1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شریعت ،طریقت،معرفت کی حقیقت

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از عابدالرحمٰن, ‏جنوری 05، 2013۔

  1. ‏مارچ 15، 2013 #121
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    مولانا عمران اسلم صاحب
    دنیا کے عجائبات کی اور سیر ہوجاتی اس میں کون سی بات قابل اعتراض ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
    اور
    موسیٰ علیہ السلام کون سا علم سیکھنے گئے تھے( اللہ تعالی نے ان کو خضرعلیہ السلام کے پاس کیوں بھیجا تھا) کیا موسیٰ علیہ السلام شریعت کا علم سیکھنے گئے تھے یا وہ کوئی دوسرا علم تھا جس کی معلومات کے لیے تشریف لے گئے تھے پہلے اس کی وضاحت فرمادیں
    میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں ( صرف مولانا عمران اسلم صاحب میرے مخاطب ہیں)
    جزاک اللہ خیراً
     
  2. ‏مارچ 15، 2013 #122
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    آپ کا یہ طرز عمل غلط ہے کہ صر ف عمران اسلم صاحب آپ کی بات کا جواب دیں اور آپ کسی کی بات کا جواب نہ دیں ۔دوسری بات جہاں تک موسی علیہ السلام کا تعلق ہے تو آپ بتا دیں کیا وہ تصوف وہ بھی آپ والا سیکھنے گئے تھے میں آپ کی اس بات کا انتظار کروں گا قرآن اور حدیث سے آپ نے جواب دینا ہے۔ اور جو سوال مین نے آپ سے کیے ہیں پہلے ان کا جواب بھی آپ نے دینا ہے ۔
     
  3. ‏مارچ 15، 2013 #123
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    بیشک میرا طرز عمل غلط ہے تو چلیے محترم آپ میرے اشکال کو دور فرمادیں میرے علم اور میری معلومات کو مولانا موصوف غلط ثابت کرچکیں ہیں اس لیے ظاہر بات ہے کہ میں انہی کو خطاب کروں گا تاکہ میری غلطی اور کوتاہی دور ہوسکے اب اگر آپ ان کی جگہ لے رہے ہیں تو آپ ہی میرے مذکورہ سوالوں کا جواب عنایت فرمادیں اور میرے سوال ہیں

    دنیا کے عجائبات کی اور سیر ہوجاتیاس بارے میں کیا اشکال ہے ؟
    موسیٰ علیہ السلام کون سا علم سیکھنے گئے تھے( اللہ تعالی نے ان کو خضرعلیہ السلام کے پاس کیوں بھیجا تھا) کیا موسیٰ علیہ السلام شریعت کا علم سیکھنے گئے تھے یا وہ کوئی دوسرا علم تھا جس کی معلومات کے لیے تشریف لے گئے تھے پہلے اس کی وضاحت فرمادیں۔
    اور آپ کے سوال کا جواب ہے کہ میں نے کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام تصوف کا علم سیکھنے گئے تھے۔ قرآن و حدیث سے تو نہیں بس آپ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بتادیں کہ میں یہ لکھا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام تصوف سیکھنے گئے تھے اب بتائے کس کا طرز عمل صحیح ہے آپ کا یا میرا
     
  4. ‏مارچ 15، 2013 #124
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    عابد بھائی میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں آپ کے ساتھ گفتگو کافی دن پہلے بھی ہوتی رہی ہے اور آپ کا انداز گفتگو اچھا ہے اور آپ کا اخلاق بھی لیکن مجھے یہ اعتراض
    ہے کہ آپ جواب نہیں دیتے اور بہت جلد ناراض ہو جاتے ہیں ۔دوسری بات سوال تو میں نے آپ سے کیے تھے جن کا جواب آ پ نے بلکل نہیں دیا ۔ میں نے آپ ک ہ آپ نے ے پوچھا ہے کیا حضرت موسی علیہ السلام تصوف یا پھر طریقت سیکھنے گئے تھے ؟ ں
     
  5. ‏مارچ 15، 2013 #125
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    بھائی ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں میں آپ سے پھر وہی عرض کررہا ہوں کہ میں نے کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ موسیٰ علیہ السلام تصوف یا طریقت سیکھنے گئے تھے میں نے تو یہ عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خضر علیہ السلام کو علم لدنی عطا کیا تھا
    اب اگر آپ دوسری ہے تو میں عرض کردوں کہ کوئی بھی نبی شریعت یا طریقت نہیں سیکھتا یہ سب کمالات یا علوم اللہ تعالی ان کو عطا فرمادیتے ہیں اور یہ جب ہی عطا ہوتے ہیں کہ جب یہ انبیاء علیہ السلام انسانیت کےاعلیٰ ترین مقام کو پہونچ جاتے ہیں اور ان کے نفس کی اصلاح ہوجاتی ہے
    میں آپ کے دو دفعہ جواب دے چکا ہوں ایک مرتبہ آپ بھی میری ان باتوں کاجوب عنایت فرمادیں۔
    دنیا کے عجائبات کی اور سیر ہوجاتی اس بارے میں کیا اشکال ہے ؟
    موسیٰ علیہ السلام کون سا علم سیکھنے گئے تھے( اللہ تعالی نے ان کو خضرعلیہ السلام کے پاس کیوں بھیجا تھا) کیا موسیٰ علیہ السلام شریعت کا علم سیکھنے گئے تھے یا وہ کوئی دوسرا علم تھا جس کی معلومات کے لیے تشریف لے گئے تھے پہلے اس کی وضاحت فرمادیں
     
  6. ‏مارچ 15، 2013 #126
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    محترم آپ اتنا بتا دے کہ آپ فیض سے کیا مراد لیتے ہیں؟اور قبروں سے کون سے فیض کی بات کر رہے ہیں؟ ذرا وہ لنک بھی درست کر دے ۔
     
  7. ‏مارچ 15، 2013 #127
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    عجیب بات ہے کیتابیں آپ کی اور پوچھ مجھ سے رہے ہیں بھائی جان المھند علی المفند آپ کے عقائد کی کتاب ہے آپ کو ہی پتا ہو گا مجھے دراصل پیکچر ایڈ کرنے کا طریقہ نہیں آرہا۔
     
  8. ‏مارچ 16، 2013 #128
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    محترم ہمارے اکا بر خواہ حناف ہوں یا اہلحدیث الحمدللہ انکے عقائد میں گمراہی نہیں ہے۔ کل تک تو یہ لوگ ایک سٹیج پر تھے ،اپنے اختلافات کو فروعات کا اختلاف سمجھتے تھے۔جب دونوں طرف سے علما حق دنیا سے اٹھ گئے، تو پیچھے علما سوء کی اکثریت سامنے آ گئی ۔اب بد نصیبی یہ ہے کہ ہماری اکثریت ان علماء سو سے متاثر ہو کر ایک دوسرے کو برا بھلا کہتی ہے۔
    آپ نے جو قبروں پر فیض سے اختلاف کیا ہے اسکی و ضاحت کریں ،اور وہ اعتراض پیش کریں۔
     
  9. ‏مارچ 16، 2013 #129
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    عابد بھائی جہاں تک حضرت خضر کے علم کی بات ہے تو وہ تکوینی امور میں سے ہے ۔اور حضرت موسی علیہ السلام صاحب شریعت تھے اس لیے آپ نے ان کاموں پر اعتراض کیے تھے کیونکہ شریعت کی رو سے یہ کام غلط تھے اور چونکہ یہ علم اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام کو نہیں دیا تھا ۔اب آپ کا یہ کہنا کہ حضرت خضر کا علم لدنی تھا ۔ میں نے یہ بات کلیر کر دی ہے کہ یہ تکوینے امور کا ولم تھا اور اللہ نے ان کو عطا کیا تھا یہ آپ کے ان جہلا صوفیا ء والا علم نہیں تھا ۔دوسری بات یہ ہے کہ خضر علیہ السلام کا علم نص قرآنی سے ثابت ہے ۔اس کا یہ مطلب نہیں کوئی اٹھ کر یہ کہنا شروع کر دے کہ یہ علم طریقت کا تھا اور اب بھی دستی صوفیاء کے پاس ہے اگر کوئی یہ دعویٰ کرے گا کہ یہ علم اب بھی لوگوں کے پاس ہے تو ہم اس سے نص مانگیں گے اور آپ سے بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے÷
     
  10. ‏مارچ 16، 2013 #130
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    یہ بات تو کلیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر علیہ السلام کو علم لدنی عطا فرمایا تھا’’اسی پر مولانا عمران اسلم صاحب نے اعتراض کیا تھا
    میرا نفس مطلب بھی یہی تھا کہ موسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے اعتراض بھی کیاتھا اور اسی وجہ سے دونوں میں جدائی بھی ہوئی تھی۔
    اب آپ یہ بتائے اس میں میں نےکون سی غلط بات کہہ دی جس کا شور مولانا صاحب نے مچایا تھا اور میرے پورے تھریڈ کو ہی خراب کردیا انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جوب دہ ہوں گے۔
    اور بھائی جہاں تک آپ کی دیگر باتوں کا سوال ہے تو بھائی آج اسلام اس شکل میں نہیں ہے جس شکل میں اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے چھوڑا تھا اب اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اسلام ہی غلط ہوگیا اگر اس دور میں صحابہ کرامؓ آجائیں تو یقینا آج کے مسلمانوں کومرتد کہیں گے۔ اس کی مثال یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر کچھ جھولا چھاپ افراد ڈاکٹر ی کے پیشہ کو اپنا لیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ فن ڈاکٹری ہی غلط ہوگئی
    اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں