1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سورۃ الملک کی تلاوت عذاب قبر سے بچاتی ہے

'فضائل ومحاسن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 16، 2017۔

  1. ‏نومبر 16، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سورۃ الملک کی تلاوت عذاب قبر سے بچاتی ہے


    سورۃ الملک مسلمان کو عذاب قبرسے بچاتی ہے لیکن اسے کتنی مرتبہ پڑھنا ضروری ہے ، دن میں ایک مرتبہ یا ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنی چاہیۓ ؟

    Published Date: 2010-04-20

    الحمد للہ :

    ابوھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    قرآن مجید میں ایک ایسی سورۃ ہے جس کی تیس آیات ہیں وہ آدمی کی سفارش کرے گی حتی کہ اسے بخش دیا جاۓ گا ، اوروہ سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2891 ) سنن ابو داود حدیث نمبر ( 1400 ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 3786 ) ۔

    امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے بارہ میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ نے مجموع فتاوی ( 22 / 277 ) میں اور محدث عصر علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابن ماجۃ ( حدیث نمبر 3053 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    اس حديث سے مراد اور مقصود یہ ہے کہ انسان اس سورۃ کو ہر رات پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے اوراس میں پائ‏ جانے والی اخبار پر ایمان لاۓ ۔

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ جس نے ہر رات تبارک الذی بیدہ الملک پڑھی اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے عذاب قبر سے نجات دے گا ، ہم اس سورۃ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں المانعۃ بچاؤ کرنے والی سورۃ کہتے تھے ، کتاب اللہ میں یہ ایسی سورۃ ہے جو بھی اسے ہررات پڑھے گا اس نے بہت اچھا اور زيادہ کام کیا ۔ سنن النسائ ( 6 / 179 ) الترغیب و الترھیب 1475 میں علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن کہا ہے ۔

    مستقل فتاوی کمیٹی کے علماء کا کہنا ہے کہ :

    تو اس بنا پر یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالی کی رضا کےلیے جو بھی اس سورۃ پر ایمان رکھے اور اسے پڑھے گا اور اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے عبرت حاصل کرتے ہوۓ اس کے احکام پر عمل کرے گا اس کے لیے یہ سورۃ شفاعت کرے گی ۔ فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 4 / 334 - 335 ) ۔

    واللہ تعالی اعلم ۔ .

    الشیخ محمد صالح المنجد

    https://islamqa.info/ur/26240
     
  2. ‏نومبر 16، 2017 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,955
    موصول شکریہ جات:
    6,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جو شخص سونے سے قبل سورہ ملک سنے تو کیا اسے سورہ پڑھنے والے کا اجر ملے گا؟

    سورہ ملک جو کہ عذاب قبر سے بچانے والی بھی ہے اگر اسے کوئی ایسا شخص سنتا ہے جو پڑھ نہیں سکتا تو کیا اسے سننے پر قراءت کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا؟

    Published Date: 2017-11-16

    الحمد للہ:

    سورۃ الملک کی فضیلت میں جامع ترمذی: (2891) میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قرآن مجید کی ایک سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں، وہ آدمی کی اس وقت تک سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے، اور وہ ہے سورت " تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ المُلْكُ") اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں حسن قرار دیا ہے۔

    ترمذی (2892) میں ہی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ سجدہ اور سورۃ الملک نہ پڑھ لیں)، اس روایت کو بھی البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔

    ایسے ہی نسائی (10479) میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: (جو شخص سورۃ الملک ہر رات پڑھے تو اللہ تعالی اس سے عذاب قبر کو روک لے گا، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسے مانعہ [یعنی روکنے والی]کہتے تھے، اور یہ قرآن مجید میں ایک ایسی سورت ہے جو اسے ہر رات پڑھ لے تو وہ بہت زیادہ اور اچھا عمل کرتا ہے) اس حدیث کو بھی البانی رحمہ اللہ نے صحیح ترغیب و ترہیب میں حسن کہا ہے۔

    مقصود اور مطلوب یہاں پر حدیث سے ظاہر ہونے والا معنی ہے کہ یہ فضیلت اس شخص کے بارے میں ہے جو یہ سورت پڑھتا ہے، تاہم اس بارے میں مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (26240) اور سوال نمبر: (191947) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

    لہذا پڑھنے کی بجائے صرف سننے والا شخص قاری یعنی اس سورت کی قراءت اور پڑھنے والا نہیں ہو سکتا، اگرچہ قرآن مجید کی تلاوت سننا ایک شرعی اور مطلوب عمل ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ صرف سننے والے کو بھی پڑھنے والے کے برابر اجر ملے گا، ہمیں سننے اور پڑھنے والے دونوں کے اجر میں برابری کی کوئی دلیل نہیں ملی۔

    اس بنا پر جو شخص ان احادیث میں وارد فضیلت پانا چاہتا ہے تو وہ سورت پڑھے محض سننے پر اکتفا مت کرے۔

    اور اگر وہ پڑھ نہیں سکتا، تاہم قاری کی آواز کے ساتھ ساتھ یا پیچھے پیچھے پڑھ سکتا ہے ؛ کیونکہ اب تو ملٹی میڈیا کے ذریعے ایسا ممکن ہے اور ریکارڈ شدہ تلاوتیں بھی موجود ہیں جس میں آپ ایک ہی آیت کو بار بار بھی سن سکتے ہیں ، تو اگر ایسا ممکن ہو تو یہ ان شاء اللہ اچھا ہو گا، اور اس طرح سن کر پڑھنے والا بھی قاری اور پڑھنے والوں میں شامل ہو جائے گا، بلکہ امید ہے کہ اتنی مشقت اٹھانے پر اسے اضافی اجر بھی ملے۔

    اور اگر کسی کیلیے اس انداز سے پڑھنا بھی ممکن نہیں ہے یا انتہائی زیادہ مشکل پیش آتی ہے تو وہ حسب استطاعت سننے پر اکتفا کرتا ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ اسے پڑھنے والے کے اجر سے محروم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی پڑھنے کے بدلے وارد فضائل سے محروم کیا جائے گا؛ کیونکہ اس نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب


    https://islamqa.info/ur/228366
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 18، 2018 #3
    ذاکر ملک

    ذاکر ملک رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2014
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    اسلام و علیکم ۔۔۔۔جناب آپ نے سورہ ملک کے فضائل بیان کیے جامع ترمذی کی یہ حدیث جو مینے کوڈ کی ہے میں بیان ہے کے صحابی نے قبر پر چمک نسب کر دیا اور سورہ ملک کی تلاوت کی آواز سنی کیا وہ آواز قبر کے اندر سے آ رہی تھی جو صحابی نے نے سنی اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا کیا وہ مردہ جو قبر میں تھا تلاوت کر رہا تھا یاں وہاں کوئی اور انسان تلاوت کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ اس کی تفصیل بتا دیں شکریا۔۔۔۔

    3. سنن ترمذی --- کتاب: قرآن کریم کے مناقب و فضائل --- باب : سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان ۔ [سنن ترمذی]
    حدیث نمبر: 2890 --- حکم البانی: ضعيف ، وإنما يصح منه قوله : هي المانعة..... ، الصحيحة ( ) // ضعيف الجامع الصغير ( ) ، المشكاة ( ) //... عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا اور انہیں معلوم نہیں ہوا کہ وہاں قبر ہے ، (انہوں نے آواز سنی) اس قبر میں کوئی انسان سورۃ « تبارك الذي بيدہ الملك » پڑھ رہا تھا ، یہاں تک کہ اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ وہ صحابی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے پھر آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنا خیمہ ایک قبر پر نصب کر دیا ، مجھے گمان نہیں تھا کہ اس جگہ پر قبر ہے ۔ مگر اچانک کیا سنتا ہوں کہ اس جگہ ایک انسان سورۃ « تبارك الملك » پڑھ رہا ہے اور پڑھتے ہوئے اس نے پوری سورۃ ختم کر دی ۔ آپ نے فرمایا : « ہي المانعۃ » ” یہ سورۃ مانعہ ہے ، یہ نجات دینے والی ہے ، اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچاتی ہے “ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے ۔ ... (ض)
     
  4. ‏اپریل 22، 2018 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس بات کی تو حدیث میں ہی صراحت ہے کہ وہ آواز قبر کے اندر سے آرہی تھی۔ کہیں اور سے نہیں تھی۔
    لیکن روایت ضعیف ہے ، جیسا کہ شیخ البانی کا حکم آپ نے نقل کردہ اقتباس میں موجود ہے۔
     
  5. ‏اپریل 22، 2018 #5
    ذاکر ملک

    ذاکر ملک رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2014
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    54


    اسلام و علیکم جواب دینے کا شکریا ۔۔۔۔ لیکن امام ترمذی تو اس حدیث کو حسن غریب کا درجہ دے رہیں ہیں مہربانی فرما کر تفصیل بیان کر دیں
     
  6. ‏اپریل 23، 2018 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    امام صاحب کا کسی حدیث کو حسن غریب کہنا اس کی صحت کی دلیل نہیں۔
    اس کی سند میں یحیی بن عمرو النکری راوی ضعیف ہے۔
    ویسے آپ نے یہ عبارت پتہ نہیں کہاں سے نقل کی ہے۔
    سنن الترمذی کا جو نسخہ میں نے دیکھاہے ، اس میں امام صاحب کا ’ حسن‘ کہنا بھی موجود نہیں۔
    «هذا حديث غريب من هذا الوجه»
    سنن الترمذي ت شاكر (5/ 164)
     
  7. ‏اپریل 23، 2018 #7
    ذاکر ملک

    ذاکر ملک رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2014
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    ب
     
  8. ‏اپریل 23، 2018 #8
    ذاکر ملک

    ذاکر ملک رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2014
    پیغامات:
    19
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    ہت شکریا آپ نے اپنا قیمتی وقت نکال کے جواب دیا میں آپ کا بہت مشکور ہوں ۔۔۔۔ مجھے وہ بک مل سکتی کیا ۔۔۔۔۔۔ میں آپ کا بے حد مشکور ہوں کے آپ نے میرے لیے وقت نکالا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں