1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورۃ البقرہ کا تعارف اور فضیلت

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏مئی 05، 2013۔

  1. ‏مئی 05، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    [​IMG]


    سورۃ البقرہ کا تعارف

    اس سورت میں آگے چل کر گائے کا واقعہ بیان ہوا ہے اس لیے اس کو بقرہ (گائے کے واقعہ والی سورت کہا جاتا ہے)۔بقرہ کے معنی گاۓکے ہیں۔
    یہ مدنی صورت ہے ۔اس کے 40 چالیس رکوع ہیں۔اس میں پڑھنے کی جو تر تیب ہے ۔پہلے رکوع میں ایمان والوں کے جو اوصاف اور دوسرے رکوع میں کافروں اور منافقوں کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے ۔ 3 تیسرے رکوع میں دو موت اور دو زندگی کی حقیقت ۔4 چوتھے رکوع میں قصہ آدمؑ ہے۔ 5 پانچھویں سے لیکر 15 پندرہ رکوع میں بنی اسرائیل سے خطاب کیا گیا ہے ۔اس میں ان کے واقعات ،حالات معملات ،ان پر نازل کئے گئے انعامات ،اور سر کشی ،نافرمانی کی وجہ سے ان پر عذابات کا متصل ذکر کیا ہے۔رکوع 16 سولہ میں ملت ابراہیم کا بیان ہے ۔17 سترہ اور 18 آٹھارہ رکوع میں تحویل قبلہ کا بیان ہے۔
    19 انیس سے 40 چالیس تک جو کہ 22 بائیس رکوع ہیں۔ ان میں امت مسلمہ کو احکامات بتائے گئے ہیں۔ جس میں معاشرتی زندگی کے بارے میں،انفرادی زندگی کے بارے میں،ازدواجی زندگی کے بارے میں،عبادات کے مطالق ،نماز ،روزہ ۔۔ان تمام چیزوں کے بارے میں احکا مات بیان کئے گئے ہیں۔۔
    سورۃ البقرہ کی فضیلت:-

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورت البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1818
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو سورت البقرہ اور سورت آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی، سورت البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1868
     
  2. ‏مئی 05، 2013 #2
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    جن رکوعات میں بنی اسرئیل سے خطاب ان میں درحقیقت ان اصولوں اورخرابیوں کابیان ہےجن کی وجہ سے ایک قوم زوال کا شکارہوجاتی ہے۔
    اسی طرح حضرت ابراہیم اورامت مسلمہ کےحوالے سے جو خطاب کیا گیا ہےاس میں درحقیقت اس بات کا اعلان ہےکہ آئندہ امامت وپیشوائیت کا منصب امت مسلمہ کو دیاجارہااور اس منصب کےمطابق جو فرائض اداکرنےہیں ان کابیان ہے۔
     
  3. ‏مئی 05، 2013 #3
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    جزاک اللہ بھائی میں اس میں اب یہ بحی ضرور شامل کر رہی ہوں کیونکہ یہ معلومات بھی بہت اچھی ہے ۔۔۔ علم جہاں تک پہنچے اچھا ہے ۔۔ وہ بھی دین اسلام کا ۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں