1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ امانت محمدی, ‏ستمبر 22، 2015۔

  1. ‏ستمبر 22، 2015 #1
    عبداللہ امانت محمدی

    عبداللہ امانت محمدی رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 31، 2015
    پیغامات:
    280
    موصول شکریہ جات:
    55
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ ہے جو لوگوں کو اظہار رائے ، تبادلہ خیال ، تصاویر اور ویڈیوز شیئر ( Share ) کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ جس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کی بدولت پوری دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ سوشل ویب سائٹس میں سے زیادہ تر لوگ فیس بک ، ٹویٹر ، یو ٹیوب ، گوگل پلس اور لنکڈان وغیرہ استعمال کرتے ہیں ۔ ہمیں سوشل میڈیا کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے ۔
    سوشل میڈیا سے اچھے مقاصد بھی سر انجام دیئے جا سکتے ہیں ۔ یوزرز ایک ، دوسرے سے رابطہ رکھتے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔ تصویر کا دوسرا رخ سامنے آتا ہے کئی مرتبہ نیوز چینلز بھی وہ معلومات نہیں دیکھاتے جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچ جاتی ہے ، مثلاََ : ’’ برما اور کشمیر وغیرہ کے حالات و واقعات ‘‘ ۔ قرآن و حدیث کی شیئرنگ اور عقیدے کی درستگی کا کام بھی کیا جا سکتا ہے البتہ تحقیق کر کے شیئر کرنا چاہیے ۔ تعلیم ، تفریح اور معاشرے کو متحرک بنانے کے ساتھ مشکل میں مدد کے امکان کا بھی سبب ہے ۔ ہمیں سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے ۔
    سماجی میڈیا کے نقصانات سے بھی خبردار رہنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے طالب علموں کا بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے ، جس کے باعث عام طور پر نمبر کم آتے ہیں ۔ تحقیق سے پہلے ہیں خبر پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے ۔ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے ۔ فحاشی کو فروغ ، بے حیائی کا کھلے عام اظہار ، بے معنی ، ناشائستہ اور بے ہودہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنے والدین ، بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کو وقت نہیں دے پاتے ۔
    آپ ایسے لوگوں سے خبردار رہیں جو سوشل میڈیا پر فساد ، بد امنی ، لڑائی جھگڑے ، بے حیائی اور غلط خبریں پھیلاتے ہیں ۔ کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے شیئر نہ کریں ۔ آپ ہمیشہ سماجی ویب سائٹس پر اچھی اور حق و صداقت پر مبنی چیزیں شیئر کریں ۔ جو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ : ’’ سوشل میڈیا پر جعلی اکاونٹس رکھنے اور دہشتگردی پھیلانے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دے ۔ ‘‘
     
  2. ‏اکتوبر 13، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,570
    موصول شکریہ جات:
    936
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    c2i_129201622101.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں