1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار-قسط نمبر 12A

'علاج و دم' میں موضوعات آغاز کردہ از imran shahzad tarar, ‏ستمبر 05، 2016۔

  1. ‏ستمبر 05، 2016 #1
    imran shahzad tarar

    imran shahzad tarar مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2016
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    16

    (جادو جنات اور علاج قسط نمبر:A12 )

    *کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
    *مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
    *ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
    *مکتبہ اسلامیہ*
    *یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*

    پانچواں حصہ:
    شریعت اِسلامیہ میں جادو کا حکم
    جادو سیکھنے کا شرعی حکم
    جادوگر کے متعلق شرعی فیصلہ
    اہل کتاب کے جادوگر کے متعلق شرعی حکم
    کیا جادو کو جادو سے توڑا جا سکتا ہے؟
    جادو، کرامت اور معجزے میں فرق
    شریعت میں جادوگر کے متعلق فیصلہ
    1۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں:
    “جادوگر جو جادو کا عمل خود کرتا ہو اور کسی نے اس کےلئے یہ عمل نہ کیا ہو، تو اس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
    ﴿ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرَاہٗ مَا لَہٗ فِیْ الْآ خِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ﴾
    ترجمہ:“اور وہ یہ بات بھی خوب جانتے تھے کہ جو ایسی باتوں کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔”
    سو میری رائے یہ ہے کہ وہ جب خود جادو کا عمل کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔”
    (الموطأ (627) کتابالعقول باب ماجاء فی الغیلۃ والسحر)
    2۔ امام ابن قدامہؒ فرماتے ہیں:
    “جادوگر کی سزا قتل ہے، اور یہ متعدد صحابۂ کرام (مثلاً عمرؓ، عثمانؓ، ابن عمرؓ، حفصہؓ، جندب بن عبداللہؓ، جندب بن کعبؓ، قیس بن سعدؓ )اور عمر بن عبدالعزیزؒ سے مروی ہے، اور یہی مذہب امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کا بھی ہے۔” (المغنی:ج8،ص106)
    3۔ امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:
    “مسلم جادوگر اور ذمی جادوگر کے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، چنانچہ امام مالکؒ کا مذہب یہ ہے کہ مسلم جادوگر جب ازخود ایسے کلام سے جادو کرے جس میں کفر پایا جاتا ہو تو اسے توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کر دیا جائے، اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائےکیونکہ جادو کا عمل ایسا عمل ہےجسے وہ خفیہ طور پر سر انجام دیتا ہے، جیسا کہ زندیق اور زانی اپنا کام خفیہ طور پر کرتے ہیں، اور اس لئے بھی کہ اللہ نے جادو کو کفر کہا ہے ﴿ وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلاَ اِنَّمَا نَحنُ فِتْنَۃٌ فَلاَ تَکْفُرْ﴾ اور یہی مذہب امام احمد بن حَنبلؒ، ابوثورؒ، اسحاقؒ، امام شافعیؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ کا ہے۔” (تفسیر القرطبی:ج2،ص48)
    یاد رہے کہ امام قرطبیؒ نےامام شافعیؒ کا یہی مسلک بیان کیا ہے جبکہ ان کا مشہور مسلک یہ ہے کہ جادوگر کو محض جادو کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے، ہاں اگر وہ جادو کر کے کسی کو قتل کر دے تو اسے قصاصاً قتل کر دیا جائے گا۔
    4۔ امام بن منذرؒ فرماتے ہیں:
    “کوئی شخص جب اس بات کا اعتراف کر لے کہ اس نے ایسے کلام کے ساتھ جادو کیا ہے جس میں کفر پایا جاتا ہو اور وہ اس سے توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دینا واجب ہے۔ اور اسی طرح اگر دلیل سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ اس نے واقعتاً کفریہ کلام کے ساتھ جادو کا عمل کیا ہے تو اسےقتل کر دینا ضروری ہو گا۔ اور اگر اس نےایسے کلام کے ساتھ جادو کیا ہو جس میں کفر نہیں پایا جاتا تو اسے قتل کرنا جائز نہیں، ہاں اگر جادوگر نے جادو کا عمل کر کے جان بوجھ کر دوسرے شخص کو نقصان پہنچایا جس سے قصاص واجب ہو جاتا ہے تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ اور اگر اس نقصان سے قصاص لازم نہیں آتا تو اس سے دیت وصول کی جائے گی۔”
    5۔ امام ابنِ کثیرؒ فرماتےہیں:
    “اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَو اَنَّھُمْ آمَنُوْا وَتَّقَوْا۔۔۔۔۔﴾ سے ان علماء نے دلیل لی ہے جو جادوگر کو کافر کہتے ہیں، اور وہ ہیں امام احمد بن حنبلؒ اور سلف صالحینؒ کا ایک گروہ۔ جبکہ امام شافعیؒ اور (دوسری روایت کے مطابق) امام احمدؒ کہتے ہیں کہ جادوگر کافر تو نہیں ہوتا البتہ واجبُ القتل ضرور ہوتا ہے۔
    بَجالۃ بن عَبدۃ سے روایت ہےکہ حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے عاملین کو خط لکھا تھا کہ ہر جادوگر کو چاہے مرد ہو یا عورت، قتل کر دو، چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا۔ یہ اَثر صحیح بخاری میں مروی ہے۔ (البخاری: ج6، ص257۔الفتح)
    اور اسی طرح امّ المومنین حضرت حفضہؓ کے متعلق بھی یہ مروی ہے کہ ایک لونڈی نے ان پر جادو کر دیا تو انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور امام احمدؒ کہتے ہیں کہ جادوگر کو قتل کر دینا تین صحابہ کرام سے صحیح ثابت ہے۔” (تفسیر ابن کثیر:ج1 ص144)
    6۔ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:
    “امام مالکؒ کا مسلک یہ ہے کہ جادوگر کا حکم زندیق کے حکم جیسا ہے، لہٰذا اگر اس کا جادو کرنا ثابت ہو جائے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور اسے قتل کر دیا جائے گا، اور یہی مذہب امام احمدؒ کا بھی ہے، جبکہ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ صرف ثبوت سے اسے قتل نہیں کیاجائے گا، ہاں اگر وہ اعتراف کر لے کہ اس نے جادو کر کے کسی کو قتل کیا ہے، تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔”
    خلاصۂ کلام
    مندرجہ بالا اَقوالِ علماء وائمہ سےمعلوم ہوا کہ اکثر علماء جادوگر کو قتل کر دینے کے قائل ہیں، جبکہ امام شافعیؒ صرف اِس شکل میں اس کے قتل کے قائل ہیں جب وہ جادو کے ذریعے کسی کو قتل کر دے، تو اس کو بھی قصاصاً قتل کر دیا جائے گا۔
    جاری ہے.....
    ہماری پوسٹس پڑھنے کیلئے ہمارا بلاگ یا ہمارا گروپ جوائن کریں-

    whatsApp:00923462115913
    whatsApp: 00923004510041
    fatimapk92@gmail.com
    www.facebook.com/fatimaislamiccenter
    http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=229348
    http://www.dawatetohid.blogspot.com/
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں