1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شام کے متعلق کچھ روایات

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏نومبر 24، 2015۔

  1. ‏نومبر 24، 2015 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    arab kay halat.jpg
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!
    اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین!


    آپ نے فرمایا" جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہوگا جب تک مصر خراب نہ ہوجائے اور جنگ عظیم اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کوفہ خراب نہ ہوجائے" (الفتن)۔
    پھر فرمایا " عنقریب تم افواج کو پاؤ گے، شام میں، عراق میں اور یمن میں" ۔ عبداللہ بن حوالہ نے پوچھا"میرے لیے کیا حکم ہے؟" فرمایا تم شام کو لازم پکڑنا (للبہیقی) فرمایا ایمان فتنوں کے وقت میں شام میں ہوگا (للبہیقی) اور
    آپ نےمتنبہ کرتے ہوئے فرمایا" جب شام میں فساد ہو تو تمہاری خیر نہیں (مسند احمد بن حنبل) اور
    پھر اس حدیث پر غور کریں " قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ اہل عراق کے اچھے لوگ شام کی طرف منتقل نہ ہوجائیں اور اہل شام کے شریر لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہوجائیں" اور
    فرمایا "تم شام کو لازم پکڑے رہنا"(مسند احمد بن حنبل)
    یہ وہ شام ہے جو امام مہدی کا ہیڈکوارٹر ہوگا، یہیں حضرت عیسی کا نزول ہوگا۔
    یہیں سے ایک لشکر جہاد ہندکی نصرت کے لیے روانہ کیا جائے گا۔
     
  2. ‏نومبر 24، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    یہ روایات کسی عالم نے نہیں لکھیں ، بلکہ کسی نے علم کے بغیر اپنی ضرورت کے تحت جمع کی ہیں ۔
    اور لگتا ہے یہ کسی ایسے رائیٹر کا کارنامہ ہے جو ہمیں اس وقت شام والوں کی بیعت پر آمادہ کرنا چاہ رہا ہے ،و العلم عند اللہ
    بہرحال حسب ارشاد ان روایات کی تحقیق پیش خدمت ہے :
    22145 - حدثنا عبد الصمد، حدثنا حماد، عن الجريري، عن أبي المشاء وهو لقيط بن المشاء، عن أبي أمامة قال: لا تقوم الساعة حتى يتحول خيار أهل العراق إلى الشام، ويتحول شرار أهل الشام إلى العراق وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عليكم بالشام "
    ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    " قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ اہل عراق کے اچھے لوگ شام کی طرف منتقل نہ ہوجائیں اور اہل شام کے شریر لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہوجائیں" اور
    فرمایا "تم شام کو لازم پکڑے رہنا"(مسند احمد بن حنبل)
    شیخ الالبانی فرماتے ہیں :
    ضعيف موقوف.
    أخرجه أحمد (5/ 249) ، ومن طريقه ابن عساكر في " تاريخ دمشق " (1/ 97 - دار الفكر) من طريق الجريري عن أبي المشاء - وهو:لقيط بن المشاء - عن أبي أمامة قال: ... فذكره موقوفاً، وزاد:
    وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عليكم بالشام ".
    قلت: وهذا إسناد ضعيف على وقفه، رجاله ثقات؛ غير (لقيط بن المشاء أبو المشاء) : لم يوثقه غير ابن حبان، وقال (5/ 344) :
    " يخطئ ويخالف ".

    یعنی ایک تو یہ موقوف روایت ہے ، قول رسول ﷺ نہیں ۔دوسرا یہ کہ اس کی سند بھی ضعیف ہے ‘‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۲- حدثنا محمد، ثنا بحر، ثنا ابن وهب، قال: وأخبرني معاوية، عن صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن كعب، قال: «الجزيرة آمنة من الخراب حتى تخرب أرمينية، ومصر آمنة من الخراب حتى تخرب الجزيرة، والكوفة آمنة من الخراب حتى تخرب مصر، ولا تكون الملحمة حتى تخرب الكوفة، ولا تفتح مدينة الكفر حتى تكون الملحمة، ولا يخرج الدجال حتى تفتح مدينة الكفر» (المستدرک علی الصحیحین )
    [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8428 - منقطع واه )

    والاثر من اسرائیلیات التی اشتہر بروایتہا کعب الاحبار ،وقال فیھا الذہبی :منقطع واہ ۔
    یعنی یہ محض اسرائیلی روایت ہے ۔(کوئی حدیث یا صحابی کا قول نہیں )
    ورواه ابو عمرو الداني في (السنن الواردة في الفتن ج4 --ص800 )
    کعب احبار کہتے ہیں کہ : جزیرۃ العرب اسوقت تک امن میں رہے گا، جب تک آرمینیا برباد نہیں ہوتا ۔اور مصر اس وقت تک خراب نہیں ہوگا جب تک جزیرہ عرب محفوظ ہے ۔اور جبتک مصر تخریب کا شکار نہیں ہوتا اس وقت تک کوفہ محفوظ و مامون رہے گا ۔اور مسلمانوں اور کفار کے درمیان ایک عظیم جنگ اس وقت تک نہیں ہوگی، جب تک کوفہ خراب نہ ہو۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہی روایت (السنن الواردة في الفتن ) میں اس طرح ہے :
    - حدثنا عبد الرحمن بن عثمان، قال: حدثنا قاسم بن أصبغ، قال: حدثنا أحمد بن زهير، قال: حدثنا عبد الجبار بن عاصم، قال: حدثنا إسماعيل بن عياش، عن بعض، أصحابه قال: وجدت في كتاب خالد بن معدان: قال عبد الله , عن كعب الحبر قال: " الجزيرة آمنة من الخراب حتى تخرب أرمينية , ومصر آمنة من الخراب حتى تخرب الجزيرة , والكوفة آمنة من الخراب حتى تكون الملحمة , قال: ولا يخرج الدجال حتى تفتح القسطنطينية "
    ( السنن الواردة في الفتن وغوائلها والساعة وأشراطها )

    اس کی تخریج میں ڈاکٹر رضاء اللہ بن ادریس لکھتے ہیں :
    والاثر من اسرائیلیات التی اشتہر بروایتہا کعب الاحبار ،وقال فیھا الذہبی :منقطع واہ ۔
    یعنی یہ محض اسرائیلی روایت ہے ۔(کوئی حدیث یا صحابی کا قول نہیں )
    اور بے بنیاد بات ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باب في سكنى الشام
    باب: شام میں رہنے کی فضیلت کا بیان۔

    عن ابن حوالة قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " سيصير الامر إلى ان تكونوا جنودا مجندة جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق " قال ابن حوالة:‏‏‏‏ خر لي يا رسول الله إن ادركت ذلك فقال:‏‏‏‏ " عليك بالشام فإنها خيرة الله من ارضه يجتبي إليها خيرته من عباده فاما إن ابيتم فعليكم بيمنكم واسقوا من غدركم فإن الله توكل لي بالشام واهله ".
    (سنن ابی داود ،حدیث نمبر: 2483 ۔۔و السنن الکبری للبیہقی )

    عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے، ایک ٹکڑی شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں“۔ ابن حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر شام کو لازم کر لو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ۱؎“۔
    قال الشيخ الألباني: صحيح
    وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۱۰)
    (صحیح) وضاحت: ۱؎ : شام فتنوں سے محفوظ رہے گا اور وہاں کے رہنے والوں کو اللہ فتنہ کے ذریعہ ہلاک نہیں کرے گا۔

    اور فضائل شام پر مستقل کتابیں موجود ہیں،علامہ البانی کی تحقیق کے ساتھ ایک مفید کتاب ::
    تخريج أحاديث فضائل الشام ودمشق لأبي الحسن علي بن محمد الربعي

    پڑھیں ۔۔اب تو شاید اردو میں بھی آچکی ہے ۔کہیں دیکھی ہے لیکن یاد نہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی دعاؤں میں بندہ کو یاد رکھیں ۔۔۔والسلام
     
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 24، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791


    عن معاوية بن قرة عن ابيه قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " إذا فسد اهل الشام فلا خير فيكم لا تزال طائفة من امتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة " قال محمد بن إسماعيل قال علي بن المديني هم اصحاب الحديث قال ابو عيسى:‏‏‏‏ وفي الباب عن عبد الله بن حوالة وابن عمر وزيد بن ثابت وعبد الله بن عمرو وهذا حديث حسن صحيح.
    (سنن الترمذی،حدیث نمبر: 2192 ۔۔ مسند احمد ،15596 )قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (6)
    قرہ بن ایاس المزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“ ۱؎۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حوالہ، ابن عمر، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا: ان سے مراد اہل حدیث ہیں۔

    تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱ (۶) (تحفة الأشراف : ۱۱۰۸۱)، و مسند احمد (۵/۳۴، ۳۵)

    وضاحت: ۱؎ : یعنی یہ گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اللہ کی نصرت و مدد سے سرفراز رہے گا، اس کی نصرت و تائید نہ کرنے والے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، امام نووی کہتے ہیں : یہ گروہ اقطار عالم میں منتشر ہو گا، جس میں بہادر قسم کے جنگجو، فقہاء، محدثین، زہداء اور معروف و منکر کا فریضہ انجام دینے والے لوگ ہوں گے۔
     
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 24، 2015 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم الله الرحمن الرحيم

    صحة حديث : إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم

    إليك تخريج حديث : إذا فَسدَ أهلُ الشَّامِ فلا خَيرَ فيكُمْ . روى الإمام أحمد في مسنده (3/436) : ‏حَدَّثَنَا ‏‏يَزِيدُ ،‏ ‏أَخْبَرَنَا ‏‏شُعْبَةُ ‏، ‏عَنْ ‏مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ،‏ ‏عَنْ ‏‏أَبِيهِ ‏‏قَالَ :‏ ‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ‏‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ‏إِذَا فَسَدَ أَهْلُ ‏الشَّامِ ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ ، وَلَا يَزَالُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . ورواه الترمذي في سننه (2192) وقال : ‏قَالَ ‏‏مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ :‏ ‏قَالَ ‏عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ‏: ‏هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ ..... ‏وَهَذَا ‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قال صاحب تحفة الأحوذي : ( هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ ) ‏
    ‏وَقَالَ الْبُخَارِيُّ فِي صَحِيحِهِ : وَهُمْ أَهْلُ الْعِلْمِ . وَقَالَ الْحَافِظُ فِي الْفَتْحِ : وَأَخْرَجَ الْحَكَمُ فِي عُلُومِ الْحَدِيثِ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ عَنْ أَحْمَدَ : إِنْ لَمْ يَكُونُوا أَهْلَ الْحَدِيثِ فَلَا أَدْرِي مَنْ هُمْ . وَمِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ مِثْلُهُ اِنْتَهَى .

    قَالَ الْقَاضِي عِيَاضٌ : إِنَّمَا أَرَادَ أَحْمَدُ أَهْلَ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ وَمَنْ يَعْتَقِدُ مَذْهَبَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .

    كتبه عبد الله زقيل
     
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 24، 2015 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ صاحب
    آپ نے خوب پہچانا۔ ماشاء اللہ
    مجھے یہ بطور اخباری کالم موصول ہوا تھا ہے جو کہ اوریا مقبول جان نے لکھا ہے اور اس کے اوپر موصوف کا نام اور تصویر بھی موجود تھی ، اور مجھے تصویر کو حذف کرنے کے چکر میں باقی سب کچھ بھی حذف کرنا پڑا۔
    اس کا عنوان "عرب کے حالات کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400سال پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی" ہے۔
    مزید یہ کہ میں نے اس کو اخبار میں نہیں پڑا ، آج کل ویسے بھی تخریف کرکے کس چیز کو کیا بنا دیا جاتا ہے کوئی پتا نہیں چلتا۔۔۔۔ابتسامہ!
    اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے۔ آمین!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 24، 2015 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اور مزید یہ کہ اس کو یونیکوڈ میں نے کیا تھا آپ کی آسانی کے لیے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 24، 2015 #7
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @اسحاق سلفی بھائی
    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے ۔کہ شام تو شعیہ اور تکفیروں کا گڑھ ہے۔جبکہ حدیث میں ہے کہاللہ نیک بدوں کو جمع کرے گا اور شام فتنوں سے محفوظ رہے گا۔ان دونوں کے درمیان تطبیق کسے ہوگی؟
     
  8. ‏نومبر 24، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
    حدیث میں وارد پیشینگوئی :
    اس کو دیکھنے کیلئے تھوڑا انتظار کرنا ہوگا ۔جو چند سال پر محیط بھی ہوسکتا ہے ۔اور کئی صدیوں بعد بھی ہو سکتا ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 18، 2016 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ صاحب!
    ایک بھائی نے پوچھا ہے کہ:

    اس حديث میں خیر باقی نہ رہنے سے کیا مراد ھے؟
     
  10. ‏دسمبر 18، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ امت اسلامیہ بلاشبہ ’’ امت خیر ‘‘ بہترین امت ہے ، اللہ عزوجل خود اس امت کے متعلق اعلان فرماتا ہے :
    كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۔۔۔ (سورہ آل عمران آیت ۱۱۰ )
    ترجمہ :(مسلمانو ! اس وقت) تم ہی بہترین امت ہو جنہیں لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لیے لاکھڑا کیا گیا ہے : تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ ‘‘
    توضیح :
    یعنی ’’ خیر ‘‘ اس امت کی صفت دائمہ و لازمہ ہے ؛
    خیر امت اس بنا پر کہ یہی امت دین حق پر قائم ہے اہل کتاب نے انحراف کی راہیں اختیار کر کے اصل دین کو گم کردیا۔ اب انسانیت کی اصلاح اور رہنمائی و ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو برپا کیا ہے۔ اس امت کا وصف یہ ہے کہ وہ ایمان سے متصف ہو کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اسی بنا پر اس امت کو خیر امت کا لقب عطا کیا گیا ہے نہ کہ نسل و نسب کی بنا پر جیسا کہ اہل کتاب اپنے بارے میں خیال کرتے رہے ہں۔
    خیر امت کے منصب کے ہر طرح سزاوار صحابۂ کرام تھے اور ان کے بعد وہ لوگ جن کے اندر یہ وصف پایا گیا، رہے وہ مسلمان جن کو ایمان سے کوئی دلچسپی نہیں اور جن کی ساری دوڑ دھوپ منکر کو قائم کرنے اور معروف کو مٹانے کے لئے ہوتی ہے تو وہ اپنے منصب کو غلط استعمال کرتے ہیں ایسے لوگ حقیقتاً خیر امت کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ نوٹ ١٦٦)
    اب ملک شام کے متعلق ارشاد نبوی دیکھئے :
    قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " سيصير الامر إلى ان تكونوا جنودا مجندة جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق " قال ابن حوالة:‏‏‏‏ خر لي يا رسول الله إن ادركت ذلك فقال:‏‏‏‏ " عليك بالشام فإنها خيرة الله من ارضه يجتبي إليها خيرته من عباده ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (سنن ابی داود ،حدیث نمبر: 2483 ۔۔و السنن الکبری للبیہقی )

    عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے، ایک ٹکڑی شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں“۔ ابن حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر شام کو لازم کر لو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا،
    بعینہ اس ارشاد گرامی کا مطلب وہی ہے جو انسانی جسم میں ’’ جاری خون ‘‘ کا معاملہ انسانی قلب سے ہے
    جسم میں خون جہاں بھی ہو دوڑتا ہوا دل کی طرف آتا ہے ، اسیلئے کسی بھی صورت حال میں دل کی دھڑکن ہی زیرو بم کا شکار ہوتی ہے
    دنیا میں اہل اسلام کیلئے برے حالات میں جائے پناہ ملک شام قرار دی گئی ، کہ تم جہاں بھی اگر فتنوں کا سامنا ہو تو دوڑے ہوئے شام آجاؤ
    جس طرح خون دل کی جانب دوڑتا ہے ،
    اور اس معاملہ کا ایک اہم پہلو تعلیم نبوی میں یہ بتایا گیا ہے کہ :
    أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ "(صحیح بخاری ۵۲ )
    سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا سارا بدن درست ہو گا اور جہاں بگڑا سارا بدن بگڑ گیا ۔سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے ‘‘
    یعنی دل خراب تو سارا انسانی جسم ناکارہ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب دیکھئے :
    ملک شام جہاں اہل اسلام کو ہر طرف سے نکل جانا تھا وہ بگڑ گیا تو اہل ایمان میں ’’ خیر ‘‘ کہاں باقی رہ سکتی ہے ،کیونکہ وہ اہل ایمان کیلئے بمنزلہ قلب ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویسے حدیث شریف کے اس جملہ کی تشریح میں ملا علی القاریؒ لکھتے ہیں :
    " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ ") . أَيْ لِلْقُعُودِ فِيهَا أَوِ التَّوَجُّهِ إِلَيْهَا ‘‘ یعنی جب اہل شام بگڑ گئے تو اے ایمان تمہارے لئے وہاں رہنے اور وہاں جانے میں کوئی ۔۔ خیر نہیں ۔۔ ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح باب ثواب ھذہ الامۃ )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں