1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شادی

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏اکتوبر 30، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 30، 2017 #1
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    161
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    پہلے کتنی سادگی تهی
    بڑی بہن کی شادی کی تاریخ مقرر ہو چکی تهی
    لیکن
    کوئی شادی ہال بک نہیں کیا گیا
    کوئی بیوٹی پارلر سے کنٹیکٹ نہیں کی گئی
    کوئی وڈیو یا تصاویر بنانے والے کو نہیں کہا گیا
    اور شادی کے رنگ برنگے کارڈ بهی نہیں چهاپے گئے

    ابا حضور اپنے دوست احباب کو زبانی دعوتیں دیئے پهر رہے ہیں تو امی جان اپنی سہیلیوں اور پڑوسیوں کو جا کر بتا رہی ہیں کہ اس تاریخ کو بیٹی کی شادی ہے، آپ نے آنا ہے اور ہاں تین دن پہکے ڈوهلکی رکهی گئی ہے اس میں شرکت کرکے ہماری خوشیوں کو دو بالا کرنی ہے ۔
    دور رہنے والے رشتہ داروں کو خطوط ارسال کر دیئے گئے ہیں کہ بیٹی کی شادی ہے اور آپ کی شرکت لازمی ہے ۔
    اور قریب رہنے والے رشتہ داروں کے یہاں ابا اماں دونوں جاکر دعوت دے رہے ہیں اور جو ناراض ہیں انہیں منایا جا رہا ہے۔
    پھر کوئی ناراضگی باقی نہیں رہی اور تمام لوگوں نے خوشی خوشی شرکت کی۔

    شادی کی تقریبات کیلئے محلے والوں نے اپنے گهروں کے دروازے کهول دیئے
    اور یوں سادگی سے شادی ہوگئی ۔
    دلہن کو سبھوں نے اپنی دعاؤں میں رخصت کیا ۔
    اور اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔

    نہ زیادہ اخراجات کا بوجھ پڑا اور نہ ہی مقروض ہونا پڑا ۔

    کاش ایسی سادگی کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
    اور شادی کو آسان بنائی جائے ۔
    تاکہ ہر نوجوان بچے اور بچی کی شادی وقت پر ہو جائے!
     
  2. ‏اکتوبر 30، 2017 #2
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    بیشک
     
  3. ‏اکتوبر 30، 2017 #3
    ٹرومین

    ٹرومین رکن
    جگہ:
    کہیں دور گمنام فضاؤں میں
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2011
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    تحریر میں ایک اچھا پیغام دیا گیا ہے کیونکہ لوگوں نے دکھاوے کے چکر میں اپنی اور اپنے سے منسلک لوگوں کی زندگیوں کو عذاب بنایا ہوا ہے۔
    ڈھولکی رکھنا کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ بھی سادگی میں آتا ہے؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
     
  4. ‏اکتوبر 31، 2017 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,527
    موصول شکریہ جات:
    4,368
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    دف کو دو حصوں کو آپس میں جوڑ لیں تو ڈھولکی بنتی ہے، خواتین بجاتی تھیں اور اب بھی شادی بیاہ میں کچھ گھروں میں بجائی جاتی ہے اور کچھ گھر والے اپنی حیثیت کے مطابق میوزیکل پروگرام ترتیب دے دیتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کھانے میں دودھ مٹھائی، آلو شوربا روٹی کے ساتھ اور زردہ یہ ڈیشیز استعمال میں لائی جاتی تھیں۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 31، 2017
  5. ‏اکتوبر 31، 2017 #5
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    161
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    ہمارے علاقے میں یہ رواج تھا کہ شادی ہونے والی گھرمیں محلے کی عورتیں جمع ہوکر گانا گایا کرتی تھیں۔اس میں کوئی خاص خرچ تو ہوتا نہیں تھا‘ بس ایک ڈھولک کا بندوبست کرنا پڑتا تھا اور عورتوں کیلئے چائے وغیرہ کا۔
    اس کی شرعی حثیت تو فورم پر موجود مفتی حضرات ہی بتا سکتے ہیں لیکن سنا ہے شادی کے موقعے پر دف بجانے اور عورتوں کا گانا وغیرہ گانے کی اجازت ہے تو یہ اسی طرح کا ہوتا تھا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں