ابْنِ الصَّلَاحِ مَا يُشِيرُ إِلَيْهِ؛ حَيْثُ قَالَ: (فَإِنْ كَانَ مُخَالِفًا لِمَا رَوَاهُ مَنْ هُوَ أَوْلَى مِنْهُ بِالْحِفْظِ لِذَلِكَ وَأَضْبَطُ، كَانَ مَا انْفَرَدَ بِهِ شَاذًّا مَرْدُودًا).
    وَلِذَا قَالَ شَيْخُنَا:
    (فَإِنْ خُولِفَ - أَيِ: الرَّاوِي - بِأَرْجَحَ مِنْهُ لِمَزِيدِ ضَبْطٍ أَوْ كَثْرَةِ عَدَدٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ التَّرْجِيحَاتِ - فَالرَّاجِحُ يُقَالُ لَهُ: الْمَحْفُوظُ، وَمُقَابِلُهُ وَهُوَ الْمَرْجُوحُ، يُقَالُ لَهُ: الشَّاذُّ).

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 244 - 245 جلد 01 فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي - شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن السخاوي (المتوفى: 902هـ) - مكتبة السنة، مصر
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 05 – 06 جلد 02 فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي - شمس الدين أبو الخير محمد بن عبد الرحمن السخاوي (المتوفى: 902هـ) - مكتبة دار المنهاج للنشر والتوزيع، الرياض
    اور حدیثِ حسن وصحیح کے رُوات کی زیادتی مقبول، ہے جب تک منافی نہ ہو، زیادتی اُس راوی کے (درمیان کے) جو (اُس سے) اوثق (ثقاہت و اعتبارمیں بڑھا ہوا) ہے۔ پھر اگر مخالفت کیاگیا وہ اَرجح (برتر) کے ذریعہ، تو راجح ''محفوظ'' ہے اور اس کی بالمقابل (روایت) ''شاذ ہے، اور ضعف کے ساتھ راجح ''معروف ہے اور اس کی بالمقابل (روایت) ''منکر'' ہے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 19تحفة الدُّرر شرح نخبة الفكر – سعید احمد پالنپوری – قدیمی کتب خانہ، کراچی
    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 19 تحفة الدُّرر شرح نخبة الفكر – سعید احمد پالنپوری – مکتبہ عمر فاروق، کراچی

    یہاں واضح الفاظ میں یہ بات موجود ہے کہ زیادات ثقہ مقبول ہے، جب تک کہ منافی نہ ہو، اور جب زیادت ثقہ منافی ہو، تو وہ مقبول نہ ہو گی بلکہ شاذ ہوگی!
    ملا علی قاری نے تو مطلقاً شاذ کی تعریف کرتے ہوئے منافاة وتضاد کی شرط بیان کی ہے:
    یہی بات آپ کے ممدوح ملا علی القاری نے بھی فرمائی ہے:

    ([تَعْرِيف الشَّاذِّ لُغَة وَاصْطِلَاحا])
    (والشاذ لُغَة: / الْفَرد) أَي بِمَعْنى الْمُنْفَرد.
    (وَاصْطِلَاحا: مَا يُخَالف فِيهِ الرَّاوِي مَن هُوَ أرجح مِنْهُ) أَي فِي الضَّبْط، أَو الْعدَد
    مُخَالفَة لم يُمكن الْجمع بَينهمَا.

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 252 شرح نخبة الفكر في مصطلحات أهل الأثر - علي بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري (المتوفى: 1014هـ) - دار الأرقم، بيروت

    ملا علی قاری بھی صراحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ شاذ حدیث وہ ہوتی ہے جس میں مخالفت ایسی ہو کہ ان روایات کا جمع کرنا ممکن نہ ہو، یعنی کہ منافاۃ وتضاد ہو!
    اور زیادت ثقات کی بحث میں تو بھائی نے خودبھی لکھا ہے:


    لہٰذا اول تو یہ کہ شاذ کا بیان زیادت ثقہ کی تفصیل میں کیا جائے، یا صحیح کی شروط میں، شاذ کی تعریف اور شروط ایک ہی ہیں، دونوں جگہ ایک ہی اصطلاحی شاذ ہے!
    دوم کہ دونوں مقام پر شاذ کے لئے منافاة وتضاد کی شرط کا ثابت کی جا چکی ہے، گو کہ دونوں جگہ اس شرط کا بیان کیا جانا لازم بھی نہیں!

    (جاری ہے)
     
    Last edited: ‏جولائی 29، 2016
  3. ‏جولائی 28، 2016 #173
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    اول تو یہ بتائیے کہ آپ نے
    اشج
    یا الضبعی کیوں کردیا ؟ جبکہ مسند البزار نے اشج اور الضبعی کہا ہے!
    اگر آپ کو اندازہ نہیں تو میں بتلادوں کہ یہ حدیث میں تحریف کہلاتی ہے!
    آپ نے پہلے اس اتنی قبیح بنیاد رکھی اور پھر اس پر اپنی عمارت کھڑنے لگے ہیں؛
    آپ ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں
    ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
    میں وہ روایت یہاں پھر نقل کرتا ہوں:

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الضُّبَعِيُّ، قَالَا: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أُرِيَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ» ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، وَعَاصِمٌ فِي حَدِيثِهِ اضْطِرَابٌ، وَلَا سِيَّمَا فِي حَدِيثِ الرَّفْعِ ذَكَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ، وَرَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَوَى عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَيْضًا، وَرَوَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَآهُ يَرْفَعُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ
    عبد اللہ بن مسعود ﷛سے کہ انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول ﷺ کی نماز نہ دکھاؤں؟ ، تو انہوں نے(عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) تکبیر کہی، اور انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) ہاتھ اٹھائے نماز شروع کرتے ہوئے، پھر انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) رکوع کیا، اور انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) ہاتھوں کو ملایا، اور انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ جب نماز پڑھ چکے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 46 جلد 05 البحر الزخار المعروف بمسند البزار - أبو بكر أحمد بن عمرو المعروف بالبزار (المتوفى: 292هـ) - مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة
    یہاں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس روایت میں اشج یا الضبعی نہیں بلکہ اشج اور الضبعی ہے۔
    یہ زیادت ثقہ کی قبیل سے کیوں نہیں! کیا یہ کوئی دوسری روایت ہے؟ کیا یہ وہی روایت نہیں! بڑی تفصیل سے اوپر یہ معاملہ بیان کیا گیا ہے کہ زیادت ثقہ اور شاذ کے معاملات میں روایت کا ایک ہی ہونا ضروری ہے، اور وہ ہے!
    ہم نے آپ کو سفیان ثوری کی روایت اسی لئے بیان کی تھی یا تو آپ نے اس پر نظر نہیں کی یا آپ کو مدعا سمجھ نہیں آیا! ہم دوبارہ نقل کر دیتے ہیں!

    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً»
    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ تو انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے مگر ایک مرتبہ۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 213 جلد 01 المصنف في الأحاديث والآثار (مصنف ابن ابي شيبة) - أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد (المتوفى: 235هـ) - دار التاج، بيروت
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 59 جلد 02 المصنف في الأحاديث والآثار (مصنف ابن ابي شيبة) - أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد (المتوفى: 235هـ) - الفاروق الحديثة للطباعة والنشر، القاهرة
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 64 - 65 جلد 02 المصنف في الأحاديث والآثار (مصنف ابن ابي شيبة) - أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد (المتوفى: 235هـ) - مكتبة الرشد، الرياض
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 213 جلد 01 المصنف في الأحاديث والآثار (مصنف ابن ابي شيبة) - أبو بكر بن أبي شيبة، عبد الله بن محمد (المتوفى: 235هـ) - دار القبلة - مؤسسة علوم القرآن

    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْد الْحَمِيدِ، قَالَ: حدثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَة،
    عَنْ عَبْد اللَّهِ، قَالَ: أَلا أُرِيكُمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.

    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ تو انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے پھر اس کے بعد نہیں اٹھائے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 105 جلد 03 التاريخ الكبير المعروف بتاريخ ابن أبي خيثمة - السفر الثالث - أبو بكر أحمد بن أبي خيثمة (المتوفى: 279هـ) - الفاروق الحديثة للطباعة والنشر، القاهرة

    وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.
    فَقَالَ: يَرْوِيهِ عَاصِمُ بن كليب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عَنْ عَلْقَمَةَ.
    حَدَّثَ بِهِ الثَّوْرِيُّ عَنْهُ.
    وَرَوَاهُ أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه، وعلقمة، عن عبد الله.
    وكذلك رواه ابن إدريس، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ.
    وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، وَفِيهِ لَفْظَةٌ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ، ذَكَرَهَا أَبُو حُذَيْفَةَ فِي حَدِيثِهِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَهِيَ قَوْلُهُ: "ثُمَّ لَمْ يَعُدْ".
    وَكَذَلِكَ قَالَ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ.
    وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، فَرَوَوْهُ عَنْ وَكِيعٍ، وَلَمْ يَقُولُوا فِيهِ: "ثُمَّ لَمْ يَعُدْ".
    وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ أَيْضًا، عَنِ الثَّوْرِيِّ، مِثْلَ مَا قَالَ الْجَمَاعَةُ، عَنْ وَكِيعٍ.
    وَلَيْسَ قَوْلُ مَنْ قَالَ: "ثُمَّ لَمْ يَعُدْ" مَحْفُوظًا.

    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ تو انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) پہلی تکبیر پر اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے ، پھر نہیں اٹھائے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 171 - 173 جلد 05 العلل الواردة في الأحاديث النبوية - أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد الدارقطني (المتوفى: 385هـ) - دار طيبة، الرياض
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 382 - 383 جلد 02 العلل الواردة في الأحاديث النبوية - أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد الدارقطني (المتوفى: 385هـ) – مؤسسة الريان، بيروت

    حَدَّثَنَا حُمَامٌ ثنا عَبَّاسُ بْنُ أَصْبَغَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنَ أَيْمَنَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ ثنا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ».

    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ تو انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) پہلی تکبیر پر اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے ، پھر نہیں اٹھائے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 264 - 265 جلد 02 المحلى بالآثار - أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي (المتوفى: 456هـ) - دار الكتب العلمية، بيروت

    وَأَمَّا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ فَإِنَّهُمْ احْتَجُّوا بِمَا حَدَّثَنَاهُ حَمَامٌ ثِنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَاجِيَّ ثِنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَيْمَنَ ثِنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ثِنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ثِنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ
    عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ»

    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ تو انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) پہلی تکبیر پر اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے ، پھر نہیں اٹھائے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 04 جلد 03 المحلى بالآثار - أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي (المتوفى: 456هـ) - دار الكتب العلمية، بيروت

    أَخْبَرَنِي الْخَلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرٍو الْكُوفِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا سَنَةَ ثَلاثَ عَشْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبُرْجُمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَادِحُ بْنُ رَحْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ،
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " أَلا أُرِيكُمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً "

    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ تو انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) تکبیر کہی اور ایک ہی بار اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے ۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 218 جلد 13 تاريخ بغداد - أبو بكر أحمد بن علي الخطيب البغدادي (المتوفى: 463هـ) - دار الغرب الإسلامي، بيروت

    أخبرنَا أَبُو عبد الله وَذكر عَن عَلْقَمَة
    عَن عبد الله أَنه قَالَ: " أَلا أريكم صَلَاة رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ - قُلْنَا: نعم فَقَامَ فَلم يرفع يَدَيْهِ إِلَّا فِي أول تَكْبِيرَة ثمَّ لم يعد ".

    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ ہم نے کہا ، جی ہاں؛ تو وہ (عبد اللہ بن مسعود کھڑے ہوئے،انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) پہلی تکبیر پر اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے ، پھر نہیں اٹھائے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 74 – 75 جلد 02 مختصر خلافيات البيهقي - أحمد بن فَرح الإشبيلى الشافعي (المتوفى: 699هـ) مكتبة الرشد، الرياض

    أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْفَقِيهُ بِدِمَشْقَ، وَسَنُقِرُّ الْمَحْمُودِيُّ بِحَلَبَ، قَالا:أنا مُكْرَمٌ التَّاجِرُ، أنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بِحَرَسْتَا سَنَةَ سِتٍّ وَخَمْسِينَ وَخَمْسِمَائَةٍ، أنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ السُّلَمِيُّ، أنا الْمُسَدَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَلَبِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّافَقِيُّ: ثنا صَالِحُ بن عليّ النّوفليّ: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَلا أُرِيكُمْ صَلاةُ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَفَعَ يَدَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ.

    ابن مسعود ﷛نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ دکھا دوں؟ تو انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود﷛نے) پہلی بار اپنے ہاتھ نہیں اٹھائے پھر اس کے بعد نہیں اٹھائے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 82 - 83 جلد 33 تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام - شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) - دار الكتاب العربي، بيروت
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 506 - 507 جلد 10 تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام - شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ) - دار الغرب الإسلامي
    اور آپ نے جو الفاظ پیش کئے ہیں وہ یہ ہیں:

    اب کوئی منچلا آکر کہہ دے کہ سفیان ثوری کی
    ألا أصلی بكم والی حدیث الگ حدیث ہے اور أَلا أُرِيكُمْ والی حدیث الگ حدیث ہے! کیونکہ یہ الفاظ الگ الگ ہیں!
    ہم کہیں گے نہیں ایسا نہیں ہے، بات ایک ہی ہے اور آگے جو الفاظ بیان ہوئے ہیں وہ اس کے ایک ہی ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
    اور آپ بھی اس روایت کے بقیہ الفاظ کو صرف نظر کیوں کر رہے ہو؟ جبکہ اس روایت کے بقیہ الفاظ صریح طور پر اس کی دلیل ہیں کہ یہ ایک ہی حدیث ہے۔

    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الضُّبَعِيُّ، قَالَا: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: أَلَا أُرِيَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ» ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، وَعَاصِمٌ فِي حَدِيثِهِ اضْطِرَابٌ، وَلَا سِيَّمَا فِي حَدِيثِ الرَّفْعِ ذَكَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ، وَرَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَرَوَى عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَيْضًا، وَرَوَى عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَآهُ يَرْفَعُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ
    عبد اللہ بن مسعود ﷛سے کہ انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول ﷺ کی نماز نہ دکھاؤں؟ ، تو انہوں نے(عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) تکبیر کہی، اور انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) ہاتھ اٹھائے نماز شروع کرتے ہوئے، پھر انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) رکوع کیا، اور انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) ہاتھوں کو ملایا، اور انہوں نے (عبد اللہ بن مسعود ﷛ نے) انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ جب نماز پڑھ چکے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 46 جلد 05 البحر الزخار المعروف بمسند البزار - أبو بكر أحمد بن عمرو المعروف بالبزار (المتوفى: 292هـ) - مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة
    میرے بھائی نے موافقت صرف الفاظ کے یکساں ہونے کو سمجھا ہوا ہے، یہ بات بھی اوپر تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔
    پھر آگے کے الفاظ سے اس حدیث کے ایک ہی ہونے کی دلالت بھی بتلا دی گئی ہے!
    مزید کہ اگر بالفرض محال بھائی کی بات مان بھی لی جائے تو سفیان ثوری والی روایت کے طرق میں بھی الفاظ کا فرق ہے، کسی روایت میں اخبركم ہے، کسی روایت میں
    ألا أصلی بكم ہے تو کسی روایت میں أَلا أُرِيكُمْ ہے، پھر تو یہ تمام بھی مختلف احادیث قرار پائیں گی!
    أَلَا أُرِيَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    یا

    عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ
    ان تمام کا مستفاد یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہوئی نماز کو آگے بیان کرنا، ایک صحابی تعلق سے أَلَا أُرِيَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ، کے الفاظ میں عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ کے معنی شامل ہیں! (لہٰذا دیگر نے اسے اختصار کیا اور یہ الفاظ روایت نہیں کئے)، اور عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ کا مستفاد بھی یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہوئی نماز کو آگے بیان کیا جائے، جیسا کہ آگے روایت میں بیان بھی ہوا ہے، (لہٰذا یہاں اختصار کرتے ہوئے دوسرے الفاظ روایت نہیں کئے)!
    یہ ان الفاظ کی کم از کم معنوی مطابقت بیان کی ہے، اس میں مزید بھی ممکن ہے!


    اول تو اس کا زیادت ثقات کی قبیل سے ہونا بیان کیا چکا ہے،
    دوم کہ شاذ کے لئے منافاة وتضاد کی شرط ثابت کی جا چکی ہے،
    سوم کہ ابھی آپ نے اس روایت کو شاذ قرار دیا ہے، اور آگے جا کر اسے شاذ کہنے سے انکاری ہو جاؤ گے!
    اشماریہ بھائی! آپ سے التماس ہے کہ آپ اس طرز استدلال پر نظر کریں! آپ اکثر ایک لفظ کے لغوی معنی کی بنیاد پر اپنے مؤقف اور دلیل کی عمارت کھڑی کر لیتے ہیں، لیکن اس لفظ کے استعمال کے مفہوم سے واقف نہیں ہوتے! یہی کام آپ نے لفظ ''حافظ'' سے توثیق کشید کرنے کی سعی کرتے ہوئے کیا تھا!
    ویسے شاذ کےلئے منافاة ومتضاد ہونے کی شرط ثابت کی جا چکی ہے، لیکن آپ کے طرز استدلال کی تصحیح کے لئے عرض ہے کہ اگر کسی منچلے نے آپ کی طرح لفظ ''خلاف'' کو محض خلاف اور منافی ومتضاد نہ ہونے پر محمول کرتے ہوئے آپ کو قرآن کی آیت پیش کی:

    أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (سورة النساء 82)
    اور
    وحكمها بين الآيتين المصير إلی السنة؛ لأن الآيتين إذا تعارضتا تساقطتا، اس تعارض کا حکم یہ ہے کہ جب دو آیتوں میں تعارض ہو گیا تو سنت کی جانب رخ کرنا ہوگا۔ اس وجہ سے کہ اس صورت میں ہر دو آیت پر عمل ممکن نہیں رہا اور جن تعارض ہوگا تو دونوں ہی ساقط ہوں گی
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 87 – 88 جلد 02 كشف الأسرار شرح المصنف على المنار مع شرح نور الأنوار على المنار - حافظ الدين النسفي- ملاجيون - دار الكتب العلمية
    اور پھر وہ فقہ حنفی سے آیتوں کے ساقط ہونے کا اصول آپ کو پیش کرے گا کہ دیکھوں تم نے تو خود اس اختلاف کو ثابت کر دیا! پھر کہیئے گا کہ محض اختلاف تضاد نہیں!
    کیا کہیئے گا! یہاں اس آیت میں محض اختلاف کی بات ہے یا اختلاف تضاد کی؟
    اور ذرا اختلاف کی اقسام کی تحقیق بھی کر لیں!
    ابن حجر العسقلانی نے اس ''مخالفت'' کو اور خاص شاذ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہاں مخالفت کہتے کسے ہیں: ملا حظہ فرمائیں:

    وَأما الْمُخَالفَة: وينشأ عَنْهَا الشذوذ والنكارة فَإِذا روى الضَّابِط والصدوق شَيْئا فَرَوَاهُ من هُوَ أحفظ مِنْهُ أَو أَكثر عددا بِخِلَاف مَا روى بِحَيْثُ يتَعَذَّر الْجمع على قَوَاعِد الْمُحدثين فَهَذَا شَاذ وَقد تشتد الْمُخَالفَة أَو يضعف الْحِفْظ فَيحكم على مَا يُخَالف فِيهِ بِكَوْنِهِ مُنْكرا
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 1003 جلد 01 هدي الساري مقدمة فتح الباري - أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) - دار الطيبة للنشر والتوزيع، الرياض
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 403 – 404 هدي الساري مقدمة فتح الباري - أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) - مكتبة الملك فهد الوطنية
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 384 - 385 هدي الساري مقدمة فتح الباري - أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) - المكتبة السلفية

    ابھی اوپر معنوی مطابقت بیان کی گئی ہے!


    میں نے یہ کب کہا کہ میں نے ان روایت کے جمع کی ایک ممکنہ صورت بیان نہیں کی؟ یہ تو میں نے آپ کے مطالبہ پر کی ہے۔
    بھائی جان! آپ نے فرمایا تھا کہ:


    ہم نے کہا ہے کہ یہ ممکنہ جمع ہمارے مؤقف کی'' بنیاد ''نہیں!


    ویسے تو زیلعی رحمہ اللہ کے علاوہ دیگر کے کلام کی علم الحدیث میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، مگر پھر بھی عبارت پیش کریں!
    ملا علی قاری سے تو آپ کا کا مؤقف شاذ کی تعریف میں جدا ہونا بیان کیا جا چکا ہے!


    آپ شاید اس کلام کی جانب اشارہ کرنا چاہتے ہیں:

    قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ:" هَذَا الْحَرْفُ يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ، لَا يَرْوِيهِ أَحَدٌ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَلِلزُّهْرِيِّ نَحْوٌ مِنْ تِسْعِينَ حَدِيثًا يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُشَارِكُهُ فِيهِ أَحَدٌ بِأَسَانِيدَ جِيَادٍ"
    ابوحسین مسلم (مؤلف کتاب) نے کہا: یہ کلمہ، آپ کے فرمان: "(جو کہے) آؤ، میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں تو وہ صدقہ کرے۔" اسے امام زہری کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا: اور زہری رحمۃ اللہ علیہ کے تقریبا نوے کلمات (جملے) ہیں جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جید سندوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں، جن (کے بیان کرنے) میں اور کوئی ان کا شریک نہیں ہے
    ملاحظہ فرمائیں: صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَيْمَانِ (بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ)

    عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں!
    ایک بات ذہن میں رکھیں، صحیح اسناد سے روایت کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا! فتدبر!


    چلیں خیر! یہ معاملہ تو سلجھ گیا!


    ہم اللہ کی توفیق سے آپ کے اشکالات کے مفصل جواب لکھتے ہیں، گو کہ اس لئے کافی وقت بھی درکار ہوتا ہے، لیکن جب ہم آپ کے اشکال کی بنیاد کا باطل ہونا بتلاتے ہیں تو آپ کافی جھنجلا سے جاتے ہو، ایسا نہیں ہونا چاہئے!
    اب آپ دیکھیں کہ آپ ایک دھمکی سی دے رہے ہو کہ آپ اشکال پیش کر دو گے، اور پھر یہ جا اور وہ جا!
    ایسی صورت میں اشکال کم ہو گا اور وسوسہ پیدا کرنا زیادہ کہلائے گا!
    آپ ان شاء اللہ ایسا کام نہیں کریں گے! ہم دعا گو ہیں!


    ہم کیا کریں! ہمارا تو مسلک ہی حدیث ہے بھائی! ہم تو حدیث کا ہر صورت دفاع کریں گے، کہ کوئی بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط منسوب نہ ہو اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کا انکار نہ ہو! یہی ہمارا مسلک ہے اور اس کا دفاع تو ہم کریں گے!


    شاذ کا ضعیف ہونا بہرحال ثابت کیا جاچکا ہے!
    اس میں کوئی شک نہیں، اس میدان میں تو آپ لوگ استاد ہیں! صحیح احادیث کو رد کرنے کے بہت سے طریقے نکالے ہوئے ہیں! ابتسامہ (ناراض نہ ہو جانا، لیکن کیا کروں میں بھی مجبور ہوں، حقیقت بیان کرنے پر!)

    الٹی گنگا بہانا کوئی آپ سے سیکھے!
    میاں! شاذ اس وقت ہوگی جب جمع ممکن نہ ہو! جمع اس لئے غلط قرار نہیں دیا جاسکتا کہ شاذ ہے! ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے شاذ کہہ دو پھر کہو کہ اس لئے یہ جمع غلط ہے!
    اور آپ کے نزدیک تو شاذ کے لئے جمع کا نا ممکن ہونا ضروری نہیں، تو شاذ ہونا جمع کے غلط ہونے کی دلیل کیسے ہوا!
    کم از کم اپنے مؤقف اور کلام کو تو یاد رکھا کریں!
    آپ جمع کے نا ممکن ہونے کی دلیل دیں! لغت وقرائین کے مطابق!
    اور ویسے بھی پہلے شاذ ہونا تو ثابت کیجئے! اس حدیث کو کسی محدث نے شاذ قرار نہیں دیا!
    اور آپ کا کیا ہے آپ ابھی آگے اسے شاذ قرار دینے سے بھی انکاری ہو جاؤ گے!


    یہی ایک مسئلہ ہے کہ پہلے آپ غلط بنیاد رکھتے ہو اور پھر اس پر عمارت کھڑی کر دیتے ہو!
    شاذ کے لئے تضاد کا ضروری ہونے کا ثبوت متعدد بار پیش کیا جا چکا ہے!


    جی آپ کو اختلاف ہے، مگر بلا دلیل!


    آپ کا یہ خیال بس خیال ہی ہے!


    علماء حدیث نے ان دونوں روایات کو ایک ہی حدیث قرار دیا ہے، اور دونوں روایات کو قبول کیا ہے!


    میرے بھائی جمع ہوتا ہی وہ ہے جب دو یا اس سے زیادہ روایات کے الفاظ ایک ساتھ ایک روایت کتب حدیث میں موجود نہ ہوں! اور اسے نئی روایت بنانا نہیں کہتے! اگر آپ کی بات مان لی جائے تو روایات کو جمع کرنے کا باب بند ہو جائے گا!
    اگر آپ علم الحدیث میں شغل رکھنا چاہتے ہيں تو آپ کو علم الحدیث کا کم از کم کوئی مختصر کورس کرنے کی اشد ضرورت ہے!


    دیکھا! ہمارے بھائی اس روایت کو شاذ قرار دینے سے انکاری ہو گئے!
    اب میں بھائی کو یاد دلاتا ہوں کہ انہوں نے اس روایت کو شاذ قرار دیا ہے:


    پوری بحث بھائی نے اس روایت کو شاذ قرار دینے پر کی ہے، اور اب کہتے ہیں کہ انہوں نے شاذ نہیں کہا!
    بھائی کے کلام کا یہ تضاد بھائی کی علم الحدیث میں کمزوری کی بناء پر ہے کہ بھائی کو علم حدیث کہ صحیح فہم نہیں، اس لئے کبھی وہ کچھ اور کبھی کچھ بیان کر جاتے ہیں! اور انہیں خود اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا! ویسے یہ معاملہ بھائی کے ساتھ خاص نہیں، اہل الرائے کے ساتھ اکثر ایسا ہوا کرتا ہے، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی بیان کیا ہے! اور سب کی وجہ مشترکہ ہے!


    جی جناب! ایک ہی راوی اگر متضاد متن روایت کرے تو مضطرب حدیث کہلاتی ہے! ایسی صورت میں وہ پوری حدیث مضطرب قرار پائے گی، اور اگر ایک ثقہ راوی دوسرے ثقہ رواة سے متضاد روایت کرے کہ جمع ممکن نہ ہو تو وہ شاذ کہلائے گی! معاملہ یہاں پھر بھی شاذ کے ضمن میں آئے گا!
    لیکن میرے بھائی! ابن ادریس کی روایات کا متضاد ومنافی ہونا کہ جمع ممکن نہ ہو، اس مؤقف کا اثبات کہاں ہے؟ آپ خود رقم طراز ہیں:


    ویسے بھی یہ خلط مبحث ہے کیونکہ آپ نے اگلے ہی جملہ میں ابن ادریس کی روایت کے مضطرب ہونے کا بھی انکار کیا ہے!


    تو پھر یہ مضطرب کا معاملہ ذکر کر کے خلط مبحث کیوں!


    اشجع سے علمنا کے الفاظ متعین ہونا کہنا آپ کی غلط فہمی ہے، یو کہیئے کہ
    ''عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ'' کے الفاظ ثابت ہوگئے، اور مسند البزار سے ''أَلَا أُرِيَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ'' کے الفاظ ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر کسی راوی کی روایت کے ایک ہی الفاظ کے صحیح ہونے کا'' تعین '' یعنی اثبات کیا جائے تو ہر وہ حدیث جس میں روای نے مختلف الفاظ روایت کئے ہوں مضطرب قرار پائے گی۔ لیکن ایسا نہیں، جیسا کہ آپ نے خود مضطرب کی تعریف میں تضاد کی شرط بیان کی ہے۔
    اور آپ نے خود ان الفاظ مے متضاد ہونے کی نفی بھی کی ہے:


    لہٰذا آپ کا مسند البزار کی روایت کے الفاظ کی اشجع کے ہونے کی نفی کرنا باطل ہے!


    بس نظر میں ہی معلوم ہوتے ہیں، فہم میں نہیں، ویسے آپ نے خود اگلے مراسلہ میں اپنی غلط فہمی کا اقبال کرتے ہوئے رجوع کر لیا ہے!


    آپ کے بیان کردہ أصول کے مطابق ضرور شاذ قرار پائیں گی، اصول حدیث کے تحت نہیں!
    کہ آپ صرف الفاظ کے فرق کی بنا پر اس روایت کو شاذ قرار د رہے تھے، اور بعد میں انکار بھی کر دیا! کہ شاذ نہیں، آپ نے فرمایا تھا:


    جی بالکل! جس کی آپ کے مؤقف سے موافقت نہیں!


    کوئی کو چھوڑیں، آپ الجھ گئے ہو!


    سیدھی سی بات کہو کہ اس روایت کو آج تک کسی محدث نے شاذ قرار نہیں دیا، اس روایت کو شاذ قرار دینے کا سہرا آپ کے سر جاتا ہے، کہ جنہیں شاذ کی تعریف کی معرفت بھی نہیں، اور اسے شاذ قرار دیتے وقت شاذ کی تعریف کی فہم بھی نہ تھی!
    آپ نے خود اقرار کیا ہے:


    مسند البزار کی روایت میں بزار نے اشجع سے بھی سند بیان کی ہے اور وہ مجہول نہیں! یہ بات اوپر تفصیل سے گزری ہے، ایک کسی روایت کی ایک سند ہونا اس کے صحیح ہونے کے مخالف نہیں، وگرنہ تمام غریب احادیث ضعیف قرار پائیں! فتدبر!


    اور ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ کا مؤقف بالکل غلط ہے، شذوذ کے لئے منافاة اور تضاد کا ہونا ضروری ہے۔

    (جاری ہے)
     
    Last edited: ‏جولائی 29، 2016
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 28، 2016 #174
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محترم ابن داود بھائی!
    انتہائی معذرت کے ساتھ، میں آپ کی بات کاٹنے پر مجبور ہوں۔
    جو الفاظ آپ استعمال کر رہے ہیں:
    انہیں پڑھ کر مجھے دلی طور پر دکھ اور افسوس ہوا ہے اور قریب تھا کہ میرے ہاتھ بھی کی بورڈ پر متحرک ہو جاتے کہ میں نے خود کو روک لیا۔
    میں نے انتہائی محبت اور احترام کے ساتھ آپ سے بات شروع کی تھی اور عرض کیا تھا کہ:
    آپ کے ارشاد پر میں نے آگے عرض کرنا شروع کیا۔

    اور اب آپ کے ان الفاظ کو پڑھ کر میں اس بحث سے معذرت چاہتا ہوں۔ آپ کا انداز اس قابل نہیں ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی علمی بحث کی جا سکے۔ ہر جگہ مناظرہ کا طرز ایسے لاتے ہیں جیسے اور کچھ آتا ہی نہ ہو۔
    اس لیے میں اب حکم قرآنی کے مطابق آپ کو سلام کہتا ہوں۔
    میں اس بحث میں اب مزید جواب نہیں دوں گا۔
    و السلام علیکم
     
  5. ‏جولائی 30، 2016 #175
    احسان الٰہی ظہیر

    احسان الٰہی ظہیر رکن
    جگہ:
    مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
    شمولیت:
    ‏اپریل 07، 2011
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    73

    میرے الفاظ پر سکون کے ساتھ غور فرمالیتے تو آپ کو یہ زحمت نہ کرنا پڑتی ۔
    ولا یسئل عما یفعل وھم یسئلون

    پہلے نسخ کی تعریف اور شرائط بیان فرما دیں تاکہ بات منطقی انداز میں آگے بڑھے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 30، 2016 #176
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    یہ ایک الگ موضوع ہے اس کے لئے الگ تھریڈ بنا لیں۔ یہاں صرف موضوع سے متعلق ہی بات کریں شکریہ۔
     
  7. ‏جولائی 30، 2016 #177
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    یہ موضوع کے متعلق ہی ہے. ویسے بھی الگ تھریڈ بنانے کا کوئ فائدہ نہیں وجہ آپ اس تھریڈ کو پڑھ کر جان جائیں گے:
    http://forum.mohaddis.com/threads/فقہ-حنفی-میں-ناسخ-ومنسوخ-کا-قاعدہ.32259/
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 30، 2016 #178
    احسان الٰہی ظہیر

    احسان الٰہی ظہیر رکن
    جگہ:
    مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
    شمولیت:
    ‏اپریل 07، 2011
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    73

    میرے بھائی الگ موضوع کیسے ہو گیا ، آپ نے نسخ کی بات کی ہے تو نسخ ثابت بھی کریں اب ، اور نسخ ثابت کرنے کے لئے آپ پر لازم ہے کہ مسئلہ مذکورہ میں نسخ کی شرائط پوری ثابت کریں
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 30، 2016 #179
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم نسخ کی شرائط آپ بتادیں۔ شکریہ
     
  10. ‏جولائی 31، 2016 #180
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,385
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جوابات لازمی ہیں ، لئیے جائیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں