1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (مقتدی کی قراءت)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مئی 23، 2016۔

  1. ‏اگست 01، 2016 #61
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    آپ ان کی بلا دلیل بات کیسے مان رہےہیں؟
     
    • پسند پسند x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 02، 2016 #62
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    یہ تو آپکے گھر کے حوالہ ہے آپ تو اپنے اکابر کےبھی منکر نکلے

    سبحان اللہ
     
    • ناپسند ناپسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 02، 2016 #63
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 02، 2016 #64
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197



    (فانتهى الناس عن القراءة)

    اسکا جواب پچھلی پوسٹ پر دیا ہے
     
  5. ‏اگست 02، 2016 #65
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    والذي علیہ جمھور أھل الاسلام القراء ۃ خلف الإمام في السریۃ والجھریۃ
     
  6. ‏اگست 02، 2016 #66
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم بات قرآن اور حدیث کی ہورہی ہے اور آپ جمہور کو لیے بیٹھے ہیں !!!
     
    Last edited by a moderator: ‏اگست 02، 2016
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 02، 2016 #67
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    @عدیل سلفی صاحب اپنے دلئل کو تھوڑا سا وضاحت کے سات لکھیں اور جہاں میری کسی بات کا جواب دیں وہ اقتباس کے ساتھ دیں۔ میری عادت ہے کہ میں اسی وقت جو ذہن میں آتا اس کے مطابق لکھتا ہوں۔ کہیں حوالہ کی ضرورت پیش آئے تو تحریر دیکھتا ہوں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 02، 2016 #68
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اپنے اکابر کے حصولِ علم کے لئے مجھے محدث فورم پر آنے کی ضرورت نہ تھی جیساکہ سونا خریدنا ہو تو سنار کی دکان پر جاتے ہیں نہ کہ ”ہارڈ ویئر“ کی دکان پر ۔۔۔ ابتسامہ
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 19، 2016 #69
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    ً
    فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ

    کا فقرہ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا نہیں بلکہ ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے جیسا کہ ان روایات سے ظاہر ہے۔
    موطأ مالك - (ج 1 / ص 260)
    179 - و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
    رواہ ایضاً؛
    سنن أبي داود - (ج 2 / ص 487) حدیث 703
    سنن الترمذي - (ج 2 / ص 25) حدیث 287
    مسند أحمد - (ج 15 / ص 13) حدیث
    6972
    صحيح ابن حبان - (ج 8 / ص 191) حدیث 1881
    تحقيق الألباني: صحيح
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 03، 2016 #70
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    قارئینِ کرام

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب قراءتِ قرآن کی جائے تو اس کی طرف کان لگا کر اسے سنو اور خاموش رہو (سورۃ الاعراف آیت 204
    صحابہ کرام نے نے وضاحت فرمادی کہ یہ حکم نماز میں کی جانے والی قراءت کے متعلق ہے (دیکھئے کتب تفاسیر)۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو (صحیح مسلم)۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو (
    ابن ماجہ وقال البانی الصحیح
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو اور جب ’’
    وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ کہے تو آمین کہو (مسندِ احمد حديث صحيح
    رفع الاشتباہ
    بعض لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ ‘‘ سے دھوکہ ہوتا ہے کہ شائد مقتدی کو خود قراءت کرنی ہوگی وگرنہ اس کی نماز نہ ہوگی۔
    کیا امام کی قراءت مقتدی کو کفایت کرتی ہے؟
    جی ہاں امام کی قراءت مقتدی کو کفایت کرتی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ثابت ہے کہ امام کی قراءت مقتدی کو کفایت کرتی ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہیئے وگرنہ فرمانِ باری تعالیٰ (جب قرآن پڑھا جائے تو خاموش رہو) اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جب امام قراءت کرے تو کاموش رہو) لا یعنی ہو کر رہ جائیں۔ حاشا و کلا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم لا یعنی باتوں کا حکم دیں۔ ایسی سوچ سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔

    قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ صَلَّى خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» (موطأ مالك)
    قَالَ مُحَمَّدٌ , حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى خَلْفَ الإِمَامِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» (موطأ مالك)
    عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، قَالَ: قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَنَهَاهُ فَأَبَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: أَتَنْهَانِي أَنْ أَقْرَأَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَذَاكَرْنَا ذَلِكَ حَتَّى سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» (الآثار لأبي يوسف)
    مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ خَلْفَهُ يَقْرَأُ، فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: أَتْنَهَانِي عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَنَازَعَا حَتَّى ذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ» قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهِ نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (الآثار لمحمد بن الحسن)
    حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ القُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الإِمَامِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»،(سنن الترمذي)
    و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ

    يَقُولُ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَاءَ الْإِمَامِ (موطأ مالك)
    حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَلُّ مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ» (مصنف ابن أبي شيبة)
    آثار
    زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’لَا قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ‘‘ (صحیح مسلم)
    مفسرِ قرآن عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’
    وسيكفيك ذاك الامام‘‘ (سنن الکبریٰ للبیہقی)
    ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    فرماتے ہیں ’’ يكفيك ذاك الامام ‘‘ (ابن ابی شیبہ)
    عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    فرماتے ہیں ’’ فَحَسْبُهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ ‘‘ (مؤطا امام مالک)، ’’وسيكفيك ذلك الامام ‘‘ (مصنف عبد الرزاق)
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں