1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شادی اور دو عمل

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن بشیر الحسینوی, ‏اپریل 21، 2011۔

  1. ‏اپریل 21، 2011 #1
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,059
    موصول شکریہ جات:
    4,411
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    شادی اور دو عمل :

    شادی کے متعلق کچھ امور پر عمل مسنون ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں نے ان کو چھوڑا ہوا ہے
    (١)جس کی شادی ہوئی ہو اس کو ان الفاظ میں دعا دینا

    بَارَکَ اللٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیکَ وَجَمَعَ بَینَکُمَا فیِ خَیرِ

    (سنن ابی داود:٢١٣٢،اس کو ابن حبان (٤٠٥٢)حاکم (٢٧٤٥)ذہبی اور ابن الملقن(البدر المنیر:ج٧ص٥٣٤) نے صحیح کہا ہے اور امام ترمذی نے کہا:حسن صحیح(سنن الترمذی:١١١٤)

    شادی کے موقع پر اسلا م اور اسلا م کی سنہری تعلیمات کی غیرت کا جنازہ نکلتا ہے کیونکہ آج شادی اس کو کہا گیا ہے جس میں عورتیں بناو سنگھار کرکے بے پردہ نظر آئیں ،مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو،میوزک چل رہا ہو افسوس کہ جب کسی عزیز کی شادی ہوتی ہے تو لوگ اس میں شرکت کرنے کے لئے ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں لبا س ، بناو سنگھار اور فضول غیر شرعی کاموں میں مگر کیا کبھی کسی نے شادی میں شرکت کرنے سے پہلے دلہے کو دی جانے والی دعا بھی یاد کی ؟!افسوس کہ مسلمان نے شادی پر میوزک ،ڈھول ،مووی ، مہندی لے کر جانا ،لمبی چوڑی بارات،نکا ح کے متصل بعد چھوہاروں یا کسی چیز کا باراتیوں میں تقسیم کرنے کو ضروری قرار دے دیا،میں سوال کرنا چاہتا ہوں کہ شادی کے یہ اور دیگر رسوم رواج کی تعلیمات کیا اللہ اور اس کے رسول نے دی ہیں ؟!!!!

    (٢)شب زفاف کی نماز:

    ابو سعید مولی ابو اسید بیان کرتے ہیں :میں نے ایک عورت سے شادی کی ،رخصتی کی رات میرے پاس بہت سے صحابہ کرام موجود تھے ۔۔۔ابو زر اور حزیفہ(رضی اللہ عنہما) نے مجھے حکم دیا :
    اذا اتیت بامراتی ان اصلی رکعتین ،وان تصلی خلفی ان صلیت
    جب میں اپنی بیوی کے پاس جاوں تو دو رکعت ادا کروں اور اگر میں ایسا کروں تو میری بیوی بھی میر ی اقتدا میں نماز پڑے۔(الاوسط لابن المنذرج٤ص١٥٦ سندہ صحیح)
    شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شب زفاف میاں اور بیوی کا دو رکعات نما ز پڑھنا مستحب ہے اور یہ نماز سلف صالحین سے منقول ہے (آداب الزفاف ص٢٢تا٢٤)
    شب زفات مسہری سجانے اورکئی انداز سے تصاویر بنانے ،دلہن کی گود میں دلہے کے بھائی بٹھانے ،ساس کا اپنے بیٹے اوراس کی بیوی کے سر پر چاول اور دودھ وارنے ،دہلیز پکڑائی کے ہزاروں روپے دے دینے والو ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کہ یہ کس دین کی تعلیمات ہیں ۔
     
  2. ‏مئی 24، 2011 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ ابن بشیر بھائی جان۔
    ابھی ایک دوست کی شادی ہونے والی ہے انہوں نے اس سلسلے میں مختصر مختصر مواد دینے کا کہا۔ تو آپ کی درج بالا پوسٹ پر دوبارہ نظر پڑی۔ خصوصیت سے شب زفاف کی نماز کا تو تصور ہی ہمارے معاشرے سے کم و بیش مفقود ہے۔ اس اہم بات کی یاد دہانی کروانے کے لئے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں