1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ترمذی میں حسن صحیح

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏ستمبر 10، 2019۔

  1. ‏ستمبر 10، 2019 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    سنن ترمذی میں حسن صحیح

    امام ترمذی کے ہاں حدیث حسن کی تین شرائط ہیں.
    1. اس کی سند میں کوئی متھم بالکذب راوی نہ ہو.
    2. حدیث شاذ نہ ہو
    3. اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہو

    ان شرائط پر غور کریں تو معلوم ہوگا امام ترمذی کی حسن معروف حسن لغیرہ سے بھی عام ہے. اس کا راوی ثقہ بھی ہوسکتا صدوق بھی اور ایسا ضعیف بھی جس کا ضعف شدید نہ ہو (مثلا کمزور حافظہ کا ہو یا غلطی اور خطا سے موصوف ہو. مختلط راوی نے اختلاط کے بعد بیان کیا ہو, مدلس ہو اور عنعن سے روایت کرے, یا اسناد میں خفیف انقطاع ہو)

    اب جب وہ حسن کے ساتھ صحیح لگا کر حسن صحیح کہتے ہیں تو مراد ہوتی ہے کہ اس حدیث صحیح جس کے روات ثقات ہیں میں ان کے نزدیک حسن کی شرائط بھی پوری ہوتی ہیں.

    یہ شیخ طارق بن عوض اللہ کی توجیہ ہے جو انہوں نے شرح نخبۃ الفکر میں بیان کی ہے
     
  2. ‏ستمبر 11، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کچھ عرصہ قبل دار العلوم دیوبند کے ایک شعبہ تخصصِ حدیث کے طلبہ کی ایک کاوش نظر نواز ہوئی، جس میں اس مسئلہ پر تفصیلی گفتگو تھی، وہ بھی قریب قریب اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں