1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شادی سے پہلے بیوی کو کس طرح پہچانے گا کہ وہ محبت کرنے والی اور بچے پیدا کرنے والی ہے؟

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جون 06، 2014۔

  1. ‏جون 06، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    شادی سے پہلے بیوی کو کس طرح پہچانے گا کہ وہ محبت کرنے والی اور بچے پیدا کرنے والی ہے؟

    سوال: حدیث شریف میں آیا ہے کہ (محبت کرنیوالی اور بچے پیدا کرنے والی خواتین سے شادی کرو۔۔۔الخ)تو شادی سے پہلے بیوی کو کس طرح پہچانے گا کہ وہ محبت کرنے والی اور بچے پیدا کرنے والی ہے؟


    الحمد للہ:

    معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے آکر کہا: مجھے ایک خوبصورت اور اچھے خاندان کی لڑکی کا رشتہ ملا ہے، لیکن وہ ماں نہیں بن سکتی، تو کیا میں اس سے شادی کرلوں؟ تو آپ نے اسے روک دیا، آدمی پھر دوسری بار بھی آیا، اور سابقہ بات کہی تو آپ نے پھر منع کیا، پھر تیسری مرتبہ بھی ایسے ہی ہوا تو اب کی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پیار کرنیوالی اور بچے پیدا کرنے والی خواتین سے شادی کرو، کیونکہ تمہاری کثرت کی بنا پر ہی میں سابقہ امتوں کے مقابلہ میں فخر کروں گا)

    اسے ابو داود ( 2050 ) اور نسائی ( 3227 ) نے روایت کیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے " آداب الزفاف " ( ص 132 ) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    چنانچہ خواتین میں ماں بننے کی صلاحیت دو طریقوں سے پہچانی جاسکتی ہے:

    پہلا:

    لڑکی کی ماں اور اسکی بہنوں کو دیکھا جائے۔

    دوسرا:

    لڑکی کی پہلے خاوند سے اولاد ہو، تو اس سے بھی معلوم ہوسکتا ہے۔

    شیخ شمس الحق عظیم آبادی "عون المعبود" (6/33)میں کہتےہیں :

    "حدیث میں مذکور لڑکی کی صفت" الْوَدُود " کا مطلب ہے کہ جو اپنےخاوند سے محبت کرے، اور" الْوَلُود " کا مطلب ہے کہ جو کثرت سے بچے جنے۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو صفات کی قید اس لئے لگائی ہے کہ اگر بچے تو پیدا کرنے کی صلاحیت ہو لیکن پیار نہ کرے تو خاوند کو بیوی میں دلچسپی نہیں رہے گی، اور اگر پیار کرنے والی ہو لیکن بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو شادی کا مقصد فوت ہوجائے گا، اور وہ ہے افزائش نسل کے ذریعے امت محمدیہ میں اضافہ، اور ان دونوں اوصاف کا کنواری لڑکیوں کی قریبی رشتہ داروں سے لگایا جاسکتا ہے، اس لئے کہ رشتہ داروں کے مزاج ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہی ہوتے ہیں"ا نتہی

    واللہ اعلم .

    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/32668
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 06، 2014 #2
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    لڑکی کی ماں اور اسکی بہنوں کو دیکھا جائے۔
    بهائی اس کی بهی وضاحت کر دیجیے ، کیا ایسا چیک مناسب هے ؟
    جزاک الله خیرا
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 06، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,377
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    یہاں دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ معلوم کیا جائے کہ لڑکی کی ماں کی کتنی اولاد ہے اور جو شادی شدہ بہنیں ہیں اُن کی کتنی اولاد ہے۔ کم یا زیادہ۔ اور کوئی شادی شدہ بہن بانجھ تو نہیں ۔وغیرہ وغیرہ، تاکہ ایک اندازہ ہوجائے کہ جس لڑکی سے شادی کرنی ہے وہ اولاد پیدا کرنے کی کہاں تک صلاحیت رکھتی ہے۔ واللہ اعلم
     
    • متفق متفق x 4
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  4. ‏جون 07، 2014 #4
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    اوپر حدیث مبارکہ میں جو مسئلہ بیان ہوا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح طور پر پوچھا گیا تھا کہ فلاں لڑکی ماں نہی بن سکتی. تو اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے.
    مگر لڑکی کے خاندان کو دیکھ کر اندازہ لگانا نہ اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہو رہا ہے اور نہ ہی طبی نکتہ نگاہ سے. کسی عورت سے اولاد کا کم ہونا مرد کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے.
    اگر ایسے اندازے کو ترویج دیا جائے تو کسی کی اکلوتی بیٹی کی شادی ہی نا ہو.
    ہاں جب کسی کے بارے میں واضح طور پر پتہ چل جائے یعنی لڑکی کے گھر والے بتا دیں تو اور بات ہے. ورنہ ایسے ہی اندازہ لگانا میرے خیال میں مناسب نہی.
    باقی علماء ہی بہتر بتا سکتے ہیں.
     
  5. ‏جون 07، 2014 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس حدیث کے ایک حصے کی تشریح باقی ہے یعنی یہ کیسے پتہ چلے گا کہ یہ عورت محبت کرنے والی ہے یا نفرت کے انگارے برسانے والی ہے؟
     
  6. ‏جون 07، 2014 #6
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,979
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام علیکم -

    کوئی ممبر کفایت الله بھائی، خضر حیات بھائی یا انس بھائی اس حدیث کی تخریج بیان کردیں یا صحیح مفہوم بیان کردیں تو بہتر ہو گا -اوپر بیان کیا گیا حدیث کا مفہوم میرے خیال میں صحیح نہیں اور یہ بھی کہ میرے خیال میں شاید یہ ضعیف حدیث ہے - (واللہ اعلم)-

    دویسرے میرے خیال میں یہ دونوں باتیں یعنی محبت کرنیوالی اور بچے پیدا کرنے والی خواتین سے شادی کرو۔ یہ باتیں علم غیب سے تعلق رکھتی ہیں - ایسا ممکن نہیں کہ ہم پہلے سے ہی یہ جان لیں کہ آیا واقعی میں جس لڑکی سے شادی کا ارداہ ہو وہ لڑکی پیار کرنے والی ہو گی یا نہیں یا بچہ جننے والی ہو گی یا نہیں - اس بارے میں صرف اندازہ لگایا جا سکتا ہے- حتمی بات نہیں کہی جا سکتی -

    اس حدیث میں موجود آدمی کو آخرکیسے پتا چلا کہ وہ لڑکی جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا ماں نہیں بن سکتی تھی؟؟؟ جب کہ آج کل کے اس تیز رفتار اور حیرت انگیز سائنسی دور میں بھی یہ ممکن نہیں کہ پہلے سے یہ معلوم ہو جائے کہ لڑکی ماں نہیں بن سکتی - اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈاکٹر ایک شادی شدہ لڑکی کو که دیتے ہیں کہ یہ ماں نہیں بن سکتی- لیکن کچھ عرصے یا کچھ سال بعد وہ ماں بن جاتی ہے - ایسے اکثر واقعیات خود ہمارے خاندان میں واقع ہوے ہیں- جب لوگ مایوس ہو چکے تھے لیکن الله نے لڑکی کو اولاد سے نواز دیا -

    ویسے بھی ہمارا دین، ظن، وہم یا اندازے کی بنیاد پر عمل سے منع کرتا ہے-

    والسلام
     
  7. ‏جون 07، 2014 #7
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    ٰ
    یہ روایت مستند ہے اور غیب کا مسئلہ بھی نہیں ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 07، 2014 #8
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جب ہم مکمل حدیث کو پڑھتے ہیں اور اس کے سیاق پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس صحابی نے ایک بانج عورت سے شادی کی اجازت طلب کی تھی تو اس وقت آپ نے یہ فرمایا تھامطلب ،یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ بانجھ عورت سے شادی نہ کرو:
    ه قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ وَإِنَّهَا لا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا ؟ قَالَ : لا ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَنَهَاهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ : ( تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الأُمَمَ ) رواه النسائي ( 3227 ) وأبو داود ( 2050 )
    جان بوجھ کر ایسی عورت سے شادی کرنا منع ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 07، 2014 #9
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,979
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    آپ کی بات کی تفصیل درکار ہے -
    روایت کے مستند ہونے کا ثبوت -اور یہ کہ یہ علم غیب کا مسئلہ بھی نہیں ہے -

    میں انکار نہیں کر رہا ہوں -صرف رہنمائی چاہ رہا ہوں -

    اگر آپ کا موقف یہ ہے کہ علامہ ناصر البانی رح کی تحقیق ہے کہ یہ روایت صحیح ہے تو محترم علامہ ناصر البانی رح کی تمام روایات پر تخریج ١٠٠ فیصد درست نہیں - امام مہدی رح سے متعلق اکثر روایات پر انہوں نے ضعیف ہونے کا فتویٰ لگایا ہے -جب کہ اہل سنّت کی اکثریت ان روایات کو صحیح مانتی ہے -علامہ صاحب عورت کے چہرے کے پردے کے قائل بھی نہیں تھے - جب کہ قرآن و حدیث کی نص سے عورت کے چہرے کا پردہ ضروری ہے -

    والسلام -
     
  10. ‏جون 07، 2014 #10
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,979
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    میرے خیال میں یہ بات صحیح ہو سکتی ہے -

    اوپر http://islamqa.info/ur/32668 کے فتوے والی بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ :
    چ
    نانچہ خواتین میں ماں بننے کی صلاحیت دو طریقوں سے پہچانی جاسکتی ہے:
    پہلا:
    لڑکی کی ماں اور اسکی بہنوں کو دیکھا جائے۔
    دوسرا:
    لڑکی کی پہلے خاوند سے اولاد ہو، تو اس سے بھی معلوم ہوسکتا ہے۔



    اگر کسی کی نہ بہن ہو اور نہ ماں ہو اور نہ وہ بیوہ یا طلاق یافتہ نہ ہو تو کیسے پتا چلے گا؟؟ -
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں