1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (قراءت)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مارچ 05، 2016۔

  1. ‏مئی 29، 2016 #41
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس میں سے کون سی تحریر قولِ ابی حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہے؟
    جو کچھ لکھا گیا احادیث کی روشنی میں لکھا گیا اور ان کا حوالہ بھی دیا گیا۔
     
  2. ‏مئی 29، 2016 #42
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    بصد احترام عرض ہے کہ اس اقتباس میں پہلی دو تین لائن بھی شامل کرلیتے تو نہ آپ کو دھوکہ لگتا اور نہ دوسروں کو۔ یہاں وہی ہؤا کہ کوئی قرآن کا حوالہ دے اور کہے کہ قرآن میں ہے ”لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ“ اور ”وَأَنْتُمْ سُكَارَى“ چھوڑ دے۔
    آپ التماس ہے کہ اس اقتباس سے پہلے کی سطور بھی بمع ترجمہ لکھ دیں تاکہ تلافی ہوجائے۔ شکریہ
     
  3. ‏مئی 30، 2016 #43
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    تقریر ترمذی میں بیان کردہ مکمل واقعہ بیان کیا گیا ہے! مجھے تو یہاں کوئی دھوکہ نہیں لگا، ہاں دوسروں کے دھوکوں سے لوگوں کو متنبہ کر دیا ہے!
    یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا، مکمل واقعہ بیان کیا گیا ہے، البتہ یہ کام آپ نے میرے پیش کئے گئے حوالہ میں کیا تھا، اور بھی دیگر جگہ آپ اس کے مرتکب ہوئے ہیں!
    کتاب کا لنک دیا ہے، آپ وہاں سز اپنی مطلوبہ عبارت نقل کردیں!
     
  4. ‏مئی 30، 2016 #44
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165


    پوری عبارت کچھ یوں ہے؛
    قولہ:’ومن ادرک رکعۃمن الصبح فقد ادرک الصبح
    ‘ذہب الامام الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ الیٰ ہٰذا الحدیث وحملہ فی حق الناسی، والنائم، واستثناہما من روایت النہیٰ عن صلاۃ فی الاوقات المکروہۃ ہٰکذا، و اخذا اامامنا ابو حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ بحدیث النہیٰ لترجیحہ بکونہ محرما، و جوابہ عن ہٰذا الحدیث باَن یقال: لما تعارضت الروایات فترجع الیٰ القیاس، والقیاس یرجح حدیث النہی فی الصبح لا العصر، کما ذکرہ شارح الوقایۃ، او یقال: ان ہٰذا الحدیث فی حق الصبی اذا بلغ، والکافر اذا سلم، والمحائض والنفساء اذا طھرنا فی وقت الطلوع او الغروب، فیجب علیھم قضاء صلاۃ ہٰذا الوقت لما انھم ادرکوا الجزء الاخیر الذی ھو موجب الصلاۃ، او یقال: ان معنیٰ من ادرک صلاۃ قبل الغروب والطلوع فقد ادرک الصلاۃ، ای ثواب الصلاۃ مطلقاء و اما اداء الصلاۃ الکاملۃ فی ھٰذا الوقت المکروہ فلا بحث عنہ فی الحدیث؛ بل یجب علیہ ان یؤذی الصلاۃ کیف ما امکن فی الوقت الضیق، ثم یقضیھا فی وقت آخر لاحتراز الکمال، كما روي عن أبي يوسف رحمه الله تعالیٰ أنه كان مع شيخه أبي حنيفة رحمه الله تعالیٰ في السفر، ولم يجد أول وقت صلاة الفجر لعارض، وكانت الشمس كادت أن تطلع، فقدم أبو حنيفة أبا يوسف رحمهما الله تعالیٰ، وصار لأبي يوسف رحمه الله تعالیٰ تلميذه مقتديا به، فصلی أبو يوسف رحمه الله تعالیٰ ركعتي الفجر من غير رعاية تعديل الأركان، وإقامة الحدود، ورعاية الأدب، والسنن والواجبات؛ بل أدي الفرائض فقط علی سبيل التعجيل مخالفة طلوع الشمس في الصلاة، ثم أبا حنيفة أعاد الصلاة بنية النفل في وقت آخر لترك الواجبات والسنن وغيرها من الآداب إلا أنه لم يترك هيئتها أيضا ابتغاء للثواب، ومن هنا قال أبو حنيفة رحمه الله تعالیٰ: صاريعقوبنا فقيها.
    واقعہ تشریعی بیان تھا جس کو سیاق کے بغیر آپ نے ذکر گیا ۔
     
  5. ‏مئی 30، 2016 #45
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    کسی سے اختلاف رکھنا آپ کا حق ہے مگر کسی کے مؤقف کے بیان میں کمی بیشی اچھی بات نہیں۔
    تمام حضرات سے گذارش ہے کہ بحث حق کی تلاش کے لئے کریں اور خواہ مخواہ کے اعتراضات سے بچیں۔
     
  6. ‏مئی 31، 2016 #46
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بھٹی صاحب ! میں نے یہاں مسئلہ بیان نہیں کیا ہے، یہاں ميں نے واقعہ ہی بیان کیا ہے، اور واقعہ پورا بیان کیا ہے، جیسا وہاںمنقول ہے!
    بھٹی صاحب! آپ سے بھی ایک عرض ہے کہ عقل استعمال سے کم نہیں ہوتی، اس کے استعمال میں کنجوسی نہ کریں!
     
  7. ‏مئی 31، 2016 #47
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    جی اب کچھ ارشاد ہو۔ غلطی انسان سے ہوتی ہے اور یہ عیب نہیں۔ عیب یہ ہے کہ غلطی کو تسلیم نہ کیا جائے۔
    شدید تر یہ ہے کہ اس پر بضد ہؤا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں دین کا صحیح فہم عطا فرمائے اور اسی پر چلائے (آمین)۔
     
  8. ‏مئی 31، 2016 #48
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    عقل استعمال نہ کرنے سے یہ حال ہے، اگر استعمال کرلی تو ۔۔۔۔۔ ابتسامہ
     
  9. ‏جون 01، 2016 #49
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    آپ کس مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں؟ آپ کا داخلہ سے قبل اردو کا ٹیسٹ لیا گیا تھا، کہ آیا آپ کو اردو سمجھ آتی ہے!
    تقریر ترمذی سے میں نے مسئلہ بیان نہیں کیا، تقریر ترمذی میں درج واقعہ بیان کیا ہے!
    آپ نے جلد ہی ''متکلم الاسلام'' کا رتبہ حاصل کر لینا ہے!
     
    Last edited: ‏جون 01، 2016
  10. ‏جون 01، 2016 #50
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    تقریر ترمذی میں واقعہ حدیث کی تفہیم میں پیش کیا گیا تھا۔ اصل مدعا کو بیان کیئے بغیر واقعہ بیان کرنے سے وہی عندیہ ملے گا جس کے لئے آپ نے وہ واقعہ بیان کیا۔ خیر دنیا ہر طرح کے انسانوں سے بھری پڑی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں