• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
شمولیت
اپریل 20، 2019
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
السلام علیکم.
آج کی رات شب برات کے نام سے منائی جاتی ہے.
اس کی حقیقت قرآن وحدیث کی روشنی میں .
بعض حضرات نے لیلة مبارکة جس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح آیا ہے
إِنّا أَنزَلنٰهُ فى لَيلَةٍ مُبٰرَكَةٍ ۚ إِنّا كُنّا مُنذِرينَ
بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں،
سورة الدخان آية 3

اس کو شب برات سمجھ لیا ہے جو کہ 15 شعبان کو منائی جاتی ہے
یہ رات کونسی ہے اور کب آتی ہے تو قرآن مجيد ہماری رہنمائی کرتا ہے

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے واﻻ ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو
سورة البقرة آية 185

اسکا مطلب ہے یہ رمضان کی کوئی ایک رات ہے جسے ہم لیلتہ القدر کے نام سے بھی جانتے ہیں یہی فیصلوں کی رات ہے اور اس کی فضیلت سورہ القدر پارہ 30 میں بیان کی گئی ہے

شب برات : شب کے معنی رات اور برات کے معنی حصہ ، فرمان ، حکم نامہ دونوں الفاظ فارسی زبان کے ہیں
عربی زبان میں لیلة النصف من شعبان اس کا نام ہے رات کو عبادت کرنا اور دن کو روزہ رکھنا سنت سے ثابت نہیں جو بھی احادیث اس کے بارے میں آئی ہیں ضعیف اور موضوع یعنی گھڑی ہوئی ہیں پھر مسلمان جو کچھ کرتے ہیں آتش بازی وہ بھی خلاف سنت ہے لیلة القدر ہی وہ رات ہے جس میں سب فیصلے ہوتے ہیں الله تعالی دین کو سمجھنے کی سب کو توفیق دے امین

إِنّا أَنزَلنٰهُ فى لَيلَةٍ مُبٰرَكَةٍ ۚ إِنّا كُنّا مُنذِرينَ
بیشک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں،
سورة الدخان آية 3
إس رات كى قرآن خود وصاحت كرتا ہے
إِنّا أَنزَلنٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ
بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے،
سورة القدر آية 1
احاديث سے بهى ثابت هوتا ہے يه رات رمضان كے آخرى عشرة كى طاق رات ہے

فيها يُفرَقُ كُلُّ أَمرٍ حَكيمٍ
اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے،
أَمرًا مِن عِندِنا ۚ إِنّا كُنّا مُرسِلينَ
ہماری بارگاہ کے حکم سے، بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیں،
سورة الدخان آيات 4,5

تَنَزَّلُ المَلٰئِكَةُ وَالرّوحُ فيها بِإِذنِ رَبِّهِم مِن كُلِّ أَمرٍ
اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں،
سورة القدر آية 4

ان آيات سے ثابت ہوا كہ فيصلوں كى رات بهى يہى ہے جو ليلة القدر ہے.

احادیث مبارکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا ضعیف یا من گھڑت ہیں اور یا اس میں معنوی تحریف کی گئی ہے یعنی معنی غلط کیا گیا ہے .
اور یا جو احادیث لیلة القدر کے بارے ہیں ان کو یہاں فٹ کیا گیاہے.
اس کے علاوہ مومن کےلیئے ہر رات شب برات ہے
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی ھر رات کے اخری حصہ میں آسمان دنیا پر تشریف لاکر اعلان فرماتے ہیں کہ ہے کوئی جومجھ سے مانگے میں دوں , ہے کوئی معافی مانگنے والا جسے معاف کروں ہے کوئی دعا کرنےوالا جس کی دعا قبول کروں
(بخاری کتاب التھجد 1145 )
تو کیوں نہ ھم ھر رات سے شب برات بنائیں
رات کے اخری حصے کو اٹھیں , تہجد پڑھیں اور اللہ سے معافی اور دعا مانگیں .
اللہ ھمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے,آمین.
آپ کا مخلص بھائی ڈاکٹر نثار احمد اورکزئی
 
Top