1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (قراءت)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مارچ 07، 2016۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اگست 27، 2016 #241
    شادباش عالم

    شادباش عالم رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    234
    موصول شکریہ جات:
    49
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    ھم یہ ھرگز نہیں کہیں گے کہ آپ نے تاویل کی ھے. کیونکہ اس طرح کی ملتی جلتی باتیں ھم اکثر سن چکے ھیں. ایک وقت تھا ھم فیسبوک پر گھنٹوں انہیں ابحاث میں لگے رھتے تھے. ھم کو اب ایسی باتوں کی ہلکی پھلکی پرکھ ھو گئ ھے.
     
  2. ‏اگست 27، 2016 #242
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    عمدہ بات ہے.
    ویسے اگر کسی عالم کی کہی ہوئی بات ہوتی تو میں تاویل کا سوچتا. اس کا تو قائل بھی نا معلوم ہے.
    لیکن یہ حقیقت ہے کہ عربی شاعری اور اس کے مزاج سے اچھی طرح واقف شخص اس شعر میں قباحت محسوس نہیں کرتا. یہ تو ان کے شعراء کا طرز ہے.
    لعنۃ ربنا عدد رمل... علی من رد قول ابی حنیفہ والے شعر کا تعلق عبد اللہ بن مبارک رح سے بیان کیا جاتا ہے. کون سوچ سکتا ہے کہ ابن مبارک ایسی بات کہیں گے؟ لعنت تو بڑی چیز ہے.
    حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ سے مراد مبالغہ ہوتا ہے, حقیقت نہیں.
     
  3. ‏اگست 27، 2016 #243
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    باقی اللہ پاک آپ کو تعصب سے پاک حقیقی علم عطا فرمائیں. آمین
    فروعی اختلافات کو فروعی ہی رکھنا چاہیے. احترام سب کا ہو.
    والسلام
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 28، 2016 #244
    شادباش عالم

    شادباش عالم رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    234
    موصول شکریہ جات:
    49
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    ھم آپ کی دعا پر آمین کہتے ھیں. اور آپکے لۓ بھی دعا کرتے ھیں کہ الہ العالمین آپ کو علم اور عمل میں دن دونی رات ترقی عطا فرمائیں.
     
  5. ‏اگست 28، 2016 #245
    شادباش عالم

    شادباش عالم رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    234
    موصول شکریہ جات:
    49
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    ھم آپکے شکر گزار ھیں کہ آپ نے ھمیں وقت دیا.
    شکریہ کے ساتھ رخصت ھوتے ھیں. والسلام
     
  6. ‏اگست 28، 2016 #246
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    آمین
     
  7. ‏اگست 28، 2016 #247
    شادباش عالم

    شادباش عالم رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    234
    موصول شکریہ جات:
    49
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    بھائ جان. اس طرح سے بات واضح نہیں ھوتی. بات لکھ کر واضح ھوتی ھے
     
  8. ‏اگست 28، 2016 #248
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم @سید شاد صاحب +پ نے اس تھریڈ میں جب سے شمولیت کی ہے تب سے اس تھریڈ کے موضوع سے متعلق بھی کچھ لکھا؟
    اللہ تعالیٰ نے مقتدی کو حکم دیا کہ جب امام قراءت تو اس کو توجہ سے خاموش رہ کر سنو۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو۔
    اگر اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ماننی بلکہ ”امتیوں“ کی ماننی ہے تو ”لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ“۔
     
  9. ‏اگست 28، 2016 #249
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آج اس تھریڈ کو دوبارہ تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا ۔
    دیکھا تو میری ایک پوسٹ کے حوالے سے بڑا " رولا " پڑا ہوا ہے ، اور تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ میں نے گویا
    کوئی غلط بیانی کی ہے ،
    حالانکہ بالکل ایسا نہیں ہے ، جو کچھ لکھا وہ بالکل درست ہے ، بس صرف مصنف کا نام لکھتے وقت سہو ہوگیا
    جہاں احمد علی سہارنپوری لکھنا تھا ، وہاں خلیل احمد سہارنپوری لکھ دیا ،
    اور احباب نے رائی کا پہاڑ بنا دیا ،
    حالانکہ
    مولوی احمد علی سہارنپوری ۔۔ اور ۔۔ مولوی خلیل احمد سہارنپوری دونوں ہی دیوبندی عالم ہیں
    اور دونوں ہی دیوبندی مکتب فکر کے حضرات کیلئے مستند و معتبر عالم مانے جاتے ہیں ،
    مولوی احمد علی سہارنپوریؒ۱۲۲۵؁ ھ ؁ ۱۸۱۰ ؑ میں سہارنپور میں پیداہوئے۔
    جن کے شاگردوں میں طائفۂ دیوبند کے روحانی پیشوا جنہیں دیوبندی حضرات سید الطائفہ کہتے ہیں حاجی امداداللہ مہاجرمکی ،مشہور دیوبندی عالم مولوی رشید احمد گنگوہی ،بانی دار العلوم دیوبند مولاناقاسم نانوتوی، مولانا احمد حسن امروہوی، مولانا مظہر نانوتویؒ،مولوی محمد یعقوب نانوتوی،مولانا محمد علی مونگیریؒ،(بانی ندوۃ العلماء لکھنؤ )
    مولوی احمد علی سہارنپوری کی وفات ( 17 اپریل 1880ء ) کو ہوئی ۔

    جبکہ مولانا خلیل احمد سہانپوری (م1346ھ)
    احمد علی سہارن پوری کے شاگردوں کے شاگرد ہیں ،
    تو اس میں شور مچانے اور بہتان تراشی اور طنز کی ضرورت نہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زیر بحث حنفیہ کا اصول کہ کچھ صحابہ ( نعوذ باللہ) فقہی احکام کی باریکیوں کو نہیں سمجھتے تھے، ایسے غیر فقیہ صحابہ کی روایات قیاس کے مقابل ہوں تو قبول نہیں کی جائیں گی ،
    اس کا تذکرہ اصول فقہ کی کتابوں میں بلکہ احادیث کی شرح کے ضمن میں بھی بطور اصول کیا ہے
    اور اس اصول کو اپلائی بھی کیا ہے ، یعنی عملاً بھی ان احادیث کے رد میں لاگو بھی کیا ہے
    اور یہاں بطور مثال سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح بخاری میں موجود درج ذیل حدیث :
    " عن الأعرج، قال أبو هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم: " لا تصروا الإبل والغنم، فمن ابتاعها بعد فإنه بخير النظرين بعد أن يحتلبها: إن شاء أمسك، وإن شاء ردها وصاع تمر " »
    (صحیح بخاری کتاب البیوع )
    ترجمہ :
    (مشہور فقیہ صحابی ) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بیچنے کے لیے) اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے (دھوکہ میں آ کر) کوئی ایسا جانور خرید لیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں چاہے تو جانور کو رکھ لے، اور چاہے تو واپس کر دے۔ اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدل دیدے۔»
    اس حدیث کی شرح میں مولوی احمد علی سہارن پوری فرماتے ہیں :
    جو حوالہ پہلے پیسٹ کیا تھا وہ اب اصل کتاب صحیح بخاری سے امیج کی صورت پیش ہے ،


    خيار بيع 4.gif
    اس میں مقصود عبارت وہی ہے جو پہلے بھی پیش کرچکا ہوں :
    مولوی احمد علی سہارن پوری صاحب بخاری شریف کے صفحہ ۲۸۸ ۔ حاشیہ نمبر 4/ پر لکھتے ہیں :
    " والأصل عندنا أن الرواى إن كان معروفا بالعدالة والحفظ و الضبط دون الفقه والإجتهاد مثل أبى هريرة و أنس بن مالك فإن وافق حديثه القياس عمل به و إلا لم يترك إلا لضرورة وانسد باب الراى وتمامه فى أصول الفقه"
    یعنی : ہمارے نزدیک قاعد ہ یہی ہے کہ اگر راوی عدالت حفظ اور ضبط میں تو معروف ہو لیکن فقاہت و اجہتاد میں معروف نہ ہو جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں تو اگر ان کی حدیث قیاس کے مطابق ہو گی تو عمل کیاجائیگا ، اور اگر قیاس کے خلاف ہو گی تو بوقت ضرورت چھوڑ دیا جائیگا تاکہ رائے و قیاس کا دروازہ بند نہ ہو اور اس کی مکمل بحث اصول فقہ کی کتب میں موجود ہے۔
    »
    اب یہاں مقصد و مطلب واضح ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ و سیدنا انس رضی اللہ عنہما عادل تو ہیں ، ضبط حدیث بھی رکھتے ہیں ،لیکن فقیہ و مجتہد نہیں ، ( جیسا کہ جناب امام ابوحنیفہ اور ان کی مثل دیگر فقہاء و مجتہدین )
    یعنی یہ صحابی فقہی احکام کی باریکیوں کو نہیں سمجھتے ، اسلئے انکی روایت کردہ حدیث احکام میں قیاس کے مقابل قبول نہیں،

    اور یہ بات کسی راہ چلتے آدمی نے نہیں کہی ، بلکہ بانیان دیوبند کے مستند استاد مولوی احمد علی صاحب نے صحیح بخاری کے حاشیہ پر چڑھائی ہے ، ان مولوی صاحب کا تعارف ہم شروع میں کروا چکے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 28، 2016 #250
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا
    شاید آپ نے اب بھی لنک تفصیلا نہیں دیکھا. احمد علی سہارنپوری رح دیوبندی عالم ہیں لیکن خلیل احمد سہارنپوری رح کی طرح نہ محقق ہیں فقہ میں اور نہ اتنے معتبر. آپ کا اصل میدان نسخ حدیث کی تحقیق تھا.
    باقی رائی کو پہاڑ بنانا تو بہت آسان ہے. کسی بھی شخص کے آگے یہ لگا دیں کہ یہ فلاں فلاں مستند عالم ہے اور اس نے یہ یہ کہا ہے تو یہی معتبر ہے. میں نے شروع میں ہی عرض کر دیا تھا کہ احناف کے اصول اور احناف کے فقہ کے طور پر معتبر وہ ہوگا جسے محققین احناف معتبر قرار دیں گے.
    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں