1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورۃ البقرہ 102

'تجاویز، آراء اور شکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از muhammad faizan akbar, ‏جولائی 14، 2016۔

  1. ‏جولائی 16، 2016 #21
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    پیارے بھائی ـ
    آپ کو پتا ہی نہیں کہ دلیل کسے کہتے ہیں ،
    آپ کاپی پیسٹ کو دلیل سمجھ رہے ہیں ، اپنے پسندیدہ تراجم کو ’’ قرآن مجید ‘‘ سمجھ لیا ہے ،
    آپ کی تمام پوسٹوں کا مرکزی نکتہ بقول آپ کے (وما ) وہ بھی مد کے ساتھ، (اس کا بالمد ہونا کم از کم میرے لئے انکشاف ہے )
    آپ نے (وما ) ایک لفظ کہہ کر اسم نفی کا ہتھیار بنادیا ہے ،
    اس لئے درخواست ہے کہ نحو کے کسی مستند امام سے دونوں باتوں کا ثبوت پیش کریں ،
    کیونکہ یہ قرآن کا معاملہ ہے ،اور قرآن فہمی کیلئے لغت عرب کا صحیح علم بہت ضروری ہے ؛
    اس لئے آپ درج ذیل دو باتوں کا ثبوت علم النحو کے معتبر مصادر سے پیش کریں ،
    (1 ) (وما ) ایک " لفظ " ہے ،
    (2) (وما ) نفی کیلئے " اسم " ہے ،
     
    Last edited: ‏جولائی 17، 2016
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 16، 2016 #22
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    اس کی کوئی ایک آدھ دلیل بھی بتادیں ،
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 22، 2016 #23
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    400
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    السلام علیکم!
    کاپی پیسٹ واہ کیا کہنے آپ کے اس جواب پر کاپی پیسٹ کو پڑھ بھی لیا کریں۔۔شکریہ۔۔اور اللہ تعالیٰ سے ڈریں ۔اور غرور سے بچیں اور دلائل آپ کے نزدیک کیا ہوتے ہیں؟۔۔یہ قرآن مجید کا فیصلہ ہے کہ ہاروت ماروت شیطان تھے فرشتے نہیں تھے۔۔۔
    7:28
    اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو اللہ بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم اللہ کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
    7:29

    کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے

    7:30
    کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔
    [FONT=Times New Roman, sans-serif]اب آپ یہ جواب دیں کہ کیا میاں بیوی کے درمیان لڑائی کروانا حق ہے کیا یہ زیادتی نہیں ہے۔؟اللہ تعالیٰ کے حرام کئے گئے قوانین کو حلال کہنا کیا یہ کفر و شرک نہیں اگر نہیں تو ان آیات کو غور سے پڑھیں یہ بھی کاپی پیسٹ ہی ہیں اور پھر اپنے عقیدہ پر نظر ڈالیں شکریہ۔
    اگر آپ کہیں گے کہ حق ہے تو آپ کے لئے ہاروت ماروت فرشتوں ہی ہوں گے کیوں کہ اللہ تعالیٰ صرف حق کی تبلیغ فرماتا ہے اور فرشتے بھی صرف اللہ کے حکم کے مطابق ہی بات کرتے ہیں۔شکریہ
    جبکہ میرے نزدیک میاں بیوی میں لڑائی کروانا صرف شیطان کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں فرماتا۔۔۔۔

    آخری بار کہ ہاروت ماروت فرشتے نہیں بلکہ شیطان تھے۔۔۔۔تفسیردورِمنثور جلد نمبر 1 امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطی صفحہ نمبر 585 کو دیکھیں ۔ شکریہ۔
    [/FONT]​
     
  4. ‏جولائی 22، 2016 #24
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    400
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    تفسیردورِمنثور جلد نمبر 1 امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطی صفحہ نمبر (585 غلطی سے لکھا گیا ہے اس کی جگہ 258 ہے)268،267،266، کو دیکھیں
    اس تفسیر میں امام ابن ابی حاتم نے جو نکل کیا وہ درست بات ہے۔۔۔اہل بابل کے دو کارفر شخص تھے انہیں شیطان کہا گیا ہے۔
    ابن ابی حاتم نے عطیہ سے روایت کیا ہے ۔۔کہ فرشتوں پر جادو نہیں اترا۔

    صفحہ نمبر 267 میں امام ابن جریر نے الربیع رحمتہ اللہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں جب انسانوں سے گناہ سرزد ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا انکار صاد ہوا تو فرشتوں نے آسمان میں کہا اے اس عالم کے رب! تو نے انسانوں کو اپنی عبادت اور اطاعت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ کفر پر سوار ہوگئے ہیں، جانوں کو قتل کر رہے ہیں، حرام مال کھا رہے ہیں، چوری،زنا ،شراب نوشی ان کا معمول بن گیا ہے اور یہ کفر پر سوار ہوگئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔اور سارا قصہ غلط ،جھوٹ ، اسلام پر تہمت، غلط الفاظ فرشتوں پر ،اللہ تعالیٰ پر تہمت لگائی گئ۔۔۔۔۔۔
    اس قصہ کی کیا حقیقت ہے کیا یہ لاریب قصہ ہے جو ہر عالم سب اس پر ایمان لئے آتے ہیں۔۔۔۔؟واہ کیا دین ہے۔۔۔واہ
     
  5. ‏جولائی 22، 2016 #25
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    مفتی صاحب یہ تو بتائیں :یہ ترجمہ کس نے کیا ،اورعربیت کے کن اصولوں کی بنیاد پر کیا ، ؟
    اور درج ذیل عبارت آپ کی لیاقت پر دلیل ہے :
    اور
    کیا یہ عطیہ صاحب کوئی صحابی تھے ، یا نبی تھے ؟
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 22، 2016 #26
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    پہلے آپ نے فتوی داغا کہ :
    اور اب آپ نے درجہ کفر سے چھلانگ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے :
    اب آپ بتائیں کہ قرآن مجید کے نام پر ایک عمل کو پہلے کفر فرماتے ہیں ،
    چند دن بعد اسی عمل کو حرام کا درجہ دیتے ہیں ،
    اب آپ بقائمی ہوش و حواس تجویز فرمائیں کہ آپ پر کیا فتوی لگتا ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 22، 2016 #27
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    پہلے جلال الدین السیوطی صاحب کا تعارف کروائیں ، یہ کون صاحب تھے ؟
    کس دور کے اور کس منصب پر فائز تھے ؟
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 22، 2016 #28
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آَيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آَمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ (سورۃ اٰل عمران آیت 7)
     
  9. ‏جولائی 25، 2016 #29
    muhammad faizan akbar

    muhammad faizan akbar رکن
    شمولیت:
    ‏جون 11، 2015
    پیغامات:
    400
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    السلام علیکم ! تمام لوگوں کو۔
    اس کے بعد جناب میں کوئی مفتی نہیں۔ اور بھائی اللہ تعالیٰ کے حرام کی گئی چیز کو حلال جاننا کفر بھی ہے شرک بھی ہے۔اللہ کو چھوڑ کر اپنے علمائ،یا کسی بھی شخص کی اعطاعت ایسی بات جو قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو۔

    اطاعت کا شرک ۔
    اس کے شرک ہونے کی دلیل قرآن کی اس آیت سے ملتی ہے:
    اتَّخَذُواْ أَحْبَارَھمْ وَرُھبَانَھمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِیَعْبُدُواْ إِلَـھاً وَاحِداً لاَّ إِلَـہَ إِلاَّ ھوَ سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ (التوبہ: ۳۱)
    انہوں نے اپنے علماء اور دریشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
    اس آیت کی تفسیر، جس میں کسی اشکال کی گنجائش نہیں، یہ ہے کہ:
    یہ کوئی ایسا شرک نہ تھا کہ اِن علماء اور اِن درویشوں کی سرکار میں دُعائیں یا سجدے ہوتے ہوں (اور اِس وجہ سے قرآن نے اُن پر شرک کی فردِ جرم لگا دی ہو)؛ بلکہ ان کو الٰہ بنانے کی صورت یہ تھی کہ ان کی اطاعت ہوتی تھی؛ جیسا کہ نبی اکرم ا نے حضرت عدیؓ بن حاتم کے سامنے خود اِس آیت کی تفسیر فرمائی جب عدیؓ نے آنحضرتؐ سے پوچھا کہ ہم تو ان کی عبادت نہ کرتے تھے، تب آپؐ نے فرمایا: کہ ان کی عبادت دراصل یہ تھی کہ وہ باطل میں ان کی اطاعت کیا کرتے تھے۔
    کیا میاں بیوی میں جدائی ڈالنا باطل نہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    باطل کی تعلیم اور باطل پر عمل کرنا کیا قرآن مجید کی تعلیم ہے ۔۔۔؟؟؟کیا باطل اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ یا باطل کی تعلیم شیطان کی ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    باطل کی تعلیم دینا اور اس پر عمل کرنا کفر ہے شرک ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے منع فرماتا ہے۔۔۔اللہ اکبر۔
    جناب حقیقت کو پہچانئے۔۔شکریہ۔۔۔۔
     
  10. ‏جولائی 25، 2016 #30
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,317
    موصول شکریہ جات:
    706
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں