1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شبِ برات احادیث مبارکہ کی روشنی میں ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ

'بدعی اعمال' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏دسمبر 12، 2011۔

  1. ‏جون 02، 2015 #21
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,497
    موصول شکریہ جات:
    6,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    پندرہ شعبان کی رات کو "شب برات" کہنے کی کوئی دلیل مل سکتی ہے؟
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 04، 2015 #22
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    پندرہ شعبان کو شب برات کہنے کی کوئی دلیل میرے علم کی حد تک نہیں ہے
     
  3. ‏جون 04، 2015 #23
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    قرون مفضلہ میں شب برات کا کوئی تصور نہیں تھا اور نہ ہی اسکا کوئی اہتمام ۔ تو جب انہوں نے نہیں کیا تو ہم کس بنیاد پر کریں اور اگر ہم انکے طریقہ کو چھوڑ کرنئی چیز ایجاد کرینگے تو یہ بدعت ہوگی اور بدعت جہنم میں لے جائیگی۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  4. ‏جون 04، 2015 #24
    عمار شمسی

    عمار شمسی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2014
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی شعبان کی پندرھویں رات کو آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں، جامع ترمذی 718
    لوگ شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں جبکہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے اور امام ترمذی کہتے ہیں کہ میں یہ حدیث صرف اسی سند سے جانتا ہوں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہر رات کو اس وقت آسمان پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی ھصہ رہ جاتا ہے، وہ کہتا ہے، کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے؟ میں اسکی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں، کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔ صحیح بخاری 1145

    اس حدیث سے تو ہر رات کہ فضیلت ثابت ہے پھر لوگ ہر رات عبادتیں کیوں نہیں کرتے؟
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 20، 2016 #25
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اگر غور کیا جایے تو یہ سب کچھ اسلاف کی کتب سے ہی ماخوذ کیا گیا ہے
     
  6. ‏مئی 12، 2017 #26
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310



    علامہ البانی رحمہ اللہ نے یہ روایت صحیح الترغیب میں نہیں, بل کہ ضعیف الترغیب میں درج کی ہے... یعنی اس روایت کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے. اس ضعف کی تفصیل انہوں نے سلسلہ ضعیفہ میں کی ہے...
    دیکھیے السلسلة الضعيفة 619
     
  7. ‏مئی 12، 2017 #27
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ایک بات ذہن میں رکھی جائے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ و دیگر محدثین رحمہم اللہ اور کچھ معاصرین کی رائے بھی اس رات کی فضیلت میں نقل کی جا رہی ہے
    سوال یہ ہے کہ جب ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے تو اسلاف رحمہم اللہ کا ضعیف روایات کی بنیاد پر اجتھاد اور اختیارات کی دین میں کیا حیثیت ہے ؟
    اور کیا اسے بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے ؟
    اور جب ایک رات کی فضیلت ہی ثابت نہیں تو پھر اس فضیلت کی مناسبت سے کیے جانے والے اعمال کی حیثیت کیا ہو گی اس کا تعین تو بہت آسان ہو جاتا ہے
    ضعیف جمع ضعیف والا قاعدہ علی الاطلاق نہیں ہے کہ ہر جگہ اس کو منطبق کر دیا جائے بلکہ صورت حال دیکھی جائے گی پھر فیصلہ کیا جائے گا
    سب سے بڑھ کر عبادات توقیفی ہیں اس میں واضح اور صریح دلیل درکار ہے جو صحیح ہو عبادات میں ضعیف احادیث پر عمل ؟
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں