1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا ابو بصیر رضی اللہ عنہ کاروائی۔

'نظم جماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏جون 14، 2013۔

  1. ‏جون 14، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کی کاروائی پر رسول اللہ ﷺ کی خاموشی کو بھی ایسی اہمیت حاصل ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر رحمت عالم ﷺ نے کفار کی شرائط مان کر جو صلح کر لی تھی، حقیقت میں اللہ کی بہت بڑی مصلحتیں اس میں پنہاں تھیں۔ کفار کے چنگل سے بچ کر مدینہ منورہ پہنچنے والے صحابی رسول جناب سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو جب حسب وعدہ واپس کیا گیا تو انہوں نے ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچ کر ایک کافر کو قتل کر دیا، اور دوسرا بھاگ کر مدینہ طیبہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس چلا گیا۔ سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی اس کے پیچھے پیچھے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرہ انور پر ناراضگی کے آثار دیکھ کر سمجھ گئے کہ اگر پھر میری طلب میں کوئی پہنچا تو مجھے واپس کر دیا جائے گا۔ اس نئے المیہ سے بچنے کے لئے وہاں سے نکل کر جدہ اور ینبع والی پٹی پر ڈیرہ ڈال دیا۔ ادھر مظلوم و محصور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جس کو بھی موقع ملتا وہ بھاگ کر سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی جمعیت میں شامل ہو جاتا۔

    اس ہلکی سی جماعت نے کفار مکہ کے تجارتی قافلوں کو اپنا ہدف بنانا شروع کیا، اور قریش کی تجارت پر ایک کاری ضرب لگائی۔ آخر کار انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بھیج کر سوال کیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس بلائیے، اور ہمارے راستہ کو محفوظ بنا دیجیے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے پاس مدینہ طیبہ بلا لیا۔

    اللہ تعالی فرماتا ہے:

    وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۰ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۰ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۰ۭ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (سورۃ الانفال:60)
    اور جہاں تک ہو سکے ان کے لئے قوت تیار کر رکھو، اور گھوڑے کہ ان سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا لوگوں پر جنہیں تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے، ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرہ برابر نقصان نہیں کیا جائے گا۔

    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قوت کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ اسے بالکل عام رکھا ہے کہ جس وقت جو قوت درکار ہو اسے بروئےکار لایا جائے۔

    کتاب شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا سے خوشہ چینی
    تالیف: پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی فاضل اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ۔
    ناشر مکتبہ قدوسیہ
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 14، 2013 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. اسحاق سلفی
    جوابات:
    0
    مناظر:
    179
  2. محمد فراز
    جوابات:
    11
    مناظر:
    1,078
  3. Rashid Yaqoob Salafi
    جوابات:
    2
    مناظر:
    1,232
  4. اسحاق سلفی
    جوابات:
    5
    مناظر:
    2,200
  5. ابو عکاشہ
    جوابات:
    0
    مناظر:
    777

اس صفحے کو مشتہر کریں