1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوشل میڈیا پر مرد و زن کا اختلاط :

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 09، 2018۔

  1. ‏جولائی 09، 2018 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سوشل میڈیا پر مرد و زن کا اختلاط :

    ابوبکر قدوسی ،
    کیسی بدقسمتی ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے والا تو جنت کو چلا جائے اور اسی مسجد کو بنانے والا اس کو حسرت سے تکتا رہے اور جنت خواب ہو جائے -
    آپ نہ مانیے ، اختلاف کیجئے مرضی ہے آپ کی ، دلائل دیجئے اور بھلے تراش لیجئے ، یا سیدھے سبھاؤ مان لیجیے ... سب آپ کا حق ہے - کم از کم اس دنیا میں آپ کوئی اختیار ہے اور کوئی روکنے والا نہیں -
    اس معاملے کے پہلو دو ہی ہیں کہ یا تو یہ غلط ہے یا درست - دیکھیے ہم نے تو شریعت کے احکام کو دیکھنا ہے ، اور آج میرے مخاطب بھی وہی ہیں -
    جو "دوست " مرد و زن کے اختلاط اور باہم "کھلے ڈلے " ربط کو جائز ، فطرت ، اور " اسلام اتنا بھی تنگ نہیں " سمجھتے ہیں ، وہ آج کی پوسٹ میں میرے مخاطب ہی نہیں ہیں -
    اب باقی ایک ہی طبقہ رہ جاتا ہے کہ جو شریعت کے احکام کو تسلیم کرتا ہے ، دلیل آ جائے تو کج بحثی نہیں کرتا ، غلطی کا شکار بھی ہے تو ضد نہیں کرتا ، گو غلطی ترک بھی نہیں کرتا -
    قران و سنت میں عورت اور مرد کے لیے باہم معاملات ، گفتگو ، ربط کی تمام صورتوں کو اور ان کی حدود کو واضح کر دیا گیا ہے - خواتین کا مردوں سے بات کرنا حرام نہیں ، ضروری بات کر لینا جائز امور میں شامل ہے -
    لیکن سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک پر یہ معاملات دینی طبقے میں بھی حد فاصل سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں - جب بندہ اللہ کی قائم کردہ کسی ایک حد کو توڑتا ہے تو گناہ کی اگلی منزل مزید آسان ہو جاتی ہے -
    اس معاملے میں تلبیس یہ ہے کہ بندہ خوش گفتاری اور بے تکلفی کو بھی "دین کی خدمت" سمجھ کر کے اختیار کرتا ہے ، جب کہ ایسا نہیں ہوتا - اگر یہ خوش گفتاری جائز ہوتی تو حکم یہ ہوتا کہ غیر مردوں سے نرم لہجے میں بات کرو -
    جب کہ حکم یہ ہے کہ سختی سے بات کرو کہ دلوں میں بیماری ہوتی ہے -
    یہ بات بھی یاد رہے کہ خوش گفتاری الگ شے ہے ، اور مناسب لہجہ الگ شے - سختی سے مراد یہ نہیں کہ آپ غیر مرد کو کاٹ کھانے کو دوڑیں ، اسلام تھذیب و اخلاق کا مذھب ہے ، بدتہذیبی کا نہیں - سختی سے مراد یہ ہے کہ ضروری بات کیجئے ، دو ٹوک بات کیجئے ، لہجے نارمل ہوں جیسے کوئی ضروری کام اور بس -اگر میں غلط نہیں تو سختی سے بات کرنے کا حکم شائد انگریزی کی یہ ترکیب واضح کر دے کہ "ٹو دی پوائنٹ " بات کی جائے اور بس -
    کسی مدرسے کا افتتاح تھا ، ڈاکٹر فضل الہی صاحب کو بلایا گیا - آپ نے نصیحت کرتے ہوے بانی صاحب کو یہ کہا کہ :
    "برادر ! ایسا نہ ہو کہ مدرسے میں آنے والے ، پڑھنے والے تو یہاں سے پڑھ کے جنت میں چلے جائیں اور آپ کا مقدر جہنم ٹہرے "
    یہی معامله یہاں ہے کہ آپ دین کا کام کر رہے ہیں ، دفاع دین کے لیے ، رد الحاد کے واسطے ، نبی کی حرمت میں ٹرینڈ بنانے اور چلانے کے لیے باہم مل کے محنت کر رہے ہیں ..لیکن معمولی سی کسی مسلسل غلطی کے سبب آپ کے نامہ اعمال میں نیکی کی بجائے گناہ لکھا جا رہا ہے -
    ایسے ہی ہے نا کہ میں بہت بڑھ بڑھ کے قران و حدیث کے دفاع میں لکھ رہا ہوں ، خواتین بھی خوب داد دے رہی ہیں ، مذاق بھی چل رہا ہے ، لبرلز کا توا بھی لگ رہا ہے ، سوشل میڈیا ہے بس ہاتھ پر ہاتھ نہیں مارا جا رہا ، ورنہ خوب مذاق ہو رہا ہے ... گو آپس میں بہن بھائی کہہ کے ہی بات ہو رہی ہے ...
    میں فتوی نہیں لگاتا ، لیکن دین کے ضابطے افراد کے لیے الگ الگ نہیں ہوتے ، ہاں میں فتوی نہیں لگاتا ، اس بات کا مگر امکان بھر پور ہو سکتا ہے کہ قیامت کے روز دفاع رسول جیسا عمل بھی یہ کہہ کے رد کر دیا جائے کہ تم اپنی قوم قبیلے کی عصبیت کے سبب ایسے جذباتی ہو رہے تھے -
    سو دوستو !
    اور بہنوں !
    معاملات ایسے سہل نہیں ہیں ، احتیاط کی ہر دم ضرورت ہے - باہم بات کیجئے اور خاص طور پر آج کل تو بہت سے معاملا ت ایسے ہیں کہ مل کر ہی کام کرنا پڑتا ہے - لیکن اپنے نامہ اعمال کی ہر دم حفاظت کیجئے -
    مجھے احساس ہے کہ بہت سے امور میں ہم کو ، آپ کو ہر دم بہنوں کی ضرورت ہوتی ہے - مجھے یہ بات بھی تسلیم ہے پچھلے دنوں بھی بول چینل کے خلاف مہم بلکہ کامیاب مہم میں ہماری چند بہنوں کی محنت مردوں سے بڑھ کے تھی ، نسبتا زیادہ منظم ہو کے اور زیادہ وقت دیا انہوں نے -
    لیکن بات وہی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو مسجد میں نماز پڑھنے والا تو جنت میں چلا جائے اور مسجد بنانے والا دور کھڑا حسرت سے اسے تکتا رہ جائے -
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں