1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سودى بنك ملازم كا رشتہ

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 08، 2017۔

  1. ‏فروری 08، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,653
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    سودى بنك ملازم كا رشتہ


    ميرے ليے ايك ايسے شخص كا رشتہ آيا جو نمازى بھى ہے اور بااخلاق بھى ہے، اور اس كى سارى صفات اچھى ہيں ليكن وہ سودى بنك ميں ملازم ہے، اور بنك ميں شعبہ اكاؤنٹ كا چئرمين ہے، ميں نےاستخارہ بھى كيا ليكن ميں اسے قبول كرنے يا رد كرنے كے ليے آپ كے جواب كى منتظر ہوں، كيونكہ مجھے خدشہ ہے كہ مستقل ميں ميرے اور اولاد كے ليے حرام نہ ہو، ميرى خواہش ہے كہ اس سلسلہ ميں اگر آپ كے پاس كوئى بہتر توضيح ہے تو وہ بھى بتائيں ؟

    Published Date: 2010-07-27

    الحمد للہ:

    سودى بنكوں ميں بالكل ملازمت كرنا جائز نہيں، نہ تو اكاؤنٹ ميں اور نہ ہى كسى اور شعبہ ميں، كيونكہ يہ ملازمت گناہ و معصيت ميں معاونت ہے، اور سود كے معاملہ ميں لكھنا يا ا س كا حساب و كتاب ركھنا بہت شديد اور عظيم وعيد كا باعث ہے.

    جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

    " رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود خور اور سود دينے والے، اور سود لكھنے والے، اور سود كے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائي، اور كہا: يہ سب برابر ہيں "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 1598 ).


    مزيد آپ سوال نمبر ( 21113 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

    اس حرام ملازمت سے حاصل ہونے والا مال بھى حرام ہے اس ليے ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ اس رشتہ كو قبول مت كريں بلكہ اسے رد كر ديں؛ كيونكہ ا س كا رشتہ قبول كرنے كا معنى يہ ہوا كہ آپ كا كھانا پينا اور باقى لوازمات پورے كرنا حرام كہلائيگا، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " لوگو اللہ تعالى پاكيزہ ہے، وہ پاكيزہ اشياء ہى قبول كرتا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى نے مومنوں كو بھى وہى حكم ديا ہے جو اس نے رسولوں كو حكم ديا ہے.

    اللہ كا ارشاد ہے:

    { اے رسولو! تم پاكيزہ اشياء كھاؤ، اور نيك و صالح اعمال كرو، يقينا تم جو عمل كر رہے ہو ميں اسے بخوبى جانتا ہوں }.

    اور فرمان بارى تعالى ہے:

    { اے ايمان والو جو ہم نے تمہيں پاكيزہ رزق ديا ہے اسے كھاؤ }.

    پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كا ذكر كيا جو لمبا سفر كر كے آتا ہے، گرد و غبار سے اٹا ہوا ہو اس نے آسمان كى جانب ہاتھ اٹھا ركھے ہوں اور يا رب يا رب كى صدا بلند كرتا پھرے، ليكن اس كا كھانا حرام كا، اور ا سكا پينا حرام كا، اور اس كا لباس حرام كا، اور اسے خوراك ہى حرام دى گئى ہے، تو اس كى دعا كيسے قبول ہو "

    صحيح مسلم حديث نمبر ( 1015 ).


    ابن رجب رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " چنانچہ حلال كھانا پينا اور حلال لباس اور حلال خوراك كا استعمال دعا كى قبوليت كا باعث بنتا ہے " انتہى

    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " ہر وہ جسم جو حرام پر پلا اور پرورش پايا ہے وہ آگ كے ليے زيادہ اولى اور بہتر ہے "

    اسے امام طبرانى اور ابو نعيم نے ابو بكر سے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4519 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

    اللہ سبحانہ و تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو نيك و صالح خاوند اور حلال اور بابركت رزق عطا فرمائے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/103793
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں