1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سودی بینک میں اکاؤنٹ کھلوانا اور جاب کرنا

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏نومبر 22، 2015۔

  1. ‏نومبر 22، 2015 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
    سود اسلام میں حرام ھے. لیکن علما نے سودی بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت دی ؟
    کیوں؟
    کیا کسی شرعی دلیل کی بنا پر؟
    اور کیا سودی بینک میں job کرنا صحیح ھے؟
    جزاك الله خير
     
  2. ‏نومبر 23، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    عنوان اور سوال کی مناسبت بیان کرسکتے ہیں ؟
     
  3. ‏نومبر 23، 2015 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398


    جناب میں مبتدی ھوں اسلۓ ھو سکتا ھے عنوان میں غلطی ھو گئ ھو
     
  4. ‏نومبر 23، 2015 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جناب جواب نہیں ملا اب تک.
     
  5. ‏جنوری 04، 2017 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ابتسامہ
     
  6. ‏جنوری 04، 2017 #6
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    سرکاری ملازمین کو وزارت المالیہ ان کی ماہانہ تنخواہیں ان کی بینک اکاؤنٹس میں ہی ارسال کرتے ہیں، ملازمت کرنے والا چاہے عام شہری ہو یا معلم و علماء کرام سب کو تنخواہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں ہی ملے گی۔ تنخواہ دار کی رقم جیسے ہی بینک سے ان کے اکاؤنٹ میں داخل ہوتی ہے ویسے ہی چند دنوں تک وہ نکال لی جاتی ہے، اور سود خالی اکاؤنٹ پر نہیں ملتا، اس کے کچھ طریقہ کار ہوتے ہیں۔

    والسلام
     
  7. ‏جنوری 04، 2017 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    روى مسلم (1598) عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: ( لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ) ، وَقَالَ: (هُمْ سَوَاءٌ)
    امام مسلم نے حدیث بیان کی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، اور سود کھلانے والے، سود لکھنے والے اور سود کے گواہوں سب پر لعنت فرمائی ہے۔ اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔
    قال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله :
    " أي في اللعن ، لأنهم متعاونون على ذلك " .علامہ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ : سب برابر ہیں سے مراد ہے کہ سود کے معاملہ میں ایک دوسرے سے تعاون کے سبب وہ لعنت میں برابر ہیں ‘‘
    انتهى من "فتاوى نور على الدرب" (16/ 2) بترقيم الشاملة .
    وقد ترجم الإمام البخاري رحمه الله في صحيحه (3/59) ، مشيرا إلى هذا الحديث الذي رواه الإمام مسلم ، قال : " بَابُ آكِلِ الرِّبَا وَشَاهِدِهِ وَكَاتِبِهِ "

    اور امام المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح مسلم میں منقول اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک باب یوں باندھا ہے :
    باب سودکھانے والے ، اور اس کے گواہ بننے والے اور سود کا معاملہ لکھنے والے (رائیٹر ،اکاؤنٹنٹ ) کے بارے میں ‘‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لہذا اکاؤنٹ کھلوانا ، اور ایسے ادارے میں ملازمت کرنا ،یا کسی طرح کا سہولت کار بننا ،سودی نظام میں معاون بننا ہے
    اور یہ حکم تو معلوم ہی ہے کہ (ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان ) کہ گناہ اور ظلم کے کاموں میں کسی کا معاون نہ بنو ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. ‏جنوری 05، 2017 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں