1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سند کا اتصال

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از قاضی786, ‏مئی 27، 2016۔

  1. ‏مئی 27، 2016 #1
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم

    امید ہے سب برادران خیریت سے ہوں گے

    میرا اہل علم سے یہ سوال ہے کہ سند کے متصل ہونے کے لیے کیا لقاء شرط ہے یا کسی غیر مدلس راوی کا دوسرے کا ہم عصر ہونا کافی ہے؟

    اس ضمن میں محدثین کی کیا رائے ہے؟

    شکریہ
     
  2. ‏مئی 29، 2016 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    امام بخاری نے صحیح بخاری میں کسی حدیث کو درج کرنے کے لئے غیر مدلس ثقہ راوی کے لقا ءکا ثبوت کو شرط رکھا تھا۔
    امام مسلم نے اس بات کی صراحت کی ہے کسی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے غیر مدلس ثقہ راوی کے لقا ءکے ثبوت کی نہیں بلکہ لقا ءکا ممکن ہونا ہی کافی ہے۔
    اسی وجہ سے صحیح بخاری کی احادیث کی صحت کا درجہ دیگر کتب سے بلند قرار پاتا ہے۔
    مختصراً یہ کہ غیر مدلس ثقہ راوی کے لقاء کے امکان سے سند کا اتصال ثابت ہوتا ہے، اور اگر مزید لقاء کا ثبوت بھی مل جائے تو اس سے اتصال کے ثبوت کو مزید تقویت مل جاتی ہے!
     
    Last edited: ‏مئی 29، 2016
  3. ‏مئی 29، 2016 #3
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم محترم ابن داؤد صاحب

    اس ضمن میں جمہور محدیثین کی رائے کیا ہے؟
    کیا وہ امام بخاری رح کی رائے کی متابعت کرتے ہیں یا امام مسلم رح کی ؟


    شکریہ
     
  4. ‏مئی 29، 2016 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
     
  5. ‏دسمبر 25، 2017 #5
    محمد بن اقبال

    محمد بن اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 16، 2017
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    السلام عليكم ورحمةاللّٰه وبركاته،

    امام بخاری(رحمه اللہ) اور امام مسلم(رحمه اللہ) کا جو اصول آپ نے بیان کیا ہے اسے کس نے لکھا ہے؟ بعض کا کہنا ہے کہ یہ اصول خودساختہ ہے-
     
  6. ‏دسمبر 25، 2017 #6
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    604
    موصول شکریہ جات:
    125
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    امام بخاری رحمہ اللّٰہ نے صحیح بخاری میں مدلسین کی روایات بھی لائی ہے۔ بخاری میں غیر مدلس کی شرط نہیں ہے۔
     
  7. ‏دسمبر 25، 2017 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    صحیح بخاری کی احا دیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہیں، صحیح مسلم کی احادیث کم از کم امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں، صحیح دونوں ہیں، صحیح بخاری کی صحت کا درجہ صحیح مسلم کی صحت زیادہ ہے، یہ جہمہور محدثین کا مؤقف ہے!
    بات سمجھ نہیں، نہیں آئی!
    صحت حدیث کے لیئے امام مسلم کی بات ہی کافی ہے، کہ لقا کا ممکن ہونا کفایت کرتا ہے، لیکن امام بخاری کا اپنی کتاب کے لیئے لقا کا ثابت ہونا، شرط قرار دینا، ان کی اضافی شرط ہے! اور کوئی شخص اپنی کتاب کے لیئے ایسی شرط اختیار کرنا چاہئے تو کر سکتا ہے، جیسے کہ کوئی محدث اپنی کتاب میں احادیث درج کرنے کے لئے یہ شرط رکھے کہ وہ انہیں احادیث کو درج کرے کا جس میں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع ہو گا، مشاہدہ نہیں! تو یہ اس کی مرضی ہے!
    مسئلہ اس صورت میں ہوگا، کہ جب کوئی اپنی اس شرط کے علاوہ دیگر احادیث کی صحت کا انکار کرے!
    جہاں امام بخاری نے مدلسین سے روایت کی ہے، یا تو تو ان کی تدلیس کا کے رفع ہونے کی صورت میں کی ہے، یعنی یا تو مطابقت ثابت ہے، یا کسی دوسری روایت سے تحدیث!
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 04، 2018 #8
    محمد بن اقبال

    محمد بن اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 16، 2017
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    جی محترم @ابن داود بھائی امام مسلم (رحمه اللّٰه) کا اصول تو مقدمہ صحیح مسلم میں موجود ہے لیکن امام بخاری(رحمه اللّٰه)نے یہ اصول اپنایا ہو یہ کہا ملے گا؟

    روایوں کا لقاء ممکن ہو تو یہی کافی ہے سند کے متصل ہونے کے لئے یا لقاء کا ثبوت ضروری ہے؟ جمہور محدثین کا کیا اصول ہے؟ واضح کرے- جزاك الله خيراً
     
  9. ‏اپریل 17، 2018 #9
    عبدالعظیم راشد

    عبدالعظیم راشد مبتدی
    جگہ:
    چشتیاں
    شمولیت:
    ‏اپریل 10، 2018
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    امام مسلم نے اپنے مقدمہ میں لقاء کی شرط لگانے والے پر سخت الفاظ استعمال کیے وہ کس امام کے متعلق ہیں ؟
     
  10. ‏اپریل 20، 2018 #10
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    379
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    وہ عبارت لگائیں مقدمہ کی!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں