1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شادی سے پہلے بیوی کو کس طرح پہچانے گا کہ وہ محبت کرنے والی اور بچے پیدا کرنے والی ہے؟

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جون 06، 2014۔

  1. ‏جون 07، 2014 #11
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    بات بلکل واضح ہے کہ جان بوجھ کر ایسی عورت سے شادی نہیں کرنی جس جس کا بانجھ ظاہر ہو، اگر بعد میں ظاہر ہوتو کوئی مضآئقہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض انبیا کے ہاں کئی سال تک اولاد نہیں ہوئی
    اورہمارے معاشرےمیں بھی ایسا ھوتا ہے، بظاہر بانجھ پن کی کوئی وجہ ہے سامنے نہیں ہوتی ، ماں اور دوسری رشتے دار خواتین بھی صاحب اولاد ہوتی ہیں اس لیے اس حدیث میں اسی عوررت کو خاص کیا گیا ہے جس کا بانجھ پن معلوم و معروف ہو واللہ اعلم
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 07، 2014 #12
    حافظ اختر علی

    حافظ اختر علی سینئر رکن
    جگہ:
    قصور،پنجاب،پاکستان
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    768
    موصول شکریہ جات:
    726
    تمغے کے پوائنٹ:
    317

    میرا خیال ہے کہ حدیث کا مفہوم اور اس کی عملی تطبیق بالکل واضح ہے اس لیے غیر ضروری مبحث کو چھیڑ کر سوائے طوالت کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔بہت سارے دنیاوی معاملات میں دوسرے افراد کو بطور مثال دیکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں اس وقت غیب کا معاملہ نہیں بنتا تو یہاں پر بھی ویسے ہی غیب کا معاملہ نہیں بنتا۔واللہ اعلم
     
    • متفق متفق x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 08، 2014 #13
    عبداللہ عزام

    عبداللہ عزام مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    60
    موصول شکریہ جات:
    36
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تو پھر اس میں کسی قسم کا شک شبہ کیسا؟ ۔۔ کیا اللہ کے نبی معاذاللہ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں گے کہ علم غیب کے بنا جس کو پورا کرنا ممکن نہ ہو ؟ آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس مرض کا شکار ہیں جو اکثر کم علم سلفی حضرات کو لاحق ہوجاتا ہے کہ جس بات کو من نہ مانے اس پر شک شروع ہوجاتا ہے ۔ اور سب سے پہلا حکم اس پر ضعیف ہونے کا لگایا جاتا ہے ہے جیسے کہ جناب نے محض اپنے خیال سے حدیث کو ضعیف کہنے کی کوشش کی ۔
    عموماََ جب کسی لڑکی سے رشتہ کرنا ہوتا ہے تو اسے خاندان یا جاننے والوں سے اس کے متعلق اور اس کے گھر والوں کے متعلق معلوم کیا جاتا ہے ۔ اب اگر کوئی لڑکی اپنے بہن بھائیوں اور عزیز واقارب سے محبت سے پیش آنے والی ہے تو محبت اس کی صفت ہوگی۔ اور یہی مطلوب ہے۔ جہاں تک بچے جننے کا تعلق ہے تو اس کا پتہ اس کی ماں یا دیگر شادی شدہ بہنوں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے ۔ ( دورِ جدید میں سائنس کا ایک شعبہ جنیٹکس ہے جو اسی علم سے متعلق ہے کہ ایک خاندان میں ایک جیسے جینز کس طرح ایک جیسی صفات منتقل کرتے ہیں ) ۔ باقی کس کو کتنی اولاد ملنی ہے یہ تقدیر کی بات ہے۔

    آدم علیہ السلام کے بعد دنیا نے یہ پہلی مرتبہ پڑھا ہے جناب کی تحریر میں کہ بغیر ماں کے بھی کوئی پیدا ہوا ہو ۔

    ویسے آپ کے لیئے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے لیئے خود ہی فتاوٰی تحریر کر لیا کریں ۔ کیونکہ آپ کو مفتی کی نہیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 08، 2014 #14
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    بہتر ہوتا کہ آپ، جواد سے کئے گئے سوال یا سوالات کا جواب دیتے۔

    آپکو ان کا سوال سمجھنے میں غلطی ہوئی۔

    ایک کنواری لڑکی جس کی کوئی بہن نہیں اور والدہ کا بھی انتقال ہو چکا ہو تو کیسے پتہ چلے گا۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  5. ‏جون 08، 2014 #15
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    بحث برائے بحث سے ہٹ کر ایک عملی سوال:

    اس حدیث میں مردوں کو خطاب کرکے کہا گیا ہے کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرنے والی خواتین سے شادیاں کریں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر جتنے احکامات مردوں کو خطاب کرکے دیئے ہیں، ان میں سے بیشتر کا اطلاق خواتین پر بھی ہوتا ہے۔ کیا اس حدیث میں خواتین کو بھی بالواسطہ یہ ہدایت نہیں دی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرے ؟

    آج کتنی مسلمان خواتین ایسی ہیں جو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر دلی طور پر آمادہ ہیں۔ عام مسلمان خواتین تو ایک طرف، دینی گھرانوں سے وابستہ عالمہ خواتین تک اپنے شوہروں کی دوسری تیسری شادی کی مخالف ہیں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو پیدا کرنے سے مختلف حیلے بہانوں سے گریزاں نظر آتی ہیں۔ میرا رابطہ چہار دیواری ہی میں رہنے والی دیندار ”مکمل گھریلو خواتین“ سے تو نہیں رہا لیکن نیٹ ورلڈ میں موجود بیسیوں ”دیندار خواتین“ کے خیالات کو پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ ان سے مکالمات بھی ہوئے ہیں۔ مجھے کوئی ایک بھی ایسی خاتون نہیں ملی جن کے خیالات ان دو نکات پر اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہو۔

    ”اپنی ذاتی زندگی“ سے ہٹ کر بھی یہ خواتین عام مردوں کی ایک سے زائد شادیوں کے حق میں نہیں ہوتیں (الا یہ کہ معاملہ اپنے بیٹے یا بھائی کا ہو۔ نند اور ساس کے ”بنیادی خواص“ کی وجہ سے ۔ ابتسامہ) نہ ہی عام عورتوں کے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ہم خیال ہوتیں ہیں۔ آج کے اس نام نہاد آزادی نسواں کے عہد میں کسی شریف مسلمان مرد کے لئے یہ تقریباً ناممکن ہے کہ وہ اپنی بیوی کی مرضی و منشا کے خلاف دوسری تیسری شادیاں کرے یا زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی سعی کرے۔ آج کی عورت تو برتھ کنٹرول کرنے کی سہولت از خود بہت آسانی کے ساتھ حاصل کرلیتی ہے یا لڑ جھگڑ کر اپنے شوہر کو ایسا کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اور شوہر بےچارہ ”گھریلو سکون“ کی خاطر بیوی کی بات ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

    حوا کی بیٹیوں کو کچھ اس طرف بھی غور کرنا چاہئے۔
     
    Last edited: ‏جون 08، 2014
  6. ‏جون 08، 2014 #16
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,097
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    بے چاری بانجھ عورت یا لڑکی کا کیا قصور کہ اس سے نکاح کرنے کےلیے کوئی راضی نہ ہو ؟
     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 08، 2014 #17
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    بہت شکریہ
     
  8. ‏جون 08، 2014 #18
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق جب لڑکا یا لڑکی بالغ ہو جائیں تو ان کا نکاح کر دیا جائے۔ کیا اس بات پر ہم سب کا عمل ہے؟
    اُردو بولنے لکھنے اور سمجھنے والے خطے میں عام طور پر لڑکا پندرہ سے سترہ سال کے درمیان بالغ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح لڑکی بھی کم و بیش اسی عمر میں بالغ ہو جاتی ہے۔
    عقل مندوں کے لئے مسئلہ سمجھنا آسان ہو گیا کہ جب کوئی شخص اپنے لڑکے یا لڑکی کی شادی اُس کی بلوغت کو پہنچتے ہی کر دے گا تو 35 سے 40 سال کی عمر کو پہنچتے ہوئے اس لڑکی کی اولاد ایسی خاتون سے بہت زیادہ اور عمر میں بڑی ہو گی جس خاتون نے کالج پڑھا، یونیورسٹی میں پڑھا، پی ایچ ڈی کی، اس کے بعد ملازمت ڈھونڈھی اور پھر شادی کا خیال مبارک ذہن میں لایا۔ 20 سے 22 سال تو پڑھائی میں گزار دیئے اور عمر شریف کم و بیش 25 سے 28 سال ہو گئی۔ اب دلہا میاں پر لگامیں کس دی گئیں تو اس عمر کی شادی میں بچے زیادہ پیدا کرنے کی صلاحیت تو انہوں نے خود ہی ماند کر دی۔ ایک تو میاں سے زیادہ نمبر حاصل کر لئے دوسرا گزٹڈ سیٹ کی نوکری۔ اب وہ زیادہ بچوں کی ماں بننے کی کیسے خواہش کرے گی۔

    یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی۔

    یہ تو زیادہ ‘‘سمجھ دار فیملیز’’ کا حال ہے۔
    جبکہ
    ہماری معاشرتی بھیڑ چال ایسی ہے کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی ہم دین پر عمل سے دُور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
    میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگ میری معروضات کو سمجھ گئے ہوں گے۔
    دوسرا یہ کہ
    ہر کسی کی خواہش یہی معلوم ہوتی ہے کہ بچی کا رشتہ مالدار گھرانے میں ہو۔ اسی طرح لڑکے کا رشتہ بھی مالدار گھرانے میں ہو۔ الا ماشاء اللہ۔
    حالانکہ مالدار گھرانے کی عورت یا مرد ہونا عیب نہیں البتہ مالدار گھرانے کا دین سے دُور ہونا عیب ہے۔ اب اس عیب کو کوئی دیکھنے اور سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ الا ماشاء اللہ۔
    جتنے لوگوں نے اب تک اس بحث میں حصہ لیا ہے اپنے اپنے علم کے مطابق انہوں نے کتنا عمل کیا ہے۔
    کسی پر تہمت یا داغ لگانا مقصود نہیں صرف توجہ مبذول کروانا مقصود ہے۔

    ایسی لڑکی ہی خاوند سے محبت کرے گی جو علم اور مرتبے میں اپنے خاوند سے کم ہو گی۔ خاوند کو اپنے سر کا تاج سمجھے گی۔ اپنے خاوند کی اطاعت کرے گی۔ اپنے خاوند کے لئے مخلص ہو گی اور ان سب کے ساتھ ساتھ وہ اپنے رب کو جواب دینے سے ڈرتی ہو گی۔
    اس کے برعکس جو لڑکی ہرفن مولیٰ ہو گی، ہر بات کا جواب جانتی ہو گی، شوہر کی تمام کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہو گی، جو مخلوط تعلیم اور ماحول میں پلی بڑھی ہو گی وغیرہ وغیرہ اس میں اپنے خاوند سے محبت کا تناسب ظاہر ہے بہت کم ہو گا کیونکہ اس نے بہت سے دیگر حضرات ایسے بھی دیکھے ہوں گے جو اس کے خاوند سے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے اور بعض عادات و خصائل کے لحاظ سے بہتر ہوں گے۔ اگر وہ اپنے خاوند کی موجودگی و غیر موجودگی اپنی عزت و ناموس کی حفاظت بھی کرے گی تو یقیناً اس کی محبت کا تناسب مذکورہ بالا خصائص کی حامل عورت سے بہت کم ہو گا۔

    رات زیادہ ہو گئی۔ موقعہ ملا تو پھر سہی
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 09، 2014 #19
    عبداللہ عزام

    عبداللہ عزام مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    60
    موصول شکریہ جات:
    36
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    بہت شکریہ جناب۔ ہو سکتا یہی کہنا چاہا ہو محمدعلی جواد صاحب نے۔ میں معذرت خواہ ہوں۔

    ایک کنواری لڑکی جس کی کوئی بہن نہیں اور والدہ کا بھی انتقال ہو چکا ہو تو جناب سیدھی سی بات ہے اس کی مرحومہ والدہ کی کل اولاد (بھائیوں سمیت) کو دیکھ لیں۔ اور اگر لڑکی اکلوتی ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی ماں شادی کے کتنا عرصہ بعد فوت ہوئی ۔ واللہ اعلم
     
  10. ‏جون 09، 2014 #20
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    اس بات سے مجھے اتفاق نہیں ۔

    تو کیا عورت کوزیادہ ’’تعلیم‘‘ حاصل نہیں کرنی چاہیئے۔۔؟تعلیم انسان میں عقل وشعور پیدا کرتی ہے ،اگر گھمنڈ و غرور پیدا ہو تو وہ تعلیم نہیں کچھ اورہے۔بہت سی پڑھی لکھی خواتین بھی ایسے معاملات کی حامل ہو تی ہیں اور کچھ ان پڑھ خواتین سے بھی ان معاملات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔۔۔
    بات کسی اور طرف نکل جائے گی لیکن عمومی طور پر لڑکیاں چاہتی ہیں کہ لڑکا ہماری نسبت زیادہ پڑھا و تو بھی تعلیم کو قصور وار گردانا جاتا ہے کہ نہ اتنا پڑھتی تو نہ یہ سوچتی ۔مرد کی تعلیم کون دیکھتا ہے ؟؟اسے تو کاروبار ،نوکری سے سروکار ہوتا ہے ۔۔۔اگر لڑکی پڑھے لکھے نہ تو ان پڑھ گنوار کہہ کر مسترد کر دیا جا تا ہے ۔۔۔۔اس میں قصور تعلیم زیادہ کم ہونے کا نہیں اپنے عقل و فہم اور سب سے بڑھ کر تربیت کا ہے ۔۔ ۔۔
     
    Last edited: ‏جون 09، 2014
    • متفق متفق x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں