1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرعی احکامات میں دلیل کی اہمیت

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از عمران ناصر, ‏اکتوبر 17، 2018۔

  1. ‏اکتوبر 17، 2018 #1
    عمران ناصر

    عمران ناصر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2011
    پیغامات:
    45
    موصول شکریہ جات:
    150
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    السّلام علیکم
    میرے ایک دوست کا شریعت میں محبت اور ادب کے حدود کے حوالے سے یہ موقف ہے کہ ہر معاملے میں دلیل اور حوالے کا مطالبہ غیر ضروری اور نامناسب ہے اپنی اس بات کی مثال میں اس کا کہنا ہے کہ جس طرح کسی شخص سے اس کے حقیقی باپ کے ثبوت کا مطالبہ نامناسب ہے، ایسے ہی ادب اور محبت کے اظہار سے متعلق دلیل یا حوالے کا مطالبہ درست نہیں۔۔۔ برائے کرم اس معاملہ میں پیش کردہ مثال کو مدنظر رکھتے ہوے رہنمائی فرمائیں۔۔۔

    @اسحاق سلفی
    @خضر حیات
     
  2. ‏اکتوبر 18، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,683
    موصول شکریہ جات:
    8,304
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    باپ کے متعلق دلیل نہیں مانگی جاتی، کیونکہ عرف عام میں اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جہاں ضرورت پڑ جائے، وہاں ان معاملات کی بھی تحقیق ہوتی ہے، گو اس انداز سے نہیں کہا جاتا کہ تمہارا باپ کون ہے؟
    کتنے لوگ غلط کاغذی کاروائی کرکے، ناحق وارث بن جاتے ہیں۔ ایسے مسائل کی تحقیق اسی انداز سے ہوتی ہے۔
    یعنی جہاں غلطی کا امکان یا اندیشہ ہوتا ہے، وہاں ہم ان معاملات بھی تحقیق کرتے ہیں۔
    شریعت میں جس طرح ظاہری اعمال پر توجہ کی گئی ہے، اعمال قلوب کی بھی بہت اہمیت ہے۔ محبت اور نفرت یہ دل کے اعمال ہیں، ان کا شریعت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ والا واقعہ مشہور ہے، انہوں نے دلی کیفیت بتائی کہ مجھے اپنی جان سب سے زیادہ محبوب ہے، لیکن اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دل کی یہ کیفیت شریعت کے مطابق نہیں، پھر آپ نے فرمایا: نبی سے محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔ تو انہوں نے اپنی سوچ کو بدلا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اب ٹھیک ہے۔
    اس واقعے کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ محبت و نفرت اور عقیدت بھی شریعت کے مطابق ہونی چاہیے۔
    اللہ ، رسل و انبیاء، قرآن کریم، صحابہ کرام سے محبت رکھنا یہ ایمان کا تقاضا ہے، جو ان میں سے کسی سے نفرت رکھےگا، وہ گناہ گار سے لے کر کافر ومرتد تک ہوسکتا ہے۔
    اسی طرح شیطان سے، انبیاء کے دشمنوں سے، اللہ اور اس کے رسول کی توہین کرنے والوں سے نفرت کرنا ضروری ہے، جو ان سے محبت رکھے گا، گناہ گار سے لیکر کافر و مرتد تک ہوسکتا ہے۔
    واللہ اعلم۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 18، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    محبت اور مظاہر محبت

    محبت الہی کے تقاضے
    قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( آل عمران31 )
    کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو (١) خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا (٢) اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

    امام ابن کثیرؒ اس آیۃ کے تحت لکھتے ہیں :
    هذه الآية الكريمة حاكمة على كل من ادعى محبة الله، وليس هو على الطريقة المحمدية فإنه كاذب في دعواه في نفس الأمر، حتى يتبع الشرع المحمدي والدين النبوي في جميع أقواله وأحواله، كما ثبت في الصحيح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد" ولهذا قال: {قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله} أي: يحصل لكم فوق ما طلبتم من محبتكم إياه، وهو محبته إياكم، وهو أعظم من الأول، كما قال بعض الحكماء العلماء: ليس الشأن أن تحب، إنما الشأن أن تحب وقال الحسن البصري وغيره من السلف: زعم قوم أنهم يحبون الله فابتلاهم الله بهذه الآية، فقال: {قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله} .
    اس آیت نے فیصلہ کر دیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمدیہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے ،
    جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے ،
    اسیلئے اللہ تعالی نے فرمایا :(اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری پیروی کرو اس طرح تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا) یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والابن جائے گا ۔
    جیسا کہ بعض حکیم علماء کا کہنا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے ۔
    جناب امام حسن بصریؒ اور کچھ دیگر علمائے سلف فرماتے ہیں کہ :
    کچھ لوگوں کا دعوی تھا کہ انہیں اللہ سے محبت ہے تو ان کے دعوے کی حقیقت آشکار کرنے کیلئے اللہ تعالی نے یہ حکم دیاکہ :
    (اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری پیروی کرو ،اس طرح خود اللہ تم سے محبت کرے گا)
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اس وقت امت میں اختلاف و فرقہ بندی کی ایسی صورت حال ہے
    جس میں ہر گروہ کا دعوی ہے کہ صرف اسے اللہ اور رسول گرامی صلی اللہ علیہ وسلم محبت ہے ،
    اس دعوائے محبت کی صداقت جاننے کا واحد پیمانہ "قرآن و سنت " کی پیروی ہے
    یعنی کون محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سچا ہے اس کا ثبوت اسی صورت سامنے آسکتا ہے کہ وہ سنت مصطفیٰ کی پیروی اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    کتنا سچا ہے ۔
    محبت کی صداقت کا یہ معیار خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے
    ”لا یوٴمن أحدکم حتی یکون ہواہ تبعا لما جئت بہ “
    ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ اپنی خواہشات کو میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ کردے-“ (مشکوٰ ۃ )

    اورسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    کل أمتی یدخلون الجنۃ إلا من أبٰی قالوا یارسول اللہ ! ومن یأبی قال: من أطاعنی دخل الجنۃ ومن عصانی فقد أبٰی (بخاری؛۷۲۸٠)
    ”میری اُمت کا ہر شخص جنت میں داخل ہو گا، سوائے اس کے جس نے انکارکیا- صحابہؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول وہ کون شخص ہے جس نے (جنت میں جانے سے) انکار کیا؟ آپ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکارکیا-“​
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو بات واضح ہے :
    ایمانی محبت اور ادب ظاہر و باطن میں اتباع شریعت کا نام ہے،
    اگر شرع محمدی سے آزاد ہوکر۔۔ اظہار محبت۔۔ کیا جائے گا تو کبھی رقص وسرود مظہر بنے گا ،کبھی شاہراہوں پر جلوس ذریعہ اظہار محبت ہوگا ،
    کبھی زنجیروں سے ماتم اور رخساروں پر تھپڑ مارے جائیں گے،

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں