1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سوشل میڈیا کا بخار :

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 19، 2016۔

  1. ‏اپریل 19، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,644
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    شوشل میڈیا کا بخار

    از: عبدالہادی عبد الخالق مدنی

    اگر میں یہ کہوں کہ یہ شوشل میڈیا کا بخار ایسا بخار ہے جس سے کوئی گھر کیا بلکہ کوئی فرد محفوظ نہیں تو شاید میرا کہنا غلط نہیں ہوگا۔ آج کل شوشل نیٹ ورک مثلاً فیس بوک، ٹویٹر، واٹس ایپ ، گوگل پلس وغیرہ کا استعمال ایک عام بات ہے، اس میں مرد اور خواتین ، بچے بوڑھے ، نوجوان، ادھیڑ ، امیر وغریب، مزدور وصنعتکار اور اعلی تعلیم یافتہ سے لے کر معمولی پڑھے لکھے تک ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔ ہم میں کون شخص ہے جوشوشل میڈیا کے بخار سے محفوظ ہے؟ ہاں یہ اور بات ہے کہ ہرایک کا بخار مختلف ہے، کسی کو کم بخار ہے کسی کو زیادہ، کسی کو نارمل ہے کسی کو خطرناک۔ اگر یہ نارمل ہے تو گھبرانے کی بات نہیں اور اگر حد سے آگے بڑھ چکا ہے تو علاج کی ضرورت ہے۔

    بعض لوگوں کے لئے یہ بخار معمولی بیماری کے بجائے ایک خطرناک نشہ اور بدترین لت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ نہ وقت پر کھانے پینے اور سونے کی پرواہ، نہ آنکھ ، کان، دل ودماغ اور دیگر جسمانی اعضاء کے آرام وراحت کی پرواہ، نہ اپنے فرائض وواجبات کی پرواہ، نہ اہل خانہ کے حقوق کی پرواہ، نہ عزیز واقارب اور دوست واحباب کے حقوق کی پرواہ ، صلاۃ پنجوقتہ سے غفلت، ہمہ وقت شوشل میڈیا سے لطف لیتے ہوئے حتی کہ گاڑی ڈرائیونگ کرتے ہوئے شوشل میڈیا پر نظریں، سامنے کوئی عزیز ، کوئی مہمان تشریف فرما ہے لیکن اس پر توجہ ہونے کے بجائے موبائیل کے اسکرین پر توجہ، طالب علم کلاس میں بیٹھا ہوا لیکن دل شوشل میڈیا میں لگا ہوا، دسترخوان پر انواع واقسام کے لذیذ کھانوں کی لذت شوشل میڈیا کے مقابلے میں بے لطف، یہ سب اس بیماری کی چند علامات ہیں۔ اگر ہم اس بیماری کا شکار ہوگئے ہیں تو ہمیں اپنی بیماری کا اقرار کرکے اس کے علاج کے لئے بھرپور کوشش اور تگ ودو کرنی چاہئے ورنہ یہ مرض متعدد قسم کے نقصانات ، مضرات اور تباہ کاریوں کا باعث ہوگا۔ لوگوں کے ساتھ میل جول ختم ہوجائے گا، خلوت پسندی اور عزلت گزینی کا شکار ہوجائیں گے، تنہائی مقدر ہوجائے گی، صحت وتندرستی برباد ہوجائے گی، ترجیحات فراموشی میں مبتلا ہوجائیں گے۔ روبرو گفتگو اور دوبدو بحث ومباحثہ کی اہلیت وصلاحیت کا فقدان ہوجائے گا یا واضح کمی ہوجائے گی۔ وغیرہ وغیرہ

    ہم شوشل نیٹ ورکس کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟

    ایک سوال جو خود بخود سر اٹھاتا ہے کہ آخر شوشل میڈیا کے استعمال کے پیچھے مقصد کیا ہوتا ہے؟ ہم ان کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟

    جب ہم اس کا جواب تلاش کرنے نکلتے ہیں تو ہمیں کئی ایک جواب ملتے ہیں جن کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے۔


    • لوگوں سے تعارف اور جان پہچان بنانے کے لئے، نئے نئے دوست حاصل کرنے کے لئے
    • متعارفین کے ساتھ مستقل رابطہ میں رہنے کے لئے
    • مسائل کو ڈسکس کرکے ، ان پر تبادلۂ خیال کرکے ایک نتیجہ تک پہنچنے کے لئے
    • مناسب شریک حیات کی تلاش کے لئے
    • اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لئے
    • اپنی تعلیم وثقافت اور اپنے مقام ومرتبہ (اسٹیٹس) کے اظہار کے لئے
    • تفریح طبع، انجوائے اور لطف اندوزی کے لئے
    • ٹائم پاس یعنی وقت گزاری کے لئے
    • علمی اور عملی استفادہ کے لئے
    • فوری جدید اور اہم خبروں کے حصول کے لئے
    • نئی نئی معلومات حاصل کرنے کے لئے
    • اپنے فکر ونظر اور دین وعقیدہ کی نشر واشاعت کے لئے
    یہ چند جوابات ہیں جو لوگوں سے آپ سن سکیں گے۔

    جاری ہے ----
     
  2. ‏اپریل 19، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,644
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے کیا شوشل میڈیا کا استعمال مناسب ہے؟

    جہاں تک ٹائم پاس اور وقت گزاری کی بات ہے تو ایک مسلمان کو سمجھنا چاہئے کہ وقت بہت قیمتی ہے ، اسے بلاوجہ ضائع کرنا سخت محرومی اور بدنصیبی کی بات ہے۔

    وقت کی اہمیت :

    وقت کی اہمیت کے اظہار کے لئے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس کی قسم کھائی ہے۔ ارشاد ہے:


    وَالْعَصْرِ

    (زمانہ کی قسم)


    وقت کی اہمیت سمجھانے کے لئے صلاۃ پنجوقتہ کی ادائیگی میں وقت کی پابندی کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ ارشاد ہے:

    {إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا }

    یقیناً صلاۃ مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے۔

    [النساء: 103]


    وقت کی قدرواقیمت کا احساس دلانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:

    « نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ» أخرجه البخار يبرقم (6412) .

    دو نعمتوں کے معاملہ میں لوگوں کی اکثریت خسارے کا شکار ہے ایک صحت اور دوسرے فرصت۔

    ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اس طرح مروی ہے :

    " اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ : شَبَابَكَ قَبْلَ هِرَمِكَ ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ ، وَغِنَاءَكَ قَبْلَ فَقْرِكَ ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ "المستدرك برقم(7846) وهو صحيح

    (پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے ، دولت مندی کو محتاجی سے پہلے، فرصت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو وفات سے پہلے۔

    پیش نظر حدیث میں پانچ میں سے تین باتیں وقت ہی سے متعلق ہیں، اس سے زیادہ وقت کی اہمیت اور قدر وقیمت کو اجاگر نہیں کیا جاسکتا۔

    ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اس طرح مروی ہے :

    " لا تزول قدما ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسأل عن خمس : عن عمره فيما أفناه و عن شبابه فيما أبلاه و ماله من أين اكتسبه و فيما أنفقه و ماذا عمل فيما علم " . (السلسلة الصحيحة: 946)

    (بروز قیامت ابن آدم کے قدم اپنے رب کے پاس سے اس وقت تک ہٹ نہیں سکتے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے۔ اس کی عمر سے متعلق سوال ہوگا کہ اس نے اپنی عمر کو کس کام میں کھپایا، اس کی جوانی سے متعلق سوال ہوگا کہ جوانی کیسے گزاری، اس کے مال سے متعلق سوال ہوگا کہ مال کو کہاں سے کمایا اور کن مصارف میں خرچ کیا، اور علم سے متعلق سوال ہوگا کہ اپنے علم پر کتنا عمل کیا)۔

    ان آیات واحادیث کی روشنی میں وقت کی اہمیت اور قدر وقیمت ہمارے سامنے خوب واضح نکھر کر آجاتی ہے، اب اس بات کی گنجائش قطعاً نہیں رہ جاتی کہ کوئی عقلمند مسلمان اپنا قیمتی وقت یوں ہی ضائع کرتا پھرے۔

    شوشل میڈیا اللہ کی ایک نعمت ہے :

    یاد رہے کہ شوشل میڈیا اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے، اس پر اللہ کی حمد وثنا کرنی چاہئے، رب کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ کسی نعمت کی شکر گزاری کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس نعمت کو شرعی ہدایت کے مطابق اللہ تعالی کی رضاجوئی میں استعمال کیا جائے۔ لہذا ہمیں شوشل میڈیا کو منہج حق کی دعوت میں، صحیح عقیدہ کی نشر واشاعت میں ، کتاب وسنت کی تعلیمات کو فروغ دینے میں، غلط مفاہیم کی تصحیح میں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں ،حق وصبر کی وصیت میں ، باہمی تعارف، دکھ سکھ میں شرکت، صلہ رحمی، آپسی تعلقات کی استواری، علمی مسائل میں سنجیدہ بحث ومباحثہ اور تبادلۂ خیال، نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون وغیرہ جیسے مفید امور میں استعمال کرنا چاہئے۔

    لیکن یاد رہے کہ دین کی محبت میں تحقیق کے بغیر یا مسئلہ کی صحت کا اطمینان کئے بغیر اس کی نشر واشاعت درست نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ ناواقفیت کی بنا پر سنت کے بجائے بدعت، ایمان وتوحید کے بجائے کفر وشرک اور دینِ حق کے بجائے توہمات وخرافات کی نشر واشاعت کا ذریعہ بن جائیں۔

    یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ شوشل میڈیا کی عظیم نعمت کی ناشکری سے گریز کریں۔ اس کی ناشکری یہ ہے کہ اس کا استعمال فسق وفجور اور معصیت کے کاموں میں ، اہل ایمان کی اذیت رسانی میں، شکوک وشبہات کے فروغ میں، بے جا تبصروں اور تکلیف دہ کمنٹس کرنے میں ، دینی شعائر کے تمسخر میں ، ناجائز عشق ومحبت، ناروا تعلقات، خواہشات نفس کی پیروی اور فحش کاری وبدکاری کی اشاعت میں جس سے برائیوں کا ایک وسیع ترین دروازہ کھل جاتا ہے اور اس طرح کے دیگر امور میں کیا جائے جن سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسلم معاشرے میں فحش کاری کے فروغ سے محبت رکھنے والوں کو سخت وعید سنائی ہے، ارشاد ہے:

    {إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ} [النور: 19]

    (جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں،)

    یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کی فقط آرزومندی پر یہ وعید ہے تو جو لوگ آرزو سے آگے بڑھ کر بے حیائی کی نشر واشاعت میں سرگرم ہوتے ہیں ان کے لئے کیا وعید ہوگی۔!!!!!

    نعمتوں کی ناشکری کا انجام ندامت اور زوال نعمت ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالی اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین

    جاری ہے ----
     
  3. ‏اپریل 19، 2016 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,644
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    شوشل میڈیا ایک امتحان اور آزمائش :

    یہ بات بھی نہ بھولنے پائے کہ شوشل میڈیا ہمارے لئے اللہ کی جانب سے ایک شدید امتحان اور سخت آزمائش ہے۔

    آزمائش اس اعتبار سے ہے کہ اس کی بنا پر فسق و فجور، گناہ و نافرمانی ، جرم و معصیت کے بہت سے راستے میسرنیز سہل وآسان ہو گئے ہیں اور یہ اللہ کی سنت ہے کہ نافرمانی کو اپنے بندے کے لئےآسان کرکے اسے آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ خوب عیاں اور واضح ہوجائے کہ وہ ان دیکھے اللہ سے غائبانہ طور پر ڈرتا ہے کہ نہیں، ساری سہولتیں مہیا ہونے کے باوجود اللہ کے خوف سے پرہیزگاری اور اطاعت پر قائم رہتا ہے یا نہیں؟؟؟

    اس حوالےسے ہم آپ کے سامنے دو مثالیں رکھتے ہیں، ایک امت محمدیہ کی اور دوسری ماقبل امتوں میں سے بنی اسرائیل کی مثال۔

    اللہ تعالی نے سورہ اعراف (آیات 163 تا 166) میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ اللہ تعالی نے یہودیوں پر ہفتہ (سنیچر) کے دن مچھلیوں کا شکار حرام کردیا تھا، ہوتا یہ تھا کہ ہفتہ والے دن مچھلیاں تیزی کے ساتھ اچھل اچھل کر دریا کے کنارے خوب آتی تھیں، اور جب شکار کی ممانعت کا دن ختم ہوجاتا تو یہ مچھلیاں غائب ہوجاتیں۔ اس حالت پر ایک مدت گزر گئی ، رفتہ رفتہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا بالآخروہ لوگ اس امتحان سے بخیریت نہ نکل سکے، ایک حیلہ کے چور دروازے سے نافرمانی کے مرتکب ہوگئے۔ جمعہ کے دن وہ جال ڈال دیتے، سنیچر کو آنے والی مچھلیاں اس میں پھنس جاتیں اور اتوار کے دن وہ اسے پکڑ لیتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالی نے ان کی سرکشی کی بنا پر انھیں ذلیل کیا اور بندر بنادیا۔

    دوسری مثال اس امت کے صدر اول کی ہے، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ}[المائدة: 94]

    (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے تا کہ اللہ تعالیٰ معلوم کرلے کہ کون شخص اس سےبن دیکھے ڈرتا ہے سو جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے واسطے دردناک سزا ہے).

    مفسرین نے لکھا ہے کہ شکار کی ممانعت کی حالت میں صورت حال یہ تھی کہ شکار بکثرت آتے اور نہایت قریب سے گزرتے ، ہتھیار کے بغیر صرف ہاتھ سے بھی شکار کیا جاسکتاتھا لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی اطاعت وفرماں برداری بے مثال تھی، کسی ایک شخص نے بھی شکار کرنے کی غلطی نہیں کی۔ انھوں نے اسے امتحان سمجھا اور اس میں کامیاب ہوئے۔

    آج شوشل میڈیا کے ذریعے ہم ایک شدید آزمائش میں مبتلا ہیں، بہت سارے گناہ اور نافرمانیوں کے راستے آسان ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے وہ کون مخلص بندے ہیں جو گناہ کی اس قدر آسانی کے باوجود اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی اطاعت پرقائم رہتے ہیں۔!!!

    اس آزمائش میں جو کامیاب ہوجاتے ہیں انھیں اللہ تعالی کی طرف سے بہت بڑا انعام ملتاہے اور اس حوالہ سے یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یاد کرنا چاہئے۔

    {وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ , وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَالَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَإِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ} [يوسف: 23، 24]

    (اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف تھے، یوسف کو بہلاناپھسلانا شروع کیا کہ وه اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی لو آجاؤ ، یوسف نے کہا اللہ کی پناه! وه میرا رب ہے، مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھاہے۔ بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا , اس عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف اس کا قصد کرتےاگر وه اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے، یونہی ہوا اس واسطے کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں۔ بے شک وه ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا).

    اللہ تعالی نے یوسف علیہ السلام کےواقعہ کو بصورت وحی قرآن میں نازل فرماکے اسے قرآنی آیت بنادیا جس کی قیامت تک تلاوت ہوتی رہے گی اور اللہ پر ایمان رکھنے والے بندے اس سے عبرت کے موتی نکالتےرہیں گے۔

    جاری ہے ----
     
  4. ‏اپریل 19، 2016 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,644
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    شوشل میڈیا کی خبروں کے تعلق سے ہمارا موقف :

    شوشل میڈیا مختلف قسم کی خبروں کی نشر واشاعت کا ذریعہ ہے لہذا ہمیں اس کے آداب کا بھی علم ہونا چاہئے۔

    یہ بات ہرکس وناکس پر عیاں ہے کہ خبریں سننے یا پڑھنے کے بعد انسان پر اس کا ایک اثر ہوتا ہے خواہ رنج وغم پیدا ہو یا خوشی ومسرت، اگر کوئی خبر خوش آئند ہوگی تو شادمانی یقیناً پیدا ہوگی اور اگر کوئی خبر افسوسناک ہوگی تو دکھ درد دے کے جائے گی۔ انہی مثبت یا منفی اثرات کے مد نظر جو نفسیاتی بھی ہوسکتے ہیں اور اقتصادی واجتماعی بھی ، فساد کی آگ بھڑکاسکتے ہیں اور قتل وغارت گری کی گرم بازاری کا محرک بھی بن سکتے ہیں، اسلامی شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کوئی خبر کسی تک پہنچانے سے پہلے اس کے آداب ملحوظ رکھیں تاکہ کسی خبر کے برے اثرات، مفاسد ومضرات اور نقصانات سے بچا جاسکے اور اس کے دور رس فوائد حاصل کئے جاسکیں۔

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

    {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا} [النساء: 83]

    (جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حالا نکہ اگر یہ لوگ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے، تو اس کی حقیقت وه لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوه تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے)۔

    علامہ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    یہ اللہ تعالی کی جانب سے اپنے بندوں کے لئے ادب کی تعلیم ہے کہ وہ ایسا نامناسب عمل نہ کریں۔ جب ان کے سامنے کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو جو اہم ہو اور اس سے مسلمانوں کی عام مصلحت وابستہ ہو مثلاً امن سے متعلق ہو جس میں اہل ایمان کی خوشی ہے یا خوف سے متعلق ہو جس میں ان کے لئے مصیبت ہے تو ایسی خبروں کی تحقیق کرلیا کریں اور اس کی نشر واشاعت میں جلدبازی سے کام نہ لیں۔ بلکہ اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹادیں اور صاحب امر افراد کی طرف جو کہ اصحاب علم ودانش اور ارباب نصح ورائے ہیں اور عقل مندی وسنجیدگی کے مالک ہیں، مصالح ومفاسد کا درک رکھتے ہیں۔ اگر انھیں یہ محسوس ہو کہ اس خبر کے نشر کرنے میں مصلحت ہے اور اہل ایمان کے لئے باعث نشاط وشادمانی ہے، دشمنوں سے تحفظ کا سبب ہے تو اسے نشر کریں گے اور اگر ان کا یہ خیال ہو کہ اس خبر کے نشر کرنے میں مصلحت نہیں یا مصلحت تو ہے لیکن مضرت مصلحت سے بڑھ کر ہے تو اسے نشر نہیں کریں گے۔
    اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا:(لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ)یعنی اپنی درست فکر ونظر، صائب رائے اور معقول علم وفہم کے ذریعہ صحیح نتیجہ اخذ کریں گے۔ اس آیت میں اس ادبی قاعدہ کی دلیل بھی ہے کہ جب کسی معاملہ میں کسی فرد کی تلاش ہو تو اسے ایسے شخص کے سپرد کیا جائے جو اس کا اہل ہے اور اس کی صلاحیت رکھتا ہے، اور پھر ان سے آگے نہ بڑھا جائے، ان کے فیصلے کو قبول کیا جائے، غلطی سے بچنے کا اور درستگی تک پہنچنے کا یہی سب سے قریبی مناسب راستہ ہے۔ ان آیات میں کسی خبر کو سنتے ہی نہایت عجلت وسرعت کے ساتھ اس کی نشر واشاعت کی ممانعت پائی جاتی ہے۔ کوئی بات کہنے سے پہلے اس میں غور وفکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر اس میں مصلحت ہو تو پھر انسان اقدام کرے ورنہ رک جائے۔

    آگے اللہ تعالی نے فرمایا: {وَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ} یعنی تمھیں توفیق دینے میں، ادب سکھانے میں اور غیرمعلوم چیزوں کا علم عطاکرنے میں، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، آگے فرمایا: {لاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلا قَلِيلا} تو چند ایک کے سوا تم سب شیطان کی پیروی میں لگ جاتے۔ کیونکہ انسان طبعی طور پر ظالم وجاہل ہے، اس کا نفس اسے برائیوں کا حکم دیتا ہے، جب وہ اپنے رب کی پناہ میں چلا جاتا ہے، اسے مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے اور اپنی پوری کوشش لگادیتا ہے تو اسے رب کا لطف وکرم حاصل ہوتا ہے، ہر خیر کی توفیق ملتی ہے، شیطان مردود سے تحفظ عطا ہوتا ہے۔

    امام ابن کثیر رحمہ اللہ سورہ نساء کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

    ”اس آیت میں ان لوگوں پر نکیر کی گئی ہے جو کسی معاملہ کی تحقیق سے پہلے ہی تیزی اور جلدبازی سے کام لیتے ہیں ، اس کی خبر دیتے ، اسے عام کرتے اور اسے نشر کرتے ہیں، جب کہ بسا اوقات ان کا صحت ودرستگی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا“۔

    صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مروی ہے:

    "كفى بالمرء كذبا أَنْ يُحدِّث بِكُلِّ مَا سَمِعَ"

    آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔

    صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی ثابت ہے کہ آپ نے قیل وقال سے منع فرمایا یعنی بلا تحقیق، بلا غوروفکر اور بلاثبوت لوگوں کی کہی سنی باتیں بیان کرتے رہنے سے آپ نے روکا ہے۔

    جاری ہے ----
     
  5. ‏اپریل 19، 2016 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,644
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    شوشل میڈیا کے پیغامات کے تعلق سے ہمارا موقف :

    شوشل میڈیا پر پیغامات کا لین دین ہوتا ہے، یہ پیغامات سیاسی بھی ہوسکتے ہیں، دینی واخلاقی بھی ہوسکتے ہیں، طنز ومزاح والے بھی ہوسکتے ہیں، لغو اور فضول بھی ہوسکتے ہیں، فحش اور عریاں بھی ہوسکتے ہیں، ملحدانہ اور زندیقانہ بھی ہوسکتے ہیں، کفریہ وشرکیہ بھی ہوسکتے ہیں، لہذا ہرطرح کے پیغامات سے اس کے حسب حال معاملہ کیا جائے گا۔ بعض پیغامات کو فوری طور پر ڈیلیٹ اور حذف کردیا جائے گا، اسے آگے بڑھنے سے روکا جائے گا، بعض پیغامات کی تحقیق کی جائے گی اگر درست ثابت ہوا تو پھر اگر اس کی نشر واشاعت میں مصلحت ہے تو اسے آگے بڑھایا جائے گا اور اگر روکنے میں مصلحت ہے تو روک لیا جائے گا۔

    شوشل میڈیا اور نئے تعلقات کی استواری :

    اگرہم شوشل میڈیا کا استعمال نئے لوگوں سے تعلقات بنانے کے لئے کرتے ہیں تو اس کے آداب بھی ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہئے۔

    ظاہر ہے کہ انسان ساری دنیا سے کٹ کر اکیلے تن تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، کچھ نہ کچھ روابط رکھنے ہوں گے، دوستی بنانی ہوگی اور تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔ اگر یہ تعلقات اختیار کرتے ہوئے ہم ایک انتخابی معیار رکھیں جس کی بنا پر کسی کو قریب اور کسی کو دور کریں تو کامیابی قدم بوس ہوگی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہمارے تعلقات کی بنیاد دین وتقوی ہے تو یہ ہماری سعادت کا باعث ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو لوگوں کو عرش الہی کا سایہ پانے کی خوشخبری سنائی ہے جو اللہ واسطے باہم محبت کرتے ہیں، اسی خاطر اکٹھا ہوتے اور اسی خاطر جدا ہوتے ہیں۔

    ( ... وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ..(متفق عليه)

    کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو شرف وبلندی سے ہمکنار کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو پستی میں ڈال کر اس کی عزت وآبرو کو پیوندخاک کردیتے ہیں۔ ایسے ہی دوستوں کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

    {وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا (27) يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا } [الفرقان: 27، 28]

    اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی راه اختیار کی ہوتی ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے اور برے دوستوں کی منفعت ومضرت کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ ایک مثال کے ذریعے واضح فرمائی ہے تاکہ وہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔

    ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    مثل الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد ريحا خبيثة۔

    ( نیک وبد ہمنشین کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی عطر فروش یا بھٹی دھونکنے والا ہو۔ عطر فروش یا تو آپ کو خوشبو کا تحفہ دے گا یا آپ اس سے خرید لیں گے یا آپ اس سے پاکیزہ خوشبو پاتے رہیں گے، اس کے برخلاف بھٹی دھونکنے والا یا تو آپ کے کپڑے جلادے گایا آپ اس سے بدبو پاتے رہیں گے)۔

    یہ حدیث متفق علیہ ہے، اسے امام بخاری نے كتاب الذبائح والصيد باب المسك (کتاب :75 باب :31 حديث:5214) اور امام مسلم نے كتاب البر والصلة والآداب باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء میں روایت کیا ہے۔ (کتاب :45 باب : 45 حديث: 146 - ( 2628 ))۔

    جاری ہے -----
     
    Last edited: ‏اپریل 19، 2016
  6. ‏اپریل 19، 2016 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,644
    موصول شکریہ جات:
    6,458
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    شوشل میڈیا اور تفریح طبع :

    اگر آپ شوشل میڈیا کو بطور تفریح استعمال کرنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ اس کے اصولوں سے بھی باخبر رہیں۔ اس کے اصول کچھ اس طرح ہیں۔ پہلی بات یہ یاد رہے کہ تفریح بطور خود کوئی مقصد نہیں بلکہ ایک دوسرے اعلی مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، چونکہ نفس انسانی ایک حالت پر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا بلکہ اسے تبدیلی چاہئے لہذا اسلامی شریعت نے اسی طبعی حاجت کے پیش نظر تفریح کی اجازت دی ہے۔ حدیث حنظلہ کا مطالعہ کیجئے، یہ امر آپ کے سامنے عیاں ہوجائے گا۔

    حدیث حنظلہ اس طرح ہے:

    ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: حنظلہ کیا حال ہے؟ انھوں نے جواب دیا: حنظلہ منافق ہوگیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سبحان اللہ ! کیا کہتے ہو؟ حنظلہ رضی اللہ عنہ نے تفصیل بتلاتے ہوئے کہا: ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں ، آپ ہمیں جنت وجہنم کی یاد دلاتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوں، اور جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر نکلتے ہیں، اپنے اہل وعیال اور مال ومتاع میں مشغول ہوجاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہمارا بھی یہی حال ہے۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور سارا ماجرا بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہےاگر تم ہمیشہ اسی حالت پر رہو جس پر میرے پاس رہتے ہو، ہمیشہ اللہ کی یاد میں رہو، تو تم سے تمھارے بستروں پر اور تمھارے راستوں میں فرشتے مصافحہ کریں گے لیکن اے حنظلہ کبھی ایک گھڑی ہوتی ہے اور کبھی دوسری گھڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔

    دیکھئے صحیح مسلم كتاب التوبة باب فضل دوام الذكر والفكر في أمور الآخرة والمراقبة وجواز ترك ذلك في بعض الأوقات۔ (کتاب :49 باب : 3 حديث: 12 - (2750))۔

    خود جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مزاح فرمایا کرتے تھے چنانچہ اس حوالہ سے سیرت نبوی میں متعدد واقعات پائے جاتے ہیں۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہنسی مذاق کے کچھ اصول وضوابط ہیں جن کی رعایت کرنا بے حد ضروری ہے۔

    ۱۔ اس بات کا خیال رہے کہ ہنسی مذاق میں کسی دینی امر کا تمسخر یا استہزا نہ ہوجائے کیونکہ ایسا کرنا کفر کا باعث ہے، اس سے (معاذ اللہ) ایمان کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ( دیکھئے سورہ توبہ آیت:۶۵۔۶۶)

    ۲۔ اس بات کا بھی خیال رہے کہ ہنسی کی خاطر کسی کا مذاق نہ اڑایا گیا ہو کہ یہ دوسروں کی اذیت کا سبب ہے اور اسلامی شریعت میں ممنوع ہے ۔( دیکھئے سورہ حجرات آیت:۱۱)

    ۳۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہنسی پیدا کرنے کی خاطر حق وصداقت کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

    ((ويلٌ للذي يحدِّث فيكذب ليضحك به القوم، ويلٌ له، ويلٌ له))

    (اس شخص کے لئے تباہی وبربادی ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے، اس کے لئے تباہی ہے، اس کے لئے تباہی ہے)۔

    یہ حدیث مسند احمد، ابوداود اور ترمذی وغیرہ میں مروی ہے ، علامہ البانی نے صحیح الجامع حدیث نمبر ۷۱۳۶ میں اسے حسن قرار دیا ہے۔

    ۴۔ ہنسی مذاق کرتے ہوئے کسی کو دہشت زدہ کرنا یا نقصان پہنچانا جائز نہیں۔

    ۵۔ ہنسی مذاق کو اپنی عادت اور شناخت بنالینا خلاف مروت ہے لہذا حسب موقع ہی اسے اپنانا چاہئے۔

    ۶۔ ہنسی مذاق کرتے ہوئے اوقات وحالات اور افراد ومقامات کا لحاظ بھی رکھنا ضروری ہے، کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ اور کسی بھی شخص کے ساتھ ہنسی مذاق مناسب نہیں ہوتا۔

    اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ھم سب کی اصلاح فرما دے - آمین یا رب العالمین
     
    Last edited: ‏اپریل 19، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں