1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا حسین رض کے قاتل، شیعہ روایات کی رو سے

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از HUMAIR YOUSUF, ‏نومبر 13، 2015۔

  1. ‏نومبر 13، 2015 #1
    HUMAIR YOUSUF

    HUMAIR YOUSUF رکن
    جگہ:
    Karachi, Pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 22، 2014
    پیغامات:
    191
    موصول شکریہ جات:
    56
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    آئیے حضرت حسین رض کے چند قاتلوں کا نام لیتے ہیں:

    سب سے پہلے وہ فوج جس نے حضرت حسین رض پر کربلا میں حملہ کیا تھا
    ((وأصبح عمر بن سعد فعبأ أصحابه ، وقد بلغوا إلى ذلك اليوم ثلاثين ألفا ، فجعل الميمنة لعمر وبن الحجاج ، والميسرة لشمر بن ذي الجوشن ، وعلى الخيل عزرة بن قيس ، وعلى الرجالة شبث بن ربعي)) الإرشاد للمفيد ج: / 95
    اور وہ تیس ہزار کے قریب اس دن پہنچ گئے، لہٰذہ ’’ عمر بن الحجاج ‘‘ نے فوج کے دائیں حصے حصہ کو سنبھالا اور ’’ شمر بن ذی الجوشن بن قیس‘‘ نے بائیں حصہ کو۔ جو پیدل فوج کی قیادت کررہا تھا وہ عزرا بن قیس تھا اور جو سواروں کی قیادت کررہا تھا وہ ’’ شبت بن ربعی ‘‘ تھا۔ (الارشاد از شیعی عالم المفید ۲/۹۷)

    اب ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے سیدنا حسین رض کو کوفہ ٓنے کے خطوط لکھے کہ وہاں آنکے امام بنی ہثم كتب شبث بن ربعي وحجار بن أبجر ويزيد بن الحارث بن رويم وعزرة بن قيس وعمرو بن الحجاج الزبيدي ومحمد بن عمــــير التميمي، أمّا بعد، فقد اخضرّ الجناب وأينعت الثــمار فإذا شئت فاقــــدم على جند لك مجنّدة والسلام —
    المفيد في الإِرشاد ج2 ص37ترجمہ: پھر ’’ الشبت بن ربعی‘‘ ، حجر بن ابجار، یزید بن الحارٹ بن رووئم، ’’ عزرا بن قیس‘‘، عمر بن الحجاج ال زوبئدی‘‘، محمد بن عمیر التمیمی نے لکھا ’’ پھل پک چکیں ہیں اور اتارنے کے لئے تیار ہیں، لہٰذہ ہمارے پاس ائیے ۔ ہمارے پاس ایک بہت بڑی فوج ہے جو آپکا انتظار کررہی ہے۔ وسلام‘‘ (المفید الارشاد ۲/۳۷)
    اور
    وكان من المكاتبين حبيب بن مظاهر ، ومسلم بن عوسجة ، وسليمان بن صرد ، ورفاعة بن شداد ، والمسيب بن نجبة ، وشبث بن ربعي ، وحجار ابن أبجر ، ويزيد بن الحرث بن رويم ، وعزرة بن قيس ، وعمرو بن الحجاج ، ومحمد ابن عمير و أمثالهم من الوجوه

    المصدر \راجع الإرشاد : 2 / 36 – 37
    .

    ترجمہ :اور ان لوگوں سے جنہوں نے خطوط لکھے ان میں مسلم بن عوسجہ، سلیمان بن صرد، رفاح بن شداد، ال معصیب بن نجبہ، ’’ شبت بن ربعی‘‘، حجر بن ابجار، یزید بن الحارث بن روئم، ’’ عذرا بن قیس ‘‘، عمر بن ال الحجاج، محمد بن عمیر اور کئی اور شامل تھے۔

    پھر اسکے بعد الشمر آتا ہے، وہ کون تھا؟؟؟

    شمر بن ذی الجوشن ، علی علیہ السلام کے صفین میں حامیوں میں سے ایک تھا۔ (ماخذ سفینات ال بحار ، شیخ طوسی ۳/۴، باب الشین بعد المیم ص ۴۹۲)
    زحربن قيس هذا شهد مع علي (ع) الجمل و صفين كما شهد صفين معه شبث بن ربعي و شمر بن ذي الجوشن الضبابي ثم حاربوا الحسين عليه السلام يوم كربلاء (من شيعة أمير المؤمنين علي ) فكانت لهم خاتمة سوء نعوذ بالله من سوء الخاتمة.

    المصدر/ في رحاب ائمة اهل‏ البيت(ع) ج 1 ص 9السيد محسن الامين الحسيني العاملي

    ترجمہ ’’ ذہر بن قیس نے جمل اور صفین کی جنگیں، امیر المونین علی علیہ السلام کے ساتھ دیکھیں تھیں اور اسکے ساتھ الشبت بن ربعی اور شمر ذی الجوشن ال دبیبی بھی تھے۔ پھر یہ لوگ الحسین علیہ السلام کے خلاف کربلا میں لڑے ۔ سو انکا انجام ایک بہت بھیانک ہوا اور اللہ ہمیں ایسے انجام سے بچائے

    نتائج ملاحظہ ہوں۔
    کن لوگوں نے سیدنا حسین رض کے خلاف لڑنے والی فوج میں حصہ لیا
    ۱) عمرو بن سعد
    ۲) شمر بن الجوشن جس نے فوج کے بائیں حصے کو سنبھالا تھا (ایک شیعان علی جو حضرت علی رض کے ساتھ صفین میں تھا)
    ۳) عمر بن الحجاج جس نے فوج کے دائیں حصے کو سنبالا تھا (حضرت حسین کو کوفہ آنے کے لئے خط لکھا)
    ۴) عزرا بن قیس،سواروں کی قیادت کررہا تھا (اس نے بھی حضرت حسین رض کو خط لکھ کر کوفہ آنے دعوت دی)
    ۵) شبت بن ربعی جو کہ پیدل افواج کا قائد تھا (اس نے بھی حضرت حسین کو کوفہ آنے کے لئے خط لکھا)

    انکے نام کون کربلا کے میدان جنگ میں بتارہا ہے اس فوج (تمام کے تمام کوفی شیعان علی) کے قائد جو اسمیں موجود تھے؟ انکے اپنے امام حضرت حسین رض جو کربلا میں انکو اسطرح مخاطب کررہے تھے

    ((يا شبث بن ربعي، يا حجار بن أبجر، يا قيس بن الاشعث، يا يزيد بن الحارث، ألم تكتبوا إلي أن قد أينعت الثمار واخضر الجناب، وإنما تقدم على جند لك مجندة ؟ وناداهم الحر بن يزيد أحد أصحاب الحسين وهو واقف في كربلاء فقال لهم :أدعوتم هذا العبد الصالح حتى إذا جاءكم أسلمتموه ثم عدوتم عليه لتقتلوه فصار كالأسير في أيديكم؟لا سقاكم الله يوم الظمأ..))..الإرشاد للمفيد.
    ! الارشاد ج2 ص 98

    ترجمہ: اے بشت بن ربیع، اے حجر بن ابجر، اے قیس بن اشبت، اے یزید بن حارث، کیا تم نے مجھے خط نہیں لکھے کہ پھل توڑنے کے لئے پک چکے ہیں اور جب میں یہاں (کوفہ) ٓونگا تو یہاں ایک بہت بڑی فوج کا پاو گا جو میری مدد کرے گی۔

    تبصرہ:لہذہ آپ نے دیکھا کہ جن لوگوں نے حضرت علی رض کی صفین میں حضرت معاویہ رض کے خلاف حمایت کی، انہوں نے ہی حضرت حسین رض کو مارا اور انہی لوگوں کو شیعان علی کہا جاتا تھا۔

    قریب ہے یارو روزِ مَحشر چُھپے گا کُشتوں کا خون کیوں کر
    جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر۔۔۔ لہو پکارے گا آستیں کا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں