1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرم گاہ کو چھونے پر وضو کے دہرانے کے سلسلے میں احادیث میں تعارض اور حنفی علماء کی تطبیق

'مختلف الحدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏جنوری 24، 2012۔

  1. ‏جنوری 24، 2012 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اسلام علیکم،
    میرا یہ سوال اہل الحدیث علماء کے علاوہ فورم پر موجود حنفی علماء جیسے جمشید صاحب، سے بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مس الذکر کے بارے میں ہمیں دو قسم کی احادیث ملتی ہیں، اور وضو کے نا دہرانے کے سلسلے میں صرف ایک ہی حدیث ایسی ہے جس کی صحت کو اہل حدیث علماء بھی تسلیم کرتے ہیں، اور وہ ہے طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث۔
    اب وضو دہرانے کی احادیث بھی حنفی علماء کے نزدیک صحیح ہیں، اور یہ والی بھی، تو سوال یہ ہے کہ، اہل حدیث علماء کی ان احادیث میں تطبیق کا تو مجھے علم ہے، لیکن حنفی علماء علم مختلف الحدیث کے میدان میں، ان احادیث کی کیا تطبیق کرتے ہیں؟ دلائل سے جواب دیں۔ اور کیا یہ تطبیق صحیح ہے؟
    جزاک اللہ خیرا

    (نوٹ: مجھے کسی کو ٹیگ کرنے کا طریقہ نہیں آتا، اس لیے موڈریٹر سے گذارش ہے کہ اس پوسٹ میں جمشید صاحب کو بھی ٹیگ کر دیں، جزاک اللہ)
     
  2. ‏جنوری 24، 2012 #2
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    میں نے الاعتصام میں اور شاید مرآۃ البخاری میں پڑھا تھا کہ متعارض احادیث کو منسوخ قرار دینے سے پہلے ان میں تطبیق کی جاتی ہے، اور ایک حنفی بھائی نے بھی مجھے بتایا تھا کہ احناف بھی پہلے تطبیق ہی کرتے ہیں اور بعد میں منسوخ اور ناسخ علیحدہ کرتے ہیں۔ کیا احناف کے اصول کے مطابق یہ صحیح ہے؟؟ دلائل سے جواب دیں۔
     
  3. ‏جنوری 24، 2012 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,186
    موصول شکریہ جات:
    2,641
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
    رضا میاں بھائی! علماء مقلدین حنفیہ سے تاویل مختلف الاحادیث یعنی کہ تطبیق پوچھتے ہو!!!
    رضا میاں بھائی! علماء مقلدین حنفیہ سے احادیث کی تاویل پوچھتے، کہ کس تاویل کے ذریعے حدیث کے حکم کو ساقط کیا جا سکتا ہے، یا کوئی حیلہ پوچھتے، کہ کون سا حیلہ اختیار کر کے حدیث کے حکم کو ساقط کیا جا سکتا ہے!!
    یہ علم الحدیث اور وہ بھی علم مختلف الحدیث!! اب علماء مقلدین حنفیہ کا اس سے کیا واسطہ!!
    رضا میاں! آپ بہت ہی بھولے ہو جو جمشید میاں کو اتنا بھولا سمجھ رکھا ہے!!!
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 26، 2012 #4
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    مختلف فروعاتی مسائل میں اختلاف نہ کوئی نئی بات ہے اورنہ ہی عجیب۔بلکہ یہ صحابہ کرام کے دور سے چلاآرہاہے۔یہ ایک ایسامسئلہ ہے جس میں روایات بھی مختلف ہیں اورصحابہ کرام کا طرز عمل بھی مختلف رہاہے۔لہذا یہ ان مسائل میں سے ہے جس کو کسی پر تھوپنادرست نہیں۔دونوں عمل انشاء اللہ درست ہیں۔یہ اوربات ہے کہ ہرایک نے اپنے اپنے علم کے مطابق کسی کو راجح اورکسی کومرجوح قراردیاہے۔
    اس بارے میں دارقطنی نے امام علی بن مدینی اوریحیی بن معین کا دلچسپ مناظرہ نقل کیاہے۔اس مناظرہ کے حکم امام اہل السنۃ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ تھے۔پوراواقعہ یہ ہے۔
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ , نا رَجَاءُ بْنُ مَرْجَاءَ الْحَافِظُ , قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ , وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ , فَقَالَ يَحْيَى: يُتَوَضَّأُ مِنْهُ , وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ , وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ , وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ [ص:274] بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ , وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدَ إِسْنَادَ بُسْرَةَ , وَمَرْوَانُ أَرْسَلَ شَرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ , فَقَالَ يَحْيَى: وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ , فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا , فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ» . , فَقَالَ عَلِيُّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ , فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَنْ؟ , قَالَ: سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي قَيْسٍ , عَنْ هُزَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ , فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ: نَعَمْ وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ , ثنا مِسْعَرٌ , عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ , قَالَ: «مَا أُبَالِي مَسِسْتُهُ أَوْ أَنْفِي» . فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارٌ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا
    سنن دارقطنی۔باب ماروی فی لمس القبل والدبروالذکر1/274
    جہاں تک بات نسخ اورتطبیق وغیرہ کی ہے تو اس سلسلے میں جیساکہ علامہ انورشاہ کشمیری نے فیض الباری میں ذکر کیاہے کہ احناف کے یہاں پہلاطریقہ نسخ کاہی ہے
    شافعیہ کے یہاں پہلاطریقہ تطبیق کاہے اوراسی جانب علامہ شبیراحمد عثمانی کابھی رجحان ہے۔(ان کی یہ باتمیں نے ان کی تقریرات پر مشتمل بخاری کی شرح میں پڑھی تھی کتاب کانام فی الوقت یاد نہیں رہا)
    ویسے کامن سنس یاعقل عام یہی کہتی ہے کہ اگرکسی حدیث کے بارے میں پختہ طورپر معلوم ہو جائے کہ وہ منسوخ ہے توتطبیق کی جھنجھٹ اورپریشانی کون مول لے گا۔اوراگرپختہ طورپرکسی حدیث کی تنسیخ معلوم نہ ہوتوتطبیق بہترین راستہ ہے۔
    احناف اس حدیث کی دوتاویل کرتے ہیں ایک تویہ کہ لغت میں وضوء کے معنی ہاتھ دھونے کے بھی ہیں۔لہذا یہاں بھی ہاتھ دھونے کاحکم دیاہے۔وہ مشہور حدیث بھی یاد کیجئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکرجاگنے والوں کو تین بار ہاتھ دھونے کاحکم دیاہے اوروجہ یہ بیان کی کہ لایدری این باتت یدہ ۔سونے میں ہاتھ کہاں جاسکتاہے بدن کے حصوں کوکھجاسکتاہے۔ ناک میں انگلی جاسکتی ہے یاپھر شرمگاہ کو مس کرسکتاہے۔تویہاں بھی وضوء سے غسل کے معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔
    دوسراقول جوزیادہ بہتر ہے وہ یہ کہ یہ قول استحباب پر مبنی ہے۔یعنی وضوء کا حکم استحباب کاہے یہ امام مالک رحمہ اللہ کابھی قول ہے۔اس قول کے اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اختیار کرنے کے بعد دونوحدیثوں پر عمل ہوجاتاہے حدیث بسرہ پربھی اورحدیث طلق پربھی ۔جب کہ اگرحضرت بسرہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ حدیث اختیار کی جائے توحدیث طلق بالکل ہی چھوڑنی پڑتی ہے۔
    ویسے تفصیل میں جائیں تویہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے کسی میں صرف فرج کا ذکر ہے کسی میں دبر کابھی ذکر ہے۔کسی میں مس بلاحائل کاذکر ہے۔جب کہ حضرت طلق کی حدیث ان پیچیدگیوں سے خالی ہے۔
    مس ذکر سے وضوء نہ ٹوٹنے پر کبارصحابہ کی رائے بھی ہے۔
    امام طحاوی لکھتے ہیں۔
    فَلَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْتَى بِالْوُضُوءِ مِنْهُ , غَيْرَ ابْنِ عُمَرَ. وَقَدْ خَالَفَهُ فِي ذَلِكَ أَكْثَرُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    شرح معانی لآثار

    اس سلسلے کی ایک مزید دلچسپ بحث بھی پڑھیں
    عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: دَعَانِي وَابْنَ جُرَيْجٍ بَعْضُ أُمَرَائِهِمْ فَسَأَلَنَا عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: «يَتَوَضَّأُ» ، فقُلْتُ: لَا وُضُوءَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا قُلْتُ لِابْنِ جُرَيْجٍ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنِيٍّ، فَقَالَ: «يَغْسِلُ يَدَهُ» ، قُلْتُ: فَأَيُّهُمَا أَنْجَسُ الْمَنِيُّ أَوِ الذَّكَرُ؟ قَالَ: «لَا، بَلِ الْمَنِيُّ» قَالَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ هَذَا؟ قَالَ: «مَا أَلْقَاهَا عَلَى لِسَانِكَ إِلَّا شَيْطَانٌ»
    مصنف عبدالرزاق،باب الوضوء من مس الذکر1/120

    میں ایک بارپھردوبارہ عرض کردوں ۔دونوں پر عمل کی گنجائش موجود ہے۔
    نوٹ:براہ کرم کوئی صاحب اعتراض ورد کامعرکہ نہ شروع کریں۔اورمجھ کوجواب دینے سے معذورتصورکریں۔
     
  5. ‏جنوری 26، 2012 #5
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    جزاک اللہ خیرا۔
     
  6. ‏اکتوبر 06، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کسی یوزر کو ٹیگ کرنے کا طریقہ جاننے کے لیے میری اس پوسٹ کا مطالعہ کریں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں