1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی بیعت پررضامندی کا ثبوت مع تحقیق سند

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏مئی 23، 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جنوری 20، 2014 #41
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جزاک اللہ خیر کفایت صاحب
     
  2. ‏جنوری 20، 2014 #42
    نوائے دل

    نوائے دل رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 21، 2013
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    35
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    بھائی اگر اس کتاب کا نام اور لنک مل جائے تو آپ کی نوازش ہو گی یا سکین شدہ عبارت لگا دیں ۔
     
  3. ‏جنوری 21، 2014 #43
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    نوید عثمان صاحب انساب الاشراف کی کتاب میں اگر قریش کی باہمی رشتہ داریاں نہیں ملیں گی تو کس کا ذکر کیا جائے گا اور بلاذری رحمہ اللہ اس میں تنہا نہیں ہیں اور جتنی بھی علم الانساب کی کتب ہیں ان سب میں قبائل قریش کی باہمی رشتہ داریوں کا ذکر ملتا ہے اور دوسری بات یہ ہے بنو امیہ اور بنو ہاشم کی باہمی رشتہ داریوں کا ذکر کرنے سے کوئی بھی ناصبی ہو سکتا ہے یہ کس نے کہہ دیا اس طرح کی رشتہ داریوں کا بیان تو صحاح ستہ میں بھی ملتا ہے تو کیا وہ بھی ناصبی ہیں ؟
    لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
     
  4. ‏اپریل 12، 2014 #44
    یاسر ناصر

    یاسر ناصر مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 10، 2013
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    28
    تمغے کے پوائنٹ:
    21


    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    لیکن شیخ پھر بھی ایک شبہ تو ابھی بھی باقی رہتا ہے کیونکہ متقدمین میں سے کسی ایک نے بھی صریحا بلاذری کی توثیق نہیں کی ۔ اس شبہ کو دور فرمائیں۔ جزاک اللہ خیر۔ امام طبری رحمہ اللہ والی سند تو معتبر ہے جو آپ نے بعد میں نقل کی اور ثابت بھی کیا۔ اس روایت کی صحت کو ماشاء اللہ بہت مفید بحث کی ہے۔ میرے سوال کا جواب اس روایت سےہٹ کر صرف بلاذری کی توثیق اور عدالت پر ہے۔اس روایت پر میرا شبہ الحمد للہ دور ہو گیا ہے
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 12، 2014 #45
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    محترم بھائی یہ کوئی شبہہ نہیں ہے۔
    بہت سارے ایسے رواۃ ہیں جن کے بارے میں جرح یا توثیق کے اقوال ہمیں صرف متاخرین ناقدین سے ملتے ہیں۔تو کیا ہم ایسے سارےرواۃ سے متعلق متاخرین ناقدین کے اقوال رد کردیں ؟
    یہ اصول ہی درست نہیں ہے ورنہ مسئلہ صرف بلاذری کا نہیں ہے بلکہ اور بھی بہت سے رواۃ کے بارے میں متاخرین کے اقوال کالعدم ہوجائیں گے ۔

    دوسری بات یہ ہے بلاذری بنیادی طورپر احادیث کے راوی نہیں بلکہ تاریخی روایات کے راوی ہے۔احادیث کی روایت انہوں نے نا کے برابر کی ہے۔
    اور علم رجال سے دلچسپی رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ متقدمین عموما انہیں رواۃ پر اپنے فیصلے دیتے ہیں جنہوں احادیث کی روایت میں حصہ لیا ہے۔
    اوربلاذری کی اسی وجہ سے متقدمین سے ہمیں توثیق نہیں ملتی ۔

    نیز جس طرح متقدمیں نے انہیں ثقہ نہیں کہا اسی طرح متقدمیں انہیں ضعیف بھی نہیں کہا ہے۔اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔اوریہ کہنے کے بجائے کہ متقدمیں نے ان کی توثیق نہیں کی ہے ، یوں کہنا چاہئے کہ متقدمین نے ان پر جرح وتعدیل کے اعتبار سے کوئی کلام ہی نہیں کیا ہے ۔
    اگرکسی راوی کو متقدمین نے ضعیف کہا ہے اور متاخرین اسے ثقہ کہتے ہیں تو یہاں یہ اشکال ہوسکتاہے کہ متقدمیں نے ضعیف کہا ہے اور متاخریں ثقہ کہہ رہے ہیں ۔ اس کے پیچھے کیا سچائی ہے۔
    لیکن اگر متقدمیں کسی راوی کے بارے میں خاموش ہوں اور متاخرین اسے ثقہ کہہ رہے ہیں تو ایسی صورت میں کسی طرح کا اشکال نہیں ہونا چاہے۔

    اس کے علاوہ ایک اور بات پیش نظر وہ یہ کہ محدثین خواہ متقدمین ہوں یا متاخرین وہ جب کسی روای کی توثیق کرتے ہیں یا جرح کرتے ہیں تو اس کی مروایات ہی کو بنیاد بناتے ہیں ۔
    یہ اصول ، اصل دلیل ہے کسی راوی کے ثقہ ہونے یا ضعیف ہونے پر ۔
    پھراگرہم اصل دلیل کو بنیاد بناکر فیصلہ کریں یعنی امام بلاذری رحمہ اللہ کی روایات کا ناقدانہ مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا کہ ان کی روایات ثقہ روایات کے موافق ہیں یہ قطعی دلیل ہے کہ امام بلاذری رحمہ اللہ ثقہ ہیں ۔
    اسی چیز کی وضاحت کرتے ہوئے دکتور اکرم ضیاء جنہوں نے اسلامی تاریخ میں دکتورہ کیا ہے ، لکھتے ہیں:
    ويعد البلاذري أبرز المؤرخين المسلمين بعد الطبري من حيث سعة المعلومات التي دونها والفترات التاريخية التي غطاها، لكن كتابه أنساب الأشراف أحسن انتقاء للروايات وأنقى أسانيد وأكثر اتفاقا مع روايات أهل الثقة والصدق من تأريخ الطبري. وأنساب الأشراف يتناول التاريخ الإسلامي في إطار الأنساب " ابتداء بالأسر والعشائر والقبائل القرشية، وانتهاء بغيرها من القبائل العربية " . وباستقراء مشايخ البلاذري نجد أغلبهم توفي قبل وفاة البلاذري بأكثر من عشرين عاماً تقريباً، مما يدل على أنه صنف كتابه قديما قبل مرضه وبمقارنة رواياته بروايات غيره كابن سعد وخليفة نجدها متفقة مع الروايات الحسنة والصحيحة التي أوردتها كتب السنة والتاريخ، لذلك فإذا حدث في رواياته ضعف أو شذوذ فهو من قبل الرواة الذين نقل عنهم لا منه هو . وقد استقى رواياته في أحداث الفتن من ثقات المحدثين من شيوخ البخاري ومسلم في الصحيحين مثل عفان بن مسلم، وأحمد بن إبراهيم الدورقي، وعلي بن المديني وعمرو بن محمد الناقد، وأبي بكر بن أبي شيبة، وأبي خيثمة . [عصر الخلافة الراشدة (ص:15ـ 16)]
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 3
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 14، 2014 #46
    یاسر ناصر

    یاسر ناصر مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 10، 2013
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    28
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    جزاک اللہ خیر۔ ماشاء اللہ آپ نے بہترین طریقہ سے رہنمائی فرمائی
     
  7. ‏اگست 21، 2014 #47
    نوید عثمان

    نوید عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 24، 2012
    پیغامات:
    181
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    53

     
  8. ‏اگست 21، 2014 #48
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    حق حق ہے اور حق چھپ نہیں سکتا ۔اسی لیے کسی نے کہا تھا ۔۔ حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولؤں سے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں