1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سوره تحریم کا بیان اور مختصر تفصیل

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن ادم, ‏اپریل 19، 2017۔

  1. ‏اپریل 19، 2017 #1
    ابن ادم

    ابن ادم مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2017
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    سورہ تحریم، مدنی سورت ہے۔اس کے ۲ رکوع اور ۱۲ آیتیں ہیں۔ بظاہر اس سورت میں نبی اکرمﷺ کی ازدواجی زندگی کو لیکر بحث ہوئی ہے، لیکن یہ سورت اس وقت کے عرب معاشرے کی ایک غلط رسم کے خاتمہ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔عام طور پر اس کا زمانہ نزول ۸ ہجری بتایا جاتا ہے جس کا کلی دارومدارسورت کی پہلی آیت میں وارد لفظ 'تُحَرِّمُ' کو لیکر باہم متضاد شان نزول کی روایتوں پر ہے۔یہ روایتیں ایک طرف جہاں آپس میں متصادم ہیں، وہیں دوسری طرف خبرِ واحد کے درجہ میں بھی ہیں۔مزید یہ کہ ان میں سے کوئی ایک شان نزول بھی سورت کے الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ایسی صورت میں، متعارض روایتوں کی بنیاد پر کی گئی تفسیر، سورت کے صحیح مضمون کی نشاندہی اور وضاحت سے قاصر رہ جاتی ہے۔تاہم نظم قرآن کی بنیاد پر اس سورت کے زمانہ نزول کا تعین اور پھر اس کی روشنی میں سورت کی تفسیر باآسانی ہوجاتی ہے۔
    سورہ تحریم کی آیت نمبر ۵ اس بات میں بالکل واضح ہے کہ یہ سورت، سورہ احزاب سے پہلے نازل ہوِئی ہے (حوالہ: سورہ احزاب آیت نمبر ۵۲) ۔سورہ احزاب کا نزول ذوالقعدہ ۵ ہجری جنگ خندق سے متصل ہے۔سورہ تحریم کی آیت نمبر ۲ میں سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۸۹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔سورہ مائدہ درحقیقت سورہ نساء کے مباحث کا تمتع ہے اور سورہ نساء غزوہ احد کے بعد ذوالقعدہ ۳ ہجری اور سورہ مائدہ ذوالقعدہ ۴ ہجری میں نازل ہوئی ہے۔اس بنیاد پر سورہ تحریم کا زمانہ نزول ۵ ہجری کا وسط بنتا ہے۔جو لوگ محض روایات ہی کی بنیاد پر زمانہ نزول کے تعین کے قائل ہیں تو ان کے لیے عرض ہے کہ صحاح ستہ میں سورہ احزاب آیت نمبر ۲۸-۲۹ کے حوالے سے یحییٰ بن سعید، ابن شہاب زہری، اور عکرمہ کی روایات بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ سورہ تحریم، سورہ احزاب سے پہلے ہی نازل ہوئی ہے۔
    سورہ تحریم کا محور اسی سورت کی پہلی آیت ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ نبی پاکﷺ نے اپنی ازواج کی خوشی کے لئے اپنے اوپر کوئی ایسی چیز حرام کر لی تھی جو کہ الله تعالیٰ نے خاص آپﷺ کے لئے حلال کی تھی.اگرچہ قرآن کے نزول کا بنیادی مقصد ہدایت انسانی ہے نہ کہ واقعہ بیانی، لہٰذا اس آیت پر مجملاً ایمان بھی کافی تھا، مگر جب ایسی روایات اس آیت کی شان نزول کے طور پر بیان کی گئیں جو کہ نہ صرف سورت کے الفاظ سے میل نہیں کھاتیں بلکہ نبی پاکﷺ اور ازواج مطہراتؓ کی منفی تصویر کشی بھی کرتی ہیں، تو واقعہ کی وضاحت ضروری ہو جاتی ہے۔اصل واقعے کو جاننا چنداں مشکل کام نہیں ہے۔مدنی سورتوں کا دور نزول اور اس زمانہ کے مدینہ کے حالات خود ہی اصل واقعہ کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔اصل واقعہ کی نشاندہی سے پہلے مروجہ قصوں کی بیخ کنی بھی ضروری ہے.اور یہ بیخ کنی اگر کتابُ اللہ کے پیمانہ پر کی جائے تو زیادہ مناسب ہے کیونکہ روایات بہرحال دلیلِ ظنی ہیں اور کتابُ اللہ دلیلِ قطعی۔مزید یہ کہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نہ صرف مبین یعنی روشن کتاب بتایا ہے بلکہ اس کو فرقان بھی کہا ہے جس کے معنی کسوٹی کے ہیں، یعنی سچ اور جھوٹ کو پرکھنے والی کتاب۔لفظ ‘ تُحَرِّمُ ‘ کو لیکرمروجہ شان نزولوں کا کوئی ایک واقعہ بھی قرآن کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔
    آیات نمبر۱اور۲ کا بیان
    بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ
    يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ۚ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿۱﴾ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ﴿۲﴾
    اے نبیؐ، تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟ (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ﴿۱﴾ اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے ﴿۲﴾
    اس سلسلے میں مختلف واقعات بیاں کیے جاتے ہیں جن کو مختلف تفاسیر میں ان آیات کے شان نزول کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ان واقعات کا احوال یہاں مختصراً ذکر کیا جائے گا۔تفصیلات مختلف تفاسیر یا روایات کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
    پہلا واقعہ حضرت ماریہؓ سے متعلق ہے۔قصہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ نبی اکرمﷺ کا معمول تھا کہ روزانہ عصر سے مغرب کے درمیان اپنی بیویوں کی طرف باری باری جاتے تھے۔تو ایک روز معمول کے مطابق جب حضرت حفصہؓ کی طرف پہنچے تو حضرت حفصہؓ موجود نہیں تھیں اور اتنے میں حضرت ماریہؓ وہاں آ گئیں۔اسی دوران میں حضرت حفصہؓ بھی واپس آ گئیں تو انہوں نے آپﷺ کو حضرت ماریہؓ کے ساتھ اپنے بستر پر دیکھ کر خفگی کا اظہار کیا۔نبی اکرمﷺ نے حضرت حفصہؓ کی دل جوئی کے لئے حضرت ماریہؓ کو خود پر حرام کر لیا اور حضرت حفصہؓ کو اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنے کی تاکید کردی ۔یاد رہے کہ حضرت ماریہؓ نبی اکرمﷺ لونڈی تھیں نہ کہ حضرت حفصہؓ کی۔لہٰذا حضرت حفصہؓ کی غیر موجودگی میں ان کے گھر میں حضرت ماریہؓ کے آنے کی کچھ وجہ نہیں بنتی۔کہا جاتا ہے کہ جس وقت حضرت حفصہؓ نے حضرت ماریہؓ کو نبی پاکﷺ کے ساتھ اپنے بستر پر پایا تھا اس وقت وہ اپنے والد حضرت عمرؓ کے گھر سے واپس تشریف لائی تھیں۔یہ بات اپنے اندر خود ایک سوال ہے کہ جب نبیﷺ کے آنے کا وقت متعین تھا تو حضرت حفصہؓ اپنے والد کے گھر کیوں گئی ہوئی تھیں اور ان کے والد حضرت عمرؓ نے بھی ان کو اس وقت کیوں بیٹھے رہنے دیا۔
    اس قصہ میں صرف یہی سوالات نہیں بلکہ شدید نوعیت کے بھی کئی سقم موجود ہیں جو کہ براہ راست قرآن سے ٹکرا رہے ہیں۔پہلی بات یہ کہ آیت میں اَزۡوَاج کا لفظ آیا ہے۔جو کہ عربی زبان کے قاعدے کے مطابق تین یا تین سے زائد بیویوں کے لئے آسکتا ہے۔جبکہ یہاں صرف ایک بیوی کا ذکر ہے۔روایت کو کچھ بہتر کرنے کے لئے بعض لوگوں نے اس کا ایک پس منظر بنایا کہ حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ نبی اکرمﷺ سے حضرت ماریہؓ کو علیحدہ کرنے کے لئے زور ڈالتی رہتی تھیں ۔لیکن اگر بالفرض اس پس منظر کو مان بھی لیا جائے تو بھی بیویوں کی تعداد دو ہی بنتی ہے جو کہ تین سے کم ہے اور آیت میں بیان کی گئی کم از کم تعداد سے مطابقت نہیں رکھتی۔
    دوسری بات یہ ہے کہ واقعہ میں آتا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے حضرت ماریہؓ کو حرام قرار تو دیا لیکن حضرت حفصہؓ کو کہا کہ وہ یہ بات کسی کو نہ بتائیں۔تو اس کو چھپانے میں آخر کونسی حکمت پوشیدہ تھی؟ کیا یہ کہ حضرت ماریہؓ سنکر ملول نہ ہوں۔اس حکمت کو اس صورت میں ہی تسلیم کیا جاسکتا تھا اگر آیاتِ قرآنی خود اسکی تردید نہ کر رہی ہوتیں۔اگر حضرت ماریہؓ کو حرام کرنے میں صرف حضرت حفصہؓ کی خوشنودی مقصود تھی تو یہ بات خود آیت کے متن سے ٹکرا جاتی ہے کیونکہ آیت میں ازواج کی خوشنودی کا ذکر آیا ہے نہ کہ زوجہ کی۔اور اگر تمام (یا متعدد) ازواج کی خوشنودی درکار تھی تو چھپانے کا کہنے سے تو اس کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، کیونکہ جن بیویوں کی خاطر حضرت ماریہؓ کو حرام کیا گیا ہو اور ان بیویوں کو اس کا علم ہی نہ ہوسکے، تو ان بیویوں کو کیا خوشنودی حاصل ہو گی۔
    تیسری بات یہ کہ سورہ احزاب کی آیت نمبر ۵۲ میں الله تعالیٰ نے نبی پاکﷺ کو جہاں اپنی بیویوں کو طلاق دینے سے روک دیا ہے وہیں لونڈیوں کے سلسلے میں وہی قانون برقرار رکھا ہے جو عامۃالمسلمین کے لئے ہے ۔جس کے تحت ایک مسلمان مرد کو اپنی لونڈی کو حرام کرنے کا اختیارحاصل ہے۔واضح رہے سورہ احزاب ۵ ہجری میں نازل ہوئی ہے اور حضرت ماریہؓ ۷ ہجری میں حرم نبویؐ میں داخل ہوئیں۔لہٰذا ایک ایسی معاملے میں، جس کا اختیار دو سال پہلے خود الله ہی نے نبیﷺ کو تفویض کردیا ہو، اس کے استعمال پر الله کی طرف سے سرزنش ناقابل فہم ہے۔
    یہ روایت قرآن کے ایک اور واضح حکم سے بھی متصادم ہے۔الله تعالیٰ نے سورہ نور آیت ۵۸ میں خلوت کے اوقات بیان کیے ہیں اور وہ ہیں عشا کے بعد، فجر سے پہلے اور دوپہر کے وقت۔جب کہ قصوں کےبیان کے مطابق یہ وقوعہ عصر کی نماز کے بعد پیش آیا۔واضح رہے کہ حضرت ماریہؓ حرم نبویؐ میں ۷ ہجری میں داخل ہوئی ہیں۔اور سورہ نور ٦ ہجری میں نازل ہوئی ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ نبی پاکﷺ قرآن کریم کے ایک نازل شدہ حکم کی خلاف ورزی کا سوچیں بھی۔
    اور ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ کہ سورہ تحریم ۵ ہجری میں نازل ہوئی ہے۔حرم نبوی ﷺتو درکنار، حضرت ماریہؓ کا تو اس وقت مدینہ منورہ میں بھی وجود نہ تھا۔حضرت ماریہؓ ۷ ہجری میں مصر کے فرماں روا مقوقس کی طرف سے دربار نبویؐ میں آئی تھیں۔لہذا وہ تو ان آیات کی شانِ نزول کی وجہ بالکل نہیں ہوسکتیں۔
    دوسرا قصہ جو عام طور پر بطور شانِ نزول پیش کیا جاتا ہے وہ شہد کا قصہ ہے۔اصل میں یہ ایک نہیں بلکہ دو متخلف افسانے ہیں جو کتابوں میں درج ہیں۔دونوں ہی کہانیاں حضرت عائشہؓ کی ‘چلتر بازیوں’ میں متفق ہیں، مگر ایک کہانی میں حضرت حفصہؓ متاثرہ فریق ہیں تو دوسری میں وہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ سازشوں میں مصروف ہیں۔ظاہر ہے، حضرت حفصہؓ ایک ہی واقعہ میں بیک وقت دونوں کردار تو ادا نہیں کر سکتیں۔ہشام بن عروہ کی روایت یہ بتاتی ہے کہ حضرت حفصہؓ کے گھر کہیں سے شہد آیا ہوا تھا اور جب نبی اکرمﷺ ان کے گھر جاتے تو وہ آپﷺ کو شہد پیش کرتیں اور آپﷺ شہد کھانے کی وجہ سے وہاں کچھ زیادہ دیر ٹھہر جاتے، جس کی وجہ سے حضرت عائشہؓ نے نبی کریمﷺ کو حضرت حفصہؓ کے ہاں زیادہ دیر گزارنے سے روکنے کے لئے ایک منصوبہ بنایا اور اس منصوبے میں حضرت سودہؓ اور حضرت صفیہؓ کو بھی شامل کر لیا۔طے یہ کیا گیا کہ نبی اکرمﷺ جب ان کی طرف تشریف لائیں گے تو وہ نبی اکرمﷺ کو کہیں گی کہ آپ کے منہ سے مغافیر(ایک قسم کا پھول، جس کی مہک ناگوار ہوتی ہے) کی بو آرہی ہے۔نبی اکرمﷺ کو ہر قسم کی ناگوار بو شاق گزرتی تھی لہذا جب متعدد بیویوں (عائشہؓ، سودہؓ، صفیہؓ) نے ایک ہی بات کہی تو آپﷺ نے شہد کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا۔
    دوسری جانب ابن جریج کا بیان ہے کہ شہد حضرت زينبؓ کے گھر آیا تھا اور سازش حضرت عائشہؓ نے حضرت حفصہؓ کے ساتھ مل کر کی تھی۔اگرچہ دونوں ہی روایتیں سورت کے مضمون سے ٹکرا رہی ہیں مگر محدثین نے ہشام بن عروہ کو ابن جریج کے مقابلے میں زیادہ سقہ راوی قرار دیا ہے، لہٰذا اگر شہد ہی کی روایت پر مضمون کھڑا کرنا تھا تو ہشام کی روایت کو فوقیت دی جانی چاہیے تھی۔لیکن بیشتر تفاسیر نے ابن جریج کی روایت کو ہشام کی روایت پر ترجیح دی ہے، شاید اس لئے کہ ہشام کی روایت صرف حضرت عائشہؓ کو منصوبہ ساز بتا رہی ہے اور ابن جریج کی روایت حضرت عائشہؓ کے ساتھ ساتھ حضرت حفصہؓ (دختر حضرت عمرؓ فاروق، فاتح ایران) کو بھی مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔
    بیان سے تو صاف ظاہر ہے کہ بیویوں کی خواہش شہد کو تو حرام قرار دلوانے کی ہرگز نہیں تھی، بلکہ وہ تو چاہتی تھیں کہ آپ حضرت حفصہؓ (یا ابن جریج کے مطابق حضرت زينبؓ) کی طرف زیادہ وقت نہ گزاریں۔بالفرض اگر شہد حرام قرار دینے کے بعد حضرت زينبؓ (یا ہشام کے مطابق حضرت حفصہؓ) کوئی اور مرغوب شے نبی اکرمﷺ کو پیش کرتیں تو کیا باقی بیویوں کا مقصد حاصل ہو جاتا؟ قرآن کی آیت تو واضح کر رہی کہ آپﷺ نے جو چیز حرام کی تھی وہ بیویوں کی خوشنودی کے لئے کی تھی، گویا نبی اکرمﷺ کو بیویوں کی خوشنودی معلوم تھی اور روایات یہ بتارہی ہیں کہ شہد حرام قرار دلوانا بیویوں کا مطمع نظر تھا ہی نہیں۔اس قصہ میں تیسرا جھول یہ ہے کہ آیت کے مطابق کوئی چیز نبیﷺ کے لئے خاص حلال کی گئی تھی جو انہوں نے حرام کر لی، جبکہ روایات یہ بتارہی ہیں کہ ایک مطلق حلال شے (شہد) نبیﷺ نے اپنے اوپر حرام کرلی۔اگر یہی قصہ اس آیت کا پس منظر ہوتا تو آیت کا متن یوں ہونا چاہیے تھا:
    يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ لَـكَ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ
    یعنی (اے نبی) تم اس شے کو اپنے اوپر کیوں حرام کر رہے ہو جو الله نے حلال کی ہے.
    جب کہ اصل آیت میں زور اس بات پر ہے کہ وہ شے کیوں حرام کی گئی ہے جو الله نے خاص (اے نبی) تمہارے لیے حلال کی ہے۔دوسری بات سورہ تحریم ہی کی دوسری آیت کہہ رہی ہے کہ ‘خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے’ یعنی سورہ تحریم کے نزول سے پہلے ہی الله قسموں کے کفارے کے متعلق احکامات نازل کر چکا ہے اور یہ احکامات سورہ مائدہ میں وارد ہوئے ہیں۔سورہ مائدۃ کی آیت نمبر ۸۹ میں الله تعالیٰ فرماتا ہے:
    لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِىۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰـكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الۡاَيۡمَانَ‌ ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ‌ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ‌ ؕ وَاحۡفَظُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿۸۹﴾
    خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو ﴿۸۹﴾
    یہ آیت مختلف النواع قسموں کے کفارے کے بارے میں بنیادی حکم رکھتی ہے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس آیت سے بلکل پہلے سورہ مائدہ میں جو مضمون چل رہا ہے وہ یہاں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
    وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَحِيۡمِ‏ ﴿۸٦﴾ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ‏ ﴿۸۷﴾ وَكُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا‌ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اَنۡـتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿۸۸﴾
    مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑہو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ﴿۸۷﴾ اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو ﴿۸۸﴾
    آیت نمبر۸۷ کہہ رہی ہے کہ مومنو پاکیزہ حلال چیزوں کو حرام نہ کرو.اور آیت نمبر ۸۸ میں کھانے کی حلال پاکیزہ چیزوں کو خصوصی وضاحت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے کہ انہیں حرام نہ کیا جائے اور آیت نمبر ۸۹ میں (جس کا حوالہ سورہ تحریم کی آیت نمبر ۲ میں بھی دیا گیا ہے) کہا گیا ہے کہ اگر قَسماً کوئی حلال شے اپنے اوپر حرام کر لی گئی ہے تو قسم کا کفارہ دے کر اس کو واپس حلال کر لیا جائے۔اگرچہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۸۹ کا حکم تو عمومی ہے مگر آیت نمبر ۸۸ کا زور حلال پاکیزہ خوردنی اشیاء پر ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صاحب قرآن، مجسم قرآن، سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی کیسے ایک حلال اور پاکیزہ خوردنی چیز کو صرف اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لیے حرام قرار دے سکتے تھے؟ جبکہ روایات خود بھی اس بات میں واضح ہیں کہ بیویوں کی منشا اس خوردنی چیز کو حرام قرار دلوانے میں تھی بھی نہیں۔کیا نبی اکرمﷺ سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ قرآن کے نازل شدہ احکام کی خلاف ورزی کریں اور وہ بھی شہد جیسی چیز کے لئے، جس کو الله نے سورہ مائدہ اور تحریم دونوں کے نزول سے برسوں قبل، ہجرت سے ۲ سال پہلے نازل ہونے والی سورت، سورہ نحل کی آیت نمبر ۸۹ میں لوگوں کے لئے شفا قراردے دیا تھا۔

    فِيۡهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ‌ؕ
    اس (شہد) میں لوگوں کے لئے شفا ہے
    شہد کے متعلق ان دونوں روایات کو اگر دور نزول کے مطابق پرکھا جائے تو بھی یہ صحیح ثابت نہیں ہوتیں۔ہشام کی روایت میں حضرت صفیہؓ کو ان بیویوں میں بتایا گیا ہے جو حضرت عائشہؓ کے ساتھ سازش میں شریک تھیں۔سورہ تحریم کی آیت نمبر ۵ اس بات میں بلکل واضح ہے کہ اس سورت کا نزول سورہ احزاب (ذوالقعدہ ۵ ہجری) سے پہلے ہوا ہے۔جب کہ حضرت صفیہؓ غزوہ خیبر (۷ ہجری) کے بعد حرم نبویؐ میں داخل ہوئی ہیں۔دوسری طرف ابن جریج کی روایت کہتی ہے کہ شہد حضرت زينبؓ بنت جحش کے گھر میں نوش فرمایا تھا، حضرت زينبؓ کی شادی غزوہ احزاب کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی اور سورہ تحریم کے نزول کے وقت وہ ام المومنین کے درجہ پر فائز ہی نہیں ہوئی تھیں۔
    ان دونوں قصوں کے علاوہ ایک تیسرا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جو ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں بھی درج کیا ہے وہ یہ ہے کہ الله نے نبی اکرمﷺ کے لئے ہبہ کو حلال قرار دیا تھا۔ہبہ یہ ہے کہ کوئی عورت اپنے آپ کو نبی اکرمﷺ کی زوجیت میں پیش کرے۔اور نبی اکرمﷺ بھی اس کو قبول کر لیں تو وہ عورت آپﷺ کی زوجیت میں آجائے گی۔تو ایسا ہوتا تھا کہ عورتیں امہات المومنین کے حجروں میں آ کر بھی اپنے آپ کو ہبہ کے لئے پیش کردیتی تھیں۔اور یہ بات انسانی فطرت کے تحت امہات المومنین کو پسند نہیں آتی تھی۔لہٰذا نبی اکرمﷺ نے اپنی بیویوں کی خواہش کے احترام میں ہبہ کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا۔
    اگرچہ مروجہ قصوں کے برعکس یہ قصہ سورہ تحریم کی پہلی دو آیتوں کے الفاظ سے تو متصادم نہیں کیونکہ اس کے مطابق تمام بیویوں کی خوشنودی کے لئے یہ اقدام کیا گیا تھا اور مزید یہ کہ ہبہ کی اجازت صرف نبی اکرمﷺ کے لئے خاص تھی نہ کہ عام مسلمانوں کے لئے بھی۔لہذا اگر آیات کے الفاظ کی بنیاد پر کسی قصے کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی تو وہ یہی قصہ ہونا چاہیے تھا مگر اردو تفاسیر میں شاز و نادر ہی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔لیکن یہ قصہ بھی سورہ تحریم کے دور نزول سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ ہبہ کی اجازت سورہ احزاب میں دی گئی ہے اور باعتبارِنزول سورہ تحریم سورہ احزاب پر مقدم ہے.
    درحقیقت غزوہ احد کے بعد ذوالقعدہ ٣ ہجری میں عائلی قوانین بڑے تفصیل سے نازل ہوئے۔سورہ نساء کی پہلی ١٨ آیات يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ کے صیغے کے ساتھ وارد ہوئیں۔جن کا اطلاق نبی پاکﷺ کو چھوڑ کر بقیہ مسلمانوں پر تھا۔انہی قوانین میں مالی وراثت کے احکامات بھی بیان کے گئے (واضح رہے کہ رسولوں کی مالی وراثت نہیں ہوتی)۔ مسلمان مرد کے لئے مہر کے ساتھ نکاح کی شرط ہے (جبکہ نبی کے لیے سورہ احزاب میں ہبہ جائز کیا گیا ہے)اور انہی آیات میں مسلمان مرد کے لئے ۴ بیویوں کی تحدید کردی گئی۔غزوہ احد میں ٧٠ مسلمان شہید ہوئے اور کئی عورتیں بیوہ ہوئیں۔رسول پاکﷺ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبدللہؓ کی بیوہؓ سے نکاح کر لیا۔تاہم ان خاتونؓ کا تین ماہ بعد ہی انتقال ہو گیا۔مدینہ منورہ کا یہ دور جہاں اندرونی اور بیرونی شورشوں کو لے کر بہت کٹھن تھا، وہیں مسلمان معاشی طور بھی بہت پریشان تھے۔مہاجروں کی صورتحال بہت زیادہ مخدوش تھی۔خاندان نبویؐ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھا۔
    سن ۴ ہجری میں سریۃ بنو اسد وقوع پذیر ہوا۔حضرت ابو سلمیٰ ؓ(حضورؑ کے ایک اور پھوپھی زاد بھائی) وہاں سے واپسی پر جمادی الثانی ۴ ہجری میں شہید ہو گئے۔رسول پاکﷺ نے ان کی اہلیہ حضرت ام سلمیؓ سے شوال ۴ ہجری میں نکاح فرما لیا۔حضرت ام سلمیٰؓ درمیانی عمر کی ایک عیال دار عورت تھیں۔آپؓ کے پہلے نکاح سے ۴ بچے بھی تھے۔اور اب وہ بچے بھی رسول پاکﷺ کے زیر کفالت آ گئے تھے۔
    ربیع الاول ۴ ہجری میں غزوہ بنو نضیر کے بعد ‘مالِ فے’ کی صورت میں مسلمانوں میں کچھ معمولی مالی کشادگی آئی تھی، مگر غزوہ احد کے شہداء کے اہل خانہ اتنی تعداد میں تھے کہ وہ مال مسلمانوں کی مجموعی حالت میں کوئی نمایاں فرق نہیں لا سکا۔حضرت ام سلمیٰؓ سے نکاح کے بعد بیت نبویﷺ میں پانچ افراد کا اضافہ ہو چکا تھا۔اور اس کے بعد وہ موقع آیا جب ازواج کرامؓ بشمول حضرت ام سلمیٰؓ نے (ازروئے روایات عکرمہ، یحییٰ بن سعید، زہری) نے رسول الله سے مزید نان نفقہ کا مطالبہ کیا تھا۔یہ وہ حالات ہیں جن میں سورہ تحریم نازل ہوئی۔اور اس کے بعد جب سورہ احزاب نازل ہوئی تو اس میں ان چاروں ازواج کرامؓ کو یہ اختیار دیدیا گیا تھا کہ اگر وہ دنیا کی زینت چاہتی ہیں تو بھلے طریقہ سے ان کو کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا جائے۔لیکن اگر وہ الله، رسول اور آخرت کی طلبگار ہیں تو الله نے ان کے لئے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے ۔چاروں ازواجؓ (حضرت سودہؓ، عائشہؓ، حفصہؓ اور ام سلمیؓ) نے الله اور رسول کو ہی منتخب کیا اور دنیاوی رزق کی کشائش کے مطالبہ سے دستبردار ہو گئیں (احزاب ٢٨ .٢٩)۔غالباً جس وقت آپﷺ کی ازواجؓ نے نان نفقہ کی کشائش کا مطالبہ کیا تھا اس وقت یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ عام مسلمانوں کی طرح آپﷺ بھی اپنے آپ کو ۴ بیویوں تک ہی محدود رکھیں گے۔نبی کریمﷺ نے ازواجؓ کی خوشنودی کے لئے اس مطالبہ کو منظور کر لیا۔لیکن ۵ ہجری میں کچھ ایسے واقعات مدینہ منورہ میں پیش آئے (جن کا ذکر آیات نمبر ٣ کی تفصیلات میں آئے گا)، کہ الله تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو مزید شادی نہ کرنے کی اپنی قسم سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔کیونکہ اب آپﷺ کو چار بیویوں کی موجودگی میں پانچواں نکاح کرنے کا حکم دیا جانے لگا تھا۔اور اس نکاح سے پہلے ازواجؓ کو دنیا و آخرت میں کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔اس اختیار کا ذکر سورہ احزاب میں ٢٨.٢٩ میں ہے۔جبکہ پانچویں نکاح کا ذکر آیت ٣٧ میں ہے ۔
    سورہ تحریم کی آیت نمبر ایک میں جس چیز کا اشارہ دیا گیا ہے 'يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ۚ'، جو الله نے تمہارے لئے حلال کی، اس کی تصدیق سورہ احزاب کی آیت نمبر ٥٠ میں کر دی گئی ہے 'اَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ' یعنی ‘اے نبی ہم نے تم پر حلال کی ہیں تمہاری وہ (پانچوں) بیویاں‘،پانچوں اس لئے، کہ سورہ احزاب ہی میں اس آیت سے پہلے آیت ٣٧ میں پانچویں نکاح کے تصدیق کر دی گئی ہے۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس (پانچویں) نکاح کی اتنی اہمیت کیوں تھی۔اور سورہ تحریم میں اس کا بالکل واضح ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔تو اسکا جواب آیت نمبر ٣ کی تفسیر میں آجائے گا۔لیکن کیونکہ یہ نکاح رسول الله کے لئے بھی ایک بہت بڑی آزمائش تھا، جس کا مختصر ذکر سورہ تحریم کی آیت نمبر ٩ میں ہے اور سورہ احزاب کا پورا پہلا رکوع (آیت نمبر ١تا ٨ ) اسی سے متعلق ہے.
    سورہ تحریم کی دوسری آیت کے آخری دو الفاظ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ اسی کی اہمیت واضح کر رہے ہیں یعنی کہ الله علیم ہے وہ سب کچھ جانتا ہے (جو کچھ ہو چکا ہے وہ بھی اور جو کچھ آیندہ ہونا ہے وہ بھی، جو کچھ لوگوں کے دلوں میں ہے وہ بھی اور جو کچھ زبانوں پر ہے وہ بھی)، لہٰذا اب الله کی یہی حکمت ہے کہ حضرت زينبؓ بنت جحش سے نبی پاک ﷺکے نکاح کا وقت آ گیا ہے۔(اور اسی حکمت کے تحت ابتداء میں ہی جب سورہ نساء میں مسلمان مردوں کے لیے چار نکاح کی تحدید کی گئی تھی تو نبی اکرمﷺ کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا).
    غور کیا جائے تو کتنے واضح الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زینبؓ سے نکاح کے بعد خود بھی اس بات کی وضاحت (اوپر پیش کی گئی) سورہ احزاب کی خط کشیدہ آیت نمبر ٥٠ میں کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو مزید نکاح حلال رکھے تھے جوکہ رسولﷺ نے ازواج کی خوشی کے لیے خود اپنے اوپر حرام کرلیے تھے۔قرآن کریم کی بہترین تفسیر قرآن خود ہی کردیتا ہے- ایک جگہ ایک بات اگر مختصر الفاظ میں بیان کرتا ہے تو دوسری جگہ اسی بات کو کھول کر بیان کر دیتا ہے- سورہ نحل کی آیت نمبر ۸۹ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
    وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡـكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ وَّ هُدًى وَّرَحۡمَةً وَّبُشۡرٰى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿۸۹﴾
    اور ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے ﴿۸۹﴾
    قرآن کریم کے اتنے واضح اور دوٹوک بیان کے باوجود بھی، اس نوعیت کی شان نزولوں کی بنیاد پر فیصلے صادر کرنا، جوکہ نہ صرف آیات کے الفاظ کا احاطہ نہیں کرپاتیں بلکہ ان سے متصادم بھی ہوتی ہیں، ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شانِ نزول کی روایتیں نہ ہوتیں تو قرآن کو سمجھنا ناممکن ہوجاتا- سورہ تحریم کے سلسلے میں تو کم از کم ایسا نظر نہیں آرہا۔ایک ہی آیت کے سلسلے میں اتنی متنوع اور متضاد روایتیں پیش کی گئی ہیں جو کہ ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب بیک وقت قبول بھی نہیں کی جاسکتیں۔ لہذا ہر مفسر نے اپنے ذوق کے مطابق بعض روایات کو ترجیح دیکر قبول کرلیا اور پھر انہی کے آئینے میں تفسیر کردی۔ تطبیق کے قائل لوگوں نے کہا کہ تمام ہی روایتیں شان نزول کا باعث ہیں،اور جب تمام واقعات ہوگئے تبھی آیت نازل ہوئی تھیں- یہی وجہ ہے کہ تفاسیر میں اتنا اختلاف نظر آرہا ہے- جبکہ قرآن کا دعوی یہ ہے کا وہ اختلاف سے بالکل مبرا ہے ، اور یہی بات اسکے کتابُ اللہ ہونے کی دلیل ہے۔ ان روایات نے تفاسیر میں اختلافات پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور کام ضرور کیا ہے، وہ یہ کہ بیتِ نبویؑ کی ایک مکروہ منظر کشی کی ہے کہ وہاں صرف سازشیں بُننے والی عورتیں رہتی تھیں اور نعوذباللہ حضورپاکﷺ ایک کوتاہ نظر اور عجلت پسند شخص تھے.
    آیات نمبر۳اور۴ کا بیان
    وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ؕ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ﴿۳﴾ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ۚ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ‏ ﴿۴﴾
    اور (یاد کرو) جب نبی نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اُس نے وہ بات نے دوسری کو بتا دی) ۔جب اُس نے اس بات کو افشا کیا اور اللہ نے نبیؐ کو اِس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی، تو نبی نے اس میں سے کچھ بات جتلا دی اور کچھ ٹال دی، پس جب نبیؐ نے اُس کو وہ بات جتلا دی تووہ پوچھنے لگی کہ آپ کو کس نے بتایا؟ نبیؐ نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے ﴿۳﴾ اگر تم دونوں الله کی جناب میں توبہ کرو تو (بہتر) ورنہ تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں اوراگر تم نبیؐ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی تو جان رکھو کہ اللہ اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں ﴿۴﴾
    آیت نمبر ٣ یہ بتا رہی ہے کہ نبی پاکﷺ نے اپنی ایک زوجہ محترمہؓ کو ایک بات بتائی اور وہ بات انہوں نے ایک دوسری زوجہؓ پر ظاہر کر دی تھی۔جن لوگوں نے پہلی دو آیتوں کو حضرت ماریہؓ کے قصہ سے متصف کیا ہے، انہوں نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ نبی پاکﷺ نے حضرت حفصہؓ کو حضرت ماریہؓ کو حرام کرنے کی بات کی تشہیر کرنے سے منع کردیا تھا مگر وہ حضرت عائشہؓ کو بتا بیٹھیں۔یہ بات سورت کے نظم سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ جب بھی قرآن کریم میں ‘وَاِذۡ’ سے کلام شروع ہوتا ہے تو ایک نئی بات شروع کی جا رہی ہوتی ہے۔حضرت ماریہؓ کو حرام کرنا اور حضرت حفصہؓ کو عدم ذکر کی تاکید کرنا ایک ہی مجلس کا واقعہ بنتا ہے۔اگر یہی قصہ ان آیات کی شان نزول ہوتا تو تیسری آیت کے آغاز میں 'وَاِذۡ' کا استعمال نہ ہوتا۔
    جن لوگوں نے ان آیتوں کا تعلق شہد سے جوڑا ہے ان کا کہنا ہے کہ حضرت حفصہؓ نے یہ بات حضرت عائشہؓ کو بتائی تھی۔سوال یہ ہے کہ ہشام کی روایت ہو یا ابن جریج کی، دونوں نے حرام کروانے میں بنیادی کردار حضرت عائشہؓ کا ہی بیان کیا ہے، لہٰذا اگر خوشنودی کے لیے ہی شہد کو حرام کیا گیا تھا تو کم از کم حضرت عائشہؓ کو تو مطلع کیا ہی جانا چاہیے تھا۔
    ان دونوں روایات کی کمزوریوں کے پیشِ نظر شاہ ولی الله نے اپنی کتاب ازالۃ الخفاء میں تیسری اور چوتھی آیت کے سلسلے میں ایک اور شان نزول بھی بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیلؑ نے نبی پاکﷺ کو ان کے بعد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافت کی خبر دی تھی۔یہ بات نبیؐ نے حضرت حفصہؓ کو بتائی اور کسی کو نہ بتانے کی تاکید کی۔حضرت حفصہؓ غالباً اس گمان میں کہ اس میں اگر میرے والد کا ذکر ہے تو حضرت عائشہؓ کے والد کا بھی ذکر ہے، انہوں نے اس کی خبر حضرت عائشہؓ کو بھی دیدی۔اگرچہ یہ بیان سورت کی ان دونوں آیتوں کے الفاظ سے نہیں ٹکرا رہا لیکن سورت کے عمومی ربط سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔جن لوگوں کو نظم قرآن سے کوئی دلچسپی نہیں ان کو تو اس روایت کو قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن شاہ ولی الله کے لکھنے کے باوجود بھی کسی بھی نمایاں اردو تفسیر میں اس روایت کا کوئی حوالہ نہیں ملتا اگر ملتا بھی ہے تو انتہائی ضمنی طور پر.
    اصل بات یہ تھی کہ غزوہ احد (۳ ہجری) کے بعد جب سورہ نساء نازل ہوئی تو اس میں تفصیلاً عائلی قوانین بھی بیان کیے گئے۔انہی قوانین میں یہ بھی بتادیا گیا کہ حرمت کے رشتے اب صرف خون، سسرال یا رضاعت کے واسطہ سے ہی ثابت ہو سکیں گے۔انہی تفصیلات میں سورہ نساء کی آیت نمبر ٢٣ میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ:
    وَحَلَاۤٮِٕلُ اَبۡنَآٮِٕكُمُ الَّذِيۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِكُمۡۙ
    (حرام ہیں تم پر) تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی
    یعنی اب وہ عورتیں جو کسی شخص کے سگے بیٹوں، پوتوں یا نواسوں کی بیویاں رہ چکی ہیں وہ اس کے لیے ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی ہیں۔اس وقت (۳ ہجری) کے مدنی معاشرے میں زبان کی بنیاد پر بھی رشتے قائم تھے جن کو متبنیٰ کہا جاتا تھا اور ان کی حرمت بالکل حقیقی رشتوں کی مانند ہوتی تھی-۔گویا اس آیت کے ذریعے منہ سے بولے ہوئے رشتوں پر یہ پہلی ضرب لگائی گئی تھی۔۵ ہجری میں مدینہ منورہ میں ایک واقعہ ہوا، انصارِمدینہ سے تعلق رکھنے والی ایک صحابیہ حضرت خولہؓ بنت ثعلبہ کو ان کے شوہر نے ماں سے تشبیہ دے دی (فقہی زبان میں اس کو ظہار کہا جاتا ہے).حضرت خولہؓ معاملہ کو لیکر نبی پاکﷺ کے پاس حاضر ہوئیں، اور اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرنے لگیں۔اس پر سورہ مجادلہ (آیات ۱ تا ۴) نازل ہوئی جس میں کہا گیا کہ منہ سے بول دینے سے بیوی ماں نہیں بن جاتی۔نتیجتاً آپﷺ نے دوبارہ رجوع کروا دیا۔کیونکہ قدیم زمانے سے عرب معاشرے کے رواج میں منہ سے بولے ہوئے رشتے کا تقدس بلکل حقیقی رشتے کے جیسا ہوتا تھا اور کوئی مرد اگر اپنی بیوی کو ماں سے تشبیہ دے دیتا تو وہ اس پر ہمیشہ کے لئے ماں کی طرح سے حرام ہو جاتی تھی، جبکہ طلاق کی صورت میں دوبارہ رجوع کی گنجائش باقی رہتی تھی۔لہٰذا بعض لوگوں کو حضرت خولہؓ کا یہ رجوع باآسانی قبول کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔اس معاملے سے کچھ ہی عرصہ پہلے، یعنی ۴ ہجری میں ہونے والے دو واقعات، غزوہ بنو نضیر (ربیع الاول ۴ ہجری) اور غزوہ بدرالصغری (شوال/ذوالقعدہ ۴ ہجری) میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی غیر معمولی برتری نے منافقین مدینہ اور یہودیوں(بنو قریظہ) کو پہلے ہی بہت جِزبِز کر رکھا تھا۔حضرت خولہؓ بنت ثعلبہ کے واقعہ نے ان کو فتنہ پھیلانے کے لئے ایک نیا موقع فراہم کیا اور وہ معاشرے میں اس حکم کے خلاف باتیں پھیلانے لگے۔سورہ مجادلہ کی اگلی آیات اسی فتنہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ آیت نمبر ٨ میں الله تعالیٰ انہی منافقین کی بابت فرماتا ہے:
    اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ نُهُوۡا عَنِ النَّجۡوٰى ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَيَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَمَعۡصِيَتِ الرَّسُوۡلِ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُۙ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُ‌ؕ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ‌ۚ يَصۡلَوۡنَهَا‌ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿۸﴾
    کيا آپؐ نے اُن لوگوں کو نہيں ديکھا جنہيں سرگوشيوں سے منع کيا گيا تھا پھر وہ لوگ وہي کام کرنے لگے جس سے روکے گئے تھے اور وہ گناہ اور سرکشي اور نافرمانئ رسولؐ سے متعلق سرگوشياں کرتے ہيں اور جب آپؐ کے پاس حاضر ہوتے ہيں تو آپؐ کو اُن (نازيبا) کلمات کے ساتھ سلام کرتے ہيں جن سے اللہ نے آپؐ کو سلام نہيں فرمايا اور اپنے دلوں ميں کہتے ہيں کہ (اگر يہ رسول سچے ہيں تو) اللہ ہميں اِن (باتوں) پر عذاب کيوں نہيں ديتا جو ہم کہتے ہيں؟ انہيں دوزخ (کا عذاب) ہي کافي ہے، وہ اسي ميں داخل ہوں گے، اور وہ بہت ہي برا ٹھکانا ہے، ﴿۸﴾
    آگے چل کر سورہ مجادلہ ہی میں الله تعالیٰ نے مسلمانوں کو سرگوشیاں کرنے اور ایسے لوگوں سے دوستیاں رکھنے سے منع فرمایا.
    منہ بولے رشتوں کی حرمت کی مکمل طور پر بیخ کنی کے لیے الله تعالیٰ نے نبی پاکﷺ کے اس وقت (۵ ہجری) تک کے لے پالک بیٹے، حضرت زیدؓ بن حارثہ (جو کہ اس وقت کے عرب قاعدے کے مطابق زیدؓ بن محمدؐ کہلاتے تھے) کی مطلقہ، حضرت زينبؓ بنت جحش سے خود رسول پاکﷺ کو نکاح کرنے کا حکم دے دیا۔اس بات کا ذکر آنحضرتﷺ نے اپنی ایک زوجہؓ محترمہ سے کیا کہ الله نے مجھے حضرت زينبؓ سے نکاح کا حکم دیا ہے۔مدینہ کا ماحول پہلے ہی حضرت خولہؓ کے واقعہ کو لے کر منافقین اور یہود نے آلودہ کیا ہوا تھا۔نبی پاکﷺ نے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے اس حکم کو فی الوقت ظاہر نہ کرنے کی تاکید کی تھی۔لیکن ام المومنینؓ یہ قیاس کرتے ہوئے کہ شاید نبیﷺ نے گھر سے باہر بتانے سے منع کیا ہے، اس بات کو دوسری ام المومنینؓ کے آگے ظاہر کر بیٹھیں۔یہ بات واضح رہے کہ دوسری زوجہؓ محترمہ نے اس بات کو کسی اور پر ظاہر نہیں کیا جس کی گواہی خود الله نے سورہ تحریم کی اسی آیت نمبر ۳ میں اپنے اوراپنے نبیﷺ کے الفاظ میں دو بار دی ہے۔پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا 'اَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ' یعنی یہ بات خود اللہ نے نبی پاکؐ پر ظاہر کی تھی، اور پھر جب پہلی بیویؓ نے یہ پوچھا کہ آپؐ کو یہ بات کس نے بتائی (کیونکہ انؓ کو یہ خیال گیا کہ ممکن ہے کہ دوسری بیویؓ نے نبیؐ تک یہ بات پہنچائی ہو)، تو رسول پاکﷺ نے فرمایا 'نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ' یعنی 'مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے'۔
    اللہ تعالیٰ نے دونوں ازواجؓ کو توبہ کا حکم دیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلی بیویؓ نے تو ایک راز افشا کیا اس وجہ سے انکو توبہ کا حکم دیا گیا۔لیکن دوسری بیویؓ نے تو وہ راز بشمول نبی اکرمﷺ کسی پر بھی ظاہر نہیں کیا تھا، تو آخر دونوں بیویوںؓ سے توبہ کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکم الله کی طرف سے اس کے رسولؐ کو دیا گیا تھا۔اور اس وقت کے زمینی حقائق کے مدنظر کوئی معمول کی نوعیت کا حکم بھی نہیں تھا۔اس لئے دونوں بیویوںؓ کو بتایا گیا کہ وہ اپنے آپ کو محض محمدؐ بن عبدللہ ہی کی بیویاں نہ سمجھیں بلکہ وہ محمدؐ رسول الله کی بیویاں ہیں، اس لیے جب پہلی بیویؓ کو رسولﷺ نے ذکرکرنے سے منع کیا تھا تو انؓ کو یہ بات زبان سے نکالنی ہی نہیں چاہیے تھی- مگر پھر بھی جب انہوں نے دوسری بیویؓ کے سامنے اس بات کا ذکر کر ہی دیا تھا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ رسول اللهﷺ نے یہ بات ابھی دوسری بیویؓ کو نہیں بتائی تو انؓ کو الله سے توبہ کرنی چاہیے تھی اور دوسری بیوی‌‌ؓ کو بات وہیں دفن کرنے کے ساتھ ساتھ پہلی بیویؓ کو متنبہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ رسول اللهﷺ کے حضور معذرت کر لیں کہ وہ اس بات کو اپنے تک محدود نہیں رکھ سکیں۔اب کیونکہ دونوںؓ ہی کسی درجہ میں خطا کر بیٹھی تھیں لہٰذا دونوںؓ ہی کو توبہ کا حکم دیا جا رہا ہے۔لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ الله نے توبہ کا حکم دینے کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح کر دی کہ دونوں بیویوںؓ کے دل پہلے ہی حق کی طرف مائل تھے کیونکہ توبہ کے حکم کے فوری بعد 'فقد صغت قلوبکما' کے الفاظ آئے ہیں یعنی 'تمہارے دل حق کی طرف (پہلے ہی) مائل ہیں'۔اگر یہاں پر 'صغت' کی بجائے'زاغت' کا لفظ آتا تو اس کا مطلب 'تمہارے دل کج ہوگئے ہیں' کے ہوتے۔مگر آفریں ہے ان لوگوں پر جو کلام الله میں تو 'صغت' پڑھتے ہیں لیکن اس کا مفہوم 'زاغت' کا لیتے ہیں.
    توبہ کے حکم ساتھ ہی الله نے تنبیہ بھی کر دی ہے کہ گو ایک دوسرے کے عیبوں کی پردہ پوشی یقیناً اچھی بات ہے مگر رسولؐ کے صریح حکم کے مقابلے میں ایک دوسرے کی پردہ پوشی اچھا عمل نہیں ہے۔اور یہ بھی وضاحت کر دی کہاگر رسولؐ کے مقابلے میں تم دونوں ایک دوسرے کی یونہی مدد کرتی رہیں تو رسولؐ تنہا نہیں ہے اور اس حکم کی عملدرآمدگی کے بارے میں اسکے مددگار الله، جبرائیل امین (کیونکہ یہ حکم بزبان جبرائیل امین آیا تھا)، صالح المومنین (غالباً یہاں ان دونوں ازواجؓ کے والد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ مراد ہیں، بروایت عکرمہ،زہری) اور فرشتے ہیں۔
    جیسا کہ پہلے واضح کیا جاچکا ہے کہ سورہ نساء غزوہ احد کے بعد ۳ ہجری میں نازل ہوئی۔سورت کا آغاز يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ کے صیغے سے ہوا ہے اور اسکی ابتدایئی ۱۸ آیات کے احکامات کا نفاذ نبیؐ کو نکال کرباقی مسلمانوں کے لئے ہیں۔اس لئے ہمیں معلوم ہے کہ نبیؐ کی وراثت بھی کوئی نہیں تھی اور چار شادیوں کے قانون کا اطلاق بھی نبیؐ پر نہیں تھا۔لیکن نبی اکرمﷺ نے بیویوںؓ کی خوشنودی کے لئے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ۴ شادیوں سے زیادہ نہیں کریں گے۔سورہ تحریم کے نزول کے وقت نبی اکرمؐ کی زوجیت میں ۴ بیویاں حضرت سودہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ اور حضرت ام سلمہؓ تھیں.
    اسلام کو الله نے آفاقی اور عالمی مذہب بنانا تھا اور اس مقصد کے لئے تمام سماجی اور معاشرتی رسمیں جو اسلام سے متصادم تھیں ان کا بھی سدباب لازمی تھا۔اسی لئے سورہ مجادلہ جو سورہ تحریم سے پہلے نازل ہوئی ہے اس میں منہ سے بولے گئے رشتوں (بیوی کو ماں قرآر دیدینا) پر ایک کاری ضرب لگائی گئی ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ الله نے چہ مگوییاں، سرگوشیاں اور سازشیں کرنے والوں کو سخت عذاب کی نوید بھی سنائی ہے۔ہمارے آج کے معاشروں میں بھی اگر کوئی بات ہمارے رسم و رواج کے خلاف ہو تو سخت طوفان برپا ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کاروکاری، ونی، سوراہ جیسی رسمیں ناسور کی صورت اختیار کرچکی ہیں، لیکن ان کے ماننے والے انکو چھوڑنے پر بھی تیار نہیں- عرب کا معاشرہ بھی اسی دنیا کا معاشرہ تھا وہاں بھی ظہار جیسی رسمیں معاشرے کے لیے زہرِقاتل بنی ہوئی تھیں- اور ایسی رسومات کو معاشرے کی جڑوں سے اکھیڑنے کے لیے لازم تھا کہ منہ سے بولے ہوئے رشتوں پر ہی ضرب لگادی جائے- اور اس کا موثر ترین عملی اظہار خود رسولؐ کا انہی کے متبنیٰ کی مطلقہ سے نکاح کی صورت میں ہوسکتا تھا۔لیکن یہ بات بھی بالکل واضح تھی کہ فوری ردعمل کے طور پر یہودی (بنو قریظہ) اور منافقین مدینہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے دلوں میں رسول اکرم کے کردار کے خلاف شکوک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی دورِجاہلیت کی معاشرتی حمیت کو اجاگر کرکے ان کو اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی کی وجہ سےسورہ مجادلہ ہی میں الله نے مسلمانوں کوسخت الفاظ میں تلقین کردی تھی کہ وہ چہ مگویوں کا حصہ نہ بنیں۔ سورہ مجادلہ کی آیت نمبر ۹ میں کہا گیا کہ:
    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَيۡتُمۡ فَلَا تَـتَـنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَمَعۡصِيَتِ الرَّسُوۡلِ وَتَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ‏ ﴿۹﴾
    مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا ﴿۹﴾
    آیت نمبر۵کا بیان
    عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّنۡكُنَّ مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓٮِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓٮِٕحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبۡكَارًا‏ ﴿۵﴾
    بعید نہیں کہ اگر نبیؐ تم سب بیویوں کو طلاق دیدے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں، فرمانبردار، باایمان، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، روزہ دار، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا کنواریاں ﴿۵﴾

    آیات نمبر ۵ میں گفتگو کا رخ اس وقت کی موجود تمام ازواجؓ کی طرف پھیر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اس منصب کو مستقل یاد رکھیں کہ وہ محمدؐ رسول الله کی بیویاں ہیں اور الله اس بات پر قادر ہے کہ اگر رسولﷺ تم بیویوں کو (یا تم میں سے کسی کو) طلاق دے دیں تو وہ دوسری بیویاں عطا کر دے جو کہ اطاعت گزاری، ایمان، نماز، توبہ، عبادت و ریاضت میں تم سے بڑھ کر ہوں۔کلام اگرچہ سخت ہے مگر ساتھ ہی الله نے امت کے سامنے اس بات کی بھی تصدیق کر دی ہے کہ امہات المومنینؓ ان تمام خصوصیات سے متصف ہیں۔مثلاً اگر کوئی مالک اپنے کسی ماتحت کو یہ کہے کہ اگر تم نے فلاں کام نہ کیا تو میں تم سے زیادہ قابل شخص کو وہ کام سونپ دوں گا تو یہاں یہ بات اپنے ایک اندر ایک تنبیہ تو ہے ہی مگر ساتھ ہی اس بات کی تصدیق بھی ہے کہ ماتحت ایک قابل شخص ہے۔پچھلی آیات کے مطالعہ سے تو یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ امہات المومنینؓ کی ساتھ کیا معاملہ پیش آیا تھا مگر تنبیہ کا انداز اتنا سخت اس لئے ہے کہ، 'جن کے رتبے ہیں سِوا، ان کی سِوا مشکل ہے'۔اگر الله نے ان کو اتنے بلند مقام پر فائز کیا ہے تو ان سے توقعات بھی اسی طرح زیادہ بھی ہونگی.
    سورہ تحریم کے بعد جب سورہ احزاب نازل ہوئی تو اسکی آیات ٢٨۔ ٢٩ میں ازواج کرامؓ کو واضح الفاظ میں اختیار دیا گیا کہ اگر وہ دنیا کی سہولتوں کی طلبگار ہیں تو ان کو کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا جائے گا اور اگر وہ آخرت کی کامیابی کی امید رکھتی ہیں تو ان کے لئے بڑے اجر کا وعدہ ہے۔تمام ازواجؓ نے آخرت کو ہی ترجیح دی اور الله تعالیٰ نے ازواج کے اس عمل سے راضی ہو کر نبی پاکﷺ سے طلاق کا حق سلب کر لیا ۔
    سورہ احزاب کی آیت نمبر ٥٢ میں بتا دیا گیا کہ مخصوص کلیہ کے باہر اب نبی پاکﷺ پر کوئی عورت حلال نہیں ہے۔مزید یہ کہ موجود بیویوںؓ کو چھوڑ کراس کلیہ میں سے بھی کوئی شادی نہیں کی جاسکتی۔تاہم لونڈیوں کے سلسلے کے قوانین وہی ہونگے جو عام مسلمانوں کے لئے ہیں۔(یعنی حضرت ماریہؓ کو الگ کرنے کا اختیار تو ان کے حرم نبویؐ میں داخل ہونے سے دو سال پہلے، ٥ ہجری میں ہی الله تعالیٰ نے تفویض بھی کر دیا تھا)۔
    سورہ تحریم کی اس آیت میں دو ایسے الفاظ بھی ہیں جو بہت غور طلب ہیں۔ازواجؓ کو تنبیہ کے ساتھ جب نبیؐ کے لیے جدید بیویوں کا ذکر ہوا تو ‘ ثيبہ’ یعنی شوہر دیدہ کا ذکر ‘باکرہ' یعنی کنواری کے ذکر سے پہلے آیا ہے۔نبی پاکﷺ کی اس وقت کی بیویوں میں تین شوہر دیدہ تھیں اور کنواری صرف ایک یعنی حضرت عائشہؓ تھیں۔روایات بتاتی ہیں کہ ساری ‘چلتربازیاں’ حضرت عائشہؓ (کنواری بیوی) کے ذہن کی پیداوار تھیں۔لہٰذا جب الله کی طرف سے تنبیہ آرہی ہے تو کنواری کا ذکر شوہر دیدہ کے ذکر سے پہلے آنا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں ہے۔ممکن ہے کہ کوئی یہ کہے کہ کیونکہ شوہر دیدہ اکثریت میں تھیں اس لئے شوہر دیدہ کا لفظ پہلے آیا ہے، تو اس بات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ بیویاں لگ بھگ برابر کی ہی خطاوار تھیں اور حضرت عائشہ ہرگز زیادہ خطاوار نہیں تھیں۔ان کو اصلی 'مجرم' دکھا کر درحقیقت یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ سے سازشیں بُننے کی عادی تھیں اور جنگ جمل بھی ان کے اسی کردار کی غماز ہے۔دراصل عراق اور ایران میں شروع سے ہی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی رہی ہے جو کہ حضرت عائشہؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے لئے اچھے جذبات نہیں رکھتے تھے۔ وہاں کے روایت ساز اپنی روایات بھی اسی طرح سے بناتے تھے کہ ان تینوں اصحاب کی بری تصویر کشی ہو۔حضرت عثمانؓ، حضرت عائشہؓ، اصحاب بنو امیہؓ یا وہ صحابؓہ جوجنگ جمل یا جنگ صفیِں میں عراقیوں کے مدمقابل تھے، ان کے خلاف ایک زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا۔ عباسیوں کی پوری خلافت اسی پروپیگنڈے کی مرہونِ منت تھی۔لہٰذا خلافت کے کوفہ/بغداد منتقل ہونے کے بعد ایرانیوں اور عراقیوں نے تاریخ نویسی کے نام پر اس پروپیگنڈے کو باقائدہ صنعت کا درجہ دیدیا۔خلیفہ منصور عباسی کے دورمیں ہشام بن عروہ عراق آئے۔یہ ہشام کا دورِاختلاط تھا۔عراق کے روایت سازوں نے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجانےکیا کیا روایتیں ان کے منہ میں ڈالیں اور وہ بیچارے ان روایات کو اپنے والد کی روایات سمجھ کر آگے بیان کرنے لگے- امام مالکؒ کو جب مدینہ میں ہشام کی عراقی روایات پہنچیں تو انہوں نے ہشام کو کذّاب قرار دیدیا۔ یہی وہ دور ہے جس میں ہشام نے شہد والی روایت بھی بیان کی تھی۔اسی دورِ اختلاط کی چند دیگر روایتوں میں نبی پاکﷺ پر جادوہونے والی روایت ہے یا حضرت عائشہؓ کے کمسِنی میں نکاح کی روایت بھی ہے۔
    عراق میں جہاں ایک طبقہ کو بنیادی بغض حضرت عائشہؓ اور بنو امیہ سے تھا، وہیں ایک طبقہ اور بھی تھا جسکو جنگ قادسیہ کا زخم حضرت عمرؓ سے لگا تھا، لہٰذا وہ طبقہ ان کو بھی معاف نہیں کر سکتا تھا۔ایک عجمی شاعر نے اپنے جذبات کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے، برآل عمر کینه قدیم است عجم را! ، لہذا ابنِ جریج نے ہشام کی روایت (جس میں حضرت حفصہؓ کو متاثرہ فریق گردانا گیا تھا) میں تبدیلی کر کے حضرت حفصہؓ بنت عمرؓ کو بھی سازشی ٹولے میں شامل کروا دیا۔ان روایات کی تاریخی بحث سورت کی پہلی آیت کی تفسیر میں آچکی ہے۔
    آیات نمبر٦تا۸ کا بیان
    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلٰٓٮِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ‏ ﴿٦﴾ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡيَوۡمَ‌ؕ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿۷﴾ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ تَوۡبَةً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّكَفِّرَ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَيُدۡخِلَـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ۙ يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ ۚ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَ تۡمِمۡ لَـنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَـنَا‌ ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ ﴿۸﴾
    اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر فرشتے سخت دل قوی ہیکل مقرر ہیں وہ الله کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے ﴿٦﴾ (اس دن کہا جائے گا) اے کافرو آج بہانے نہ بناؤ تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے ﴿۷﴾ اے ایمان والو الله کے سامنے خالص توبہ کرو کچھ بعید نہیں کہ تمہارا رب تم سے تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں بہشتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جس دن الله اپنے نبی کو اور ان کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہیں کرے گا ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا وہ کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ﴿۸﴾
    ان تینوں آیات میں تمام مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچائیں اور اپنے متعلقین کو بھی۔دراصل حضرت خولہؓ کے واقعہ کے بعد منافقین نے یہود کے ساتھ مل کر مدینہ کا ماحول خراب کر رکھا تھا۔منافقین کوئی علیحدہ خاندانوں یا محلوں میں آباد لوگ تو تھے نہیں، مومنین صادقین انصار کے گھروں میں کچھ افراد تھے جو خاندانی اور معاشرتی وجوہات کی بنا پر زبانی طور پر تو اسلام کو قبول کر چکے تھے مگر دل سے اس کے دشمن تھے۔ایسے لوگ محفلوں میں اس واقعہ کو لے کر مسلمانوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔سورہ مجادلہ میں مسلمانوں کو سرگوشیوں کی مخالفت کے ساتھ ساتھ یہ بھی وضاحت کر دی گئی تھی کہ قیامت کے دن الله کے عذاب سے بچانے کے لئے کسی کا مال یا (نیک صالح) اولاد کام نہیں آسکے گی۔اور اِس سورت ایمان والوں کو میں بتا دیا گیا ہے کہ اپنے بھائی بندوں کو اِسی دنیا میں ان کے برے اعمال سے روکنے کی سعی کریں جو کہ ان کو جہنم کی طرف لے جانے والے ہیں۔کیونکہ بار بار کی تنبیہ کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی اصلاح نہیں کرتے تو یہ قیاس نہ کریں کہ فرشتے بھی ایسی ہی بے کہنا مخلوق ہیں۔اُن تندخو فرشتوں کو جب عذاب کرنے کا حکم دیا جائے گا تو وہ کوئی حکم عدولی نہیں کریں گے اور نہ ہی اس وقت ان لوگوں سے کسی نوعیت کی معزرتیں قبول کی جائیں گی کہ میں فلاں کے بہکاوے میں آ گیا تھا یا میں نے یہ بات بے سمجھی میں کر دی تھی یا میرا حقیقی مقصد ایسا نہیں تھا وغیرہ وغیرہ.
    سورہ مجادلہ کے بعد سورہ تحریم میں مزید سخت زبان میں اِنذار کیا گیا ہے۔مسلمانوں کو خالص توبہ کا حکم دے دیا گیا ہے۔کیونکہ اب جو واقعہ ہونے کو تھا وہ حضرت خولہؓ کے واقعہ سے زیادہ شدید نوعیت کا تھا۔کیونکہ بہرحال حضرت اوسؓ حضرت خولہؓ کے شوہر تو رہ ہی چکے تھے اور ان کا واقعہ صرف یہ تھا کہ ان کا رجوع اُس وقت کے معاشرتی روایات کے برعکس کرایا گیا تھا۔رجوع ہونے کی صورت میں جو طوفان اٹھا تھا وہ سب کے سامنے تھا۔لیکن حضرت زینبؓ تو رسول اللهﷺ کے (اس وقت کے قاعدے کے مطابق) غیر صلبی بیٹے کی مطلقہ تھیں۔فتنہ پرداز اب کی بار زیادہ شدت کے ساتھ ہنگامہ اٹھانے والے تھے۔لہذا پہلے ہی واضح کردیا گیا کہ ایسے موقع پر جو مومنین صادقین الله اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے ساتھ کھڑے ہوں گے ان کے لئے قیامت کے دن بہترین اجر کا وعدہ ہے۔
    آیت نمبر۹ کا بیان
    يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الۡكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿۹﴾
    اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کراور انکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے ﴿۹﴾
    نبی پاک کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپﷺ (حضرت زینبؓ سے شادی کر کے) کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کریں۔دیگر اقسام کے جہاد کے برخلاف، یہ جہاد اپنے اندرایک الگ نوعیت کی سنگینی رکھتا تھا۔کیونکہ سیاسی اور بنیادی عقائد کے سلسلے میں ہونے والے معاملات میں لوگوں کی سوچ کے زاویے اور طرح کے ہوتے ہیں۔لیکن معاشرتی اقدار بالخصوص نکاح کے سلسلے میں زاویے اور طرح کے ہوتے ہیں۔مخالفین ان معاملات کو اخلاقی گراوٹ کا رنگ دے کر، کردار کشی کی مہم شروع کر دیتے ہیں۔رسول اللهﷺ کے سامنے مدینہ کے مکمل حالات تھے۔انھیں پورا ادراک تھا کہ اس نکاح کے بعد منافقین مدینہ کیا طوفان اٹھانے کو ہیں اور انہوں نے وہ طوفان اٹھایا بھی (سورہ احزاب آیت ٥٧-٥٨)۔واضح رہے اس طوفان میں منافقین مدینہ تنہا نہیں ہیں بلکہ منافقین عجم ان سے دو ہاتھ آگے ہی ہیں۔ دوسری صدی ہجری میں ایران اور عراق کے راویوں نے حضرت زینبؓ کے ساتھ ہونے والے اس نکاح کو 'دل کا معاملہ' ہی قرار دیا ہے۔جبکہ مورخ/مفسر طبری نے تو ساری حدیں ہی پار کر دیں، ایک ایسا معاملہ جسکو قرآن نے ایک نہیں بلکہ دو سورتوں (تحریم اور احزاب ) میں جہاد قرار دیا، اسکو خالص نفسانی معاملہ قرار دیدیا- اور نفس پرستی کی بھی وہ منظرکشی کی ہے کہ بیحیائی بھی شرماجائے - اور قرآن پر دست درازی اس طرح کی کہ سورہ احزاب کی آیت ۳۷ میں فعل مضارع (زمانہ حال) میں پیش کردہ نبی پاکﷺ اور حضرت زیدؓ کے مابین مکالمہ کے آدھے حصہ کو زمانہ ماضی میں لیجاکر اللہ اور نبیﷺ کے درمیان کا مکالمہ قرار دیدیا ۔
    لیکن اس سب کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس نکاح کے بارے میں قطعی تھا۔کیونکہ رسولوں کی آمد کا ایک مقصد اصلاح معاشرہ بھی ہے، اور اس بات کا عہد اس نے اپنے تمام رسولوں سے لیا ہے(سورہ احزاب، آیت ۷)۔ سورہ احزاب ہی کی آیت ٣٧ میں حضرت زینبؓ سے نکاح کی تصدیق کے بعد آیت ٣٨ میں الله نے واضح کیا ہے کہ الله کا فیصلہ تھا کہ نبیﷺ حضرت زیدؓ کی مطلقہ سے شادی کریں۔ جبکہ آیت ٣٩ میں بتادیا ہے کہ نبی دنیا والوں سے نہیں ڈرتے بلکہ صرف الله سے ڈرتے ہیں۔آیت ۴٠ میں کہا گیا ہے وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ .۔مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔لہٰذا اگر نبی پاکﷺ بحیثیت آخری نبی، خود بڑھ کر اس رسم پر چوٹ نہ لگاتے تو یہ طریقہ تم لوگوں کے دلوں سے پوری طرح محو نہ ہو پاتا اور اس کی کچھ نہ کچھ تقدیس باقی رہتی۔اور اگر آج اس کی اس سختی سے بیخ کنی نہ کی جاتی تو بعد کی نسلوں میں دوبارہ جڑ پکڑ لیتی۔سورہ تحریم کے بعد جب سورہ احزاب نازل ہوئی تو اس کی ابتدا ھی اسی بات سے ہوئی کہ رسول کفار اور منافقین کی پرواہ نہ کریں بلکہ اس کام کو کر دیں جس کا اشارہ کیا جا رہا ہے.(سورہ احزاب آیت ١)
    آیات نمبر۱۰تا۱۲ کا بیان
    ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ ؕ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡــًٔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ‏ ﴿۱۰﴾ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ‌ۘ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِىۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِى الۡجَـنَّةِ وَنَجِّنِىۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِىۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَۙ‏ ﴿۱۱﴾ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ‏ ﴿۱۲﴾
    الله کافرو ں کے لیے ایک مثال بیان کرتا ہے نوحؑ اور لوطؑ کی بیوی کی وہ ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں پھر ان دونوں نے ان کی خیانت کی سو وہ الله کے غضب سے بچانے میں ان کے کچھ بھی کام نہ آئے اور کہا جائے گا دونوں دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جاؤ ﴿۱۰﴾ اور الله ایمان داروں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کرتا ہے جب اس نے کہاکہ اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالموں کی قوم سے نجات دے ﴿۱۱﴾ اور مریمؑ عمران کی بیٹی (کی مثال بیان کرتا ہے) جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں کو اور اس کی کتابوں کو سچ جانا اوروہ عبادت کرنے والو ں میں سے تھی ﴿۱۲﴾
    آیت نمبر ٦ میں وضاحت کردی گئی تھی کہ یہ دنیا ہی دارالعمل ہے لہذا اہلِ ایمان اسی دنیا میں اپنے ساتھ ساتھ اپنے متعلقین کے انجامِ خیر کی بھی کوشش کریں، کیونکہ آخرت میں تو جزاوسزا کا معاملہ ہونا ہے- اور ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق پرکھا جائے گا- اس لیے یہاں انکار کرنے والوں کے لیے دو عورتوں کی مثال دی جارہی ہے، کہ جن کو انکے شوھروں حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی صورت میں بہتریں ماحول مہیا تھا مگر وہ پھر بھی زمانے کے ریت رواج کو سینوں سے لگائے رہیں تو انکے پیغمبر شوہر بھی ان کی کچھ مدد نہ کر سکیں گے، اور ان کا انجام اھل جہنم کے ساتھ ہوگا، یہاں پر یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ نبیوں کے گھروں سے نسبت رکھنے کے باوجود بھی کیونکہ انہوں نے الله کے احکامات کے تابع اپنی زندگیوں کو نہیں کیا اور اسی راہ پر چلتی رہیں جس پر اس وقت اور جگہ کے لوگ چل رہے تھے تو ان پر کوئی رحم نہیں کیا گیا۔تو اصل چیز نسبت یا خاندان نہیں بلکہ اپنی زندگیوں کو الله کے تابع کرنا ہے.
    دوسری طرف اپنے وقت کے طاغوت، حضرت موسیٰؑ کے مدمقابل ،اور ان کے سب سے بڑے دشمن فرعون کی بیوی تھی جس نے بدترین ماحول میں میں بھی اپنے ایمان کی شمع کو منور رکھا اور اپنی زندگی کو، جس قدر ممکن ہو سکا، الله کی تابعداری میں گزارا، اور فرعون اور اسکی قوم کی بداعمالیوں میں حصہ دار نہیں بنی تو وہ ایک برے گھر میں ہوتے ہوئے بھی الله کے نزدیک قدر و منزلت پا گئی اور وہ جنت میں اپنے گھر کی حقدار ہے.اسی طرح الله حضرت مریمؑ کا ذکر کر رہا ہے۔یہاں پر غور کی بات یہ ہے کہ الله ان کی اس زندگی کا ذکر کر رہا ہے جو حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے پہلے کی ہے۔حضرت مریمؑ کو انکی والدہ نے اللہ کی نذر کردیا تھا، ایک ایسی لڑکی کے کیے اس معاشرے میں اپنی عصمت کی حفاظت کرنا ایک بڑا کام تھا اور الله یہاں واضح کر رہا ہے کہ ان کی فضیلت کی اصل وجہ ان کے الله کے احکامات کی اطاعت شعاری ہے نہ کہ حضرت عیسیٰؑ کی والدہ ماجدہ ہونا.
    حرف آخر
    اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اس سورت کے اس بیان کی ضرورت کیوں پیش آئی۔جو بنیادی بات یہاں بیان کی گئی ہے، یہ اوروں نے کہی بھی ہے کہ قرآن راجح ہے اور روایتوں کو اسکے آئینہ میں پرکھاجائے گا نہ کہ روایتوں کے مطابق قرآن کی تاویل کی جائے گی۔ بہت سے علماء نے ان روایتوں پر سند کے اعتبار سے بھی اعتراضات لگائے ہیں۔اور دوسری رائے بھی دی ہیں۔۱۲ سوسال تک بنیادی طور پر ہمیں صرف انہی گروہوں سے سابقہ پڑا جو کہ نبیﷺ، انکی ازواجؓ و اصحابؓ کو لیکر نہ صرف بُری آراء رکھتے تھے بلکہ ان کو بدنام کرنے کے لیے روایت سازی کے ذریعے سے عملی میدان میں بھی سرگرم رہے (چند مثالیں پچھلے صفحات میں گزر چکی ہیں)، اورجواباً ہم ان روایتوں کی بس تاویلیں ہی کرتے رہے اور آج تک کر رہے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ لیکن آج کے حالات میں کئی مزید جہات پیدا ہو چکی ہیں۔مغربی اقوام کے عروج کے بعد اب اُن قوموں کا بھی سامنا ہے۔ سائنسی تعلیم عام ہونے کے سبب اب بہت سے سوچنے والے افراد بھی پیدا ہوگئے ھیں۔ جب وہ اِن تبرائی روایات کی روشنی میں دین اور حضورؐ کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج نکل رہا ہے۔ ہمارا سوچنے والا دماغ دین سے برگشتہ ہے۔ جس دین کی بنیادی دعوت میں ہی غور وفکر کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی آج اس میں سوچنے پر ہی قفل لگادیے گئے ہیں۔ اور جو پھر بھی سوچنے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر و بیشتر مایوس ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ کیوں!!!!!!! اس لیے کہ وہ دین کو، اس کی تعلیمات کو، اس سے وابستہ شخصیات کو قرآن کے آئینہ میں نہیں بلکہ اُنہی روایات کے آئینہ میں دیکھ رہا ہے جو کہ وضع ہی اس دین کو روکنے کے لیے کی گئی تھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کا جو پھیلاؤ پہلے سو سالوں میں ہوا ہے، بعد کے تیرہ سو سالوں میں اسکا چوتھائی بھی نہیں ہوا- کیوں!!!!!!! اس لیے کہ پہلے سو سالوں میں مسلمانوں کے ہاتھ میں قرآن تھا اور بعد میں روایات کی بنیاد پر قرآن کی تاویلات۔ کوئی یہاں یہ نہ سمجھے کہ یہاں روایات کا کلی انکار کیا جارہا ہے، صرف اتنا کہا جارہا ہے کہ لاریب اور فرقان صرف اور صرف قرآن ہے، لہذا کوئی بھی روایت قبول کرنے سے پہلے صرف اسکی سند کو نہیں بلکہ اسکے متن کو بھی قرآن کی کسوٹی میں پرکھا جائے، اور یہ حکم خود قرآن دے رہا ہے، اور قرآن ہی محکم کتاب ہے، باقی جو بھی کتب ہیں وہ متشابہ ہیں(سورہ آل عمرآن ۔ آیت ۷) ، اور ان کتابوں کو قرآن پر راجح ماننے والوں کے دل درحقیقت کج ہیں-
    ایک اور نقصان جو صرف روایات کی تابع تفسیر کرنے کا ہوا ہے کہ قرآن کا نظم بری طرح مجروح ہوا ہے، ایک آیت کا اپنی اگلی پچھلی آیات سے کوئی ربط ہی نہیں رہتا۔ وہ کتاب جس نے اپنے بارے میں مبین ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مبہم ترین کتاب بن کر رہ گئی ہے۔ نتیجتاً اس کا پیغام اور اس کے اندر موجود ہدایت نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے اور قرآن کے سلسلے میں ہماری زیادہ کاوشیں اپنی روایت کو زیادہ صحیح ثابت کرنے میں صرف ہو جاتی ہیں۔سورہ تحریم ایک چھوٹی سی سورت اپنے اندر بہت سے معاشرتی پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ہر قبیلے، علاقے کے کچھ رسم و رواج ہیں اور جیسے جیسے اسلام عرب سے نکل دوسرے علاقوں میں پھیلا ویسے ہیسے اس کا سامنا کچھ ایسی رسومات سے بھی ہوتا گیا جو اسلام کے منافی تھیں۔تو یہ سورت مسلمانوں کو یہ درس دے رہی ہے کہ ان خلافِ اسلام معاشرتی بتوں کو توڑے بغیر ایمانیات کی تکمیل نہیں ہے۔اور یہ معاشرتی جدوجہد ہھی ایک جہادِ عظیم ہے۔ یہاں پر یہ بیان بھی ضروری ہے کہ دین کو اتنا تنگ نظر بھی نہ بنایا جائے کہ ہر ہی چیز پر فتویٰ لگا دیا جائے (جیسا کہ ایک طبقہ کر ہی رہا ہے)۔ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے یہ بھی پیغام ہے کہ الله اور رسول کا حکم معاشرتی عقائد اور' لوگ کیا کہیں گے' کی سوچ سے بالاتر ہونا بھی لازمی ہے۔
     

    منسلک کردہ فائلیں:

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں