1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کے مجسمے

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از danish ghaffar, ‏فروری 06، 2018۔

  1. ‏فروری 06، 2018 #1
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    92
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    السلام علیکم
    محترم شیوخ سوال یہ ہے کے
    فتح مکّہ میں جب کعبہ سے بت نکلے گئے تو کیا کعبہ سے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے بت بھی نکلے تھے ????

    تیر کمان پکڑے ہوئے ??????
     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 06، 2018
  2. ‏فروری 06، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    ـــــــــــــــــــــــ
    وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ (المائدة 3 )
    (اورتم پر یہ بھی حرام کیا گیا کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو)
    اس آیت میں امام ابن کثیر لکھتے ہیں :
    بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کے مجسمے گڑے ہوئے پائے، جن کے ہاتھوں میں تیر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ انہیں غارت کرے، انہیں خوب معلوم ہے کہ ان بزرگوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں لی ۔ (صحیح بخاری:1601)
    یہ مکمل حدیث صحیح البخاری (4288 )
    میں اس طرح ہے :
    عن ابن عباس رضي الله عنهما:‏‏‏‏ "ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم مكة ابى ان يدخل البيت وفيه الآلهة، ‏‏‏‏‏‏فامر بها، ‏‏‏‏‏‏فاخرجت، ‏‏‏‏‏‏فاخرج صورة إبراهيم وإسماعيل في ايديهما من الازلام، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ "قاتلهم الله، ‏‏‏‏‏‏لقد علموا ما استقسما بها قط"، ‏‏‏‏‏‏ثم دخل البيت فكبر في نواحي البيت، ‏‏‏‏‏‏وخرج ولم يصل فيه".
    سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو بیت اللہ میں اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں بت موجود رہے بلکہ آپ نے حکم دیا تو بتوں کو باہر نکال دیا گیا۔ انہیں میں ایک تصویر ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی بھی تھی اور ان کے ہاتھوں میں (پانسہ) کے تیر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ان مشرکین کا ناس کرے ‘ انہیں خوب معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے کبھی پانسہ نہیں پھینکا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اندر چاروں طرف تکبیر کہی پھر باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی تھی۔
    ـــــــــــــــــــــــــــ
    اور صحیح بخاری میں دوسری جگہ یہی روایت اسطرح ہے :
    عن ابن عباس رضي الله عنهما، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ دخل النبي صلى الله عليه وسلم البيت فوجد فيه صورة إبراهيم وصورة مريم، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ "اما لهم فقد سمعوا ان الملائكة لا تدخل بيتا فيه صورة هذا إبراهيم مصور فما له يستقسم".(صحیح البخاری 3352 ،سنن ابی داود 2027 )
    جناب ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس میں ابراہیم علیہ السلام اور مریم علیہما السلام کی تصویریں دیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش کو کیا ہو گیا؟ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ فرشتے کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں رکھی ہوں، یہ ابراہیم علیہ السلام کی تصویر ہے اور وہ بھی پانسہ پھینکتے ہوئے۔
    ــــــــــــــــــــــــــ
     
    Last edited: ‏فروری 06، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں