1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شریعت ،طریقت،معرفت کی حقیقت

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از عابدالرحمٰن, ‏جنوری 05، 2013۔

  1. ‏مارچ 04، 2013 #101
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    اخی المکرم
    آپ کی اس بات کا جواب ہے
    حلقہ کے بارے میں بھی احادیث ہیں اور گن کر پڑھنے کے بارے میں بھی احادیث ہیں
    میرے بھائی تصوف میں جو غلو ہے وہ غلو ہے جو کہ غلط ہے لیکن جو صحیح ہے وہ صحیح ہے
    مجھے آپ کی ایک بات پسند ہے کہ آپ حقیقت پسند ہیں اور یقیناً میں بھی حقیقت پسند ہوں ڈرامہ بازی مجھے بالکل پسند نہیں۔ آج کل مسلمانوں میں ڈرامہ بازی دکھلاوہ شعبدہ بازی مفاد پرستی زیادہ ہے
    میرے بھائی تصوف کے مختلف نام ہیں جیسے کہ سلوک زہد احسان تقویٰ جو بھی عمل شریعت کے دائرہ کار میں ہوگا وہ محمود ہے اور جو اس سے تجاوز کرے وہ مردود ہے۔
     
  2. ‏مارچ 05، 2013 #102
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    بھائی یہی بات تو آپ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آپ نے لکھا تھا:
    اگر یہ باتیں شریعت کے دائرہ کار میں ہیں تو شریعت سے ان کی دلیل مطلوب ہے۔
     
  3. ‏مارچ 05، 2013 #103
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    ان میں سے کون سی بات شریعت کے دائرہ کار سے باہر ہے
    برائے مہربانی یہ باتنے کی زحمت فرمائیں کہ آپ شریعت اور طریقت سے کیا سمجھتے ہیں
    ۔
    اس میں کون سی بات قابل اعتراض ہے اور عجائبات سے کیا سمجھتے ہیں
    اس میں بھی کون سی بات قابل اعتراض ہے کیا کسر نفسی کوئی کفریہ عمل ہے اور کیا اس کا تعلق باطن سے نہیں ہے
    محترم ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ کا مطالعہ مکمل طریقہ سے فرمائیں کیا یہ حضرات ذاکرین نہیں تھے ان حضرات نے ’’زھد‘‘ سے متعلق کتابیں لکھی ہیں میرے پاس ہے احسان سے متعلق بھی کافی کچھ لکھا ہے ذکر سے متعلق ملاحظہ فرمائیں
    ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے پاس جانے کا اتفاق ہوا آپ نے نماز فجر ادا کی پھر وہیں بیٹھ گئے تقریبا دوپہر تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے ذکر سے فارغ ہو کر میری طرف التفاف فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں یہ تو میرا ناشتہ ہے اگر یہ ناشتہ نہ کروں تو یقینا میری قوت سلب ہو جائے ۔ ( ذکر الٰہی حافظ ابن القیم ؒ)

    میں آپ کو کتابوں کی فہرست بھیج دیتا ہوں اس میں مطالعہ فرمالیں یہ نہ فرمائیں حوالے دو لکھ کر بتاؤ یہ زحمت آپ کو ہی اٹھانی پڑے گی
     
  4. ‏مارچ 05، 2013 #104
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    ميں پوری سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہا ہوں صوفیا کے موقف کو سمجھنے میں آپ کی حالت مجھ سے مختلف نہیں ہے۔ یا تو تصوف کے بارے میں آپ کا مطالعہ بہت محدود ہے یا پھر آپ ارباب تصوف کے بارے میں حد سے زیادہ خوش فہمی کا شکار ہیں۔
    بزرگوں کا احترام اپنی جگہ پر لیکن اگر آپ ان کی عقیدت کی چھری سے کتاب و سنت کے احکامات کی قطع و برید شروع کر دیں گے یہ سراسر ظلم و نا انصافی ہے۔
    یقیناً ایک مسلمان کو اللہ کا ذکر کثرت کےساتھ کرنا چاہیے۔ لیکن آپ بتانا پسند کریں گے کہ قرآن میں جو کثرت ذکر کا حکم ہے اس میں نبی کریمﷺ صحابہ کرام شامل تھے یا نہیں؟
    صحابہ کرام نے ذکر سے متعلقہ آیات پڑھیں تھیں یا وہ اس سے نابلد رہے؟ اور یہ بھی بتا دیجئے کہ قرآن کریم کی شرح کرنے اور تبین و وضاحت کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
    یا تو آپ یہ ثابت کر دیجئے کہ صحابہ کرام کو ان آیات کی سمجھ نہیں آئی یا پھر یہ تسلیم کیجئے کہ صحابہ کرام نے ان آیات کو سمجھ کر ذکر کی جن کیفیات کو ملحوظ رکھا ہے ان کو سامنے رکھا جائے اور مسنون اذکار ہی کو پڑھنا معمول بنایا جائے ۔ صوفیا کے خود ساختہ اذکار اور ان کے تجربات کی کوئی بھی تشریعی حیثیت نہیں ہے۔
    نبی کریمﷺ سے ثابت شدہ اذکار کی تعداد اتنی تو ہے کہ انسان ان اذکار کا ورد کرے تو ہر وقت اللہ کے ذکر سے رطب اللسان رہ سکتا ہے۔ ایسے میں ہمیں صوفیا کے تجربات کے پیچھے بھاگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جن کا ماخذ و مصدر خواب اور اوہام کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
    براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو سونے لگے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرپھر دائیں کروٹ لیٹ جا اور یہ دعا پڑھ۔۔
    اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِى إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى أَنْزَلْتَ ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ
    اس کے بعد اگر تم مرگئے تو فطرت دین اسلام پر مروگے پس ان کلمات کو (رات کی) سب سے آخری با ت بناؤ جنہیں تم اپنی زبان سے اداکرو (حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) میں نے عرض کی ”وبر سولک الذی ارسلت“ کہنے میں کیا وجہ ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں وبنبیک الذی ارسلت کہو۔(صحیح بخاری: 6311)
    اس حدیث میں ملاحظہ کیجئے کہ نبی کریمﷺ نے دعا میں نبی کی جگہ پر رسول کے لفظ بولنے کی بھی اجازت مرحمت نہیں فرمائی اور دعا کے اصل الفاظ ہی کو باقی رکھنے پر زور دیا ہے۔ ایسے میں پوری کی پوری دعائیں اپنی طرف سے گھڑ لینا اور اپنے تجربات کی ہی بنا پر ثواب و درجات کی بلندی کا فیصلہ کرلینا کیسے درست ہو سکتا ہے۔
    اس لیے تقلیدی جمود سے نکلیے اور گڑے مردے اکھاڑنے کی بجائے کوئی تعمیری کام کیجئے۔
     
  5. ‏مارچ 05، 2013 #105
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    اس دلیل پر اگر موضوع کو لے کرچلیں۔۔۔
    تو نتیجہ فریقین کے مابین منطقی ہوگا۔۔۔
     
  6. ‏مارچ 05، 2013 #106
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    میں آپ سے متفق ہوں ،عمران اسلم صاحب کی رائے لے لے۔
     
  7. ‏مارچ 06، 2013 #107
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    بالکل متفق ہوں۔
     
  8. ‏مارچ 06، 2013 #108
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    اللہ تعالیٰ نے جتنا تقدیر میں لکھا تھا اتنی باتیں حضرت موسیٰؑ کو معلوم ہو گئیں۔ اب ہمارے پاس یہ استحقاق نہیں ہے کہ ہم انبیا پر کوئی نقطہ اعتراض اٹھائیں۔
    بھائی اہل ظاہر اور اہل باطن میں فرق سمجھا دیجئے۔ اور یہ بھی بتا دیجئے کہ انبیائے کرام اہل ظاہر تھے یا اہل باطن؟ اور صحابہ کرام میں سے کون سے اہل ظاہر تھے اور کون سے اہل باطن۔
    میرے بھائی ذکر اور زہد سے انکار کس کو ہے؟
    حوالہ درکار ہے بھائی
     
  9. ‏مارچ 06، 2013 #109
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    اپنی ان دو باتوں کی بھی تھوڑی وضاحت کر دیجئے:
     
  10. ‏مارچ 06، 2013 #110
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    تو کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تقدیر پر بھروسہ نہیں تھا جو انہوں نے مزید کی تمنا فرمائی۔ بڑوں پر اعتراض کرنا تو ۤآپ کا خاصہ ہے میں نے تو قرآن پاک سے ہی کہا ہے یہ کوئی’’ ناک اونچی رہے ‘‘والی بات نہیں ہے جناب!
    ظاہر باطن سب قرآن پاک میں ہے یہ بات تو شیخ ابن تیمیہؒ یا شیخ ابن قیم ؒ کی کتابوں سے معلوم ہوگی ان کا مطالعہ فرمالیں بس کافی ہے
    میرے نزدیک تصوف اسی کا نام ہے کوئی خرافات کا نام تصوف رکھ لے اس کی ذمہ داری میری نہیں
    ( ذکر از: ابن القیم ؒ اور زھد)
    اس میں قابل اعتراض کیا بات ہے
    موسیٰ علیہ السلام کون سا علم سیکھنے گئے تھے( اللہ تعالی نے ان کو حضر علیہ السلام کے پاس کیوں بھیجا تھا) کیا شریعت کا علم سیکھنے گئے تھے پہلے اس کی وضاحت فرمادیں بعد میں کوئی بات ہوگی
    مولانا میں آپ کی باتوں میں آنے سے رہا اور آپ میری باتوں میں آنے سے رہے
    میں کسی کو صوفی بننے کی دعوت نہیں دیتا مجھے تصوف پسند ہے اس لیے اس کی تعریف کرتا رہوں گا۔ میں کتنا نقصان کرچکا ہوں اس کی بھر پائی مجھ سے کئی مہینوں تک نہیں ہو سکتی میں اپنے والد صاحب کی کتا بیں کمپوژ کررہاتھا سارا وقت یہیں صرف ہوجا تا ہے
    میرے پاس جب وقت ہوگا آپ کی ایک لفظ کا اور دوسرے حضرات کا قرض بھی اتار دوں گا انشاء اللہ ان شاءاللہ فی الحال تو جتنا لکھ دیا ہے اس کا جواب عنایت فرمادیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں