1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شوھر کو زکوۃ

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عارف, ‏جون 04، 2016۔

  1. ‏جون 04، 2016 #1
    محمد عارف

    محمد عارف مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2016
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    اگر شوھر پر قرضہ ھو تو بیوی اس کو قرض کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ دے سکتی ھے کہ نھیں

    Sent from my Z1 using Tapatalk
     
  2. ‏جون 04، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جواب :
    بیوی اپنے مال سے محتاج شوہر کو زکوۃ دے سکتی ہے ، اس پر درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :
    أما إعطاء الزوجة زكاة مالها إلى زوجها فقد ذهب إلى جواز ذلك كثير من أهل العلم ، واستدلوا بما رواه البخاري (1462) ومسلم (1000) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لما أمر النساء بالصدقة ، جاءت زينب امرأة عبد الله ابن مسعود وقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَمَرْتَ الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ لِي ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ) .

    قال الحافظ :

    وَاسْتُدِلَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى جَوَازِ دَفْعِ الْمَرْأَةِ زَكَاتهَا إِلَى زَوْجِهَا , وَهُوَ قَوْل الشَّافِعِيّ وَالثَّوْرِيّ وَصَاحِبَيْ أَبِي حَنِيفَة وَإِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ مَالِكٍ وَعَنْ أَحْمَدَ .

    وَيُؤَيِّدُ هذا أَنَّ تَرْكَ الاسْتِْفْصَالِ يُنَزَّلُ مَنْزِلَة الْعُمُوم , فَلَمَّا ذُكِرَتْ الصَّدَقَةُ وَلَمْ يَسْتَفْصِلْهَا عَنْ تَطَوُّعٍ وَلا وَاجِبٍ فَكَأَنَّهُ قَالَ : تُجْزِئُ عَنْك فَرْضًا كَانَ أَوْ تَطَوُّعًا .

    ومنع بعض العلماء إعطاء الزوجة زكاة مالها لزوجها ، قالوا : لأنه سينفق عليها منها ، فكأنها أعطت الزكاة لنفسها ، وحملوا هذا الحديث على صدقة التطوع .

    وأجاب اِبْن الْمُنَيِّرِ عن هذا فقال : وَجَوَابه أَنَّ اِحْتِمَالَ رُجُوع الصَّدَقَة إِلَيْهَا وَاقِع فِي التَّطَوُّعِ أَيْضًا اهـ بتصرف .

    قال الشيخ ابن عثيمين في الشرح الممتع (6/168-169) :

    الصواب جواز دفع الزكاة إلى الزوج إذا كان من أهل الزكاة .

    وربما يستدل لذلك بقول النبي صلى الله عليه وسلم لزينب امرأة عبد الله بن مسعود رضي الله عنهما : ( زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ ) فيمكن أن نقول : هذا يشمل الفريضة والنافلة ، وعلى كل حال إن كان في الحديث دليل فهو خير ، وإن قيل هو خاص بصدقة التطوع فإننا نقول في تقرير دفع الزكاة إلى الزوج : الزوج فقير ففيه الوصف الذي يستحق به من الزكاة ، فأين الدليل على المنع ؟ لأنه إذا وجد السبب ثبت الحكم إلا بدليل وليس هناك دليل لا من القرآن ولا من السنة على أن المرأة لا تدفع زكاتها لزوجها اهـ باختصار .

    وسئلت اللجنة الدائمة (10/62) :

    هل يحل أن تصرف المرأة زكاة مالها لزوجها إذا كان فقيرا ؟

    فأجابت : يجوز أن تصرف المرأة زكاة مالها لزوجها إذا كان فقيرا دفعا لفقره ، لعموم قوله تعالى : ( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ) . التوبة/60 اهـ .

    ثالثاً :

    ما سبق إنما هو في إعطاء الزوجة زكاة مالها لزوجها ، وأما إعطاء الزوج زكاة ماله لزوجته فقد قال ابن المنذر : أَجْمَعُوا عَلَى أَنَّ الرَّجُلَ لا يُعْطِي زَوْجَتَهُ مِنْ الزَّكَاةِ لأَنَّ نَفَقَتَهَا وَاجِبَة عَلَيْهِ فَتَسْتَغْنِي بِهَا عَنْ الزَّكَاةِ اهـ .

    الإسلام سؤال وجواب

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔
    ترجمہ :
    اور رہا مسئلہ بيوى كا اپنے مال كى زكاۃ خاوند كو دينا تو اس ميں اكثر اہل علم جواز كے قائل ہيں، اور انہوں نے مندرجہ ذيل بخارى اور مسلم كى حديث سے استدلال كيا ہے:

    ابو سعيد خدری رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كو صدقہ كرنے كا حكم ديا تو عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ عنہ كى بيوى زينب رضى اللہ تعالى عنہا آئىں اور كہنے لگى:
    اے اللہ تعالى نبى !آپ نے آج صدقہ و خيرات كرنے كا حكم ديا ہے، اور ميرے پاس ميرا زيور ہے ميں اسے صدقہ كرنا چاہتى ہوں، تو ابن مسعود [رضى اللہ عنہ] كا خيال ہے كہ وہ اور اس كى اولاد اس صدقہ كى زيادہ مستحق ہیں ، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " ابن مسعود رضى اللہ عنہ نے سچ كہا ہے، تيرا خاوند اور تيرى اولاد كسى دوسرے پر صدقہ كرنے سے زيادہ حقدار ہیں"

    صحيح بخارى ( 1462 ) صحيح مسلم ( 1000 )

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    اس حديث سے استدلال كيا گيا ہے كہ بيوى اپنى زكاۃ خاوند كو دے سکتی ہے، یہ موقف امام شافعى، ثورى، امام ابو حنيفہ كے صاحبين، كا قول ہے اور امام مالك اور امام احمد كى ايك روايت يہى ہے۔

    اور اس كى تائيد اس قاعدہ سے بھی ہوتى ہے كہ ضرورت کے وقت تفصيل بیان نہ کرنا عموم كے قائم مقام ہوتا ہے، لہذا جب صدقہ كا ذكر كيا گيا اور اس كى تفصيل بيان نہيں ہوئى كہ وہ فرضى ہے يا نفلى تو گويا يہ كہا كہ: "فرضى ہو يا نفلى آپ سے ادا ہو جائے گا"

    اور بعض علماء كرام نے اس سے منع كيا ہے كہ بيوى اپنے مال كى زكاۃ خاوند كو دے، ان كا كہنا ہے كہ: كيونكہ خاوند اس زكاۃ کو اپنی اسی بیوی پر خرچ كرے گا، تو گويا كہ اس نے زكاۃ اپنے آپ كو ہى دى، اور انہوں نے مندرجہ بالا حديث كو نفلى صدقہ پر محمول كيا ہے۔

    چنانچہ ابن منير رحمہ اللہ نے اس كا جواب ديتے ہوئے كہا ہے:
    "صدقہ دوبارہ بیوی کی طرف لوٹ آئے اسکا احتمال تو نفلى صدقہ ميں بھى پايا جاتا ہے" تصرف کے ساتھ

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " الشرح الممتع " (6/168-169)ميں كہتے ہيں:
    صحيح يہى ہے كہ اگر خاوند زكاۃ كے مستحقين ميں سے ہے تو اسے زكاۃ دينى جائز ہے، اور اس كے ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ كے اس قول سے استدلال كيا جاسكتا ہے جو انہوں نے عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كى بيوى زينب رضى اللہ عنہا كو فرمايا تھا: " تيرا خاوند اور تيرى اولاد قابل صدقہ افراد میں تمہارئے صدقہ کے زيادہ حقدار ہيں "

    تو ہمارے ليے يہ كہنا ممكن ہے: اس میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں، بہر حال اگر حديث ميں دليل ہے تو يہ بہتر اورخير ہے، اور اگر يہ كہا جائے كہ يہ تو نفلى صدقہ كے ساتھ خاصل ہے، تو ہم خاوند كو زكاۃ دينے كے بارہ ميں يہ كہيں گے: خاوند فقير اور محتاج ہے اور اس ميں وہ وصف پايا جاتا ہے جس كى بنا پر زكاۃ كا مستحق ہوا جاتا ہے، تو منع اور نہ دينے كى دليل كہاں ہے؟ كيونكہ جب سبب پايا جائے تو حكم ثابت ہو جاتا ہے، ليكن اگراگر كوئى دليل اس كے خلاف ملے تو پهر ثابت نہيں ہوگا، چنانچہ يہاں اس كے خلاف قرآن اور سنت سے كوئى دليل نہیں ملتى ہے كہ بيوى اپنے خاوند كو زكاۃ ادا نہيں كر سكتى۔ انتہی مختصرا
    دائمی فتوى كميٹى (10/62)سے سوال پوچھا گيا:
    اگر خاوند فقير اور محتاج ہو تو كيا بيوى اپنے مال كى زكاۃ اسے دے سکتی ہے؟
    كميٹى كا جواب تھا:
    اگر خاوند فقير ہو تو اس كے فقر كو دور كرنے كے ليے بيوى ، خاوند کو اپنے مال كى زكاۃ دے سكتى ہے، اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كا عموم ہے:
    ( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ) یعنی زكاۃ تو صرف فقراء، مساكين ۔۔۔کیلئے ہے۔ التوبۃ / 60

    سوم:
    اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے وہ بيوى كا اپنے خاوند كو مال كى زكاۃ دينے كے متعلق تھا، اور رہا مسئلہ خاوند كا اپنے مال كى زكاۃ بيوى كو دينا تو اس كے متعلق ابن منذر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    "علماء كا اس پر اجماع ہے كہ مرد اپنى بيوى كو زكاۃ نہيں دے گا، كيونكہ بيوى كا نفقہ خاوند كے ذمہ واجب ہے، تو بیوی کو خاوندکی زکاۃ کی کوئی ضرورت نہیں" .
    اسلام سوال وجواب
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 04، 2016 #3
    محمد عارف

    محمد عارف مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2016
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    جزاک اللہ خیرا بھائی.. شوھر فوت ہو گیا ہے اور اس پر قرض ھے

    Sent from my Z1 using Tapatalk
     
  4. ‏جون 05، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,593
    موصول شکریہ جات:
    2,001
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    ایسی صورت میں وہ خاتون اپنی ملکیت میں سے اپنے خاوند کا قرض اتاردے ،
    لیکن زکوۃ کی رقم اس کے قرض کی ادائیگی میں صرف نہ کرے ،

    اس ضمن میں اہل علم کے دو قولوں میں سے صحیح قول یہی ہے ،
    علامہ ابن العثیمینؒ لکھتے ہیں :
    مسألة: هل يقضى دين الميت من الزكاة؟
    الجواب: إذا كان له تركة فهو غني بتركته، ويدفع منها.
    والصحيح أنه لا يقضى دين الميت منها، وقد حكاه أبو عبيد في الأموال وابن عبد البر إجماعاً، لكن المسألة ليست إجماعاً ففيها خلاف، إلا أنه في نظرنا خلاف ضعيف، والعجيب أن شيخ الإسلام ابن تيمية ـ رحمه الله ـ جوّز أن تقضى ديون الأموات من الزكاة وحكاه وجهاً في مذهب الإمام أحمد، واستدل بقوله تعالى: {وَالْغَارِمِينَ} فلم يعتبر التمليك، وإنما اعتبر إبراء الذمة، فالميت أولى بإبراء الذمة من الحي، لكن القول الأول أرجح، فلا يقضى دين الميت من الزكاة ۔۔الخ،
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں