1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنۃ اور عام کے درمیان فرق

'عربی زبان وادب' میں موضوعات آغاز کردہ از بیبرس, ‏اگست 05، 2014۔

  1. ‏اگست 05، 2014 #1
    بیبرس

    بیبرس رکن
    شمولیت:
    ‏جون 24، 2014
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    65
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    سنۃ اور عام کے درمیان فرق


    یہ واقعی عجیب چیز ہے
    سنۃ (سال) اور عام(سال) کے درمیان کیا فرق ہے

    اللہ رب العزت نے فرمایا:
    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا

    (سورة العنكبوت )..

    اللہ رب العزت یہ بھی کہہ سکتے تھے۔
    تسعمائة و خمسون سنة ..!

    ایسا کیوں کہا؟؟؟؟

    کیونکہ سنۃ لفظ کا اطلاق سختی اور مشقت بھرے دنوں پر ہوتا ہے ..!!

    اللہ رب العزت نے دوسری جگہ فرمایا:
    تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًا(سورة يوسف )

    جبکہ عام کا لفظ آسانی آسائش و نعمت بھرے دنوں پر بولا جاتا ہے۔

    اللہ رب العزت نے فرمایا:
    ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ(سورة يوسف )

    اسی طرح سیدنا نوح علیہ السلام 1000 سال (سنۃ) اپنی قوم میں ان کی بدبختی اعراض اور شقاوت کا سامنا کرتے رہے سوائے 50 سال (عام)......

    یہاں سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جب کسی کو دعا دی جائے تو اس کیلئے یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں

    " كل عام و أنتم بخير"

    ایسا نہیں کہا جاتا:
    " كل سنة و أنتم طيبون "

    جو کوئی بھی علم سیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ قرآن کا مطالعہ کرے اور اس کے معانی میں تدبر کرے۔۔۔۔
    اللهم إجعل القرآن العظيم ربيع قلوبنا و نور صدورنا وجلاء لهمومنا و ذهابا لأحزاننا ..اللهم ذكرنا منه ما نسينا و علمنا منه ما جهلنا و ارزقنا تلاوته آناء الليل و أطراف النهار على الوجه الذي يرضيك عنا ...آمين ..
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 05، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,612
    موصول شکریہ جات:
    8,282
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاکم اللہ خیرا ۔
     
  3. ‏اگست 06، 2014 #3
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    جن سات سالوں کا ادھر ذکر کیا گیا ہے وہ تنگی کےنہیں بلکہ آسانی کے سال تھے ۔۔۔۔جو خواب میں موٹی گایوں کی صورت پیش کیے گئے


    کیا آپ کی عبارت کی مراد یہ ہے کہ حضرت نوح کل 1000 سال اپنی قوم میں ٹہرے جن میں سے 950 سال سختی کے اور 50 آسانی کے تھے ۔۔۔اگر ایسا ہے تو آپ کا یہ بیان قرآن کی صریح عبارت کے خلاف ہے ۔۔۔قرآن کے مطابق حضرت نوح کی کل نبوی عمر 950 سال تھی۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں