1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنی مسلمانوں کو شام میں بے گھر، اہل تشیع کو بسانے کی ایرانی پالیسی

'حالات حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏دسمبر 20، 2016۔

  1. ‏دسمبر 20، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,032
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سنی مسلمانوں کو شام میں بے گھر، اہل تشیع کو بسانے کی ایرانی پالیسی

    ’شام میں ایران اور روس کے اہداف ومقاصد الگ الگ ہیں‘

    منگل 21 ربیع الاول 1438هـ - 20 دسمبر 2016م

    العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ ایلیا جزائری

    شام کا بحران جہاں اپنے ساتھ انتہائی المناک اورانسانیت سوز واقعات کو ساتھ لیے ہوئے ہے وہیں اس بحران نے بشارالاسد کے حامی ایران اور روس کے درمیان کشمکش کو بھی واضح کردیا ہے۔ اگرچہ شام میں صدر اسد کی حمایت میں روس اور شام کا موقف ایک ہے مگر شام میں مجموعی طور پر تہران اور ماسکو کے اہداف اور اغراض و مقاصد الگ الگ ہیں۔

    روس شام میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم ہے اور وہ شام کے ساحلی علاقوں میں اپنا اثرو نفوذ قائم رکھنا چاہتا ہے جب کہ ایران کی پالیسی اس سے مخلتف ہے۔ ایران شام میں نظریاتی ڈھانچے کی بنیاد پر اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس نظریاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بعض علاقوں سے اہل سنت کو نکال باہر کرنے اور وہاں پر اہل تشیع کو بسا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام کے راستے مشرق وسطیٰ میں قدم جمانے کی روسی کوششوں پر امریکا اور روس کے درمیان بھی دو طرفہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ روس کے مشرق وسطیٰ میں کودنے سے صدر باراک اوباما کے دور میں خطے میں امریکی کردار کافی حد تک محدود ہوا ہے۔ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی امریکی کردار کی بحالی کے امکان کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے سقوط سے بچنے کے لیے روس اور ایران ایک صفحے پر ہیں مگر دونوں کی جدو جہد اور شام کی حمایت کےاپنے اپنے دائرے ہیں۔ شام میں جاری خانہ جنگی نے جہاں ایک طرف تباہی اور بربادی کے بدترین واقعات کو دنیا کے سامنے پیش کیا وہیں بشارالاسد کے اتحادی روس اور ایران کے درمیان مفادات و مقاصد کی کشا کش کو بھی واضح کردیا ہے۔

    حلب پر روسی معاہدہ ناکام بنانے کی ایرانی کوشش :

    روس اور ترکی نے 13 دسمبر کو شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں مسلح باغیوں اور عام شہریوں کے انخلاء کا ایک معاہدہ کیا مگر ایران نے مداخلت کرتےہوئے اس معاہدہ کو ناکام بنانے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ ایران نے معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے ایک اپنی شرط بھی ٹھونسی اور مطالبہ کیا کہ ادلب شہر میں کفریا اور فرعہ قصبوں میں موجود اہل تشیع کو وہاں سےنکالنے میں مدد دی جائے جہاں سنہ 2012ء سے شامی اپوزیشن کی حامی قوتوں کا قبضہ ہے۔

    روس نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ مشرقی حلب سے بسوں کے ذریعے جنگجوؤں اور عام شہریوں کو مغربی حلب کی طرف سفر کی اجازت فراہم کرے۔ مگر ایران اور اس کی حامی شیعہ ملیشیاؤں نے مشرقی اور مغربی حلب کےدرمیان روٹ کو بند کرنے کی مذموم کوشش کی۔

    روس کی قیام امن کی مساعی مگر!

    مسلسل 15 ماہ تک شام کے مختلف شہروں میں طاقت کے ہولناک استعمال کے بعد روس نے یہ کوشش کی کہ وہ طاقت کے ذریعے شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کی بحالی کی راہ ہموار کرے۔ اگرچہ روس کی یہ پالیسی کوئی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی ہے۔

    حلب میں رونما ہونے والے انسانی المیے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روس شام میں امن کے قیام کے لیے طاقت کے انتہائی استعمال کی پالیسی پرعمل پیرا ہے مگر وہ ساتھ ہی ساتھ شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کی بھی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

    ماسکو کی کوشش ہے کہ شام میں متحارب فریقین بات چیت کے ذریعے کوئی ڈیل کریں اور فائر بندی پرمتفق ہوں۔

    حلب سے مسلح باغیوں کے انخلاء کی کوششیں روس کی انہی مساعی کا حصہ ہیں مگر حلب سے باغیوں کا انخلاء ایران کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ایران اپنے دوسرے مقاصد کے حصول کے لیے شام میں مداخلت کررہا ہے۔ ایران شام میں حکومت اور باغیوں کے درمیان کسی مضبوط ڈیل کے بجائے انقلابی قوتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    شام میں نیا آبادیاتی نقشہ تیار کرنے کی ایرانی سازش :

    شام میں ایران کے نظریاتی اہداف میں ایک اہم مقصد اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان لکیر کھینچنا ہے۔ ایران اس شر پر تو شامی باغیوں سے بات چیت کرنے کا عندیہ دے رہا کہ فلاں علاقے سے اہل سنت نکل جائیں اور وہاں پر اہل تشیع کو آباد کیا جائے۔

    مثال کے طور پر ایران نے اپوزیشن کی حامی ’احرار الشام‘ تنظیم کے ساتھ مغربی دشمن کے مستقبل کے بارے میں براہ راست مذاکرات کیے۔ شامی اپوزیشن کے زیرکنٹرول اس علاقے کو مسلسل بمباری کرکے تباہ وبرباد کیا کیا گیا۔ ایران نے الزبدانی قصبے میں بسنے والے اہل سنت مسلک کےلوگوں کو ادلب بھیجنے اور ادل میں موجود اہل تشیع کو وہاں سے الزبدانی منتقل کرنے پر زور دیا۔

    یہی وجہ ہے کہ ایران نے ایک بار پھر ادلب کے شیعہ اکثریتی علاقوں الفوعہ اور کفریا میں رہنے والے شیعوں کو حلب منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران شام اور لبنان کی سرحد کے قریب اور دمشق میں اہل سنت کا وجود ختم کرنا چاہتا ہے۔ شام میں ایران کے فرقہ وارانہ مقاصد واضح ہیں۔ ایران فرقے کی بنیاد پر شام میں ایک نئی آبادیای تقسیم اور نئے نقشے کی تیاری کے لیے کوشاں ہے۔

    شام میں آبادیاتی تبدیلی کی ایرانی سازشوں کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ گذشتہ اگست میں شامی اپوزیشن نے دمشق کے نواحی علاقے داریا میں اہل سنت کے حامیوں کو نکال کر ادلب لے جانے سے اتفاق کیا تھا جب کہ ادلب سے شیعہ آبادی کو داریا منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایران نے ملک کے دوسرے شہروں سے 300 شیعہ خاندانوں کو داریا میں اہل سنت کی املاک پر بسایا۔ اب یہی کھیل حلب میں بھی کھیلا جا رہا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں