1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شوہر کے اپنی بیوی پر حقوق

'حقوق زوجیت' میں موضوعات آغاز کردہ از خان سلفی, ‏فروری 20، 2015۔

  1. ‏فروری 20، 2015 #1
    خان سلفی

    خان سلفی رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2012
    پیغامات:
    161
    موصول شکریہ جات:
    205
    تمغے کے پوائنٹ:
    82

    شوہر کے اپنی بیوی پر حقوق


    تمام تعریفیں اس اللہ جل جلالہ کے لیے ہیں جس نے شادی کو نعمت بنایا اور جوڑوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کیا ،اور درود و سلام ہو ہمارے آقا اماموں کے امام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ، اور رحمت و سلامتی ہو آپ کے کے تمام آل و اصحاب پر-

    اما بعد ! اللہ پاک کا ارشاد ہے
    وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
    ﴿030:021﴾



    ‏" اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں (۱) تاکہ تم آرام پاؤ (۲) اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی (۳) یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں"۔‏

    نیز ارشاد باری تعالی ہے : الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا


    ‏"‏ مرد عورت پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے مال خرچ کئے ہیں (١) پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں یہ حفاظت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو (٢) بیشک اللہ تعالٰی بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے"۔‏

    حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عورت جب پانچوں وقت کی نماز پڑھے ، مضان کے روزے رکھے ، اپنی آبرو کی حفاظت کرے ، اپنے شقہر کی فرمانبردار رہے ، تو وہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے ( مسند احمد 1616)


    حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو جنسی ضرورت کے لیے بلائے اور وہ نہ آئے اور اس بناء پر شوہر رات بھر اس سے خفا رہے ، تو ایسی عورت پر صبح تک فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ ( متفق علیہ بخاری : 3237 ، مسلم: 1436)


    حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انکہ ایک پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی ضرورت سے آئیں ، ضرورت پوری ہونے پر جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تم شادی شدہ ہو ؟ انھوں نے کہا ، ہاں ، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اپنے شوہر کے ساتھ تمھارا رکھ رکھاؤ کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا میں حتی الامکان کوئی کسر باقی نہیں رکھتی ہوں ، آپ صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ان کا پورا خیال رکھنا ، وہی تمھاری جنت بھی ہیں اوروہی دوزخ بھی ہیں ۔ ( مسند احمد : 19002 ، حاکم نے اس کو مستدرک 189/2 میں روایت کیا ہے ور صحیح کہا ہے ۔ )


    اجمالی مفہوم

    مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے ، کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کی خوشگواری و استواری اور اعلی ظرفی و خوش اخلاقی کا برتاؤ ان زریں اسلامی تعلیمات میں سے ہے جو خاندان کی استواری اور پائیداری اور اس کے بقاء اور تحفظ کی نگہبان ہیں ، چنانچہ اسلام نے ازدواجی تعلق کو محکم و منّظم کیا ، اور شوہر و بیوی پر ایک دوسرے کے کچھ حقوق عائد کیے ہیں شوہر کا حق بیوی پر یہ ہے کہ بیوی اپنے خاندان کی فرمانبردار بن کے رہے ، اسکی نافرمانی نہ کرے ، اس پر بڑائی نہ جتائے ، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہ رکھے ، اس کے گھر میں کسی کو پھٹکنے نہ دے ، شوہر اگر موجود ہو تو اسکی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے ، اس کی مرضی کے بغیر اس ک مال خرچ نہ کرے ، وہ کہیں چلا جائے تو اسکی غیر موجودگی میں اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے ، اور اس کے مال و اولاد کی نگہداشت میں مکمل خیر خواہی اور وفاداری کا ثبوت دے ، شوہر کا احسان مانے ، اس کی شکر گذار رہے ، اس کے احسانات اور اسکی کاوشوں کو بھی فراموش نہ کرے ، اس کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرے ، اس کے ساتھ فراخ دل اور خوش طبعی کا معاملہ کرے ، اس کے لیے بناؤ سنگھار اور ارائش و زیبائش کا بھی پورا پورا اہتمام کرے ، شوہر کے والدین اور اقرباء کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے ۔

    اس لیے بیویوں کو چاہیئے کہ شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کو اللہ اور اس ک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سمجھ کراس میں سبقت کریں ، اگر انھوں نے یہ کام دل سوزی ، خلوص اور یکسوئی سے کر لیا تو ن صرف عائلاتی امور میں خوشگواری او استواری پیدا ہو گی ، اور گھریلو زندگی پیار و محبت اور خی و برکت سے مالا مال ہو گی بلکہ ایک بیوی کے لیے اپنی عاقبت بنانے اور خدا کو خوش کرنے کا بھی یہی ذریعہ ہے


    فوائد

    1. ازدواجی حقوق و فرائض کی ادائیگی گھریلو زندگی کو خیر و برکت سے مالامال کرنے کا ذریعہ ہے۔

    2. ازدواجی حقوق میں کوتاہی گھریلو زندگی کے لیے سوہانِ روح ہے ۔

    3. بیوی پر سب سے زیادہ حق اپنے شوہر کا ہے ۔

    4. شریعت نے بیوی کے لیے اپنے شوہر کی اطاعت اور تابعداری کو لازمی قرار دیا ہے ۔

    5. بیوی کا اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری رنا زحمت و مشقت نہیں بلکہ عائلی زندگی کی تعممیر و تکمیل ہے ۔

    6. بیوی کی اپنے شوہر کی اطاعت رضائے الہی اور جنت سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔


    طالبِ دعا خان سلفی
     
  2. ‏فروری 20، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بارک اللہ لک و بارک فیک
    وجزاک اللہ خیراً
     
  3. ‏مارچ 31، 2017 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,360
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    CTD2412017174317.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں