1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوال: مطلقہ طلاق بائن کا عدت میں گھر سے نکلنا ،اور دوسری پابندیاں ۔

'فقہی سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از طویلب علم, ‏جولائی 20، 2019۔

  1. ‏جولائی 20، 2019 #1
    طویلب علم

    طویلب علم رکن
    جگہ:
    مكة المكرمة
    شمولیت:
    ‏جولائی 17، 2015
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    السلام علیکم
    محترم مشایخ
    ایک خاتون کو اس کے شوہر نے ایک طلاق دی اگلا دن آیا تو اس نے دوسری اور تیسرے دن تیسری بھی دے دی ، یہ طلاق اس وقت دی جب وہ خاتون اپنے کچھ رشتہ داروں (پھوپھو) کے ہاں تھی کیونکہ اس کے والدین دوسرے ملک میں ہوتے ہیں چنانچہ اس خاتون نے عدت ادھر ہی گزارنی شروع کردی ۔ شوہر کے گھر جاتی تو وہاں رہنا بھی ممکن نہیں تھا کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ۔
    یہ خاتون جس کو طلاق بائن ہے ،گھر سے باہرنکلتی بھی ہے ضروری کاموں کے لیے اب سوال یہ ہے کہ :
    یہ خاتون کن کن کاموں کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے ؟؟
    اور کیا کیا پابندیاں ہیں اس پر ؟؟
    کیونکہ ابھی اس کی ایک قریبی کزن کی شادی بھی ہونے والی ہے اسی شہر میں تو وہ اس میں جاسکتی ہے؟
    نیز وہ اپنے گھر - جو کے دوسرے ملک میں ہے - عدت کے دوران جاسکتی ہے؟

    افیدونا ماجورین جزاکم اللہ خیرا
    شیخ @اسحاق سلفی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں