1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سونے کے دیناروں کی واپسی

'معاشی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏ستمبر 03، 2015۔

  1. ‏ستمبر 03، 2015 #11
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    2,412
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جہاں تک سونے کی سکوں کا تعلق ہے تو سونے کے سکوں کو کا آغاز اسلام نے نہیں کیا تھا، بلکہ وہ اس سے قبل ہی رائج تھے۔ اور جہاں تک میرے علم میں ہے، جن درہم و دینار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی رائج تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے رائج ہی رکھا، وہ رومیوں اور فارسیوں کے جاری کردہ تھے، یعنی کہ اس کا پیمانہ رومیوں کا بنایا ہوا تھا۔
    بعد میں عبد الملک بن مراون نے مملکت اسلامیہ کے درہم اور دینار کے سکہ جاری کئے تھے!
    بہر حال ! اگر سونے چاندی کے سکوں کو جاری کرنا حق و باطل کا پیمانہ قرار پائے، تو رومی اور فارسی حق پر قرار پائیں گے!
    دوم کہ؛ یہ کب سے لازم آگیا ہے کہ اسلام میں کرنسی صرف سونے اور چاندی کی ہی جائز ہے اور دیگر کرنسی غیر اسلامی ہیں!!
    یہ بھی ایک معمہ ہے، اس طرح کی باتیں اوریا مقبول جان اور زید حامد کی ہفوات میں سننے کو ملتی ہیں!
     
  2. ‏ستمبر 04، 2015 #12
    مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 30، 2011
    پیغامات:
    640
    موصول شکریہ جات:
    396
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    رائج ہی رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دلیل کافی نہیں ہے کیا ؟
    حق کا پیمانہ نہ بھی ہو تو کیا جو حق عمل کافر میں موجود ہو تو کیا اس عمل کو ترک کیا جائے گا صرف اس وجہ سے کہ یہ تو کافر بھی کرتے ہیں ۔
    مشرکین اس وقت داڑھی رکھتے تھے اور مجوس منڈواتے تھے ۔ تو کیا داڑھی کی وجہ سے مشرکین حق پر تھے ؟
    یا پھر مشرکین کے اس عمل کو ترک کیا جائے گا کہ یہ تو مشرکین کا عمل ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 05، 2015 #13
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    2,412
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بھائی یہی تو ہماری دلیل ہے! کہ دین ہر ہر عمل میں کفار کی مخالفت کا نام نہیں!
    یہی تو ہم بھی کہتے ہیں! کہ دین ہر ہر امر میں کفار کی مخالفت کا نام نہیں!
    اس عمل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود ہے!

    @مون لائیٹ آفریدی بھائی! ایک اصول مد نظر رکھیں کہ معاملات میں ، ہر طریقہ اور عمل جائز ہے، جس کی ممانعت نہ ہو!
    یہ کرنسی کا نظام امور معاملات سے ہے، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رائج امور پر کوئی نفی نہیں کی! اب اگر کوئی مدعی ہے تو اسے سونے چاندی کے علاوہ کسی اور کرنسی نظام کی ممانعت ثابت کرنی ہو گی!
    جہاں تک میرا مطالعہ ہے، ایسی کوئی ممانعت موجود نہیں! بس بعض لوگوں کی جیب سے نکالی ہوئی تاویلیں ہیں، اور وہ بھی صرف اور صرف کفار کی مخالفت پر مبنی ہے، جبکہ اس معاملہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کفار کی مخالفت نہیں کی!
    اس تفصیل سے آپ کو ان شاء اللہ میرا مدعا سمجھ آگیا ہو گا!
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 05، 2015 #14
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    690
    موصول شکریہ جات:
    438
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

  5. ‏ستمبر 06، 2015 #15
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,766
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    ارسلان بھائی پھر تو آپ کو مبارک ہو کب بیعت کر رہے ہیں اور جھاد کے لیے جا رہے ہیں
     
  6. ‏ستمبر 06، 2015 #16
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,766
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    لیکن کسی کا سونے کے سکے جاری کرنا اس کء خلافت کی صحت پر دلیل ہونا
    یہ میرے علم میں نیا اضافہ ہے
     
  7. ‏ستمبر 06، 2015 #17
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    2,412
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محمد فیض الابرار بھائی!
    یہ انداز اختیار نہ کریں! کیونکہ ارسلان بھائی بھی کافی جذباتی واقع ہوئے ہیں! اس طرح کا نقد اور کوئی ایسا شخص کرے جس سے اچھے مراسم ہوں ، تو انسان اس کو برا نہیں سمجھتا ، مگر اگر مراسم اچھے نہ ہوں تو اس کی ہر بات بری سی لگتی ہے!
    آپ ان شاء اللہ میری بات سمجھ رہے ہونگے!
    ویسے میں یہ بات ارسلان بھائی سے کہوں تو وہ ان شاء اللہ ناراض نہ ہونگے! ابتسامہ
     
  8. ‏ستمبر 06، 2015 #18
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,766
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    ابن داؤد بھائی جزاکم اللہ خیرا
    لیکن ارسلان بھائی کو ایسا طرزعمل قطعا نہیں اختیار کرنا چاہیے
    انہیں اگر کوئی متنازعہ امر شئیر کرنا ہے تو اس کے لیے انہیں بطور خاص ٹیگ کرنا زیب نہیں دیتا اور بالخصوص ایسی کیفیت میں جب اس موضوع پر گرما گرم بحث ہو چکی ہو اور میں غیر مشروط خاموشی اختیار کر چکا ہوں تو انہیں اجتناب کرنا چاہیے
    یہ ان کا حق ہے کہ جو چاہے شئیر کریں لیکن اس انداز اور اسلوب میں
    کم از کم میں اس کی تائید نہیں کروں گا
     
  9. ‏ستمبر 06، 2015 #19
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,540
    موصول شکریہ جات:
    2,412
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اب جانے بھی دیں بھائی ! ہوتی رہتی ہے گرمی سردی،
     
  10. ‏ستمبر 06، 2015 #20
    کنعان

    کنعان سینئر رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,405
    موصول شکریہ جات:
    4,347
    تمغے کے پوائنٹ:
    483

    السلام علیکم


    ماہرین کے اندازے کے مطابق "داعش" والوں کو تیل کی فروخت سے بیس لاکھ ڈالر روزانہ آمدنی ہوتی ہے۔

    اس آمدنی کا کچھ حصہ پرچار کی خاطر سونے اور چاندی کے سکے بنانے پر خرچ کیا جا سکتا ہے، ظاہر ہے کہ ان سکوں سے ادائیگیاں تو نہیں کی جا سکیں گی۔

    اگر وہ ڈھالے بھی جائیں گے تو بہت ہی کم مقدار میں اور جلد ہی بازار سے غائب ہو جائیں گے۔

    "داعش" والوں کی اصل دولت آج کی طرح "پیٹروڈالر" ہی رہیں گے۔

    اگر ان کو پسند ہو تو وہ انہیں "نفتی دینار" نام دے سکتے ہیں لیکن اس سے بات تبدیل نہیں ہو گی۔
    (ڈان نیوز)

    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں