1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شوہر کی حددرجہ خدمت

'زوجین کے حقوق' میں موضوعات آغاز کردہ از محبوب حسن, ‏جون 01، 2012۔

  1. ‏جون 01، 2012 #1
    محبوب حسن

    محبوب حسن مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 26، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    228
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

     شوہر کی حددرجہ اطاعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ خاتون اس کی خدمت گزار بیوی بن کر رہے۔

     شادی کے بعد مرد یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی خدمت گزاربن جائے ۔ اس کے کھانے پینے ، سونے جاگنے ، اٹھنے کا شیڈول اس کی بیوی کے پاس ہو۔ باوقت اسے لباس ملے، وقت پرکھانا اس کے سامنے حاضر ہو، اسے خود جو تے پالش کرنے، اور لباس استری کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو ۔ ظاہر ہے جو بیوی خدمت گزار ی کا جذبہ لے کر ا س کے گھر آئی ہو وہ مرتے دم تک اس کے ساتھ رہے گی، اس کے بغیر خاوند کا ایک دن گزارنا بھی مشکل ہو جائے گا اور یہی ایک عورت کی کامیابی ہے کہ اس کا خاوند اس کے بغیر ایک دن بھی گزارنے سے عاجز ہو جائے اور یہ درجہ خدمت گزاری کے بغیر نہیں مل سکتا۔

    صحابیات اپنے شوہروں کی خدمت گزاری کا کس قدر جذبہ رکھتی تھیں، اس بارے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا درج ذیل بیان قابل غور ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ”زبیربن عوام رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کو ئی مال، کو ئی غلام اور کوئی چیز نہ تھی۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی، اسے پانی پلاتی، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی تھی، میں اچھی طرح روٹی پکانا نہیں جانتی تھی چنانچہ کچھ انصاری لڑکیاں جو بڑی سچی تھیں، میری روٹیاں پکا جاتی تھیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی ، اس زمین سے میں کھجور کی گھٹلیاں سر پر لاد کر لایا کر تی تھی جبکہ یہ زمین گھر سے دومیل دور تھی۔

     اس کے بعد میرے والد (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا جو گھوڑے کی دیکھ بھال کا سب کا م کرنے لگا اور میں بے فکر ہوگئی۔ گویا والد ماجد نے (غلام بھیج کر )مجھ کو آزاد کر دیا۔“ 

    (صحیح بخاری : کتاب النکاح :باب الغیرة۔۔۔(حدیث۵۲۲۴)صحیح مسلم : کتاب السلام (حدیث ۲۱۸۲)احمد (ج۴ص۵۲۲) 
    • شکریہ شکریہ x 9
  2. ‏جون 02، 2012 #2
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,119
    موصول شکریہ جات:
    3,099
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    بہت اچھا انتخاب
    جزاک اللہ خیرا
    • شکریہ شکریہ x 5
  3. ‏جون 02، 2012 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,054
    موصول شکریہ جات:
    15,110
    تمغے کے پوائنٹ:
    748

    خرابی در اصل تب پیدا ہوتی ہے جب فریقین (زوجین) میں سے ہر کوئی اپنے حقوق کا تقاضا کرے کہ میرے تو فلاں فلاں حقوق ہیں جو مجھے اسلام نے دئیے ہیں، جو مدِ مقابل مجھے ادا نہیں کر رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف ہر انسان کے حقوق ہی ہیں اسلام میں؟ کسی کا کوئی فرض، کوئی ذمہ داری نہیں؟!!

    حقوق کا یہ جھگڑا ہمیں مغرب نے سکھایا ہے۔ اس سے کبھی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ہر ایک کی نظر اپنے فوائد پر ہوتی ہے جو وہ دین کے نام پر کشید کرنا چاہتا ہے، ویسے وہ دین پر کتنا عمل کرتا ہے، اس کی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ ایک طرف وہ سود کھاتا ہو یعنی اللہ ورسول سے جنگ کرتا ہو اور دوسری طرف اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہا ہو جو اسلام نے اسے دئیے ہیں۔

    شوہر کو بیوی سے شکوہ ہے کہ اسلام نے تو مجھے اتنے حقوق دئیے ہیں کہ اگر کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو وہ شوہر کو جائز ہوتا۔
    دوسری طرف بیوی کو شوہر سے شکوہ ہے کہ اسلام کا حکم ہے کہ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کیلئے بہترین ہے، اور نبی کریمﷺ گھر میں گھر کے کاموں میں اپنی بیوی کا حصّہ بٹاتے رہتے تھے۔ وغیرو غیرہ

    حکمرانوں کو یہ شکوہ ہے کہ عوام دل سے ہماری اطاعت نہیں کرتے حالانکہ ہماری اطاعت تو رسول کی اطاعت ہے اور رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔
    دوسری طرف عوام کو شکوہ ہے کہ حکمران ہمارے حقوق کا دھیان کیوں نہیں رکھتے اور جو حکمران عوام کے حقوق کا دھیان نہ رکھے اس پر جنّت حرام ہوجاتی ہے۔
    وعلیٰ ہذا القیاس!

    اسلام فرائض پر زور دیتا ہے، ہر شخص اپنے فرائض پر نظر رکھے، ان کو اللہ کی عبادت سمجھ کر ادا کرے، اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک سے اس کے فرائض کے متعلق حساب وکتاب ہوگا۔ جب یہ سوچ پیدا ہو جائے تو سب کے حقوق بدرجۂ اتمّ پورے ہوتے رہیں گے۔

    نبی کریمﷺ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عمر﷜ راوی ہیں: « ألا كلكم راع. وكلكم مسئول عن رعيته. فالأمير الذي على الناس راع، وهو مسئول عن رعيته. والرجل راع على أهل بيته، وهو مسئول عنهم. والمرأة راعية على بيت بعلها وولده، وهي مسئولة عنهم. والعبد راع على مال سيده، وهو مسئول عنه. ألا فكلكم راع. وكلكم مسئول عن رعيته ۔۔۔ صحيح مسلم
    کہ خبردار تم سب ذمہ دار ہو، اور ہر اک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حکمران لوگوں پر ذمہ دار ہوتا ہے، اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس سے ان کے متعلق سوال ہوگا۔ عورت شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔ غلام اپنے آقا کے مال پر ذمہ دار ہوتا ہے، اور اس سے اس کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔ خبردار! تم سب ذمہ دار ہو، اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داریوں (فرائض) کے سوال ہوگا۔

    اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
    • شکریہ شکریہ x 7
  4. ‏جون 02، 2012 #4
    محبوب حسن

    محبوب حسن مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 26، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    228
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بہترین ۔۔۔۔ انس نضر صاحب۔۔۔۔ بہت خوب!!!

    جزاک اللہ خیرا کثیرا
    • شکریہ شکریہ x 6
  5. ‏جون 04، 2012 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,175
    موصول شکریہ جات:
    40,237
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,141

    جزاک اللہ خیرا محبوب حسن بھائی
    جزاک اللہ خیرا انس نضر بھائی
    • شکریہ شکریہ x 7
  6. ‏جون 04، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,175
    موصول شکریہ جات:
    40,237
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,141

    اللہ تعالیٰ مجھے خدمت گزار بیوی عطا فرمائے آمین
    • شکریہ شکریہ x 7
  7. ‏جون 04، 2012 #7
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,054
    موصول شکریہ جات:
    15,110
    تمغے کے پوائنٹ:
    748

    اور اسے خیال رکھنے والا شوہر عطا فرمائے! آمین (ابتسامہ)
    • شکریہ شکریہ x 6
  8. ‏جون 04، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,175
    موصول شکریہ جات:
    40,237
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,141

    آمین ثم آمین
    خیال تو ہم اپنی جان سے بھی زیادہ رکھیں گے ان شاءاللہ
    اگر پسند کی ہوئی تو (ابتسامہ)
    • شکریہ شکریہ x 5
  9. ‏جون 04، 2012 #9
    allahkabanda

    allahkabanda مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    184
    موصول شکریہ جات:
    566
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    نہیں یار اتنا زیادہ نہ رکھنا
    اور نہ ہی بالکل چھوڑ دینا کہ آپکی اہلیہ کو یہ کہنا پڑے
    [​IMG]
    • شکریہ شکریہ x 4
  10. ‏جون 04، 2012 #10
    محبوب حسن

    محبوب حسن مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 26، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    228
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    آپ کے اس جملے میں مجھے "آئیڈلزم" کی پراسرار مہک آ رہی ہے۔۔۔۔ اللہ کرے میرا اندازہ غلط ہو۔۔۔۔۔ اللہ مالک الملک ہمیں اس نظریے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔
    • شکریہ شکریہ x 5

اس صفحے کو مشتہر کریں