1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرعی اوزان اور پیمانوں کی مقدار کا معاصر مصطلحات میں تعین

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 12، 2019۔

  1. ‏مارچ 12، 2019 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,504
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    شرعی اوزان اور پیمانوں کی مقدار کا معاصر مصطلحات میں تعین



    الحمد للہ:

    اول:

    کتاب و سنت میں مذکور اوزان، پیمائش اور ماپنے کی مصطلحات بیان کرنے کے حوالے سے متعدد معاصر محققین نے کام کیا ہے، انہوں نے متقدم علمائے کرام کی جانب سے ان کی بیان کی گئی مقداروں کو معاصر مصطلحات کی روشنی میں بیان کیا ہے، ان عرب علمائے کرام کی تالیفات میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

    1- محمود فاخوری اور صلاح الدین خوام کی مشترکہ تالیف:

    موسوعة وحدات القياس العربية والإسلامية ، وما يعادلها بالمقادير الحديثة : الأطوال ، المساحات ، الأوزان ، المكاييل "

    2- محمد نجم الدین کردی کی کتاب:

    " المقادير الشرعية والأحكام المتعلقة بها – كيل ، وزن ، مقياس - منذ عهد النبي صلى الله عليه وسلم وتقويمها بالمعاصر " ۔

    3- علی مبارک پاشا کی کتاب:

    " الميزان فى الأقيسة والأوزان " ۔

    4- منیر حمود فرحان کبیسی کی کتاب:

    " المقادير الشرعية وأهميتها في تطبيق الشريعة الإسلامية " الأوزان والمكاييل والمقاييس " ۔

    5- محمد جلیلی کی کتاب:

    " المكاييل والأوزان والنقود العربية " ۔

    6- محمد صبحی حلاق کی کتاب:

    " الإيضاحات العصرية للمقاييس والمكاييل والأوزان الشرعية " ۔

    7- الشیخ عبد اللہ بن سلیمان المنیع کا تحقیقی مقالہ،بعنوان:

    " تحويل الموازين والمكاييل الشرعية إلى المقادير المعاصرة " ان کا یہ مقالہ مجلہ " البحوث الإسلامية " ( شمارہ نمبر: 59 ) میں شائع ہوا ہے۔

    الشیخ وھبہ زحیلی نے اپنی کتاب:

    " الفقه الإسلامي وأدلته " میں شرعی اوزان کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

    دوم:

    مکرم سائل نے جن اوزان، پیمائش اور پیمانوں کی تفصیلات معاصر مصطلحات کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی ہے ان میں "میل" کا اضافہ کرتے ہوئے ان سب کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

    مُد:

    الشیخ عبد اللہ بن سلیمان المنیع حفظہ اللہ کہتے ہیں:

    "اگر مد کو ایک مکمل رطل اور تہائی رطل کے برابر شمار کریں تو پھر مد کی مقدار 544 گرام ہے، اور جیسے کہ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ رطل کی مقدار 408 گرام ہے۔"
    " مجلة البحوث الإسلامية " ( 59 / 179 )

    صاع:

    الشیخ عبد اللہ بن سلیمان المنیع حفظہ اللہ کہتے ہیں:

    "مملکت سعودی عرب میں سپریم علما کونسل نے صاع کی کلو گرام میں مقدار نکالنے کے لئے تحقیق کی تھی اور اس تحقیق میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صاع کی مقدار چار مُد کو بنیاد بنایا گیا تھا، اور یہ کہ ایک مد درمیانی قامت والے شخص کی دونوں ہتھیلیوں کے بھراؤ کو کہتے ہیں، اس تحقیق میں یہ بھی شامل تھا کہ درمیانی قامت کے شخص کی ہتھیلیوں میں کتنی مقدار آتی ہے۔ چنانچہ اس تحقیق کے نتائج یہ نکلے کہ تقریباً 650 گرام ایک مد کی مقدار ہے ، اس بنا پر صاع کی مقدار 2600 گرام ہوئی۔"
    " مجلة البحوث الإسلامية " ( 59 / 178 )

    قُلّہ:

    الشیخ عبد اللہ بن سلیمان المنیع حفظہ اللہ کہتے ہیں:

    "اہل علم کے ہاں جو قلہ مشہور ہے یہ ھجر بستی کا قلہ ہے، یہ بستی مدینے کے قریب ہی واقع ہے، یہاں پر ھجر سے مراد بحرین کی ھجر بستی مراد نہیں ہے۔

    یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ ایک قلے میں 250 رطل ہوتے ہیں، اور یہ بھی پہلے گزر چکا ہے کہ رطل کی گراموں میں مقدار 408 گرام ہے، تو پھر ایک قلے کی مقدار 250*408=102000 یعنی 102 کلو گرام بنے گی۔"
    " مجلة البحوث الإسلامية " ( 59 / 184 )

    ذراع:

    الشیخ وھبہ زحیلی حفظہ اللہ کہتے ہیں:

    "ذراع کا لفظ بول کر فقہی کتابوں میں ہاشمی ذراع [ہاتھ] مراد لیا جاتا ہے، اور اس کی لمبائی 61.2 سم ہے۔"

    میل:

    ایک میل 4000 ذراع کا ہوتا ہے یعنی 1848 میٹر لمبائی ایک میل کی بنتی ہے۔

    فرسخ:

    ایک فرسخ 3 میل کا ہوتا ہے، یا 5544 میٹر لمبائی رکھتا ہے یا 12000 قدم اس کی لمبائی ہوتی ہے۔

    برید:

    ایک عربی برید 4 فرسخ کا ہوتا ہے، یا 22176 میٹر یا 22.176 کلومیٹر اس کی لمبائی بنتی ہے۔
    " الفقه الإسلامي وأدلته " ( 1 / 74 ، 75 )

    واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں