1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شکار کا تحفہ قبول کرنا

'ہبہ اور عطیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 20، 2012۔

  1. ‏مئی 20، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,946
    موصول شکریہ جات:
    5,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وقبل النبي صلى الله عليه وسلم من أبي قتادة عضد الصيد‏.‏
    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکار کے بازو کا تحفہ ابوقتادہ سے قبول فرمایا تھا (اسی سے ترجمۃ الباب ثابت ہوا)۔


    حدیث نمبر: 2572
    حدثنا سليمان بن حرب،‏‏‏‏ حدثنا شعبة،‏‏‏‏ عن هشام بن زيد بن أنس بن مالك،‏‏‏‏ عن أنس ـ رضى الله عنه ـ قال أنفجنا أرنبا بمر الظهران،‏‏‏‏ فسعى القوم فلغبوا،‏‏‏‏ فأدركتها فأخذتها،‏‏‏‏ فأتيت بها أبا طلحة فذبحها،‏‏‏‏ وبعث بها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بوركها ـ أو فخذيها قال فخذيها لا شك فيه ـ فقبله‏.‏ قلت وأكل منه قال وأكل منه‏.‏ ثم قال بعد قبله‏.‏

    ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید بن انس بن مالک نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مرالظہران نامی جگہ میں ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ لوگ (اس کے پیچھے) دوڑے اور اسے تھکا دیا اور میں نے قریب پہنچ کر اسے پکڑ لیا۔ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاں لایا۔ انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کے پیچھے کا یا دونوں رانوں کا گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ (شعبہ نے بعد میں یقین کے ساتھ) کہا کہ دونوں رانیں انہوں نے بھیجی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا میں نے پوچھا اور اس میں سے آپ نے کچھ تناول بھی فرمایا؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں! کچھ تناول فرمایا تھا۔ اس کے بعد پھر انہوں نے کہا کہ آپ نے وہ ہدیہ قبول فرما لیا تھا۔


    حدیث نمبر: 2573
    حدثنا إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ عن ابن شهاب،‏‏‏‏ عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عباس،‏‏‏‏ عن الصعب بن جثامة ـ رضى الله عنهم ـ أنه أهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم حمارا وحشيا وهو بالأبواء أو بودان فرد عليه،‏‏‏‏ فلما رأى ما في وجهه قال ‏"‏ أما إنا لم نرده عليك إلا أنا حرم ‏"‏‏.‏

    ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ابن شہاب سے، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور اور وہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گورخر کا تحفہ پیش کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مقام ابواء یا مقام ودان میں تھے (راوی کو شبہ ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تحفہ واپس کر دیا۔ پھر ان کے چہرے پر (رنج کے آثار) دیکھ کر فرمایا کہ میں نے یہ تحفہ صرف اس لیے واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔


    کتاب الہبہ صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں