1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (صلاۃ الوتر)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مارچ 13، 2016۔

  1. ‏مارچ 13، 2016 #1
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    بسم الله الرحمن الرحيم
    سنت طریقہ نماز (صلاۃ الوتر)
    تمہید
    نماز وتر پہلے ایک نفل عبادت تھی بعد میں واجب ہوئی۔ جب تک یہ نماز نفل تھی اس وقت تک آقا علیہ السلام اور صحابہ کرام اس نماز کو ہر طرح پڑھتے رہے۔ ہاں یہ بات البتہ شروع سے ہی تھی کہ یہ طاق اعداد میں پڑھی جاتی تھی۔ کوئی ایک رکعت پڑھ لیتا کوئی تین، کوئی پانچ، سات، نو، گیارہ یا تیرہ ۔ تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت نہیں ہے ۔ بعض حضرات اشارہ سے بھی پڑھ لیتے تھے۔ یہ اس لئے تھا کہ یہ نفل نماز تھی جس کی تعداد متعین نہیں ہؤا کرتی ۔ ہاں جب یہ نماز لازمی قرار دی گئی تو اس کی تعداد بھی متعین کر دی گئیں۔
    وجوب وتر
    سنن أبي داود: کتاب الصلاۃ: باب فی من لم يُوتِرْ:
    بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ وتر حق ہے جس نے وتر ادا نہ کئے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے جس نے وتر ادا نہ کئے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے جس نے وتر ادا نہ کئے وہ ہم میں سے نہیں (تین دفعہ فرمایا)۔
    مسند الشاميين للطبراني:
    ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ صلاۃ الوتر ہے ۔
    مصنف عبد الرزاق: باب وجوب الوتر هل شئ من التطوع واجب:
    عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے پاس آئے اور فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک نماز کا اضافہ تمہاری نمازوں میں کیا ہے پس اس کی حفاظت کرو اور وہ صلاۃ الوتر ہے ۔
    المستدرك على الصحيحين للحاكم: كتاب معرفة الصحابة رضي الله عنهم ذكر أبي بصرة جميل بن بصرة الغفاري رضي الله عنه:
    میں ہے کہ ابو بصرہ رضی الله عنہ صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے پس اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے درمیان پڑھو اور وہ صلاۃ الوتر ہے۔
    تين رکعت وتر
    سنن أبي داود: كِتَاب الصَّلَاةِ: بَاب فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ:

    عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے چار اور تین ، چھ اور تین ، آٹھ اور تین ، دس اور تین رکعات ۔ سات رکعات سے کم اور تیرہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔
    سنن النسائي: كِتَاب قِيَامِ اللَّيْلِ وَتَطَوُّعِ النَّهَارِ ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى أَبِي إِسْحَقَ فِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْوِتْرِ:
    ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر پڑھتے پہلی رکعت میں "سبح اسم ربک الاعلی" دوسری رکعت میں "قل یا ایہاالکافرون" اور تیسری میں "قل ھو اللہ احد" پڑھتے۔
    مسند أحمد: مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ: مُسْنَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
    علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تین رکعت) وتر مفصل کی نو (9) سورتوں کے ساتھ پڑھتے- پہلی رکعت میں"الھاکم التکاثر"، "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" اور"اذا زلزلت الارض"۔ دوسری رکعت میں "والعصر"، "اذا جاء نصر اللہ والفتح" اور "انا اعطیناک الکوثر"۔ تیسری رکعت میں "قل یا ایھا الکافرون"، " تبت یدا ابی لھب" اور "قل ھو اللہ احد" پڑھتے تھے۔
    سنن الترمذي: كِتَاب الصَّلَاةِ: بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلَاثٍ:
    علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر میں مفصل کی نو(9) سورتیں پڑھتے ہر رکعت میں تین سورتیں پڑھتے- ان میں سے آخری "قل ھو اللہ احد" ہوتی۔
    رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم كا وتر پڑھنے کا آخرى طریقہ
    صحيح البخاری: کتاب الجمعہ: بَاب قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ:
    ابوسلمۃ بن عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہ پڑھتے تھے- چار رکعت اس طرح پڑھتے کہ اس کی ادائیگی کی خوبصورتی اور طوالت کے بارے بس کچھ نہ پوچھو (یعنی بہت ہی خشوع وخضوع والی ہوتیں) پھر چار رکعت پڑھتے کہ اس کی ادائیگی کی خوبصورتی اور طوالت کے بارے بس کچھ نہ پوچھو (یعنی بہت ہی خشوع و خضوع والی ہوتیں) پھر تین رکعت ( وتر ) پڑھتے- عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔
    نوٹ: کچھ احادیث سے ایک، پانچ، سات اور نو رکعت نماز وتر کا بھی شبہ ہوتا ہے- کچھ احادیث میں تو اشارہ سے وتر پڑھنے کا بھی ذکر ملتا ہے مگر وہ سب اس وقت تھیں جب وتر واجب نہ ہوئے تھے بلکہ ایک نفلی عبادت تھے۔ جب سے وتر واجب ہوئے ہیں وتر کی تعداد متعین تین رکعات ہی ہے اور اسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل رہا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 02، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    دلیل؟؟؟
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 02، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    دلیل؟
    دلیل؟؟؟
    متن مع ترجمہ؟؟؟؟
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 02، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ان سب کی دلیل؟؟؟؟
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 02، 2016 #5
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 02، 2016 #6
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    ترجمہ تو موجود ہے ۔۔۔ ابتسامہ
    ترجمہ میں کوئی غلطی ہے تو اس کی نشاندہی فرمادیں۔
    عربی متن اصل میں دیکھ لیں ہر ایک کا مکمل حوالہ دے دیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اور احادیث بھی زیرِ مطالعہ آجائیں گی فائدہ ہو جائے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 02، 2016 #7
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 03، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کہنے کا مقصود یہ تھا کہ متن کے نیچے ترجمہ آ جاۓ.
    جناب عالی!
    میرے پاس ساری کتابیں موحود نہیں ہیں. لہذا میں آپ ہی کی زبان میں کہتا ہوں:
     
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 03، 2016 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    آپ نے لکھا:
    دلیل کا تقاضہ کرنے پر جواب دیا:
    آپ کے دعوے اور دلیل میں مطابقت نہیں ہے. آپ اپنے دعوے کا جائزہ لیں اسکے بعد اپنی دلیل دیکھیں
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 3
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  10. ‏جون 03، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    آپ نے لکھا:
    میں نے ان سب کی دلیل مانگی تھی. خاص طور سے ملون الفاظ کی لیکن آپ نے جو دلیل دی کیا آپنے خود سے اسکو پڑھا بھی ہے؟؟؟
    کہاں ہے اسمیں آپ کے دعوے کی دلیل؟؟؟
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں