1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شادی ۔۔۔ذمہ داری بھی ضرورت بھی

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏اپریل 23، 2011۔

  1. ‏اپریل 23، 2011 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    شادی ۔۔۔ذمہ داری بھی ضرورت بھی



    میرا خیال ہے کہ شادی جہاں ایک ضرورت ہے (یعنی یہ محبتیں‌، چاہتیں، اموشنز،فیلنگز،سافٹ کارنرز، نیچرل ایفیکشنز،نیچرل اٹراکشنز، اور کئی فطری تقاضوں کو لیکر ایک اہم ترین ضرورت ہے۔۔۔)

    وہیں یہ۔۔۔۔

    ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے (کیونکہ یہ ذمہ اس نظام کائنات کی طرف سے عائد کی ہوئی انسانیت پر وہ ذمہ داری ہے جس پر نوع انسانی کا وجود ایک سسٹم کے تحت ریسپکٹفل انداز میں قائم و دائم ہے)۔میرا یہ خیال ہے کہ اس سسٹم کو باقی رکھنے کے لئے ضرورت ور ذمہ داری کا دونوں‌میں‌ توازن ضروری ہے۔اس اہم ترین ضرورت و ذمہ داری میں افراط و تفریط کے نتیجے میں معاشرہ یا تو بنتا ہے یا بگڑتا ہے۔

    رشتوں کو اگر سمجھا جائے تو ہمیشہ اس کے اندر محبت کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کا احساس ضروری ہوتا ہے۔یہ بوجھ ایسا بوجھ ہوتا ہے جسکو ایکدوسرے سے رشتوں‌میں‌اٹاچ ہونے کے بعد ہلکا کرنے کے لئے محبتوں اور چاہتوں کی چاشنی ضروری ہے ورنہ اس سے کسی کو انکار نہیں‌ہوسکتا کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔کیونکہ ایک صحت مند معاشرہ کی تشکیل اس رشتہ کو ذمہ داری سے لینے کا تقاضہ کا ہی تقاضہ کرتی ہے۔ورنہ معاشرہ کھوکھلا رہ جاتا ہے۔لیکن عام طور پر لوگ (خاص طور پر مغرب) صرف محبتیں اور چاہتوں کی باتیں‌کرتے نظر آتے ہیں اور ذمہ داری سے اپنا چھٹکارا کرنا چاہتے ہیں۔نتیجہ کے طور پر شادی کو ضروری ہی نہیں سمجھا گیا۔اور الیگل ریلیشنز کو لیگل مانا گیا اور اس میں کوئی زور زبردستی نہ ہو۔

    پھر مشرق میں‌بھی اسکو صرف سوکالڈ محبتوں اور چاہتوں سے جوڑدیا گیا۔لیکن مشرق ہو یا مغرب۔اس رشتے میں‌ذمہ داری کو بہترطریقے سے نبھانے کے لئے ہی ایسی چیزیں‌رکھ دی گئی کہ لوگ اس کو بہ آسانی اٹھاسکیں۔ہاں نوع انسانی کا ارتقا چھوٹی ذمہ داری نہیں ہے۔اور اسکا بیالنز انداز صرف اور صرف اسلامائیز سوچ اور طرز عمل میں ملتا ہے۔ورنہ یہ رشتہ محض کچھ ایسی چیزوں کا منبع بن کر رہ جاتا ہے۔جو کہ اس رشتہ میں‌ضروری چیز تھی لیکن سب کچھ نہیں۔یعنی محبت و چاہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! !

    شادی ایک ضرورت کے تحت ۔۔۔۔ہم جب بات کریں تو سب سے پہلے تو ہمیں‌پتہ چلتا ہے کہ سوسائیٹی بنتی ہی "شادی جیسے" پاکیزہ رشتے سے ہے۔جسکی بنیاد ہی کچھ ایسے "اقرار" پر ہے جس میں‌ہم اللہ کو حاضر و ناظر جانکر ایک ایسی سنت کو پورا کرتے ہیں جس میں‌اللہ تعالی نے فطرت انسانی کی تسکین بھی رکھی وہیں‌اس دنیا کی ارتقائی مدارج بھی اسی سے جوڑدیئے۔لیکن اسکی حدیں بہت ہی ڈیٹیلڈ انداز میں‌بیان بھی کردی گئیں۔جوکہ ملااختلاف رائے ہم کے لئے قابل عمل تھیں۔لیکن ہم نے گذرتے زمانے کے ساتھ ان حدوں‌کے ساتھ زیادتی کردی۔ان زیادتیوں‌میں‌بنیاد یہ بنی تھی کہ جنریشنز نے شادی جیسے پاکیزہ عمل کو صرف محدود تساکین سے جوڑدیا (اگر اس ریمارک کو غلط مان لیا جائے تب، ہم سے بے اعتدالیاں‌کم سے کم ممکن ہوتیں)۔۔دوسری طرف جنریشن گیپ نے بھی کچھ نہ کچھ رول پلے کیا۔

    علم کی بنیاد پر چھوٹے اور بڑوں کے درمیان دوستانہ فضا میں‌ کورآدینیشن ممکن تھا (اور یہ اڈوائسیبل بھی ہے کہ بدلتے زمانے کے نئے انداز اگر بنیادوں کو نہ ہلاتے ہوں تو اسکو اپنانے میں کوئی مسئلہ نہیں) لیکن ہم سے اس پائینٹ پر یہ زیادتی سمجھنے کی ہوئی ۔۔۔اور کہیں‌گراس لیول اپنے پیرنٹل لیولز کو فالو نہ کر پائی (حالانکہ پیرنٹل لیول اسٹانڈرز کو میچ کرتا پایا گیا) تو دوسری طرف پیرنٹل لیول نے نیو جنریشنز کے تقاضوں کو سمجھنے میں‌کہیں‌نہ کہیں‌کچھ ایررز کئے۔۔۔نتیجہ کے طور پر ایک ایسی درمیانی "ہڈن وال" تشکیل پاگئی جسکے نتائج کے طور پر ہمیں یہ کہنے میں‌کبھی بھی آر نہیں رہا کہ "کبھی بچے بھی نادانیاں‌کر بیٹھتے ہیں تو کبھی بڑوں‌سے بھی ایریرز ہوجانا ناممکن نہیں۔یہ تمام چیزیں‌کچھ افراط تو تفریط کی وجہ سے ہوتی ہیں۔اگر تعلیمات اسلامی کو روح کو سمجھ کر بڑے اور بچے تمام ایک بیالنس قائم کریں تب "اس درمیانی" کیفیت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

    ذمہ داری کی جہاں‌تک بات ہے وہ با ت خالصۃ ایک ایسے جذبے سے تعلق رکھتی ہے جہاں‌ہم اپنی تمام ترمحبتوں، جذبات و احساسات کی گرماہٹیں ہونے کے باوجود بھی ہم محض "شادی جیسے عمل" سے بننے والے "پاکیزہ رشتے" کو تقاضوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کیونکہ اس میں سے بڑا محرک جنریشن کی تربیت ہوتا ہے۔اور اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے لازما ہمیں بنیاد کے طور پر خالص اسلامی تعلیمات کی جانب رخ کرکے اس کو من و وعن تسلیم کرلینا پڑتا ہے۔لیکن عام طور پر اس میں‌ہم سے غلطیوں‌کا صدور ہوتا ہے۔اور ہم اس میں‌بھی افراط و تفریط کرنے لگتے ہیں۔۔مثال کے طور پر ہم کبھی محبتوں‌اور چاہتوں پر ہمارے اقدار کو قربان کردیتے ہیں تو کہیں اقدار کے نام پر ہم "اپنے ذہن سے " گھر کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ اسکو اگر ایک ذمہ داری کے طور پر مانا جاتا یا مانا گیا تو ہم " اسوہ حسنہ میں" ایم مثالی گھر کو تلاش لیتے کیونکہ گھر بنتا ہی " اس پاکیزہ" رشتے کو لیکر جس میں "ہسبنڈ اور وائف" نے ملکر ایک ایسے رشتے کو ذمہ داری کے ساتھ نبھانا ہے جہاں پر فطری تقاضوں کو ایک طرف پورے کرنا ہے جسمیں فائنلی اولاد کے ساتھ ہماری چاہتیں اور محتیں‌بھی آجاتی ہیں‌لیکن ساتھ ہی ساتھ ذمہ داری کے ساتھ اس کو سمجھیں تب ہم صرف کھانے پینے ، تعلیم و لباس سے بہت آگے بڑھکر۔۔۔ہسبنڈ وائف کے رشتوں میں‌ہماری تعلیمات کیا کہتی ہیں، جنرینشن کے لئے ہماری وہ کیا ذمہ داری ہے جسکی وجہ سے یہی‌بچے کل کے دن ایک سوسائیٹی بنکر ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینگے، وغیرہ ایسے زاویہ ہیں‌ جو کہ غور و فکر اور قدم قدم پر اسلامی تعلیمات کو سوچ کا حصہ بنانے پر ہی حاصل ہوتی ہیں۔

    شادی ضرورت بھی اور ذمہ داری بھی لیکن اس حقیقت کو لیکر شادی سے پہلے اور بعد میں خاص طور پر ہمیں‌اسلامائیز انداز روا رکھنے میں کیسے مشکل آتی ہے۔ملاحظہ ہو۔شادی ہوتی ہے۔زندگی میں گویا کہ کلرز کھل اٹھتے ہیں۔ہر طرف رنگینیاں ہی رنگیناں (یہ سب فطرت کے عین مطابق ہے اگر جائیز حدود میں‌رہا جائے)پھر دنیا کے ٹیمپٹیشنز کا آغاز۔ایمبالینس کا طوفان۔فیشن۔اصراف۔دنیاداری ۔دین سے غفلت۔پھر اولاد کی محبت میں غفلت سے آگے بڑھکر دین کے بجائے ہماری زندگانیا‌ں لادینیت کا شکار ہوکر رہجاتی ہیں۔ایسے میں اگر تھوڑا سا موت کی یاد دلوں میں جاگزیں‌رہے تب کیسے ممکن ہے کہ یہ دنیا کی یہ لذتیں جو کہ وقتی ہیں ہمیں‌اپنے اندر محصور کرلیں؟۔دنیا میں رہکر دنیاکو اپناتے ہوئے (حدود میں) اور موت کی یاد دل میں رکھ کر۔۔اپنے شعائر زندگی اسلامائیز کرلیں تب۔۔ہر قسم کا ٹیمپٹیشن ہمیں اپنے حدود میں رکھ کر۔۔۔حقیقی فوز و فلاح کا ضامن بنسکتا ہے۔چونکہ یہ معاملہ بیویوں‌اور شوہروں دونوں‌کے لئے یکساں ہے۔۔۔کہ اگر وہ دنیا کی حقیقت نہ سمجھے ،وہ اگر چاہے تو اپنی بیوں کو اگر وہ۔۔ٹراک پر نہ ہو تب۔۔۔اسکو اسلامی تعلیمات کے قریب کرسکتا ہے۔

    وہیں نیک بیویاں مصلحت سے اپنے شوہروں‌کو اسلامی تعلیمات کے قریب کرسکتی ہیں۔لیکن اگر دونوں بھی اس ذمہ داری سے کنارہ کش ہوکر رہیں (جیسا کہ عام طور پر آجکل مسلم امۃ شکار ہے) تب نیوجنریشن کی وہ تصویرکیوں نہ بنے جو آج ہمارے سامنے ہے۔اور اسکے نتائج کے طور پر سب سے پہلے خود کی اور پھر اپنے اہل و عیال کے عاقبت خدانخواستہ بگڑ کر نہ رہ جائے۔

    بہرحال امت مسلمہ کا عام رویہ ہمارے سامنے ہے،ہم ایمان والے نہیں ایسا نہیں۔۔۔لیکن ہم غفلت میں‌ضرور پڑے ہوئے ہیں۔دنیا کی مختصر زندگی اور اسکی شہوات جسکی حقیقت اللہ کی نظر میں ایک مکھی کے پر کے برابر بھی نہیں‌۔۔ہمارے لئے وہ سب کچھ ہے۔حالانکہ ہم جانتے ہیں (بئینگ اے مسلم) کہ یہ زندگی بس بہت ہو ھو بھی جائے۔۔تو 40 سے پچاس سال سے بڑھکر نہں اور بعد کی زندگی لامتناہی ہے۔لیکن ہمارا اوور اسمارٹنس یہاں ہوا ہوجاتا ہے۔ہم دو روزہ زندگی میں چند ٹکوں کے حصول کے لئے خون پسینہ ایک کرکے یہ سمجھتے ہیں‌کہ ہم نے گویا سب کو پیچھے چھوڑ دیا حالانکہ ہم نے جو کچھ کیا وہ خسارے کا معاملہ کیا (اگر ہم آخرت سے غافل رہکر اور حلال و حرام سے نہ بچتے ہوئے یہ سب کیا)۔۔اور بالآخر جب موت آپہنچتی ہے ہمیں سب کچھ یاد آجاتا ہے۔حالانکہ موت تو آنی ہے۔۔اور لازما آنی ہے۔لیکن ہم درحقیت غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔سب تاویلات ایک ہی لمحہ میں‌دھری کی دھری رہ جانیولی ہے جو ہم غیر اسلامی افکار و اغیار کے بارے میں بناتے چلے آتے ہیں (اگر بناتے ہیں‌تو)۔۔۔اور پھر ہمیں ایک لمحہ کا بھی مزید موقعہ نہ ملے گا کہ کم از کم توبہ ہی کرلو (اگر موت نظر آجائے)۔۔۔پھر ہم خون کے آنسو بھی نہ بہاسکینگے۔

    اللہ ہم پر رحم کرے
    اسکی رحمت خاص کے بنا کچھ بھی ممکن نہیں
    اللہ ہمیں شیطان کے شر اور اسکے ہتھکنڈوں سے بچاے۔آمین
    ایک حقیت یہ ہے کہ کوئی بھی دل سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ خسارے میں رہے۔۔لیکن شیطان مردود کا تو اللہ رب العزت سے وعدہ ہے کہ وہ، ہر طرح سے انسان کو بھٹکائے۔۔دائیں سے بائیں سے۔یہاں‌تک کہ۔۔۔خون کی گردش بنکر (اصطلاحا) وہ انسان کو بھٹکاتا رہے گا۔
    اللہ ہمیں اسکے مزموم عزائم سے محفوظ رکھ کر۔۔۔صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین



    اللہ ہم پر رحم کرے۔آمین
    انشاالل
    Source: http://www.siratulhuda.com/forums/showthread.php/2011
     
  2. ‏اپریل 24، 2011 #2
    Muhammad Qasim Ikram

    Muhammad Qasim Ikram مبتدی
    جگہ:
    لاہور پاکستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2011
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    27
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    assalam'aalykum akhi, this is very a good post indeed, enjoyed reading it, containing within it, alot to learn, masha Allaah!
    it would hav been better if this post had been in english i think..because there is this amalgam of english+urdu words in this post which makes it defficult to read and concentrate for the reader....
    just a suggestion :s
    Hope to see many more terrific articles from u insha Allaah! :)
     
  3. ‏اپریل 03، 2012 #3
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,278
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    جزاک اللہ خیرا ۔ بہت بہترین پوسٹ کے لئے شکریہ
     
  4. ‏اپریل 04، 2012 #4
    رانا اویس سلفی

    رانا اویس سلفی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    387
    موصول شکریہ جات:
    1,590
    تمغے کے پوائنٹ:
    109


    عامر بھای لال رنگ سے ناشندہی کی ہے ۔۔۔۔اس پر توجہ ۔۔میرے ناقص علم کے متطابق

    شادی ایک ضرورت کے تحت ۔۔۔۔ہم جب بات کریں تو سب سے پہلے تو ہمیں‌پتہ چلتا ہے کہ سوسائیٹی بنتی ہی "شادی جیسے" پاکیزہ رشتے سے ہے۔جسکی بنیاد ہی کچھ ایسے "اقرار" پر ہے جس میں‌ہم اللہ کو حاضر و ناظر جانکر ایک ایسی سنت کو پورا کرتے ہیں جس میں‌اللہ تعالی نے فطرت انسانی کی تسکین بھی رکھی وہیں‌اس دنیا کی ارتقائی مدارج بھی اسی سے جوڑدیئے۔لیکن اسکی حدیں بہت ہی ڈیٹیلڈ انداز میں‌بیان بھی کردی گئیں۔جوکہ ملااختلاف رائے ہم کے لئے قابل عمل تھیں۔لیکن ہم نے گذرتے زمانے کے ساتھ ان حدوں‌کے ساتھ زیادتی کردی۔ان زیادتیوں‌میں‌بنیاد یہ بنی تھی کہ جنریشنز نے شادی جیسے پاکیزہ عمل کو صرف محدود تساکین سے جوڑدیا (اگر اس ریمارک کو غلط مان لیا جائے تب، ہم سے بے اعتدالیاں‌کم سے کم ممکن ہوتیں)۔۔دوسری طرف جنریشن گیپ نے بھی کچھ نہ کچھ رول پلے کیا۔

    یہ الفاظ
    رکفر و شرک کے زمرے میں آتے ہیں

    مجھے بہت اچھا لگا یہ ارٹیکل
    جزک اﷲ خیرا
     
  5. ‏اپریل 04، 2012 #5
    احمد شاکر

    احمد شاکر مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2012
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    49
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام علیکم ورحمۃ۔
    اآپ مجھے اس بات کا تسلی بخش جواب دیں کہ کیا چھوٹی عم میں کسی بھی بچے یا بچی کی شادی کرنا کیا اس کے ساتھ ظلم نہیں ہےکہ
    وہ ابھی تک اس قابل نہیںہو کہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقہ سے سر انجام سے سکے ۔
    یا کہ اسکی اتنی عمر تک پرورش کرنی چائیے کہ وہ ان ذمہ داریوں کے بارے میں اچھی طرح سے سیکھ جائے۔
    میں آپکا انتظار کروں گا
     
  6. ‏اپریل 04، 2012 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    الحمد للہ:
    اس مسئلہ ميں اہل سنت كے ہاں دو چيزيں ہيں جنہيں رافضى شيعى اور دشمنان اسلام نے خلط ملط كر ديا ہے، اور اسے ايك بنا كر ركھ ديا ہے، اور وہ دو چيزيں يہ ہے:

    چھوٹى بچى كى شادى.

    اور چھوٹى بچى كى رخصتى اور اس كے ساتھ دخول كرنا.
    پہلا مسئلہ:
    چھوٹى بچى كى شادى:
    عام علماء كرام اس كو جائز قرار ديتے ہيں، كہ شريعت ميں شادى كے ليے بچى كى عمر كى تعيين نہيں كہ اس عمر سے قبل بچى كى شادى نہ كى جائے.
    اس كا ثبوت اللہ كى كتاب اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت اور اہل علم كے اجماع ميں ہے.
    1 ـ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
    { اور تمہارى عورتوں ميں سے وہ جو حيض سے نااميد ہو گئى ہوں، اگر تمہيں شبہ ہو تو ان كى عدت تين مہينے ہے، اور ان كى بھى جنہيں حيض آنا شروع ہى نہ ہوا ہو }الطلاق ( 4 ).
    يہ آيت كريمہ اس مسئلہ پر واضح دلالت كرتى ہے جس ميں ہم بحث كر رہے ہيں، اور اس آيت ميں اس طلاق شدہ عورت كى عدت بيان ہوئى ہے جو ابھى بچى ہو اور اسے حيض آنا ہى شروع نہيں ہوا.
    امام بغوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    { اور وہ عورتيں جنہيں ابھى حيض نہيں آيا }.
    يعنى وہ چھوٹى عمر كى جنہيں ابھى حيض آيا ہى نہيں، تو ان كى عدت بھى تين ماہ ہے.
    ديكھيں: تفسير البغوى ( 8 / 052 ).
    اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اس عورت كى عدت جسے حيض نہيں آتا اس عورت كى دو قسميں ہيں:
    ايك تو وہ چھوٹى عمر كى جسے ابھى حيض آيا ہى نہيں، اور دوسرى وہ بڑى عمر كى عورت جو حيض سے نااميد ہو چكى ہے.
    چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ان دونوں قسم كى عورتوں كى عدت بيان كرتے ہوئے فرمايا:
    { اور تمہارى عورتوں ميں سے وہ جو حيض سے نااميد ہو گئى ہوں، اگر تمہيں شبہ ہو تو ان كى عدت تين مہينے ہے، اور ان كى بھى جنہيں حيض آنا شروع ہى نہ ہوا ہو }الطلاق ( 4 ).
    يعنى ان كى عدت بھى اسى طرح ہے " انتہى
    ديكھيں: زاد المعاد فى ھدي خير العباد ( 5 / 595 ).
    2 ـ سنت كے دلائل:
    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:
    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان سے شادى كى تو ان كى عمر ابھى چھ برس تھى، اور جب رخصتى ہوئى تو وہ نو برس كى تھيں، اور نو برس ہى وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ رہيں "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 4840 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1422 ).
    علماء كے صحيح قول كے مطابق اس چھوٹى عمر كى لڑكى كى شادى اس كا باپ كريگا باپ كے علاوہ كوئى اور ولى نہيں كر سكتا اور بالغ ہونے كے بعد يہ لڑكى اختيار كى مالك نہيں.
    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " عورت كى اجازت كے بغير كوئى بھى عورت كى شادى نہيں كر سكتا، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم ديا ہے، اور اگر وہ اسے ناپسند كرے تو اسے نكاح پر مجبور نہيں كر سكتا، ليكن چھوٹى عمر كى كنوارى بچى كو، اس كى شادى اس كا والد كريگا، اور اس كو اجازت كا حق نہيں " انتہى
    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 39 ).
    3 ـ اجماع:
    ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " علماء كرام كا اس پر اجماع ہے كہ باپ اپنى چھوٹى عمر كى بچى كى شادى كر سكتا ہے اور اس ميں اسے بچى سے مشورہ كرنے كى ضرورت نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عائشہ بنت ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہما سے شادى كى تو ان كى عمر ابھى چھ يا سات برس تھى، ان كا نكاح ان كے والد نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے كيا تھا" انتہى
    ديكھيں: الاستذكار ( 16 / 49 - 50 ).
    اور ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " چھوٹى بچى كا والد اس كى شادى كريگا اس پر اتفاق ہے بخلاف شاذ قول كے " انتہى
    ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 239 ).
    دوسرا مسئلہ:
    چھوٹى بچى كى رخصتى اور اس سے دخول كرنا:
    عقد نكاح كرنے سے يہ چيز لازم نہيں آتى، كيونكہ يہ تو سب كو معلوم ہے كہ بعض اوقات بڑى عمر كى عورت كا نكاح ہوتا ہے ليكن اس سے اس كا دخول لازم نہيں آتا، اور اس كا پورى وضاحت سے بيان اس طرح ہو سكتا ہے كہ:
    بعض اوقات عقد نكاح كے بعد اور دخول يعنى رخصتى سے قبل ہى طلاق ہو جاتى ہے، تو اس صورت ميں اس كے كچھ احكام بھى ہيں ـ اور يہ اپنے عموم كے اعتبار سے چھوٹى عمر كى بچى كو بھى شامل ہے ـ اگر مہر مقرر كيا گيا ہے تو اسے نصف مہر ادا كرنا ہو گا، اور اس كى كوئى عدت نہيں ہو گى.
    نصف مہر كے متعلق اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
    } اور اگر تم انہيں چھونے سے پہلے ہى طلاق دے دو اور تم نے ان كا مہر بھى مقرر كر ديا ہو تو مقرر كردہ مہر كا آدھا مہر دے دو، يہ اور بات ہے كہ وہ خود معاف كر ديں، يا وہ شخص جس كے ہاتھ ميں نكاح كى گرہ ہے وہ معاف كر دے {البقرۃ ( 237 ).
    اور دوسرى عورت يعنى جس پرعدت نہيں كے متعلق ارشاد بارى تعالى ہے:
    } اے ايمان والو جب تم مومن عورتوں سے نكاح كرو پھر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو ان پر تمہارا كوئى حق عدت كا نہيں جسے تم شمار كرو، چنانچہ تم كچھ نہ كچھ انہيں دے دو اور بھلے طريقہ سے انہيں رخصت كر دو {الاحزاب ( 49 ).
    اس بنا پر جس چھوٹى بچى كا نكاح ہو جائے تو اسے خاوند كے سپرد اس وقت نہيں كيا جائيگا جب تك وہ رخصتى اور مباشرت كے قابل نہيں ہو جاتى، اور اس ميں اس كے بالغ ہونے كى شرط نہيں؛ بلكہ مباشرت كو برداشت كرنے كى طاقت ہونى چاہيے، اور اگر رخصتى ہو نے كے بعد طلاق ہو تو اس كى عدت تين ماہ ہو گى جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے.
    اس سلسلہ ميں علماء كے يہ اقوال ہيں جو كہ چھوٹى بچى سے استمتاع يا اس سے دخول كا گمان كرنے والے كا رد ہيں.
    امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " چھوٹى عمر كى لڑكى كى رخصتى اور اس سے دخول كا وقت يہ ہے كہ:
    اگر خاوند اور ولى كسى ايسى چيز پر متفق ہوئے ہوں جس ميں چھوٹى بچى كو نقصان اور ضرر نہيں تو اس پر عمل كيا جائيگا، اور اگر ان ميں اختلاف ہو تو امام احمد اور ابو عبيد كہتے ہيں كہ:
    نو برس كى بچى كو اس پر مجبور كيا جائيگا، ليكن اس سے چھوٹى بچى كو نہيں.
    اور امام شافعى اور مالك اور ابو حنيفہ رحمہم اللہ كہتے ہيں:
    اس كى حد جماع برداشت كرنے كى استطاعت ہے، اور يہ چيز عورتوں ميں مختلف ہوتى ہے اس ميں عمر كى قيد نہيں لگائى جا سكتى، اور صحيح بھى يہى ہے، اور پھر عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں عمر كى تحديد نہيں، اور نہ ہى اس ميں منع كيا گيا ہے كہ اگر وہ اس عمر سے قبل استطاعت ركھتى ہو اس كى رخصتى نہيں كى جائيگى.
    اور نہ ہى اس كے ليے اجازت پائى جاتى ہى جو نو برس كى ہونے كے باوجود جماع كى استطاعت نہ ركھتى ہو،.
    داودى رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بہت بہتر جوان ہوئى تھيں " انتہى.

    ديكھيں: شرح مسلم ( 9 / 206 ).

    شيعہ كے ہاں متع كى اباحت كا رد ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 20738 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

    ہم يہ خيال نہيں كرتے كہ يہ مجادلہ اور بحث باطل ہے، جس پر استمتاع كا شبہ وارد ہوتا ہے وہ يہ ہے كہ بغير شادى كے استمتاع كرنا، يہ ہمارا كام نہيں، اور نہ ہى ہمارے دين ميں ہے، نہ تو ايسا بڑى عمر كى اور نہ ہى چھوٹى عمر كى عورت كے ساتھ كيا جا سكتا ہے.

    اس كے متعلق تو يورپ والے انہيں سے دريافت كريں جو ايسا كرتے ہيں، اور چھوٹى عمر كى بچيوں كا استحصال كرتے ہيں چاہے وہ بچہ ہو يا بچى، اور غريب و پسماندہ ممالك ميں ان كے ساتھ زيادتى كى جاتى ہے، اور آپ ان كے فوجيوں كے متعلق دريافت كريں جو فقراء كو افريقيا ميں بچاتے پھرتے ہيں وہ ان كے ساتھ كيا كرتے ہيں ؟!!

    واللہ اعلم .
    اسلام سوال وجواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں