1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیاہ کار عورت اور اس کی سزا

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 13، 2012۔

  1. ‏جون 13، 2012 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا - سورة النِّسَاء ﴿004:015﴾
    ‏ [جالندھری]‏ مسلمانو! تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے یا خدا ان کے لیے کوئی اور سبیل (پیدا کرے) ‏

    تفسیر ابن كثیر
    سیاہ کار عورت اور اس کی سزا
    ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہو جائے تو اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے گھر میں ہی قید کر دیا جائے اور جنم قید یعنی موت سے پہلے اسے چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے بعد یہ اور بات ہے کہ اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہو گئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب تک سورۃ نور کی آیت نہیں اتری تھی زنا کار عورت کے لئے یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے اور بےشادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم اترا، حضرت عکرمہ ، حضرت سعید بن جبیر ، حضرت حسن ، حضرت عطاء خرسانی ٫ حضرت ابو صالح ، حضرت قتادہ ، حضرت زید بن اسلم اور حضرت ضحاک کا بھی یہی قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اترتی تو آپ پر اس کا بڑا اثر ہوتا اور تکلیف محسوس ہوتی اور چہرے کا رنگ بدل جاتا پس اللہ تعالٰی نے ایک دن اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی کیفیت وحی سے نکلے تو آپ نے فرمایا مجھ سے حکم الٰہی لو اللہ تعالٰی نے سیاہ کار عورتوں کے لئے راستہ نکال دیا ہے اگر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ مرد سے اس جرم کا ارتکاب ہو تو ایک سو کوڑے اور پتھروں سے مار ڈالنا اور غیر شادی شدہ ہوں تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی (مسلم وغیرہ) ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث الفاظ کچھ تبدیلی کے ساتھ سے مروی ہے، امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں، اسی طرح ابو داؤد میں بھی،

    ابن مردویہ کی غریب حدیث میں کنوارے اور بیاہے ہوئے کے حکم کے ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ دونوں اگر بوڑھے ہوں تو انہیں رجم کر دیا جائے لیکن یہ حدیث غریب ہے، طبرانی میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ نساء کے اترنے کے بعد اب روک رکھنے کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قاید رکھنے کا حکم نہیں رہا، امام احمد کا مذہب اس حدیث کے مطابق یہی ہے کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور رجم بھی کیا جائے گا اور جمہور کہتے ہیں کوڑے نہیں لگیں گے صرف رجم کیا جائے گا اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے نہیں مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے رجم کا حکم دیا اور رجم سے پہلے بھی انہیں کوڑے نہیں لگوائے، پھر جمہور کے اس قول کے مطابق معلوم ہوا کہ انہیں کوڑے لگانے کا حکم منسوخ ہے واللہ اعلم۔

    پھر فرمایا اس بےحیائی کے کام کو دو مرد اگر آپس میں کریں انہیں ایذاء پہنچاؤ یعنی برا بھلا کہہ کر شرم و غیرہ دلا کر جوتیاں لگا کر، یہ حکم بھی اسی طرح پر رہا یہاں تک کہ اسے بھی اللہ تعالٰی نے کوڑے اور رجم سے منسوخ فرمایا، حضرت عکرمہ عطاء حسن عبداللہ بن کثیر فرماتے ہیں اس سے مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی فرماتے ہیں مراد وہ نوجوان مرد ہیں جو شادی شدہ نہ ہوں حضرت مجاہد فرماتے ہیں لواطت کے بارے میں یہ آیت ہے،

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے تم لوطی فعل کرتے دیکھو تو فاعل مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو، ہاں اگر یہ دونوں باز آجائیں اپنی بدکاری سے توبہ کریں اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں اور ٹھیک ٹھاک ہو جائیں تو اب انکے ساتھ درشت کلامی اور سختی سے پیش نہ آؤ، اس لئے کہ گناہ سے توبہ کر لینے والا مثل گناہ نہ کرنے والے کے ہے۔ اللہ تعالٰی توبہ قبول کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کسی کی لونڈی بدکاری کرے تو اس کا مالک اسے حد لگا دے اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے، یعنی حد لگ جانے کے بعد پھر اسے عار نہ دلایا کرے کیونکہ حد کفارہ ہے۔

     
  2. ‏جون 13، 2012 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا
     
  3. ‏ستمبر 28، 2012 #3
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    رجم والا حدیث قرآن مجید کی صریح خلاف ہے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ رب العالمین کا حکم ہے فاجلدو کل واحد منھما
    ہر ایک کو سو کوڑے مارو شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ عربی میں کل کا معنی ھوتا ہے ھرایک
     
  4. ‏ستمبر 29، 2012 #4
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    الیاسی صاحب آپ کا ہر جگہ یہ پھڈا ہوتا ہے کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے اس لیے ہم نہیں مانتے ۔ چلیں اسی پر ہی بات کرلیتے ہیں آپ سے گزارش ہے کہ پہلے قرآن پاک میں جو حکم نازل ہے آیت مع ترجمہ وتشریح بیان کرتے ہوئے حدیث مع ترجمہ وتشریح بیان کرنے کے بعد اپنے الفاظ میں خلاصہ لکھیں کہ قرآن پاک میں یہ حکم یوں ہے اور حدیث یہ بتلاتی ہے۔ کیونکہ یہ حدیث اس طرح قرآن کے مخالفت پر مبنی ہے اس بناء پر حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
     
  5. ‏ستمبر 29، 2012 #5
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    یہ تو سراسر انکارِ حدیث ہے۔ غلام احمد پرویز اور جاوید احمد غامدی کا بھی بالکل یہی موقف ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 29، 2012 #6
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    غامدی اور پرویز کی میرے نزدیک کوئی حیثیت نہیں۔ اور نہ میرے پہ ان کی باتیں حجت ہیں۔ وہ ملعون ہیں اگر آپ بھی جواب نھیں دینگےتو آپ بھی غامدی اور پرویز کی طرح ملعون ہونگے حق پر سوچو اور جواب دو رجم والی حدیث قرآن کی خلاف ہے
    قرآن شریف میں ہے فاجلدوا کل واحد منھما ماۃ جلدہ ہر زنا کار کو سو کوڑے مارو جبکہ حدیث میں ہے کہ شادی شدہ کو رجم کرو کیا یہ قرآن مجید کی صریح مخالفت نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    ابو مالک صاحب غامدی او پرویز تو منکرین حدیث ہیں اور میری استاد محترم جناب الیاس ستار صاحب تمام صحیح احادیث کو مانتے ہیں بشرطیکہ قرآن سے نہ ٹکراے جبکہ رجم والی حدیث قرآن شریف سے ٹکراتی ہیں اب جواب تم اور تمہارے اساتذہ تمھارے مغرب سے مشرق تک تمام دنیا کی مولوی حضرات پر قرض ہیں

    انتباہ۔!
    نامناسب الفاظ حذف کرتے ہوئے الیاسی صاحب کو وارننگ دی جارہی ہے۔ کہ آئندہ وہ اپنی قلم کو کنٹرول میں رکھیں۔ انتظامیہ
     
  7. ‏ستمبر 30، 2012 #7
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    الیاسی صاحب! آپ کی کئی پوسٹ دیکھیں جن میں آپ نے اور آپ کے استادِ محترم نے عربی زبان میں بہت اہمیت بتائی، لیکن عملاً آپ دونوں حضرات مجھے عربی سے نا بلد لگتے ہیں۔

    آپ نے درج بالا پوسٹ میں قرار دیا ہے کہ آپ کے نزدیک آیت کریمہ السارق والسارقة فاقطعوا أيدهما ہر چور کے متعلق نہیں بلکہ مخصوص چور سے متعلق ہے، کیونکہ اس میں كل كا لفظ موجود نہیں ہے۔
    الیاسی صاحب! آپ اور آپ کے عجمی استاد کو علم ہونا چاہئے کہ عربی زبان میں عموم کیلئے صرف کل نہیں بلکہ اور بہت سارے صیغے استعمال ہوتے ہیں، جن میں ایک لام تعریف بھی ہے۔
    تفصیل کیلئے دیکھیں!
    http://arabic.almenhaj.net/text.php?linkid=436
    http://www.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=623&idto=653&bk_no=35&ID=468

    اس آیت کریمہ میں السارق اور السارقۃ دونوں پر لامِ تعریف داخل ہے جو بالاجماع عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ تو آپ دونوں عربی کے ماہرین نے کیسے اس آیت کریمہ کو مخصوص قرار دے دیا؟؟؟ کچھ ہمیں بھی تو سمجھائیں۔
    آپ سے گزارش ہے کہ ازراہِ کرم آیت کریمہ والسارق والسارقة فاقطعوا أيدهما کا صحیح ترجمہ کر دیں۔

    تو معلوم ہوا کہ زنا اور چوری والی دونوں آیات ہر زانی اور چور سے متعلق ہیں (کیونکہ دونوں میں عموم کے صیغے موجود ہیں) اگر آپ اس عموم سے بعض چوروں کو احادیث کی بناء مستثنیٰ سمجھتے ہیں تو پھر بعض زانیوں کو حدیث کی بناء پر مستثنیٰ کیوں نہیں سمجھتے؟؟؟!

    جواب کا انتظار رہے گا۔
     
  8. ‏ستمبر 30، 2012 #8
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    الیاسی صاحب اس پوسٹ کاجواب دیں ۔ ادھر ادھر کی باتوں میں نہ پڑیں بس بات کو اسی بات پر ہی فوکس کریں۔
     
  9. ‏اکتوبر 01، 2012 #9
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اگر آپ کہیں کہ ہر چور کے بارے میں! تو پھر آپ رجم کے علاوہ چوری کے متعلق بھی تمام احادیث کے منکر ہیں۔

    اور اگر آپ کہیں کہ مخصوص چور کے بارے میں! تو پھر ہم بھی جواب میں کہیں گے کہ زنا کے متعلق سورۃ النور کی آیت مخصوص زانیوں (غیر محصن) کے متعلّق ہیں۔

    ارے بھائی کیا ھوا؟؟ السارق والسارقۃ میں کل کا لفظ نھیں ہے اور الزانی والزانیہ میں کل کا لفظ نھیں اس لیے چور کی تفصیل والی احادیث قرآن کی خلاف نھیں البتہ چونکہ الزانیۃ والزانی میں کل کا لفظ موجود ہے اس لیے یھاں احادیث قرآن کی خلاف جارہی ہیں
    اسلیے استاد محترم کا دعوی ہے کہ رجم والی حدیث قرآن کی خلاف ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی خلاف کوئی بات نھیں کرتے اس لیے رجم کا سزا مولویوں کا ایجاد کردہ ہے
    رسول اللہ کانھیں
     
  10. ‏اکتوبر 01، 2012 #10
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86


    برارمن گڈ مسلم صاحب جواب دیدیا ہے پڑھ لو اور دوسرا دلیل لاو ان کنتم صادقین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں