1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (مقتدی کی قراءت)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مئی 23، 2016۔

  1. ‏مئی 23، 2016 #1
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    بسم الله الرحمن الرحيم
    نماز

    آئیے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق نماز سیکھ کر پڑھیں۔

    مقتدى
    مقتدى کو امام كى اقتداء میں قراءت كى ممانعت ہے
    فرمان بارى تعالى جل شانہ ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم كيا جائے (سورة الاعراف آيت نمبر 204)۔ آیت سےپتہ چلتا ہے کہ یہ حکم مقتدی کو نماز میں کی جانے والی قراءت کے وقت خاموش رہنے کا ہے۔

    تفہیم
    قرآنِ پاک کی آیت میں ہے کہ وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآَنُ جب قرآن پڑھا جائے۔ یہ الفاظ متقاضی ہیں کسی شخص کے پڑھنے کے اور فَاسْتَمِعُوا لَهُ سے لازم آیا کہ کوئی کان لگا کر سننے والا بھی ہو اور اس کو توجہ سے سننے کا حکم ہؤا۔ نماز میں جب امام بلند آواز سے قراءت کرے تو مقتدی کو حکم ہے کہ اس کو توجہ سے سنے۔ پھر ارشادِ باری تعالیٰ وَأَنْصِتُوا ہؤا تاکہ توجہ سے سننے کی تعمیل باحسن و خوبی ہوسکے۔

    تفسير ابن کثیر (اختصاراً)
    § اللہ تعالی نے وقتِ تلاوت خاموش رہنے کا حکم دیا قرآن کی عظمت و احترام کے لئے۔
    § ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام اسلئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تکبیر کہو جب قراءت کرے خاموش رہو۔
    § ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز پڑھی، لوگوں کو امام کے ساتھ قراءت کرتے سنا۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا کہ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم لوگ سمجھ سے کام لو کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ عقل سے کام لو جب قرآن پڑھا جائے توجہ سے سنو اور خاموش رہو یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
    § ایک انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں قراءت کرتا تھا یہ آیت "وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا" اس بارے میں اتری۔
    توضیح: انصاری امام کی قراءت کے ساتھ قراءت کرتا تھا جس سے منع کیا گیا۔
    § رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم ایک جہری نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی میرے ساتھ قراءت کر رہا تھا؟ ایک شخص نے کہا جی ہاں يا رسول اللہ (یہ سن کر) رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے کہا میں بھی کہوں کہ قرآن مجھ سے کیوں چھینا جارہا ہے۔ راوی کہتاہے کہ لوگ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم کے ساتھ جہری نمازوں میں قراءت کرنے سے رک گئے۔
    § جن نمازوں میں امام جہری قراءت کرے ان میں امام کے ساتھ نہ پڑھو اس لئے کہ امام کی قراءت تمہیں کافی ہے اگرچہ امام کی آواز سنائی نہ دے ہاں جن نمازوں میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے ان میں دل ہی دل میں قراءت کرے۔ کسی کے لئے بھی یہ درست نہیں کہ وہ امام کے ساتھ آہستہ یا بلند آواز سےقراءت کرے جب کہ امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے"۔
    توضیح: مقتدی کو سری نمازوں میں قراءت "سراً في أنفسهم" کی اجازت دی گئی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہ ہونے کا کہا تو پوچھا گیا کہ جب ہم امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تب؟ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا "اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ"‚۔ یہ " في أنفسهم" اور " فِي نَفْسِكَ" کیا ہے؟ یہ بغیر آواز کے پڑھنا ہے ۔ ہونٹوں اورمخارج کو حرکت دیئے بغیر قراءت کرنے کو "في أنفسهم اور في نفسك" کہتے ہیں جیسا کہ نزول قرآن کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سری قراءت سے منع فرمایا گیا (سورۃ القیامۃ آیت نمبر 18
    § یہ جمہور علماء کا مذہب ہے کہ مقتدی پر نماز میں قراءت میں سے کچھ بھی واجب نہیں نہ سورۃ فاتحہ نہ کوئی دیگر سورۃ۔
    § صرف سکتوں میں سورۃ فاتحہ کی قراءت کرے یہ جمہور صحابہ اور تابعین کا قول ہے۔
    توضیح: سکتوں میں سورۃ فاتحہ کی اجازت دلیل ہے قراءتِ امام کے وقت خاموشی کی۔
    § ابوحنیفہ اور احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ مقتدی پر قراءت میں سے کچھ بھی واجب نہیں نہ سری میں نہ جہری نمازوں میں جیسا کہ حدیث میں آچکا کہ امام کی قراءت مقتدی کو کافی ہے۔
    § علی بن ابی طلحہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ یہ فرض نمازوں سے متعلق حکم ہے۔
    ) تفسیر ابن کثیر مکمل ہوئی)
    اوپر درج آیت کی تفسیر کی تائید باری تعالیٰ کے اس حکمِ سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ نزول قرآن کے وقت جبرائیل امین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھنا شروع کر دیتے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کر دیا گیا اور خاموش رہ کر سننے کا حکم دیا گیا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ ۔۔۔الیٰ ۔۔۔ فَاتَّبِعْ قُرْآَنَهُ(سورۃ القیامۃ)۔ اس آ یت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں؛
    ابن کثیر میں ہےکہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتہ سے وحی وصول کرنے کی تعلیم دی کہ جب فرشتہ وحی لائے تو توجہ سے اس کو سنیں اللہ تعالیٰ کماحقہ آپ کو یاد کروا دیں گے۔

    مقتدى کو قراءت کے وقت خاموش رہنے کا حکم ہے
    صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا جب امام "غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ" کہے تو کہو "آمین" اللہ آپ سے محبت کرے گا۔
    توضیح: رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے امام کا وظیفہ قراءت بتایا اور مقتدی کا وظیفہ صرف آمین کہنا بتایا۔
    صحيح مسلم میں ہے کہ
    رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا جب امام قراءت كرے تو خاموش رہو ۔
    صحيح مسلم ہی میں ہے کہ زيد رضى الله تعالى عنہ سے امام كى اقتدا میں مقتدی كى قراءت كا پوچھا گیا تو جواب دیا كہ امام كى اقتدا میں مقتدى پر قراءت میں سے کچھ بھی واجب نہیں۔
    ابو ہريرة رضى الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
    الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا امام جب امامت کرے اور تكبير کہے تو تكبير کہو اور جب قراءت كرے خاموش رہو جب کہے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہو اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ(سنن النسائی)۔
    ابو ہریرۃ رضى الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا امام جب امامت کرے اور تكبير کہے تو تكبير کہو اور جب قراءت كرے خاموش رہو اور جب کہے
    غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ تو کہو آمین اور جب رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب کہے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہو اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ اور جب سجدہ کرے تو سجدہ کرو اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھو(سنن ابن ماجہ)۔
    توضیح: اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم مقتدی کے تمام افعال بڑی تفصیل سے ارشاد فرمائے۔ اس میں سورۃ فاتحہ کی قراءت کے وقت خاموش رہنے کا واضح حکم فرمایا۔
    ابو موسى اشعرى رضى الله تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا کہ جب امام قراءت كرے تو خاموش رہو اور قعده كرو تو سب سے پہلے تشہد پڑھو(سنن ابن ماجہ)۔
    ابوہريرة رضى الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا کہ سوا اس کے نہیں کہ مقرر كيا گیا ہے امام تاكہ اس كى اقتدا كى جائے۔ جب تکبیر کہے تو تکبیر کہو اور جب قراءت كرے تو خاموش رہو(مسند احمد )۔

    توضیح: اوپر درج تمام احادیث اس کی متقاضی ہیں کہ قراءتِ امام کے وقت مقتدی خاموشی کے ساتھ امام کی قراءت سنے اگر اس کو قراءت سنائی دے رہی ہو۔ سورۃ فاتحہ بهى قراءت ہے اور قراءت کے احکام میں شامل ہے اس کی دلیل درج ذیل احادیث ہیں۔
    عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نماز میں قراءت
    (الحمد لله رب العلمين) سے شروع کرتے(صحیح مسلم)۔
    ابوہريرة رضى الله تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم جب دوسرى ركعت كو کھڑے ہوتے تو قراءت (
    الحمد لله رب العلمين) سے شروع کرتے(صحیح مسلم)۔
    انس رضى الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول الله صلى الله عليہ وسلم٬ ابوبكر رضى الله عنہ٬ عمر
    رضى الله عنہ اور عثمان رضى الله عنہ قراءت الحمد لله رب العلمين سے شروع کرتے تھے(سنن ابوداؤد)۔

    امام کی قراءت مقتدی کے لئے کافی ہے
    ابو درداء رضى الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم سے پوچھا گیا كيا ہر نماز میں قراءت ہے؟ رسول صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا كہ ہاں! ايك انصارى نے كہا کہ واجب ہوئی۔ ايک شخص جو رسول صلى الله عليہ وسلم سے قريب تها متوجہ ہؤا کہا جب تمهارى قوم سے تمهارا كوئى امام ہو تو اس كى قراءت تمہیں كافى ہے(سنن النسائی)۔
    ایک لمبی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری مرض کا ذکر ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہیں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کر چکے تھے(سنن ابن ماجہ)۔

    توضیح: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی قراءت کافی ہوگئی۔ قراءت سورہ فاتحہ سے شروع کی جاتی ہے جیسا کہ ماقبل احادیث میں گذر چکا۔ ظاہر ہے کہ آقا علیہ السلام کو کم سے کم یہ تو لازم ہؤا کہ سورہ فاتحہ کا کچھ حصہ قراءت کرنے سے رہ گیا اس طرح آقا علیہ السلام نے عملاً بتا دیا کہ مقتدی کو امام کی قراءت کفایت کر جاتی ہے۔
    جابر رضى الله تعالى عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا کہ مقتدی کو امام كى قراءت كافى ہے(سنن ابن ماجہ)۔
    عبدالله ابن عمر رضى الله تعالى عنہ سے پوچھا گیا كيا امام كى اقتدا میں مقتدى قراءت كرے؟ انہوں نے كہا تم میں سے جب كوئى امام كى اقتداء میں نماز پڑھے تو اس كو امام كى قراءت كافى ہے
    جب اكيلا پڑھے تو قراءت كرے(مؤطا امام مالک)۔

    رکوع میں ملنے سے رکعت مل جاتی ہے
    مقتدی جب امام کے ساتھ رکوع میں آکر ملتا ہے تو اس کی وہ رکعت ہوجاتی ہے۔
    ابوہريرة رضى الله تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا جس نے (امام کے ساتھ) ركعت (یعنی ركوع) پا لی اس نے نماز (كى ركعت) پالی(صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
    ابوہريرة رضى الله تعالیٰ عنہ سے روايت ہے فرماتے ہیں رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا کہ جب تم نماز کے لئے آؤ اور ہم سجده میں ہوں تو سجده كرو اور اس كو كسى شمار میں نہ ركهو اور جس نے (امام کے ساتھ) ركوع پاليا اس نے نماز كى ركعت پالى(سنن ابو داؤد)۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 01، 2016 #2
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    بسم الله الرحمن الرحيم
    قراءت خلف الامام

    امام کی اقتدا میں مقتدی قراءت کرے یا کہ نہیں؟ اس میں اہلِ حدیث کہلانے والوں کے وہ دلائل (جن سے وہ مقتدی کو بھی امام کی اقتدا میں قراءت لازم قرار دیتے ہیں اور اس کے بغیر مقتدی کی نماز کو باطل کہتے ہیں) کا ذکر کرکے اس کی وضاحت کروں گا۔ اللہ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہم سب کو اس بات کی توفیق دے کہ ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکیں۔
    اگر کوئی اپنی غلطی پر مطلع ہو کر اس کی اصلاح کر لیتا ہے تو یقین جانئے یہ اس کی کامبابی ہے۔

    اہلِ حدیث کہلانے والوں کے دلائل
    ان کی دلیل نمبر ایک:
    رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ (متفق علیہ)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے سورہ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔
    اس حدیث کا مصداق، اہلِ حدیث کہلانے والے،مقتدی کو بھی کرتے ہیں کہ اس حدیث میں لفظ ’’
    لمن‘‘ آیا ہے جس کی وجہ سے اس حدیث سے لازم ہؤا کہ نماز میں ہر کوئی قراءت کرے خواہ وہ منفرد ہو امام ہو یا مقتدی ۔ اگر مقتدی سورہ فاتحہ کی قراءت نہیں کرتا تو اس کی نماز نہیں ہوگی اور نماز نہ ہونے کی دلیل اس حدیث کے الفاظ ’’لا صلاۃ‘‘ سے لیتے ہیں۔
    جواب:
    ان مذکورہ الفاظ کے بموجب مقتدی کو اس حکم میں شامل کرنا صحیح نہیں کیونکہ
    سنن ابوداؤد: کتاب الصلاۃ: بَاب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ: میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے؛
    عبادة بن الصامت يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب فصاعدا (قال البانی صحیح)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نماز نہیں جس نے سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ قراءت نہ کی۔
    اس حدیث میں لفظ ’’لمن‘‘بھی ہے اور ’’لا صلاۃ‘‘ بھی۔اب اگر اس میں مقتدی کو بھی شامل کیا جائے تو مقتدی امام کی اقتدا میں نہ صرف سورہ فاتحہ کی قراءت کرے گا بلکہ اس کے ساتھ کسی دوسری سورہ کی بھی وگرنہ اہلِ حدیث کہلانے والوںکی دلیل کے مطابق اس کی بھی نماز نہیں ہوگی۔
    اگر مقتدی سورہ فاتحہ کے ساتھ دوسری کسی سورہ کی قراءت کرے تو اہلِ حدیث کہلانے والوں کے ہاں بھی اس صورت میں قرآن کی مخالفت لازماً ہوگی۔ لہٰذا اہلِ حدیث کہلانے والوں کے اوپر مذکور دلیل کے مطابق اگر مقتدی دیگر سورہ کی قراءت کرے یا ترک کرے دونوں صورتوں میں اس کی نماز نہ ہو گی اور یہ محال ہے۔
    لہٰذا لازم آئے گا کہ ’’
    لمن‘‘ میں مقتدی شامل نہ ہو بلکہ منفرداور امام شامل ہوں جیسا کہ اوپر مذکورہ حدیث کے راوی ’سفیان رحمۃ اللہ علیہ ‘نے فرمایا کہ یہ حکم (امام اور) اکیلے کی نماز کے لئے ہے۔
    لہٰذا اس حدیث کو قراءت خلف الامام کے ضمن میں لا کر مقتدی کو اس میں شامل کرنا صحیح نہیں۔

    ان کی دلیل نمبر دو:
    أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيّ ِصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ
    مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلَاثًا غَيْرُ تَمَامٍ فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَقَالَ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ ـــــ الحدیث (صحیح مسلم)
    ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن (سورہ فاتحہ) نہ پڑھی تو وہ ناقص ہے، تین دفعہ فرمایا، پوری نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ جب ہم امام کی اقتدا میں ہوں (تب) ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اسے اپنے دل میں پڑھ لو ـــــــ الحدیث۔
    جواب:
    اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ’’
    غَيْرُ تَمَامٍ ‘‘ (پوری نہیں) تک ہے۔ راوی کے استفسار کے جواب میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کچھ فرمایا وہ ان کا اپنا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں۔
    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جواب میں یہ نہیں فرما رہے کہ ’’
    اقْرَأْ بِهَا‘‘ (یعنی سورہ فاتحہ کو پڑھ) اتنا کہہ دینے سے بات پوری ہوجاتی، یا یہ کہتے ’’اقْرَأْ بِهَا سرا‘‘ (یعنی سورہ فاتحہ کو بغیر آواز بلند کیئے پڑھ) ، بلکہ وہ فرماتے ہیں ’’اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ‘‘ (یعنی سورہ فاتحہ کو اپنے دل میں پڑھ) اور دل میں کی جانے والی قراءت سری قراءت نہیں کہلاتی ۔
    لہٰذا اس حدیث کو مقتدی کی قراءت خلف الامام کے لئے پیش کرنا صحیح نہیں اور دل میں پڑھنے کی ممناعت کہیں نہیں۔

    ان کی دلیل نمبر تین:
    صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا (سنن الترمذی)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قراءت کرنا مشکل ہؤا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ تم امام کی اقتدا میں قراءت کرتے ہو۔ ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ایسا ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا مت کرو سوائے ام القرآن (سورہ فاتحہ) کے کہ اس کی قراءت کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
    اہلِ حدیث کہلانے والوں کی دلیل کہ مقتدی پر بھی سورہ فاتحہ کا پڑھنا لازم ہے میں یہ حدیث مدعا کے لحاظ سے واضح ہے لہٰذا اس کا جواب بھی وضاحت کے ساتھ دیا جاتا ہے۔
    جواب:
    یہ حدیث ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ قرآنِ پاک اور بہت سی احادیث اور آثار کی بھی مخالف ہے ملاحظہ فرمائیں؛

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت

    قرآنِ پاک کی آیت ’’وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآَنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (اعراف)‘‘ جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف دھیان لگاؤ اور خاموش رہو۔
    اس آیت کے حکم سے انکار کے لئے اہلِ حدیث کہلانے والوں نےعجیب و غریب بہانے تلاش کئے ہیں ملاحظہ فرمائیں؛
    کبھی کہتے ہیں کہ یہ آیت کفار کے بارے میں اتری ہے۔
    کبھی کہتے ہیں کہ یہ آیت مکی ہے اور نماز مدینہ منورہ میں فرض ہوئی۔
    کبھی کہتے ہیں کہ عبادہ ابن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اوپر مذکور حدیث سے سورہ فاتحہ کی تخصیص ہوتی ہے۔

    اوپر مذکور آیت میں ممانعت صحیح معنیٰ میں سورہ فاتحہ ہی کے لئے ہے۔ اس لئے کہ سورہ فاتحہ کو ’’قرآن العظیم (سورہ حجر آیت 87)‘‘ اللہ تعالیٰ نے خود کہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو ’’قرآن العظیم (صحیح بخاری)‘‘ کہا ہے۔ چونکہ نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے اس لئے یہ ہر کسی کو یاد بھی ہوتی ہے اور امام کی اقتدا میں اس کے پڑھے جانے کے امکانات زیادہ تھے لہٰذ اس کی ممناعت بالخصوص اور دیگر کی بالعموم کی گئی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قراءت قرآن کے وقت پڑھنے کی ممانعت
    لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ (16) إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآَنَهُ (17) فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآَنَهُ (18) سورہ قیامۃ۔
    اے پیغمبر نزول قرآن کے وقت قراءت نہ کر اس کو جلدی سے یاد کر لینے کے لئے۔ بے شک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور پڑھوادینا۔ سو جب ہم اس کو پڑھیں سو آپ اس کے پڑھنے میں تابع ہوجایا کریں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل امین کے ساتھ ساتھ پڑھا کرتے تھے تاکہ یاد کرلیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حکمِ باری تعالیٰ ہؤا کہ جب ہم پڑھیں یعنی ہمارا فرستادہ فرشتہ جبرائیل امین پڑھے تو خاموشی سے اس کی قرأت کی پیروی کیا کرو یعنی دل لگا کر اسے سنتے رہا کرو (ماخوذ ازتفسیر ثنائی از ثناء اللہ امرتسری)۔
    یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ پڑھتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں (پڑھیں نہیں)، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کی ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے، پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے
    وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآَنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ ــــــ الآیۃ (طه :114) یعنی جب تک تیرے پاس وحی پوری نہ آئے تو پڑھنے کی جلدی نہ کر ہم سے دعا مانگ کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کرتا رہ، پھر فرماتا ہے اسے تیرے سینے میں جمع کرنا اور اسے تجھ سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھیں یعنی ہمارا نازل کردہ فرشتہ جب اسے تلاوت کرے تو سن جب وہ پڑھ چکے تب پڑھ ہماری مہربانی سے تجھے پورا یاد ہوگا اتنا ہی نہیں بلکہ حفظ کرانے تلاوت کرانے کے بعد ہم تجھے اس کی معنی ومطالب تعین و توضیح کے ساتھ سمجھا دیں گے تاکہ ہماری اصلی مراد اور صاف شریعت سے تو پوری طرح آگاہ ہو جائے۔
    مسند میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے پہلے وحی کو دل میں اتارنے کی سخت تکلیف ہوتی تھی اس ڈر کے مارے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں فرشتے کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے اور آپ کے ہونٹ ہلتے جاتے تھے (ابن عباس راوی حدیث نے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھایا کہ اس طرح اور ان کے شاگرد سعید نے بھی اپنے استاد کی طرح ہلا کر اپنے شاگرد کو دکھائے) اس پر یہ آیت اتری کہ اتنی جلدی نہ کرو اور ہونٹ نہ ہلاؤ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے اس کی تلاوت کرانا ہمارے سپرد ہے جب ہم اسے پڑھیں تو آپ سنئے اور چپ رہئے جبرائیل کے چلے جانے کے بعد انہی کی طرح ان کا پڑھایا ہوا پڑھنا بھی ہمارے سپرد ہے۔
    بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے، بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ پھر جب وحی اترتی آپ نظریں نیچی کرلیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ پڑھتے (تفسیر ابن کثیر)۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو قراءت سے منع کیا ہے

    نمبر ایک:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ’’إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا (مسلم)‘‘ بے شک امام اس لئے ہے کہ تم اس کی پیروی کرو پس جب وہ تکبیر کہے تکبیر کہو اور جب قراءت کرے تو خاموش رہو۔
    اہلِ حدیث کہلانے والے اس حدیث کے حکم سے انکار کے لئے کہتے ہیں کہ چونکہ سورہ فاتحہ قراءت نہیں لہٰذا اس کا اطلاق اس پر نہیں بلکہ بقیہ قرآن پر ہوگا۔ قرآن پاک کی 114 سورتیں ہیں اور سورہ فاتحہ ان میں سے ایک بلکہ قرآنِ عظیم ہے لہٰذا اس حکم میں یہ بدرجہ اولیٰ شامل ہے اور احادیث سے اس کا قراءت ہونا ثابت ہے۔

    نمبر دو:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ’’
    إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا (نسائی)‘‘ بے شک امام اس لئے ہے کہ تم اس کی پیروی کرو پس جب وہ تکبیر کہے تکبیر کہو اور جب وہ پڑھے تو خاموش رہو۔
    نمبر تین:
    أن رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من صلاة جهر فيها بالقراءة فقال هل قرأ معي أحد منكم آنفا فقال رجل نعم يا رسول الله قال إني أقول مالي أنازع القرآن

    قال فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما جهر فيه النبي صلى الله عليه وسلم بالقراءة من الصلوات حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم (ابوداؤد)
    (ابوہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ) فرماتے ہیں کہ ایک نماز کے بعد جس میں جہری قراءت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی؟ ایک شخص نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فرمایا میں بھی کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں کیوں جھگڑا ہو رہا ہے۔
    راوی نے فرمایا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قراءت سے رک گئے جن نمازوں میں نبی صلى الله عليہ وسلم جہری قراءت کرتے تھے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا۔
    نمبرچار:
    سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الإِمَامِ فَقَالَ لا قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَيْءٍ (مسلم)

    زید بن ثابت(رضی اللہ عنہ) سے امام کے ساتھ مقتدی کے قراءت کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ امام کے ساتھ قراءت میں سے کچھ بھی جائز نہیں۔
    نمبر پانچ:
    علي قال : من قرأ خلف الامام فقد أخطأ الفطرة (ابن ابی شیبہ)۔

    علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے پیچھے قراءت کی وہ فطرت (سنت) سے دور ہؤا۔
    نمبر چھ:
    أنصت للقرآن فإن في الصلاة شغلا ، وسيكفيك ذلك الامام (مصنف عبدالرزاق)۔
    عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قراءتِ قرآن کے وقت خاموشی اختیار کرو اور امام تمارے لئے قراءتِ قرآن کے لئے کافی ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 01، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

     
  4. ‏جون 01، 2016 #4
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    @عمر اثری صاحب بات کھل کر کہیں ڈرتے کیوں ہو؟
     
  5. ‏جون 01، 2016 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بلکل جناب! مسلمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ حنفی مرجئی فقہ سے توبہ کر کے فقہ اہل الحدیث کو اختیار کرے!
     
    Last edited: ‏جون 01، 2016
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 01، 2016 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہ ''تفہیم ا'' صول فقہ حنفی کے خلاف ہے:
    ﴿وهو أسم المظم والمعنی جميعاً﴾ تمهيد لتقسيمه بعد بيان تعريفه، يعني أن القرآن أسم للنظم ولامعني جميعاً، لا أنه أسم للنظم فقط كما ينبئ عنه تعفيفه بالإنزال والكتابة والنقل، ولا أسم للمعني فقط يتوهم من تجويز أبي حنيفة رحمه الله للقراءة الفارسية في الصلاة مع القدرة علی النظم العربي، وذلك لأن الأوصاف المذكورة جارية في المعني تقديراً أو جواز الصلاة بالفارسية إنما هو لعذر حكمي، وهو أن حالة الصلاة حالة المناجاة مع الله تعالیٰ والنظم العربي معجز بليغ فلوله لا يقدر عليه، أو لأنه إن أشتغل بالعربي ينتقل الذهن منه إلی حس البلاغة والبراعة، ويلتذ بالأسجاع والفواصل، ولم يخلص الحضور مع الله تعالیٰ، بل يكون هذا النظم حجاباً بينه وبين الله تعالیٰ، وكان أبو حنيفة رحمه الله تعالیٰ مستغرقاً في بحر التوحيد والمشاهدة لا يلتف إلا إلی الذات، فلا طعن عليه في أنه كيف يجوّز القراءة بالفارسي مع القدرة علی العربي المنزل؟ وأما فيما سوی الصلاة فهو يراعي جانبها جمياً
    اور قرآن نظم اور معنی کے مجموعہ کا نام ہے (یہ) قرآن کی تعریف کے بیان کے بعد اس تقسیم کی تمہید ہے، یعنی قرآن نظم اور معنی کا نام ہے نہ تو فقط نظم کا نام ہے جیسا کہ انزال، کتابت اور نقل کے ذریعہ اس کی تعریف کرنا اس کی خبر دیتا ہے اور نہ صرف معنی کا نام ہے جیسا کہ حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے نظم عربی پر قدرت کے باوجود نماز میں فارسی زبان میں قراءت کرنے کو جائز قرار دینے سے وہم ہوتا ہے اور یہ اس لئے کہ اوصاف مذکورہ تقدیراًمعنی میں بھی جاری ہیں۔ اور فارسی زبان میں قراءت کے ساتھ نماز کا جائز ہونا ایک حکمی عذر کی وجہ سے ہے اور وہ عذر یہ ہے کہ نماز کی حالت اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز و نیاز کی حالت ہے اور ''عربی عبارت'' انتہائی معجز اور بلیغ ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے کہ ایک فارسی آدمی اس پر قادر نہ ہو سکے، یا اس لئے کہ اگر نمازی عربی الفاظ کے ساتھ مشغول ہو گیا تو اس کا ذہن اس سے عمدہ بلاغت اور براعت کی طرف منتقل ہو جائے گا، اور وہ مسبح اور مقفیٰ عبارتوں کے ساتھ لطف اندوز ہونے لگے گا، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا حضور خالص نہ رہ سکے گا۔ بلکہ یہ عربی عبارت اُس نمازی اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب بن کر ظاہر ہوگی۔ اور امام اعظم ؒ چونکہ توحید اور مشاہدہ کے سمندر میں غرق تھے۔ اس لئے بجز ذاتِ باری کے اور کسی طرف التفات نہیں فرماتے تھے۔ پس ان پر یہ طعن نہیں ہو سکتا کہ وہ عربی زبان جو منزل من اللہ ہے اس پر قدرت رکھنے کے باوجود فارسی زبان میں قراءت قرآن کس طرح جائز دیتے ہیں، اور نماز کے علاوہ دوسری حالتوں میں امام صاحب نظم اور معنی دونوں کی رعایت کرتے ہیں۔
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 19 – 21 جلد 01 كشف الأسرار شرح المصنف على المنار مع شرح نور الأنوار على المنار - حافظ الدين النسفي- ملاجيون - دار الكتب العلمية
    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 61 – 62 جلد 01 قُوت الاخیار اردو شرح نور الانوار – جمیل احمد سکروڈوی – قدیمی کتب خانہ، کراچی
     
    Last edited: ‏مارچ 22، 2017
    • ناپسند ناپسند x 2
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 01، 2016 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    مرجئی حنفی فقہ اس کے بھی خلاف ہے، اس مرجئی و حنفی فقہ میں مقتدی کو قراءت کی اجازت نہیں، سکتوں میں تو کیا، سری نمازوں میں بھی نہیں! مذکورہ بات میں کم ازکم اس بات کا اثبات تو ہے کہ مقتد سری نماز میں اور جہری نماز میں بھی قراءت فاتحہ کرسکتا ہے، جس کا اقرار اس عبارت میں کیا گیا کہ یہ جمہور صحابہ و تابعین کا مؤقف ہے، مگر کیا کریں، یہ مرجئی فقہ حنفی جمہور صحابہ کی مخالفت میں یہاں تک کہتی ہے کہ جو امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے اس کے منہ میں انگار!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 01، 2016 #8
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    قرآن کی اس آیت کا انکار مرجئی فقہ حنفی کرتی ہے، اور دیکھئے کس انداز میں!
    اصول فقہ حنفی پیش خدمت ہے:
    وحكمها بين الآيتين المصير إلی السنة؛ لأن الآيتين إذا تعارضتا تساقطتا، فلا بد للعمل من المصير إلی ما بعده وهو السنة، ولا يمكن المصير إلی الآية الثالثة؛ لأنه يفضی إلی الترجيح بكثرة الأدلة، وذلك لا يجوز، ومثاله قوله تعالی:﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ مع قوله تعالیٰ ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ فإن الأول بعمومه يوجب القراءة علی المقتدي، والثاني بخصوصه ينفيه، وردا في الصلاة جميعاً فتساقطا، فيصار إلی حديث بعده، وهو قوله عليه السلام: من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة له.
    اس تعارض کا حکم یہ ہے کہ جب دو آیتوں میں تعارض ہو گیا تو سنت کی جانب رخ کرنا ہوگا۔ اس وجہ سے کہ اس صورت میں ہر دو آیت پر عمل ممکن نہیں رہا اور جن تعارض ہوگا تو دونوں ہی ساقط ہوں گی لہٰذا عمل کیلئے سنت پر نظر کرنا ہوگی کہ اس کا درجہ اس کے بعد ہے کسی تیسری آیت کی جانب رجوع کرنا ممکن نہیں۔ اس وجہ سے کہ اس سورت میں کثرت دلائل کی وجہ سے ترجیح دینا لازم آجائے گا جو درست نہیں ۔مثال: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ اس کے بالمقابل دوسری آیت ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ وارد ہوئی۔ لہٰذا تعارض ہو گیا کہ اول آیت علی العموم مقتدی پر قراءت کو ثابت کرتی ہے اور ثانی خاص صورت میں اس کی نفی کرتی ہے حالانکہ حضرات مفسرین کی تصریح کے مطابق ہر دو آیت نماز کیلئے ہیں۔ اس وجہ سے اب ضرورت ہوئی سنت کی جانب متوجہ ہونے کی۔ اس میںقال عليه السلام: من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة له. جس سے ثابت ہو گیا کہ مقتدی قراءت نہ کرے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 87 – 88 جلد 02 كشف الأسرار شرح المصنف على المنار مع شرح نور الأنوار على المنار - حافظ الدين النسفي- ملاجيون - دار الكتب العلمية

    [​IMG]

    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]



    [​IMG]

    بعد میں اسے یونیکوڈ میں بھی پیش کرتا ہوں، فی الحال اسی پر گذارا کریں!
    قصہ مختصر کہ یہ آیت اصول فقہ حنفی میں ساقط قرار دی گئی ہے، امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کے لئے احناف کی دلیل یہ آیت نہیں بن سکتی!
    ویسے امام کے پیچھے کیا فقہ حنفی میں امام بھی سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو ان مرجئ حنفیوں کی نماز ہو جائے گی!

    بھٹی صاحب! ابھی تو میں نے فقہ حنفی کو مرجئی فقہ لکھا ہے! اب آپ پر منحصر ہے، کہ کس طرح گفتگو ہو!
    بد نہ بولے زیر گردوں گر کوئی میری سنے
    ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سنے
     
    Last edited: ‏جون 02، 2016
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 01، 2016 #9
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    برین واشڈ ۔۔۔۔ ابتسامہ
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 01، 2016 #10
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    میں نے کب کہا کہ یہ ”فقہ حنفی“ کے مطابق ہے۔ یہ تفہیم قرآن اور احادیث کے مطابق ہے اور اس سے آپ کو اختلاف نہ چاہیئے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں