1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سہو کے سجدوں کے بعد پھر تشہد نہ پڑھے

'سجدہ سہو وشکر وتلاوت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 15، 2012۔

  1. ‏مئی 15، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وسلم أنس والحسن ولم يتشهدا‏.‏ وقال قتادة لا يتشهد‏.
    اور حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے سلام پھیرا (یعنی سجدہ سہو کے بعد) اور تشہد نہیں پڑھا اور قتادہ نے کہا کہ تشہد نہ پڑھے۔


    حدیث نمبر: 1228
    حدثنا عبد الله بن يوسف،‏‏‏‏ أخبرنا مالك بن أنس،‏‏‏‏ عن أيوب بن أبي تميمة السختياني،‏‏‏‏ عن محمد بن سيرين،‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين فقال له ذو اليدين أقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أصدق ذو اليدين ‏"‏‏.‏ فقال الناس نعم‏.‏ فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين أخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع‏.‏

    ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کوا مام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی نے خبر دی، انہیں محمد بن سیرین نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تو ذوالیدین نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذوالیدین سچ کہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا جی ہاں! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعت جو رہ گئی تھیں ان کو پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدے کی طرح (یعنی نماز کے معمولی سجدے کی طرح) سجدہ کیا یا اس سے لمبا پھر سرا ٹھایا۔


    حدثنا سليمان بن حرب،‏‏‏‏ حدثنا حماد،‏‏‏‏ عن سلمة بن علقمة،‏‏‏‏ قال قلت لمحمد في سجدتى السهو تشهد قال ليس في حديث أبي هريرة‏.‏
    ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے، انہوں کہا کہ میں نے محمد بن سیرین سے پوچھا کہ کیا سجدہ سہو میں تشہد ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تو اس کا ذکر نہیں ہے۔


    کتاب السہو صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں