1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کی پیشگی اطلاع :

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 22، 2015۔

  1. ‏اکتوبر 22، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,031
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12144817_606670449471220_6448880558109776151_n.jpg


    شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کی پیشگی اطلاع:

    عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ (قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاهُمَا لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ

    (مسند احمد بن حنبل: 26567 حديث حسن)
     
  2. ‏اکتوبر 23، 2015 #2
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


     
  3. ‏اکتوبر 24، 2015 #3
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

  4. ‏اکتوبر 25، 2015 #4
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    عبد الله بن سعيد بن جبير إس كي سند میں ہیں اور وہ باپ کی عائشہ یا ام سلمہ سے روایت بیان کر رہے ہیں

    کتاب جامع التحصيل في أحكام المراسيل
    کے مطابق

    سعيد بن جبير سئل أحمد بن حنبل عما روى سعيد بن جبير عن عائشة رضي الله عنها فقال لا

    سعید بن جبیر کا سماع عائشہ رضی الله عنہا سے نہیں ہے

    سعید بن جبیر ام سلمہ رضی الله عنہا سے کچھ روایت نہیں کرتے

    لہذا اس کی سند مبہم ہے

    ألباني نے ان کو عبد الله بن سعید ابی ہند لیا ہے

    لیکن اس کو دلیل نہیں دی

    البانی خود کہتے ہیں

    قلت: وهذا إسناد رجاله كلهم ثقات رجال الشيخين، فهو صحيح إن كان سعيد وهو
    ابن أبي هند سمعه من عائشة أو أم سلمة ولم أطمئن لذلك، فإنهم لم يذكروا له
    سماعا منهما وبين وفاته ووفاة أم سلمة نحو أربع وخمسين سنة وبين وفاته
    ووفاة عا
    ئشة نحو ثمان وخمسين. والله أعلم.

    میں کہتا ہوں اس کی اسناد کے رجال سب ثقہ ہیں بخاری و مسلم کے ہیں سو یہ صحیح ہوئی اگر اس میں جو سعید ہے وہ سعید بن ابی ہند ہو جس نے عائشہ یا ام سلمہ سے سنا ہے لیکن اس پر اطمننان نہیں کیونکہ اس کا ان سے سماع کا کسی نے ذکر نہیں کیا اس کی اور ام سلمہ کی وفات میں ٥٤ سال کا فرق ہے اور عائشہ سے ٥٨ سال کا و الله اعلم


    اب یہ صحیح کیسے ہوئی جب راوی کا سماع ثابت نہیں اور یہ عبد الله بن سعید بھی واضح نہیں کون سا ہے
    روایت ضعیف ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں