1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورہ اعراف کی آیت ۱۰۷ کے متعلق سوال

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏اکتوبر 11، 2019۔

  1. ‏اکتوبر 12، 2019 #11
    نعیم

    نعیم مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2019
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    اسحاق سلفی صاحب السلام و علیکم!

    بہت شکریہ کہ آپ نے "واو تفسیری" کو واضع کیا۔ جس طرح "واو تفسیری" دو اسموں کے درمیان تفسیر کرتا ہے۔ کیا یہ تفسیر دو جملوں کے درمیان بھی پائ جاتی ہے؟ اگر میں اپنے سوال کو اور واضع کروں تو کیا "واو تفسیری دو جملوں کے درمیان بھی پائ جاتی ہے"؟ اگر ہاں تو کیا قرآن میں اس کی کوئ مثال پائ جاتی ہے؟

    شکریہ۔
     
  2. ‏اکتوبر 12، 2019 #12
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم نعیم بھائی!
    گو کہ واؤ کے استعمال متعدد ہیں لیکن آپ "السلام علیکم" لکھنے میں واؤ کا استعمال "ناجائز" کر رہے ہیں!.. ابتسامہ!
    توجہ کیجیئے!
    جزاکم اللہ خیرا
     
  3. ‏اکتوبر 12، 2019 #13
    نعیم

    نعیم مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2019
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    السلام علیکم!

    محترم نعیم یونس بھائ!

    میری تصحیح کا شکریہ۔ آئندہ احتیاط کروں گا۔

    شکریہ
     
  4. ‏اکتوبر 12، 2019 #14
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,395
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    یقینن بھی غلط ٹائپ ھو گیا ، یقینا اس طرح لکھنا درست ہے۔
     
  5. ‏اکتوبر 12، 2019 #15
    نعیم

    نعیم مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2019
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    ہاہاہا۔ بہت شکریہ محمد طارق بھائ ۔
     
  6. ‏اکتوبر 13، 2019 #16
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    مزید کہ قرآن میں اللہ تعالی نے خود اسے دوسری نشانی کہا ہے:
    وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَامُوسَى (17) قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَى غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِبُ أُخْرَى (18) قَالَ أَلْقِهَا يَامُوسَى (19) فَأَلْقَاهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَى (20) قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولَى (21) وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلَى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ آيَةً أُخْرَى (22) ﴿ سورة طه﴾
    اور اے موسیٰ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے (17) کہا یہ میری لاٹھی ہے ا س پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی فائدے ہیں (18) فرمایا اے موسیٰ اسے ڈال دو (19) پھر اسے ڈال دیا تو اسی وقت وہ دوڑتا ہوا سانپ ہو گیا (20) فرمایا اسے پکڑ لے اور نہ ڈر ہم ابھی اسےپہلی حالت پر پھیر دیں گے (21) اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے ملا دے بلا عیب سفید ہو کر نکلے گا یہ
    دوسری نشانی
    ہے (22) ﴿ترجمہ احمد علی لاہوری﴾
    اس آیت سے یہ تو متعین ہو جاتا ہے، کہ نشانیاں دو ہیں!
    اب فرعون کے ایک کے مطالبہ پر ایک سے زائد نشانیاں اللہ نے دکھلائی ہیں!
    یہ ایک کے مطالبہ کے حوالہ سے کہا تھا، کہ فرعون کا ایک کا مطالبہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ دو نشانیاں دلیل نہ ہوں گی، صرف ایک ہی دلیل ہو سکتی ہے!
    اسی کے پیش نظر کہا تھا کہ ''یہاں ایک ہی سہی'' کا مفہوم ہے!
    مسئلہ یہان لغت سے زیادہ بلاغت کا ہے!
    کوئی ایک دلیل کا مطالبہ کرنا یہاں اس بات کا تقاضا کرتا ہے، کہ سائل یہ سمجھتا ہے کہ مدعی کے پاس کوئی دلیل نہیں! اور مدعی اس کے اس سوال پر دو یا دو سے زائد دلیل دے، تو وہ ''کوئی ایک دلیل'' کے مخالف نہیں، بلکہ زائد ہے! اس میں کوئی ایک دلیل کا مطالبہ پورا ہو جاتا ہے!
     
  7. ‏نومبر 24، 2019 #17
    نعیم

    نعیم مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2019
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    ید بیضا کا ایک مطلب لغت میں واضع اور روشن دلیل بھی ہے ۔ اصل میں یہ ایک ہی دلیل تھی۔لیکن اس کے دو پہلو تھے۔ ایک عملی اور ایک علمی۔ اس ہی لئے اللہ نے اس کو دو نشانی قرار دیا۔ ایک تو فرعون کے سامنے لاٹھی کا سانپ کی طرح حرکت کرنا یہ ظاہری دلیل تھی کیونکہ قرآن کی رو سے لاٹھی حقیقت میں سانپ میں تبدیل نہیں ہوئ تھی بلکہ حضرت موسی عیلہ سلام کا فرعون کے سامنے یہ ظاہر کرنا کہ یہ علم صرف فرعون کے ساحروں ہی کو معلوم نہیں بلکہ یہ ساحر کس طرح عوام کو دھوکہ دیتے ہیں اس کا علم حضرت موسی علیہ سلام کو بھی ہے اور یہ علم دینے والا کائنات کا خالق ہے۔ اس ہی لئے فرعون نے بھی ایک ہی دلیل مانگی اور حضرت موسی علیہ سلام نے بھی ایک ہی دلیل پیش کی۔

    اس کو ایسے سمجھیں کہ اگر آج کوئ سائنس کی مدد سے ایسے کرتب دیکھا کہ خدائ کا دعوی کرے کہ کسی کو بھی اس کا علم نہ ہو جیسا کہ ایسے معاشروں میں جہاں لوگوں کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے اور عوام کو بہت جلد بےوقوف بنا کر ان کو یہ یقین دلا دیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ان کے پاس خدائ طاقت ہے اور وہ خود خدا ہیں۔ بلکل ایسا ہی دعوی فرعون نے کیا تھا۔ اس نے ایسے ساحر (جنہیں اجکل کے دور میں سائنس دان کہتے ہیں ) اپنے پاس رکھے ہوئے تھے جو لوگوں کو یہ یقین دلاتےتھے کہ یہ سب کچھ فرعون کی دی ہوئ غیبی طاقتوں کا نتیجہ ہے کہ ایک بے جان لاٹھی میں جان ڈال دیتے ہیں ۔ اس ہی فریب کو حضرت موسی نے دور کیا تھا۔

    دوسری بات یہ کہ "نظر" کا لفظ عربی میں اصلا غور و تامل کے ساتھ دیکھنے کے لئے آتا ہے۔ اس لئے جب درباریوں نے غور کیا تو انہیں احساس ہوگیا کہ اسے بھی یہ علم معلوم ہے جو ان کے ساحروں کو تھا اور اب ان کی دکان نہیں چل سکتی اور یہ سارا کا سارا کھیل ختم ہونے والا ہے۔ اس لئے آخری تدبیر کے طور پر یہی فیصلہ کیا کہ بھرے میدان میں حضرت موسی علیہ سلام کو شکست دے کر سب پر یہ دھاک بیٹھا دی جائے کہ فرعون کی خدائ طاقت سب پر حاوی ہے۔

    ذرا سوچیں کہ چاہے کتنا ہی توحید کی دعوت دے لیں لیکن جب تک عوام کے سامنے یہ بات کھل کر نہیں آئے گی کہ یہ حقیقت میں کچھ نہیں صرف ایک دھوکہ ہے تب تک عوام پیغمبر کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔ کیونکہ ان کے سامنے ایک بے جان چیز میں جان ڈلتی ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھائ دیتی تھی۔ اس لئے میرے نزدیک یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ اللہ نے یہ علم حضرت موسی کو عطا کیا اور انہوں نے ان ہی کی تدبیر سے ان کو زیر کیا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں