1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شواہد تنزیل اور حسکانی

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قاضی786, ‏جنوری 27، 2015۔

  1. ‏جنوری 27، 2015 #1
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم

    امید ہے سب لوگ خیریت سے ہوں گے۔

    میں شواہد تنزیل نامی کتاب کے بارے میں سوال پوچھنا چاہ رہا تھا جو کہ حسکانی نے تالیف کی ہے

    کیا یہ کتاب اہلسنت کے مصادر میں شمار ہوتی ہے کہ نہیں

    نیز، حسکانی کے بارے میں علما ء کا کیا قول ہے

    شکریہ
     
  2. ‏جنوری 27، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,760
    موصول شکریہ جات:
    2,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    شواہد التنزیل ’‘ کا مصنف
    أبو القاسم عبيداللّه بن عبداللّه النيسابوري الحنفي، المتوفّى بعد سنة 470 ھ
    شیعہ تھا ۔اور یہ کتاب ۔شواہد التنزیل ۔بھی اس کے شیعہ ہونے پر دلیل ہے ،اس کو شیعہ بڑے شوق سے پڑھتے ہیں ۔
    لیکن فروع میں یہ شخص حنفی تھا کیونکہ (الجواهر المضيّة) میں اس کے بیتے کے ترجمہ میں طبقات حنفیہ میں شمار کیا ہے ۔
    الجواہر المضیہ ۔کی عبارت ملاحظہ ہو :
    (مُحَمَّد بن عبيد الله بن عبد الله بن أَحْمد الحسكاني الْحَاكِم أَبُو عَليّ الْحذاء سمع الحَدِيث من أَبِيه وجده وَقَرَأَ عَلَيْهِ من تصانيف وَالِده وَغير ذَلِك ذكره الْفَارِسِي فى سِيَاقه وَقَالَ من بَيت الحَدِيث وَالرِّوَايَة وَكَانَ أَبوهُ الْحَاكِم أَبُو الْقَاسِم حَافظ وقته لأَصْحَاب أبي حنيفَة وجده أَبُو مُحَمَّد وأعظهم وتقدما مَاتَ سنة أَربع وَخمْس مائَة
    الجواهر المضيّة في طبقات الحنفية( 2/ 82)
    اور علامہ ذہبی تذکرۃ الحفاظ ۔میں لکھتے ہیں :
    الحسكاني القاضي المحدث أبو القاسم عبيد الله بن عبد الله بن أحمد بن محمد بن أحمد بن محمد بن حسكان القرشي العامري النيسابوري الحنفي الحاكم, ويعرف بابن الحذاء الحافظ: شيخ متقن ذو عناية تامة بعلم الحديث، وهو من ذرية الأمير عبد الله بن عامر بن كريز الذي افتتح خراسان زمن عثمان وكان معمرًا عالي الإسناد، صنف "في الأبواب" وجمع وحدث عن جده "أحمد" وعن أبي الحسن العلوي وأبي عبد الله الحاكم وأبي طاهر بن محمش وعبد الله بن يوسف الأصبهاني وأبي الحسن بن عبدان وابن فنجويه الدينوري وأيى الحسن علي بن السقاء وأبي عبد الله بن باكويه وخلق، وينزل إلى أبي سعيد الكنجرودي ونحوه، اختص بصحبة أبي بكر بن الحارث الأصبهاني النحوي وأخذ عنه. وأخذ أيضًا عن الحافظ أحمد بن علي بن منجويه، وتفقه على القاضي أبي العلاء صاعد بن محمد، وما زال يسمع ويجمع ويفيد، وقد أكثر عنه المحدث عبد الغافر بن إسماعيل الفارسي وذكره في تاريخه لكن لم أجده ذكر له وفاة. وقد توفي بعد السبعين وأربعمائة؛ ووجدت له مجلسًا يدل على تشيعه وخبرته بالحديث وهو تصحيح خبر رد الشمس لعلي -رضي الله عنه- وترغيم النواصب الشمس.) تذكرة الحفاظ ۳۔۲۵۸
    اور شاید ذہبی ؒ کو شواہدالتنزیل دیکھنے کا موقع نہیں ملا ،اس لئے انہوں اس کا تذکرہ نہیں کیا ۔اور اس کی شیعیت کی دلیل اس کی مجلس کو قرار دیا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 27، 2015 #3
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    چند باتوں کی وضاحت کر دیں بھائی

    جب آپ ان کو شیعہ کہتے ہیں،
    تو ان کو آپ جو قدیم زمانے کی اصطلاح میں لفظ شیعہ استعمال ہوتا تھا، ان معانی میں شیعہ کہہ رہے ہو؟

    ان کے لیے جب یہ لفظ آتے ہیں

    شيخ متقن ذو عناية تامة بعلم الحديث

    کیا یہ ان کی وثاقت یا صداقت کی دلیل قرار پائیں گی؟


    ان روایات سے قطع نظر جن میں انہوں نے بدع کی طرف بلایا ہو

    باقی روایات کی کیا حیثیت ہو گی؟

    شکریہ
     
  4. ‏اگست 01، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,760
    موصول شکریہ جات:
    2,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    محترم بھائی @Adnani Salafi
    آپ کے ان باکس والے سوال کا جواب یہاں ہے ؛
     
  5. ‏اگست 01، 2017 #5
    Adnani Salafi

    Adnani Salafi رکن
    جگہ:
    مدينة الرسول
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    شکریہ اسحاق بھائی اس روایت شیعہ کے ایک شيخ محمد جواد مغنية نے بھی اپنی کتاب فضائل علی میں نقل کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایت شیعوں کی ہے received_10155483973189259.png received_10155483973139259.png
     
  6. ‏اگست 01، 2017 #6
    Adnani Salafi

    Adnani Salafi رکن
    جگہ:
    مدينة الرسول
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    پر مشکل یہ ہے کہ اس کو سنی علماء تفیسر نے بھی اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے سیوطی در منثور میں اس روایت کو ابن مردویہ سے نقل کیا ہے۔شیعہ بار یہی اعتراض کرتے ہیں کہ یہ سنی روایت ہے۔
    ویسے میرا دھیان شواہد التنزیل کے مصنف کی طرف پہلے ایک بار گیا تھا۔اس کے حنفیہ ہونے کی وجہ سے زیادہ اس پر تحقیق نہیں کی لیکن ماشاءاللہ آپ نے یہ مسئلہ حل کردیاکہ وہ فروع میں حنفی ہے اصول میں شیعہ۔۔۔
    ویسے اسحاق بھی اس روایت میں ایک روایت ابان بن تغلب بھی ہے جس
    کے متعلق امام ذہبی نے لکھا ہے

    وهو صدوق في نفسه عالم كبير وبدعته خفيفة لا يتعرض للكبار وحديثه يكون نحو المئة لم يخرج له البخاري

    https://ar.wikisource.org/wiki/%D8%...A7%D9%86_%D8%A8%D9%86_%D8%AA%D8%BA%D9%84%D8%A
     
  7. ‏اگست 01، 2017 #7
    Adnani Salafi

    Adnani Salafi رکن
    جگہ:
    مدينة الرسول
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    اور اس سے امام مسلم نے حدیث بھی لی ہے

    https://www.sunnah.com/muslim/1/171

    اور دوسری طرف الاعلام میں اسکے ترجمہ میں لکھا ہے کہ غلاۃ شیعہ لکھا ہے

    اور یہ بھی چیک کریں

    http://shiaonlinelibrary.com/الكتب/3871_موسوعة-المصطفى-والعترة-ع-الحاج-حسين-الشاكري-ج-8/الصفحة_381

    کیا ایسا راوی جو غالی قسم کا ہو اس کی روایت قبول کرنے کے بارے محدثین نے کیا توجیح بیان کی ہے بس مجھے اس مسئلہ میں مشکل آرہی ہے
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  8. ‏اگست 02، 2017 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,760
    موصول شکریہ جات:
    2,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    نہیں غالی شیعہ نہیں ، بلکہ امام ذہبیؒ نے سیراعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ :
    وهو صدوق في نفسه، عالم كبير، وبدعته خفيفة، لا يتعرض للكبار، وحديثه يكون نحو المائة،
    یعنی فی نفسہ صدوق ، اور کبیرعالم تھا ، اور خفیف بدعت میں ملوث تھا ، صرف ایک صد کے قریب احادیث روایت کیں ،
     
  9. ‏اگست 02، 2017 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,760
    موصول شکریہ جات:
    2,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    737

    اس میں کوئی مشکل نہیں ، تفسیر درمنثور اور دیگر کئی کتب تفسیر میں ضعیف اور موضوع روایات موجود ہیں
    صحیح و سقیم کی پہچان رکھنے والے علماء جانتے ہیں ، اور بیان کرتے رہتے ہیں ؛
    کوئی سنی عالم یہ نہیں کہتا کہ ان کتب میں موجود تمام مرویات صحیح ہیں ۔
     
  10. ‏اگست 03، 2017 #10
    Adnani Salafi

    Adnani Salafi رکن
    جگہ:
    مدينة الرسول
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    شیخ صاحب کیا ابن مردویہ نے یہ روایت حسکانی کی کتاب سے نقل کی ہے یا نہیں؟
    تو ابن مردویہ نے یہ روایت کہاں سے نقل کی ہے؟
    @اسحاق سلفی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں