1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شادی میں گواہ کا غیر مسلم ہونا؟

'گواہی' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالخالق, ‏مارچ 31، 2013۔

  1. ‏مارچ 31، 2013 #1
    عبدالخالق

    عبدالخالق رکن
    جگہ:
    حیدرآباد۔ ہند۔
    شمولیت:
    ‏جولائی 24، 2012
    پیغامات:
    37
    موصول شکریہ جات:
    149
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    اسلام علیکم؟
    ہمارے یہاں کل پانچ ماہ قبل ایک شادی ہوئی، جس میں گواہ کے طور پر جن اشخاص کا نام دیے گیے ہیں، ان میں سے ایک کا تعلق قادیانیئت سے ہے،(جس کا علم اب ہوا ہے) کیا شریعی اعتیبار سے یہ نکاح درست قرار پائے گا یا غیر درست ہوگا؟
    اگر غیر درست ہوگا تو اس کا کوئی متبادل بتایں، فلحال لڑکا اور لڑکی کو علحدہ کیا گیا ہے۔ اس لئے جواب کا شدید انتیظار رہیگا۔
    جزاک اللہ خیر۔۔۔۔
     
  2. ‏مارچ 31، 2013 #2
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    بیان صورت میں اصل توجہ کا مرکز یہ بات ہونی چاہیے اور اس پر شرعی رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے کہ گواہوں کا نفس نکاح (اگر گواہ نہ ہوں تو گواہوں کی عدم موجودگی میں نکاح باطل ٹھہرے گا یا گواہ غیر مسلم ہوں یا مسلم اور غیر مسلم مکس ہوں تو نکاح درست ہوگا یا باطل) پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟

    مذکورہ بات میں دو باتیں سمجھ آتی ہیں، اور ان پر توجہ کی جانی چاہیے
    میرے خیال میں نکاح درست ہے۔ میاں بیوی کی علیحدگی غلط اقدام ہے۔ واللہ اعلم ۔۔۔باقی اہل علم حضرات بیان مسئلہ پر تفصیلی بات پیش کریں گے۔ ان شاءاللہ
     
  3. ‏اپریل 13، 2013 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

  4. ‏اپریل 14، 2013 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    فتوی تو ظاہر ہے علماء کا کام ہے اور الحمد للہ جواب دیا بھی جا چکا ہے ۔
    لیکن اس مسئلہ کے متعلق اپنے ایک بھائی شفقت الرحمن بن مبارک علی حفظہ اللہ کی بات نقل کرنا چاہتا ہوں جو کافی اچھی محسوس ہوئی ہے ۔
    یہاں دو باتیں ہیں :
    نکاح کے وقت گواہوں کا موجود ہونا ۔
    کاغذی کاروائی میں گواہوں کے نام دینا ۔
    آج کل جو نکاح ہوتے ہیں عام طور ان میں بہت سارے لوگ نکاح کے وقت موجود ہوتے ہیں اور وہ سب اس نکاح کے گواہ ہوتے ہیں ۔
    اگر صورت حال واقعتا ایسی ہے تو پھر کاغذی طور پر دیے گئے دو ناموں میں سے کسی ایک یا دونوں کا غیر معتبر ثابت ہونا مضر نہیں ۔ واللہ أعلم ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 30، 2013 #5
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    نکاح میں دو گواہ کی شرط لازم ہے، یا لوگوں میں اس نکاح کا اعلان کافی ہے۔ محدث فتوی کے مطابق
    اہل تشیع مذہب میں متعہ میں گواہوں کی ضرورت ہے نہ نکاح میں دو گواہ لازم ہیں ان کے ہاں گواہ مستحب ہے۔
    ملاحظہ فرمائیں ان کی سائٹ پر موجود مضمون سے اقتباس
    اہل تشیع حضرات گواہوں کے متعلق جو فاسد نظریہ رکھتے ہیں اور اسی سے اپنے مذہبی نکاح پر دو گواہوں کی شرط کا باطل مانتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں
    یہ ہے اہل تشیع حضرات کے ہاں گواہوں کا مقصود

    جب کہ اسلام میں نکاح کے لئے دو گواہ کی جو شرط عائد کی گئی ہے وہ اس لئے عائد نہیں کی گئی کہ اگر وہ کسی اجنبی جگہ جاتے ہیں تو انہیں پوچھا جائے گا اور پھر گواہ طلب کئے جائیں گے، بلکہ یہ اس گواہی کا تعلق میاں و بیوی کے درمیان کے معاملہ پر ہے، ممکن ہے دونوں میں سے کوئی ایک اس نکاح سے مکر جائے۔


    کئی واقعات نظر آتے ہیں، کہ عورت نے دعوی کردیا کہ فلاں شخص میرا شوہر ہے اس سے میرا نکاح ہوا ہے، کوئی مرد کسی عورت پر دعوی کربیٹھے کہ فلاں میری بیوی ہے۔
    ایسے واقعات عموما پیش آتے رہتے ہیں، لہذا دو گواہ کی شرط اسی لئے ہے کہ کوئی دھوکہ، فراڈ، جعلسازی سے کام لیتے ہوئے اپنے مذموم مفادات حاصل نہ کرسکے۔


    یہ ہے اہل تشیع کی جہالت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے جہالت کا نام دیا جائے۔۔۔۔۔۔ یا اسلام کے خلاف فساد فی الارض
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں